واپس
خودمختاری کا فریب۔۔ انسانی گمراہی کا آسیب

خودمختاری کا فریب۔۔ انسانی گمراہی کا آسیب

تاریخی طور پر سب سے زیادہ دستاویزی اور تجزیاتی اعتبار سے نمایاں قدیم دور کو دیکھیں تو کلاسیکی یونانی عہد سامنے آتا ہے جہاں غور کرنے والا انسان انسانی خواہشِ خودمختاری اور اپنی تقدیر خود بنانے کے رجحان کے واضح آثار دیکھتا ہے۔ اس سلسلے میں اسکاٹش مؤرخ ولیم کیتھ چیمبرز گتھری کا قول ہے کہ "انسان وقت کے ساتھ ساتھ کوشش اور تحقیق کے ذریعے بہتر طور پر جان لے گا۔"

الشيخ مصطفى الهجري

(إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ) إبراهيم: 34 انسان یقینا بڑا ہی بے انصاف، ناشکرا ہے۔

(وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا) الأسراء: 11 اور انسان بڑا جلد باز ہے۔

 (وَكَانَ الْإِنْسَانُ كَفُورًا) الأسراء: 67 اور انسان بڑا ہی ناشکرا ثابت ہوا ہے ۔

(وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا) الأسراء: 100 اور انسان بہت (تنگ دل) واقع ہوا ہے۔

(وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا) الكهف: 54 مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو (ثابت ہوا ) ہے۔

(إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا) الأحزاب: 72

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو ان سب نے اسے اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا، انسان یقینا بڑا ظالم اور نادان ہے۔

(لَا يَسْأَمُ الْإِنْسَانُ مِنْ دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِنْ مَسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ) فصلت: 49

انسان آسودگی مانگ مانگ کر تو تھکتا نہیں لیکن جب کوئی آفت آجاتی ہے تو مایوس ہوتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے۔

(إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ ﴿۶﴾ وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ ﴿۷﴾) العاديات: 6 ـ 8

 یقینا انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ۷۔اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔

(إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿۲﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْ) العصر: 2 ـ 3

انسان یقینا خسارے میں ہے ۔ ۳۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور جو ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے ہیں اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔

یہ  قرآنی آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ انسان کی فطرت اور اصل کیا ہے؟ اور یہ کہ اگر اسے اس کے اپنے نفس کے حوالے کر دیا جائے تو وہ کفر، ناشکری، بخل، جہالت، ظلم اور سرکشی جیسی برائیوں کا مجموعہ بن جاتا ہے۔

پروردگار ارشادفرماتا ہے:

(كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَىٰ ﴿۶﴾ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَىٰ ﴿۷﴾ العلق: 6 ـ 7

ہرگز نہیں! انسان تو یقینا سر کشی کرتا ہے۔ ۷۔ اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز خیال کرتا ہے۔

یہ آیات دراصل ان ساری برائیوں کی جڑ اور بنیاد کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ ہے انسان کا اپنی ذات کے دھوکے میں مبتلا ہو جانا اور خود پر ہی فریفتہ ہو جاناجسے آج کی زبان میں انسان پرستی (ہیومنزم)یا خودپرستی  کہا جاتا ہے۔ابتدا میں یہ بات واضح کر دینی چاہیے کہ انسان کا اپنی  مطلق خودمختاری قائم کرنے اور اپنی خواہش و ارادے کو بے لگام چھوڑ دینے کا یہ رجحان اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان قدیم ہے اور ہمیں اس کی بہت سی مثالیں قرآنِ کریم میں ملتی ہیں جیسے فرعون کے واقعہ میں اس کا یہ کہنا:

(فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ) النازعات: 24 پھر کہنے لگا: میں ہی تمہارا رب اعلیٰ ہوں۔

فرعون کی سرکشی اور جابرانہ طرزِ حکومت کو قرآن یوں بیان کرتا ہے: (قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ) غافر: 29

فرعون نے کہا: میں تمہیں صرف وہی رائے دوں گا جسے میں صائب سمجھتا ہوں اور میں اسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو درست ہے۔

قارون کے غرور کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:(قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِنْدِي) القصص: 78

قارون نے کہا: یہ سب مجھے اس مہارت کی بنا پر ملا ہے جو مجھے حاصل ہے۔

بنی اسرائیل کی سرکشی اور قومِ عاد کا اپنی طاقت پر گھمنڈ کرنا اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں۔یہ آیتِ کریمہ ایک واضح اصول بیان کرتی ہے کہ جب انسان اپنے آپ کو اللہ سے بے نیاز سمجھنے لگتا ہے اور مادی اسباب پر ہی مکمل بھروسہ کر لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں وہ سرکشی اور ظلم کی راہ اختیار کر لیتا ہے۔تاریخی طور پر سب سے زیادہ دستاویزی اور تجزیاتی اعتبار سے نمایاں قدیم دور کو دیکھیں تو کلاسیکی یونانی عہد سامنے آتا ہے جہاں غور کرنے والا انسان انسانی خواہشِ خودمختاری اور اپنی تقدیر خود بنانے کے رجحان کے واضح آثار دیکھتا ہے۔ اس سلسلے میں اسکاٹش مؤرخ ولیم کیتھ چیمبرز گتھری کا قول ہے کہ  "انسان وقت کے ساتھ ساتھ کوشش اور تحقیق کے ذریعے بہتر طور پر جان لے گا۔"

یونانی فلسفی زینوفانس کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ تحقیق و جستجو پر زور دینا دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ یونانی علمی ورثے میں ہمارے پاس یہ پہلا واضح بیان موجود ہے جو فنون اور علوم میں ترقی کے تصور کو نمایاں کرتا ہے؛ ایسی ترقی جو بنیادی طور پر انسانی محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی الٰہی مدد کا۔

اگر ہم تاریخ کے اوراق تیزی سے پلٹے ہوئے آگے بڑھیں کہ ہمارا مقصد مکمل تاریخی تتبع نہیں بلکہ صرف ایک عمومی جائزہ ہےتو خاص طور پر تیرھویں صدی عیسوی میں ہمیں انسان پرستی کے فلسفے کے سرخیل مارسلیو فاسینو نظر آتے ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ انسان اب صرف زمین پر خدا کا نائب نہیں رہا بلکہ علم اور تخلیق میں اس کا شریک بھی ہے اور اسی طرح ان کے ہم عصر جیووانی پیکو نے بھی اپنے اس بیان میں جو انہوں نے انسان سے گویا خدا کی زبان میں خطاب کرتے ہوئے پیش کیا (اللہ تعالیٰ اس نسبت سے پاک اور بلند ہے)، یہ کہا: "اے انسان! جو کسی حد کا پابند نہیں تو اپنی آزاد مرضی کے مطابق خود طے کرے گا کہ تو کیا بنے گاکیونکہ میں نے تجھے اسی اختیار کے سپرد کیا ہے۔"

(قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ) عبس: 17 ہلاکت میں پڑ جائے یہ انسان، یہ کس قدر ناشکرا ہے۔

یہ کتنی مختصر مگر کتنی عظیم المعنی عبارت ہے! زمخشری اس کے بارے میں کہتے ہیں: "تم اس سے زیادہ سخت اسلوب نہیں پاؤ گے نہ اس سے زیادہ کھردرا انداز، نہ اس سے زیادہ واضح ناراضی کا اظہاراور نہ ہی اس سے زیادہ تکلیف دینے  والی ملامت حالانکہ اس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کے قریب ہیں اور نہ ہی اتنی جامع بات جو اس قدر مختصر متن میں سمائی ہوئی ہو۔"

پس جب انسان خودمختاری کا متلاشی ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کی نگرانی، اس کی رحمت اور مخلوق کے تمام معاملات پر اس کے احاطے کے آثار کو محسوس نہیں کر پاتا اور یوں وہ اس غلط عقیدے کا قیدی بن جاتا ہے کہ ہر اثر صرف مادی اسباب ہی کے اندر محدود ہے۔ اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سمجھ میں آتا ہے:

(وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا) الإسراء: 83

 اور جب ہم انسان کو نعمتوں سے نوازتے ہیں تو وہ روگردانی کرتا ہے اور اپنی کروٹ پھیر لیتا ہے اور جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔

پس جو شخص اثر کو صرف سبب تک محدود سمجھتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ وہ خود اس کا مالک ہے وہ دوسروں سے بے نیاز ہونے کا احساس پیدا کر لیتا ہے اور جب وہ سبب اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو وہ مایوسی اور ناامیدی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔جبکہ مومن کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے،وہ مادی اسباب کے ختم ہو جانے کے بعد بھی امید کا دامن  نہیں چھوڑتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی سنتیں بھی ہیں جو عام عادت سے ہٹ کر ہیں اور جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ﴿۲﴾ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا) الطلاق: ۲

اور جو اللہ سے ڈرتا رہے اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، ۳۔ اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ سوچ بھی نہ سکتا ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے پس اس کے لیے اللہ کافی ہے، اللہ اپنا حکم پورا کرنے والا ہے، بتحقیق اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔

احادیثِ شریفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہلِ بیتؑ نے اس غفلت کو دنیا کی محبت سے تعبیر کیا ہے اور تمام گناہوں کی جڑ اسی کو قرار دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے:

حب الدنيا أصل كل معصية وأول كل ذنب۔ دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ اور ہر خطا کی ابتدا ہے۔

 امام علی زین العابدین ؑ سے مروی ہے:

ما من عمل بعد معرفة الله جل وعز ومعرفة رسوله (صلى الله عليه وآله) أفضل من بغض الدنيا

اللہ  اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت کے بعد کوئی عمل دنیا سے نفرت رکھنے سے زیادہ بہتر نہیں۔

 پھر اسی سے مختلف شاخیں نکلتی ہیں: عورتوں کی محبت، دنیا کی محبت، ریاست و اقتدار کی محبت، آرام و آسائش کی محبت، فضول گفتگو کی محبت، برتری اور امارت کی خواہش اور دولت و ثروت کی محبت،یہ سب مل کر سات خصلتیں بن جاتی ہیں اور یہ سب دراصل دنیا کی محبت ہی میں جمع ہیں۔ چنانچہ انبیاء اور علماء نے اس حقیقت کو پہچاننے کے بعد  یہ کہا کہ دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔

شیئر: