نام کے مسلمان اور حقیقی اہلِ ایمان کے درمیان فرق ایک ایسا سوال ہے جو بہت سے دلوں میں جنم لیتا ہے، لیکن اس کا واضح جواب اکثر آسانی سے نہیں ملتا۔
الشيخ مقداد الربيعي
وہ ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں، ایک ہی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور ایک ہی مہینے کے روزے رکھتے ہیں؛ لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان آسمان و زمین جتنا فرق پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، جسے قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے ایک ایسی آیت میں بیان کیا ہے جو انسان کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ الحجرات: 14
بدوی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں۔ کہدیجئے؛ تم ایمان نہیں لائے بلکہ تم یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کرے گا، یقینا اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
یہ لوگ کافر نہیں تھے؛ وہ کہتے تھے "ہم ایمان لائے" اور خود کو سچا بھی سمجھتے تھے۔ لیکن اللہ نے وہ حقیقت دیکھی جو وہ خود نہ دیکھ سکے کہ ایمان ابھی ان کے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا تھا۔ تو آج ہم میں سے کتنے لوگ اسی حالت میں ہیں؟
جب دین کی روح باقی نہ رہے اور صرف ظاہری شکل رہ جائے:
ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں دیندار نظر آنا تو آسان ہو گیا ہے، مگر حقیقتاً دیندار بننا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ آج انسان اپنے لباس، زبان اور ظاہری انداز کے ذریعے ایک مکمل دینی شناخت قائم کر سکتا ہے، لیکن اس کے باطن میں کوئی حقیقی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ نہ اس کے اپنے رب کے ساتھ تعلق میں گہرائی آتی ہے، نہ گھر والوں کے ساتھ اس کے رویّے میں بہتری آتی ہے، نہ اس کے کام میں امانت و دیانت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی کمزور اور محتاج لوگوں کے بارے میں اس کی سوچ میں کوئی مثبت تبدیلی نظر آتی ہے۔ دین ایک خوبصورت نقاب بن کر رہ گیا ہے جسے انسان پہن لیتا ہےاور جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو اتار دیتا ہے۔ حالانکہ قرآن نے اس بات سے سختی سے خبردار کیا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿۲﴾كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿۳﴾الصف: 2 ـ 3
اے ایمان والو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو؟۳۔اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں ہو۔
لفظ "مَقْتًا" پر ذرا غور کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ محض ایک غلطی ہے، اور نہ ہی اسے صرف ایک گناہ قرار دیا ہے، بلکہ فرمایا: "مَقْتًا"۔ اور "مقت" اس شدید اور سخت غضب کو کہا جاتا ہے جو اللہ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ عمل پر ظاہر ہوتا ہے۔ تو کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ کہیں آپ کی ظاہری دینداری اللہ کی رضا کے بجائے اس کی ناراضگی کا سبب تو نہیں بن رہی؟
حقیقت تک پہنچنے کے پانچ آئینے:
اگر آپ صدقِ دل سے ان پانچ آئینوں میں خود کو دیکھیں تو یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ جو حقیقت نظر آئے اگر وہ آپ کو ناگوار گزرے، تو آئینہ توڑنے کے بجائے خود کو سنوارنے کی کوشش کیجیے۔
پہلا آئینہ: تمہاری نماز تمہاری زندگی پر کیا اثر ڈالتی ہے؟
﴿ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ﴾ عنکبوت :۴۵
(اے نبی) آپ کی طرف کتاب کی جو وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں، یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور تم جو کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ شاید نماز روکے گی، یا ممکن ہے روکےبلکہ قطعی طور پر فرمایا کہ برائی سےروکتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ برسوں سے نماز پڑھ رہے ہیں اور پھر بھی آپ کے اخلاق، معاملات اور امانت داری میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو خود سے یہ مشکل سوال ضرور پوچھیں کہ آپ کی نماز کہاں جا رہی ہے؟ نماز کو آپ کو سکون دینے سے پہلے جھنجھوڑنا چاہیے۔ جس شخص کو اس کی نماز بے چین نہ کرے، غالب امکان ہے کہ وہ ابھی اس کے دل میں داخل ہی نہیں ہوئی۔
دوسرا آئینہ: جب کوئی آپ کو نہ دیکھ رہا ہو تو آپ کا کردار کیسا ہوتا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جو انسان کی اصل حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ رمضان میں آپ دیندار نظر آتے ہیں، لوگوں کے سامنے بھی دینداری کا اظہار کرتے ہیں؛ لیکن عام دنوں میں، اپنی تنہائی میں، اپنے کمرے میں آپ کون ہوتے ہیں؟ حقیقی دینداری وہ ہے جو اس وقت بھی برقرار رہے جب کوئی آپ کو دیکھنے والا نہ ہو، اور نہ ہی کوئی آپ کا نام جانتا ہو۔
تیسرا آئینہ: آپ کی دینداری کس کے لیے ہے؟
بسا اوقات ہم لوگوں کے سامنے تو دیندار بن جاتے ہیں، لیکن اللہ کے حضور ویسے نہیں ہوتے۔ جب انسان کا رویّہ اس بات پر بدلنے لگے کہ اسے کون دیکھ رہا ہے، تو یہی اس کی کمزوری کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں فرمایا ہے:﴿ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾. النساء: 142
یہ منافقین (اپنے زعم میں) اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ انہیں دھوکہ دے رہا ہے اور جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو سستی کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے اٹھتے ہیں اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔ہم میں سے اکثر اللہ کا ذکر زبان سے بہت کرتے ہیں، دل سے کم اور عمل میں بہت کم دکھاتے ہیں۔
چوتھا آئینہ: آپ کمزور اور بے بس لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟
یہ مت دیکھو کہ کوئی شخص کتنی نمازیں پڑھتا ہے بلکہ دیکھو کہ وہ غصے میں اپنی بیوی سے کیسے بات کرتا ہے؟ اپنے بچوں کے ساتھ جب وہ غلطی کرتے ہیں تو کیسا سلوک کرتا ہے؟ اور نوکر یا ملازم کے ساتھ کیسے برتاؤ کرتا ہے؟ یہیں اصل ایمان یا اس کی غیر موجودگی ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے نہیں فرمایا: "تم بہت بڑی عبادت پر ہو"، بلکہ فرمایا:
﴿ وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴾ القلم: 4 اور بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔
کیونکہ اخلاق وہ ترازو ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
پانچواں آئینہ: کیا آپ اپنا محاسبہ کرتے ہیں، یا صرف دوسروں پر حکم لگاتے ہیں؟
جتنا زیادہ انسان دوسروں کی خامیاں نکالنے میں مصروف رہتا ہے، یہ اس کے اندرونی خالی پن کا ثبوت ہوتا ہے۔ جو شخص واقعی دین میں جیتا ہے، وہ دوسروں پر حکم لگانے کی بجائے خود کا محاسبہ کرتا ہے۔ اللہ نے فرمایا:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴾ المائدة: 105
اے ایمان والو !اپنی فکر کرو، اگر تم خود راہ راست پر ہو تو جو گمراہ ہے وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا، تم سب کو پلٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے پھر وہ تمہیں آگاہ کرے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔
اپنا محاسبہ کرودوسروں کا نہیں۔
ہم اس جال میں کیسے پھنس جاتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جان بوجھ کر محض ظاہری دینداری اختیار نہیں کرتا۔ مگر انسان آہستہ آہستہ اور خاموشی کے ساتھ، بغیر محسوس کیے، اس میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ درحقیقت اس جال میں پھنسنے کے تین بنیادی اسباب ہیں:
پہلا سبب: وراثت میں ملا ہوا دین، جسے ہم نے شعوری طور پر خود نہیں چُنا۔
بہت سے لوگ دین کو اپنے والدین سے اسی طرح وراثت میں پاتے ہیں جیسے اپنا نام پاتے ہیں۔ وہ ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوتے ہیں اور خود بھی دیندار کہلانے لگتے ہیں، مگر انہوں نے کبھی شعوری اور حقیقی طور پر اللہ کو اپنا معبود چننے کا فیصلہ نہیں کیا ہوتا۔ ذاتی اور شعوری انتخاب کے بغیر وراثت میں ملا ہوا دین کمزور رہتا ہے اور زندگی کے پہلے حقیقی امتحان کے سامنے ٹھہر نہیں پاتا۔ قرآنِ کریم نے اس طرزِ فکر کو غلط قرار دیا ہے، جب اس نے ایک قوم کا ذکر کیا جو کہتی تھی۔
﴿ بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ ﴾ الزخرف: 22
(نہیں) بلکہ یہ کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رسم پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔
دوسرا سبب: اللہ کے بجائے معاشرے کا خوف
اگر آپ کل کسی نئے شہر میں چلے جائیں جہاں کوئی آپ کو نہ جانتا ہو تو کیا آپ کی عبادات بدل جائیں گی؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو آپ اپنے معاشرے کی عبادت کرتے ہیں، اللہ کی نہیں۔ لوگوں کا خوف ظاہری دینداری پیدا کرتا ہے، اللہ کا خوف سچی دینداری۔ ﴿ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴾ المائدة: 44 لہٰذا تم لوگوں سے خوفزدہ نہ ہونا بلکہ مجھ سے خوف رکھنا اور میری آیات کو تھوڑی سی قیمت پر نہ بیچنا اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق فیصلے نہ کریں پس وہ کافر ہیں۔
تیسرا سبب: مذہبی غرور ، سب سے خطرناک بیماری
مذہبی غرور اس وقت جنم لیتا ہے جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ منزلِ مقصود تک پہنچ چکا ہے، وہ دوسروں سے بہتر ہے اور اللہ کے ساتھ اس کا حساب مکمل ہو چکا ہے۔ یہ غرور نہایت خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ ایسا شخص یہ گمان کرتا ہے کہ وہ اللہ کے قریب ہو رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اس سے دور ہوتا جا رہا ہوتا ہے۔ جب انسان یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ منزل تک پہنچ گیا ہے تو دراصل اسی لمحے اس کا سفر رک جاتا ہے، اور اللہ کی راہ میں رک جانا درحقیقت پیچھے لوٹنے کی ابتدا ہے۔
﴿ أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ ﴾ الأعراف: 99
کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر سے خوف نہیں کرتے اللہ کی تدبیر سے تو فقط خسارے میں پڑنے والے لوگ بے خوف ہوتے ہیں۔
اہلِ بیت علیہ السلام کی زندگی کو دیکھیں سب سے زیادہ عبادت گزار، سب سے زیادہ علم والے اور اللہ کے سب سے قریب لوگ پھر بھی ان کے آنسو اللہ کے خوف سے کبھی خشک نہ ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے اور اللہ کے درمیان حقیقت کیا ہے۔
کامیابی کے تین مراحل :
محض ظاہری دینداری کے جال سے نکلنا ناممکن نہیں، مگر اس کے لیے ایک ہی چیز ضروری ہے کہ اپنے آپ کے ساتھ کامل دیانت اور سچائی۔
پہلا قدم: روزانہ خود کا محاسبہ
ہر رات سونے سے پہلے صرف پانچ منٹ اپنے آپ کے ساتھ تنہائی میں بیٹھیں اور پوری ایمانداری سے خود سے یہ سوال کریں: کیا آج میں اللہ کے قریب ہوا ہوں یا اس سے دور؟
یہ ایک سوال اگر آپ ہر رات حقیقی ایمانداری کے ساتھ پوچھیں تو ایک سال میں یہ آپ کی زندگی کو ایسے بدل دے گا جو آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
دوسرا قدم: اپنے دین کو آزمائش کی کسوٹی پر پرکھیں
وہ دین جو آپ سے کسی قربانی کا تقاضا نہ کرے، درحقیقت اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہوتی۔ اپنی زندگی میں وہ مقام تلاش کریں جہاں دین آپ کو یہ کہے: اپنی سہولتوں میں سے کچھ قربانی دو، سچ بولو خواہ اس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو، اور امانت ادا کرو چاہے اس کے نتیجے میں تمہیں کسی نقصان کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔
یہیں سے آپ جان پائیں گے کہ آیا ایمان واقعی آپ کے دل میں داخل ہوا ہے یا نہیں۔
﴿ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ﴾ العنكبوت: 2
کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہنے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟
تیسرا قدم: ہر روز اپنے دین کا دوبارہ انتخاب کریں
صرف یہ نہ کہ آپ مسلمان پیدا ہوئے ہیں۔ ہر دن اللہ کا دوبارہ انتخاب کریں۔ دل سے اس سے کہیں:
"أنا أختارك. أنا أريدك. أنا أحتاجك. لا لأن الناس يرونني، بل لأنك أنت الله ولا إله سواك."
میں تجھے چنتا ہوں۔ میں تجھے چاہتا ہوں۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ نہ اس لیے کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں بلکہ اس لیے کہ تو ہی اللہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
یہ عصر حاضر کا شعوری انتخاب ہی ہے جو دین کو عادت سے زندگی میں اور رسم سے روح میں بدل دیتا ہے۔ اللہ ابھی آپ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ آپ کے دل کو دیکھ رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ آپ جو ظاہر کرتے ہیں اور جو چھپاتے ہیں، ان کے درمیان کتنا فرق ہے۔ تو وہ کیا دیکھ رہا ہے؟ کیا وہ آپ کو ایک سچے دل سے دین دار شخص کے طور پر دیکھ رہا ہے؟ یا صرف عادت کے طور پر دینی اعمال ادا کرنے والے کے طور پر دیکھ رہا ہے؟
اس کا جواب صرف آپ ہی جانتے ہیں اور اس کا حساب صرف اللہ ہی لے گا۔ ﴿ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ ﴾ الرعد: 11
اللہ کسی قوم کا حال یقینا اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کسی قوم کو برے حال سے دوچار کرنے کا ارادہ کر لے تو اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔ تبدیلی ممکن ہے۔ دروازہ کھلا ہے اور اللہ اسے پسند کرتا ہے جو اس کی طرف لوٹے۔ لیکن پہلا قدم صرف آپ اٹھا سکتے ہیں کوئی اور یہ قدم نہیں اٹھا سکتا۔ ﴿ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ﴾ العنكبوت: 69 اور جو ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں ضرور اپنے راستے کی ہدایت کریں گے اور بتحقیق اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔