واپس
وحشیانہ ذہنیت کا مآخذ و منبع، یہودیوں کی فقہی کتاب

وحشیانہ ذہنیت کا مآخذ و منبع، یہودیوں کی فقہی کتاب

فلسطینیوں اور عربوں کے ساتھ تعلق اور تنازع کے حوالے سے ربیوں کے فتاویٰ میں بڑی حد تک شدت پسندی، انتہاپسندی اور غلو پایا جاتا ہے، جہاں مردوں کے ساتھ ساتھ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے قتل کو بھی جواز فراہم کیا جاتا ہے، نیز ان کی مقدسات کو نشانہ بنانے اور عورتوں کی بے حرمتی جیسے امور کو کمزور اور بے بنیاد دلائل کے ذریعے درست قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

الشيخ مصطفى الهجري

اگرچہ فلسطین میں موجود زیادہ تر یہودی ایسے معاشروں سے آئے ہیں جہاں سیکولر طرزِ زندگی غالب تھا اور وہاں دین کو حاکمیت حاصل نہیں تھی، لیکن فلسطین پر اپنے قبضے کے دوران جس وجودی کشمکش سے وہ لوگ گزرے، اس نے ان میں بھی یہودی شناخت کے تحفظ کا جذبہ مضبوط کر دیا، جس کا مشترکہ نظم و ضبط دین کے ذریعے قائم ہے۔اسی وجہ سے ان کے اندر مذہبی رجحانات میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں شدت پسند دائیں بازو کی جماعتوں کا عروج سامنے آیا۔اور جب 1977 میں پہلی مرتبہ دائیں بازو کی جماعت اقتدار میں آئی تو اس کے بعد سے مذہبی جماعتیں ہر آنے والی اتحادی حکومت کا مستقل حصہ بن گئیں، جو یکے بعد دیگرے اس ریاست کی قیادت کرتی رہیں۔

چونکہ وہ یہودی مذہبی جماعتیں اور تحریکیں جو حکومتوں میں شریک ہوتی ہیں، براہِ راست ربیوں (حاخامات) کے زیرِ انتظام ہوتی ہیں، اس کے علاوہ بہت سے وزراء اور اعلیٰ عہدیدار بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کے لیے یہ ضروری ہو گیا کہ وہ مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے بارے میں شرعی بنیادیں فراہم کریں تاکہ ان کے فیصلے شریعت کے مطابق ہوں ۔

اسی تناظر میں یہ بات بھی لازم ٹھہری کہ فلسطینی عوام کے ساتھ جاری اپنے تنازع سے متعلق پیش کیے جانے والے نظریات، خصوصاً اس تنازع کے حل کے لیے پیش کیے جانے والے منصوبوں، اور عالمِ عرب سے متعلق امور کے بارے میں بھی ان کی جانب سے واضح فکری مؤقف اختیار کیا جائے۔ اس کے علاوہ، مذہبی دھارے سے تعلق رکھنے والی عسکری اور تعلیمی اشرافیہ میں نفوذ کی وجہ سےحکومتی ڈھانچے میں ربیوں کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوا، جس کے نتیجے میں مذہبی فتاویٰ کی حیثیت بڑھی اور ان کا اثر معاشرے اور سیاسی نظام دونوں پر وسیع تر ہو گیا۔

فلسطینیوں اور عربوں کے ساتھ تعلق اور تنازع کے حوالے سے ربیوں کے فتاویٰ میں بڑی حد تک شدت پسندی، انتہاپسندی اور غلو پایا جاتا ہے، جہاں مردوں کے ساتھ ساتھ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے قتل کا بھی جواز فراہم کیا جاتا ہے، نیز ان کی مقدسات کو نشانہ بنانے اور عورتوں کی بے حرمتی جیسے امور کو کمزور اور بے بنیاد دلائل کے ذریعے درست قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ مقالہ اس بات کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ ہم آبادکاروں اور قابض فوجیوں میں جو شدت پسندی دیکھتے ہیں،اس کے پیچھے بنیادی عوامل کیا ہیں۔ کیونکہ یہ فطری بات نہیں کہ کوئی بھی انسان، چاہے اس کا پس منظر کچھ بھی ہو، بچوں اور عورتوں کے قتل سے لطف اندوز ہو، سوائے اس کے کہ وہ یہ یقین رکھتا ہو کہ اس کے یہ اعمال خدا کو راضی کرتے ہیں۔ یہی اعتقاد ان کے احساسات کو جری کر دیتا ہے اور انہیں اس سارے ظلم کو انصاف کے طور پر دیکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔

شریعت بادشاہ اور اس کے احکام

اس میں کوئی شک نہیں کہ فقہی کتاب "شریعتِ بادشاہ" (توراة الملک)، جسے دو حاخاموں یوسِف الیٹزور اور اسحاق شاپیرا نے تحریر کیا، ایک نہایت خطرناک یہودی فقہی تصنیف سمجھی جاتی ہے جو دہشت گردی پر اکسانے سے متعلق زیرِ بحث آتی رہی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ ان دونوں حاخاموں کو یہودیوں کے ایک بڑے طبقے میں خاص مقام حاصل ہے، بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کتاب نے بعض انتہاپسند یہودی گروہوں کی فکری تشکیل میں کردار ادا کیا، جو فلسطینیوں کے خلاف سرگرم رہے ہیں اور بعض اب بھی ہیں۔

اس کتاب کی سنگینی اس امر سے مزید نمایاں ہو گئی کہ اس میں ایسے افکار پیش کیے گئے جنہیں بعض حلقوں نے تشدد کے لیے "شرعی جواز" کے طور پر تعبیر کیا، اور اسی بنا پر غیر یہودیوں کے خلاف تشدد کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ ان دلائل کو عقلی اور منطقی اعتبار سے شدید تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ہم یہاں کتاب "شریعتِ بادشاہ" میں شامل بعض فتاویٰ اور احکام کے اقتباسات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، خاص طور پر وہ عبارات کہ جو عرب بچوں کے قتل کے لیے نام نہاد "شرعی" جواز فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔

·      اگر ہمیں یہ اندیشہ ہو کہ غیر یہودیوں کے بچے بڑے ہو کر ہمیں نقصان پہنچائیں گے تو ان کا قتل لازم ہے، بلکہ جان بوجھ کر انہیں قتل کرنا چاہیے۔

·      دشمن کے رہنماؤں کے شیر خوار بچوں کو قتل کرنا چاہیے، کیونکہ ان کا قتل برے لوگوں کو اذیت دیتا ہے اور انہیں ہم سے لڑنے سے باز رکھتا ہے۔

·      اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ دشمن کے بچے اور شیر خوار کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے، لیکن اس بنیاد پر ان کے قتل پر غور کیا جانا چاہیے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کر سکتے ہیں۔

·      دشمن کے شیر خوار بچوں کو نشانہ بنانے کے لیے فقہی جواز موجود ہے، کیونکہ وہ مستقبل میں ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس صورت میں ان پر فائرنگ کرنا لازم ہے تاکہ انہیں نقصان پہنچایا جائے، اور صرف بڑوں ہی کو نہیں بلکہ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ یہ بچے بھی نشانہ بنیں۔

ہم مزید چند اقتباسات پیش کرتے ہیں جو اسی کتاب سے منسوب کیے جاتے ہیں:

·      ہمیں دشمن کے شیر خوار بچوں کو قتل کرنا چاہیے، اس لیے نہیں کہ وہ خود برے ہیں، بلکہ ان کے برے والدین سے بدلہ لینے کے لیے۔

·      یہودیوں کے لیے جائز ہے کہ وہ دشمن کے معصوم شیر خوار بچوں کی موجودگی میں ان کے بڑوں کو قتل کریں۔

·      دشمن کے رہنماؤں کے معصوم شیر خوار بچوں کو قتل کرنا چاہیے، کیونکہ ان کا قتل ان کے والدین کو اذیت دیتا ہے اور انہیں ہم سے لڑنے سے روک سکتا ہے۔

·      چونکہ نیک لوگوں (یہود) اور برے لوگوں کے درمیان جنگ ہمیں متاثر کرتی ہے، اس لیے شریعت ہمیں اجازت دیتی ہے کہ ہم جان بوجھ کر شیر خوار اور دیگر بچوں کو نشانہ بنائیں۔ اور اگر یہ سمجھا جائے کہ دشمن کے بادشاہ کے بچوں کا قتل اس کے حوصلے کو توڑ دے گا، تو انہیں قتل کرنا لازم ہے۔

غیر یہودی شہریوں کے قتل سے متعلق فتاویٰ ،خواہ ان کی طرف سے کوئی دشمنی ظاہر نہ ہوئی ہو،

·      ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ غیر یہودی کو قتل کرنا لازم ہے، حتیٰ کہ اگر اس نے یہودیوں کی مدد ہی کیوں نہ کی ہو، بشرطیکہ اس کا محض وجود ہی اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھا جائے، چاہے وہ موجودہ حالات کا ذمہ دار نہ بھی ہو۔

·      غیر یہودی کے قتل کی ممانعت اس کی جان کی قدر کی بنیاد پر نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کا زندہ رہنا ہی نا جائز قرار دیا گیا ہے۔

·      اگر ہمیں یہ گمان ہو کہ کوئی شخص مستقبل میں ہمارے خلاف کام کر سکتا ہے، تو ہمیں ابھی اس کے خلاف اقدام کرنا چاہیے اور اس وقت تک انتظار نہیں کرنا چاہیے جب تک ہمیں اس بات کے شواہد نہ مل جائیں کہ وہ اس وقت ہمارے خلاف سرگرم ہے۔

·      غیر جنگجو بے گناہوں کے قتل سے متعلق فتاویٰ

·      ضرورت کے وقت ہمیں غیر مسلح بے گناہ افراد کو بھی قتل کرنا چاہیے اگر وہ دشمن کی کسی طرح مدد کر رہے ہوں، چاہے انہیں خود اس کا ادراک نہ ہو۔

·      جب کسی یہودی کی جان خطرے میں ہو اور اسے بچانے کا واحد راستہ کسی غیر یہودی کو قتل کرنا ہو، تو اسے قتل کرنا لازم ہے۔

·      ہم نے آیت ‘قتل نہ کرو  سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ حکم غیر یہودی کے قتل کی ممانعت پر دلالت نہیں کرتا۔

·      اگر معصوم شہریوں کی موجودگی یہودیوں کو دشمن تک پہنچنے سے روک رہی ہو، تو ان کو بھی قتل کرنا چاہیے۔

·      اگر ہمیں یہ گمان ہو کہ کوئی شخص مستقبل میں ہمارے خلاف کام کر سکتا ہے، تو ہمیں ابھی اسے نشانہ بنانا چاہیے اور اس وقت تک انتظار نہیں کرنا چاہیے جب تک اس کے خلاف واضح شواہد نہ مل جائیں۔

(غیر یہودیوں اور شہریوں کے بارے میں)

·      اگر ہمیں ضرورت پیش آئے تو ہم بے گناہوں کو بھی قتل کریں گے، اگر وہ دشمن کی کسی طرح مدد کر رہے ہوں، چاہے انہیں خود اس کا شعور نہ ہو۔

·      جب ہمارے دشمنوں کے اسلحہ ساز کارخانے کے اردگرد معصوم لوگ آباد ہوں، تو ہمیں اس پر حملہ کرنا چاہیے، چاہے اس کے نتیجے میں ان بے گناہوں کی جانیں ہی کیوں نہ چلی جائیں، تاکہ ہماری ریاست کے لوگوں کو خطرہ لاحق نہ ہو۔

·      غیر یہودیوں کو قتل کرنا لازم ہے، چاہے انہوں نے یہودیوں کو نشانہ بنانے کی ترغیب نہ بھی دی ہو، اگر ان کا محض وجود ہی یہودیوں کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔

·      دشمن کے طبی شعبے میں کام کرنے والوں کو بھی قتل کرنا چاہیے، کیونکہ اس شعبے کے بغیر دشمن زیادہ کمزور ہو جائے گا۔

غیر یہودی اس لیے قتل کے مستحق ہیں کہ انہوں نے نوحؑ کی وصیتوں کی خلاف ورزی کی ہے، اور ہمیں بدلہ لینے کے لیے ان کے قتل میں تردد نہیں کرنا چاہیے، چاہے یہ بدلہ ان کے کسی براہِ راست عمل سے متعلق نہ بھی ہو۔

جو غیر یہودی یہودیوں کو نشانہ بنانے کی حمایت یا حوصلہ افزائی کرے، اسے قتل کرنا واجب ہے تاکہ اس کے ضرر سے بچا جا سکے۔اس کتاب "شریعتِ بادشاہ" کو متعدد اعلیٰ حاخامات اور سیاسی شخصیات کی حمایت اور تائید بھی حاصل رہی۔ ان میں سے درجنوں نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جس میں شاپیرا اور الیٹزور کو یہ تصنیف شائع کرنے کے حق کا دفاع کیا گیا۔

حاخام شلومو آفنیر، جو صہیونی مذہبی رجحان کی اہم ترین مذہبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، نے اس کتاب کو "ایک فقہی اور علمی تخلیق" قرار دیا۔جبکہ حاخام شموئيل ایلیاھو، صفد شہر کے چیف ربی، نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ "شریعتِ بادشاہ" دراصل اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں آتی ہے، جس کی حفاظت اسرائیلی جمہوریت کو کرنی چاہیے۔

شیئر: