الشيخ مقداد الربيعي
رمضان المبارک کی رحمتوں کی گہرائیوں میں سے ایک منفرد اور نورانی رات ابھر کر سامنے آتی ہے،جس پر قلم رک جاتا ہے، دل خشوع کے ساتھ جھک جاتے ہیں، ایک ایسی رات جس میں غیب کی دنیا سے اسرار نازل ہوتے ہیں تاکہ وہ عالمِ دنیا و شہود میں ظاہر ہوں۔ یہ شب قدر ہے، جسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تمام راتوں میں سے خاص بنایا اور اس کو فضیلت دی، کیونکہ یہ وہ رات ہے کہ جس میں انسانی تاریخ کا سب سے عظیم واقعہ رونما ہوا، یعنی قرآن کریم کا نزول، وہ کتاب جو تمام جہانوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
قرآنِ مجید نے اس بابرکت رات کی طرف محض اشارہ ہی نہیں کیا، بلکہ اس کے لیے ایک مکمل سورت بھی مخصوص فرمائی، جو اس کی عظمت اور رفعت کی روشن گواہی دیتی ہے۔ اس سورت میں اعلان کیا گیا ہے کہ یہ رات ’’ہزار مہینوں سے بہتر‘‘ ہے، اور اس میں فرشتے اور روح، اللہ کے حکم سے ہر امر کے لیے نازل ہوتے ہیں۔ یہ الٰہی اعلان ہر طالبِ حقیقت کے لیے کافی ہے کہ وہ اس کے سامنے غور و فکر کے ساتھ ٹھہرے، تاکہ وہ ان اسرار کو سمجھ سکے جو اس رات میں پوشیدہ ہیں، اور ان معانی کو تلاش کرے جو انسانی وجود کے جوہر اور اس کے رب کے ساتھ اس کے تعلق سے وابستہ ہیں۔
اس بابرکت رات سے متعلق سب سے نمایاں پہلو وہ گہرا غیبی تعلق ہے جو تقدیر کے تعین سے جڑا ہوا ہے۔ قرآن و سنت دونوں نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ انسان کے آنے والے سال میں جو کچھ پیش آنا ہے، وہ شبِ قدر میں طے کیا جاتا ہے؛ خواہ وہ رزق ہو، عمر ہو، مصیبت ہو یا خوشی۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا گیا ہے: (إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ (یونس: 5)
ہم مرنے والوں کو زندگی بخشتے ہیں، اور جو کچھ انہوں نے پیش کیا اور جو آثار چھوڑے، ہم سب کو واضح کتاب میں رقم کر لیتے ہیں۔
اس حقیقت پر غور و فکر ذہن کے سامنے بنیادی سوالات کے نئے افق کھول دیتا ہے: تقدیر کیسے رقم ہوتی ہے؟ یہ تحریر اللہ تعالیٰ کے ازلی علم سے کس طرح مربوط ہے؟ اور کیا انسان اپنے اختیار اور اعمال کے ذریعے اپنی لکھی ہوئی تقدیر پر کسی حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے؟
ان سوالات کے جواب کے لیے ضروری ہے کہ احادیثِ شریفہ کی طرف رجوع کیا جائے، جو اس حقیقت کی وضاحت کرتی ہیں کہ انسان کی تقدیر کا آغاز شبِ قدر سے بھی پہلے ایک مرحلے میں ہوتا ہے، جب وہ ابھی ماں کے رحم میں جنین کی صورت میں ہوتا ہے۔ چنانچہ امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے: (إذا أكمل الجنين أربعة أشهر بعث الله ملكين خلّاقين فيقولان: يا ربّ ما نخلقه ذكرٌ أو أنثى؟ فيُؤمران، فيقولان: يا ربّ شقيٌّ أو سعيد؟ فيُؤمران، فيقولان: يا ربّ ما أجله وما رزقه وكلّ شيء من حاله… ويكتبان الميثاق بين عينيه)
یعنی جب جنین کے چار مہینے مکمل ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دو فرشتے بھیجتا ہے جو اس کی تخلیق کے امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں: اے پروردگار! اسے مرد بنایا جائے یا عورت؟ پھر پوچھتے ہیں: یہ شقی ہوگا یا سعید؟ پھر اس کی عمر، رزق اور اس کے تمام حالات کے بارے میں سوال کرتے ہیں… اور یہ سب کچھ اس کی تقدیر کے طور پر لکھ دیا جاتا ہے۔
تاہم یہ ابتدائی تحریر کوئی قطعی اور حتمی حکم نہیں ہوتی جو انسان کی مرضی کو سلب کر لے یا اس کی تقدیر کو جبر و اکراہ کی زنجیروں میں جکڑ دے، بلکہ یہ تحریر اللہ تعالیٰ کے سابق اور ازلی علم پر مبنی ہوتی ہے، جو بندے کے استحقاق اور اس کے ہدایت یا گمراہی کے انتخاب کو جانتا ہے۔اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے بھی یہی عقیدہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ازل سے جانتا ہے کہ انسان اپنی آزاد مرضی سے کیا انتخاب کرے گا، اور اسی استحقاق اور اختیار کے مطابق اس کے لیے تقدیر رقم کی جاتی ہے۔
لیکن یہ تقدیر کوئی جامد اور سخت حقیقت نہیں ہے جو تبدیلی یا نرمی کو قبول نہ کرے، کیونکہ خود انسان کا استحقاق اس کے اعمال اور رویّوں کے مطابق بدل سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی بندہ اپنے اعمال کی وجہ سے بد نصیب قرار پائے، لیکن اگر اسے توبہ کی توفیق مل جائے تو وہ خوش نصیب بن جائے، اور اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں لکھی ہوئی تقدیر کو تبدیل فرما دے۔
جیسے کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے بداء کی تعریف کی ہے، بداء یہ تاثر نہیں دیتا کہ اللہ میں کوئی جاہلیت یا کمی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو تقدیر لوگوں کے سامنے ظاہر ہوتی ہے وہ بندوں کے حالات اور استحقاقات کے مطابق بدل سکتی ہے۔
قرآن کریم نے اس بلند مفہوم کی طرف اشارہ فرمایا: ( يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ (الرعد: 39(
اللہ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے قائم رکھتا ہے، اور اس کے پاس أم الكتاب ہے۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تقدیر میں کچھ ایسا ہے جو محو و اثبات کے قابل ہے، جبکہ اللہ کا علم جو أم الكتاب میں ہے، وہ ثابت و اٹل ہے، جس تک تبدیلی کی دسترس نہیں ہے۔جو کچھ پہلے بیان ہوا وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے سامنےچند بڑے مسائل ہیں جنہیں محقق نظر انداز نہیں کر سکتا، اور یہ مسائل آپس میں اس طرح جُڑے ہیں کہ ایک کا جواب دوسرے کی وضاحت پر منحصر ہے۔ اور یہ مسائل دو بنیادی محوروں کے گرد گھومتے ہیں:
پہلا: کیا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے لکھ دی تھی؟ اور اس لکھائی کی بنیاد کیا تھی؟ اگر کسی انسان کے لیے غریب اور بدحال زندگی لکھی گئی اور کسی دوسرے کے لیے خوشحال اور سعادت مند زندگی، تو وہ معیار کیا ہے جس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی؟
دوسرا: کیا اس لکھائی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس پر مجبور ہے جو اس کے لیے لکھا گیا، اور اسے اپنے معاملے میں کوئی اختیار یا اپنے راستے میں کوئی آزادی نہیں ہے؟
سب سے پہلے: پیدائش سے پہلے تقدیر لکھنے کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صریح قرآن کریم اور سنت مبارکہ نے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے لکھ دی تھی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: (إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ )(یونس: 5)
ہم مرنے والوں کو زندگی بخشتے ہیں، اور جو کچھ انہوں نے پیش کیا اور جو آثار چھوڑے، ہم سب کو ایک واضح کتاب میں رقم کر لیتے ہیں۔
اور فرمایا: (إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ) (القمر: 49)
ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ انداز اور مقدار کے ساتھ پیدا کیا۔
اور تبارک و تعالی نے فرمایا:
(مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ) (الحديد: 22)
زمین یا اپنی جانوں میں جو بھی مصیبت آئے، وہ پہلے سے ایک کتاب میں لکھ دی گئی ہے، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔
اور سنت شریفہ میں آیا ہے: (إن الله عز وجل قدّر المقادير ودبّر التدابير قبل أن يخلق آدم بألفي عام)
اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے تمام تقدیریں اور نظامات مقرر کر دیے تھے۔ اور ایک اور روایت میں ہے: (قدّر الله المقادير قبل أن يخلق السماوات والأرض بخمسين ألف سنة) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تمام مقداریں اور تقدیر مقرر کر دی تھی ۔
تقدیر کیسے لکھی جاتی ہے؟
اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں ایک اور باریک اور عمیق مسئلے پر غور کرنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ تقدیر کس بنیاد پر لکھی جاتی ہے؟ قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر کی بنیاد انسان کے اپنے انتخاب پر ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب سے پوری طرح آگاہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر انسان اپنی پیدائش سے پہلے اپنے اختیار سے کیا انتخاب کرے گا: آیا وہ دنیا کو ترجیح دے گا یا آخرت کو، اور ان میں سے کس درجے تک پہنچے گا۔
جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
(مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا، كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا، انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ)(بني اسرائيل: 18)
جو لوگ دنیا چاہتے ہیں، ہم ان کے لیے اس میں وہی عطا کرتے ہیں جو ہم چاہیں، پھر انہیں جہنم میں داخل کرتے ہیں، مذمت اور رسوائی کے ساتھ۔ اور جو لوگ آخرت چاہتے ہیں اور اس کے لیے محنت کرتے ہیں، اور وہ مؤمن ہیں، ان کی کوشش قابلِ ستائش ہے۔ ہم سب کو اپنے رب کے عطا سے نوازتے ہیں، اور رب کا عطا کبھی روکا نہیں جاتا۔ دیکھو کس طرح ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی، اور آخرت بڑی ہے۔
اور اللہ تعالی فرماتا ہے:
( مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ )(الشورى: 20)
جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اسے دنیا سے عطا کرتے ہیں، اور اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ انسان کے لیے جو تقدیر مقرر فرماتا ہے، وہ انسان کے اپنے انتخاب کی بنیاد پر ہوتی ہے، تاکہ اسے وہ مقام حاصل جسے وہ چاہتا ہے، چاہے یہ تقدیر دولت ہو یا غربت، صحت ہو یا بیماری، آسانی ہو یا سختی۔یہی وجہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے اس الٰہی حکمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: (وإنّ من عباد المؤمنين مَنْ لا يصلحه إلّا الغنى، ولو صرفته إلى غير ذلك لهلك، وإنّ من عبادي المؤمنين من لا يصلحه إلّا الفقر، ولو صرفته إلى غير ذلك لهلك)
بندوں میں کچھ مؤمن ایسے ہیں جن کے لیے صرف دولت ہی مفید ہے، اور اگر انہیں کسی اور حالت میں رکھا جائے تو وہ ہلاک ہو جائیں گے، اور کچھ مؤمن ایسے ہیں جن کے لیے صرف غربت ہی مفید ہے، اور اگر انہیں کسی اور حالت میں رکھا جائے تو وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے۔
اسی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ رزق اور عمر میں تفاوت کیوں ہے، اور انسان کو اس زمانے میں اور اس ماحول میں کیوں پیدا کیا گیا۔ تقدیر کی یہ لکھائی اصل میں انسان کے انتخاب اور اس کی مرضی پر مبنی ہے۔
دوسرا سوال جو جبر اور اختیار سے متعلق ہے،
اس کا واضح جواب یہ ہے کہ تقدیر لکھنےکا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اعمال اس کی مرضی اور انتخاب کے بغیر زبردستی لکھ دیے ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو اس سے ایک عظیم اشکال پیدا ہوتا جو الٰہی حکمت کے منافی ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ثواب و عقاب لغو ہو جائے، وعدہ و وعید کا مفہوم ختم ہو جائے، اور انبیاء کی بعثت و رسالت کی حکمت بھی منسوخ ہو جائے۔
امیر المؤمنین علیہ السلام نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے جب عراق کے ایک شخص نے قضاء و قدر کا مفہوم پوچھا تو فرمایا:
(مهلاً يا شيخ، لعلك تظن قضاءاً حتماً وقدراً لازماً! لو كان كذلك لبطل الثواب والعقاب، والأمر والنهي والزجر، ولسقط معنى الوعد والوعيد، ولم يكن على مسيء لائمة، ولا محسن محمدة، ولكان المحسن أولى باللائمة من المذنب، والمذنب أولى بالإحسان من المحسن، تلك مقالة عبدة الأوثان وخصماء الرحمن وقدرية هذه الأمة ومجوسها)
صبر کرو، اے بزرگ! تم شاید یہ سوچو کہ یہ تقدیر لازمی اور قطعی ہے! اگر ایسا ہوتا تو ثواب و عقاب، حکم و منع اور تنبیہ سب باطل ہو جاتے، وعدہ و وعید کا مفہوم ختم ہو جاتا، نہ بدکار پر کوئی سرزنش لازم ہوتی نہ نیک کار کو تعریف، اور نیک کار بدکار پر سزا کے زیادہ مستحق ہوتا اور بدکار نیک کار پر احسان کا مستحق، یہ خیالات تو صرف بت پرستوں، خدا کے دشمنوں، قدر پرستوں اور مجوسوں کی ہیں۔
پھر آپ نے صاف حقیقت بیان فرمائی:
(يا شيخ، إن الله عز وجل كلّف تخييراً، ونهى تحذيراً، وأعطى على القليل كثيراً، ولم يُعصَ مغلوباً، ولم يُطَع مكرهاً) اے بزرگ! اللہ عزوجل نے انسان کو انتخاب کا حق دیا، تنبیہ کے ذریعے منع فرمایا، کم پر بھی زیادہ اجر دیا، اور کسی کو زبردستی نافرمانی کرنے والا یا مجبور کر کے اطاعت کرنے والا نہیں بنایا۔ اس کا راز یہ ہے کہ آیات و روایات کی سلسلہ سببیت کے اصول پر زور دیتا ہے جو کائنات کے ہر وجود کو مربوط کرتا ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے: (أبى الله أن يجري الأشياء إلا بأسباب، فجعل لكل شيء سبباً)
اللہ تعالیٰ نے چیزوں کو بغیر اسباب کے وقوع پذیر ہونے کی اجازت نہیں دی، بلکہ ہر چیز کے لیے ایک سبب مقرر کیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ واقعات بلا اسباب زبردستی پیش آئیں، بلکہ یہ مخصوص اسباب کے حدود مقرر کرنے کا نام ہے جو ان واقعات کی طرف لے جائیں گے۔ اور انسانی اعمال میں سب سے اہم سبب فاعل کا ارادہ اور اس کا انتخاب ہے۔ اگر انسان کسی کام کا ارادہ کرے اور اسے منتخب کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے وقوع کا حکم دے دیتے ہیں۔
شیخ محمد حسین کاشف الغطاء نے اس حقیقت کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا:
(فإنه كتب في سجل التكوين لا التشريع أن سيفعل كذا وأنه يختار كذا، لا كُتب عليه أن يفعل كذا وأن يختار كذا، والفرق بين العبارتين كالفرق بين الحقيقتين في غاية الجلاء والوضوح. وقد أصبح اليوم من الجليات أن العلم لا أثر له في المعلوم، وأن المعلوم يوجد بأسبابه وسلسلة علله لا بعلم العالم أو جهل الجاهل(
یعنی اللہ تعالیٰ نے تقدیر کو ’’ تكوين کے رجسٹر‘‘ میں لکھا ہے، نہ کہ ’’تشريع کے رجسٹر‘‘ میں، یعنی انسان کیا کرے گا اور کیا منتخب کرے گا، نہ کہ اس پر زبردستی کچھ فرض کیا گیا ہو۔ اور آج یہ واضح ہے کہ علم کا موجودہ واقع پر اثر نہیں ہوتا، بلکہ واقعات اپنے اسباب اور اسباب کی سلسلے سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، نہ کہ عالم کے علم یا جاہل کے جاہلیت سے۔ لہٰذا، قضاء و قدر پر ایمان انسان کو تقدیر کی مشین یا آلہ نہیں بناتا، بلکہ اسے زیادہ محنت و کوشش کے لیے متحرک کرتا ہے اور کائنات میں اللہ کی سنتوں اور زندگی کے قوانین کو دریافت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔