شیخ مصطفیٰ الحجری
جدید سائنس کی تاریخ میں شاید ہی کوئی داستان جارج رابرٹ پرائس (1922ء– 1975ء) کی کہانی جیسی ڈرامائی اور حیرت انگیز ہو۔ یہ ایک ایسے نابغۂ روزگار سائنس دان کی داستان ہے جو اگر اپنی ایجاد کو بروقت عام کرا لیتا تو ممکن تھا ارب پتی بن جاتا۔ کیونکہ یہ وہ ہے کہ جس نے جدید نظریۂ ارتقا میں ایک نہایت اہم ریاضیاتی مساوات پیش کی۔ لیکن اچانک اس کی زندگی میں ایسا موڑ آیا کہ وہ ایک سخت گیر ملحد اپنا سخت گیر نظریہ بدل کرنافقط ایک خدا پر ایمان رکھنے والا مسیحی بن گیا، بلکہ تخلیق الٰہی کا دفاع کرنے والوں میں شامل ہو گیا۔ تاہم اس داستان کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ آخرکار وہ لندن میں ایک غریب انسان کی حیثیت سے دنیا سے رخصت ہوا، کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ بے گھروں اور محتاجوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔
یہ اُس صاحبِ عقل انسان کی داستان ہے کہ جب انسان کے جذبہ ایثار اور قربانی کی عظمت اس پر منکشف ہوئی، اور اسے احساس ہوا کہ صرف علمِ ریاضی کے بس میں نہیں کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دے کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟ اور یہ کہ حقیقی احسان اور بے لوث محبت محض جینیاتی تغیرات کا نتیجہ نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی عطا کردہ ہے۔
جارج پرائس 1922ء میں ایک امریکی خاندان میں پیدا ہوا۔ وہ ابھی چار سال کا بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہو گیا، اور یہ واقعہ اس کے دل میں درد بھری یادیں چھوڑ گیا۔ یہ بچہ ہر اعتبار سے غیر معمولی تھا۔اس نے اپنے ہائی اسکول (اسٹیونز) میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرکے تاریخ رقم کی، اور اسی بنا پر اسے ہارورڈ یونیورسٹی میں مکمل اسکالرشپ مل گیا۔پھر اس نے جامعہ شکاگو میں کیمیا کی تعلیم حاصل کی، جہاں اسے شعبۂ کیمیا کا ستارہ کہلانے لگا۔پھر معروف عالمی کمپنی “ایلی لیلی” کے تعاون سے فزیکل کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے مشہور ’’مین ہیٹن پراجیکٹ‘‘پر بھی کام کیااور پھر ہارورڈ یونیورسٹی میں بایو کیمسٹری کا استاد مقرر ہوا۔ اس کے بعد وہ بیل لیبارٹریز میں اُن سائنس دانوں کے ساتھ کام کرنے لگا جنہوں نے ٹرانزسٹر ایجاد کیا تھا اور بعد میں نوبل انعام حاصل کیا۔ وہاں سے وہ IBM کمپنی میں چلا گیا، جہاں اس نے مین فریم کمپیوٹرز کی تیاری اور ترقی میں حصہ لیا۔
بادی النظر میں جارج پرائس مغربی سائنسی اشرافیہ کا ایک مکمل نمونہ دکھائی دیتا تھا کہ یہ انتہائی ذہین، مالدار، غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل، اور کسی حد تک متکبربھی تھا اور وہ خود اپنے بارے میں کہتا ہے کہ “میں ایک سخت گیر ملحد تھا۔وہ صرف مادّے، کوانٹم میکینکس اور نظریۂ ارتقا پر یقین رکھتا تھا، اور پوری کائنات کو محض اتفاق اور اندھی فطری قوتوں کا نتیجہ سمجھتا تھا۔ لیکن اس کی ذاتی زندگی اس کی پہلی مذہبی بیوی جولیا میڈیگن سے طلاق، شراب نوشی کی لت، اور سماجی طورپر تنہائی کی صورت میں اس کے اس مادی نظریے کی نفی کردی تھی… یہ صورتحال اس بات کی غماز تھی کہ اس کے اندر کہیں ایک گہرا روحانی خلا موجود ہے، جسے سائنس پر کرنے میں ناکام رہی تھی۔
وہ مساوات جس نے نظریۂ ارتقا کی تاریخ بدل دی
1966ء میں جارج پرائس کی زندگی میں ایک سخت آزمائش آئی کہ جب اسے غذائی نالی کا سرطان لاحق ہو گیا۔جس کا اگر چہ اس نے ایک پیچیدہ آپریشن کروایا تاہم وہ مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو سکا، یہاں تک کہ اس کے کندھے کا ایک حصہ مفلوج ہو گیا، ایسے میں بظاہر اس کی زندگی ختم ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔
لیکن وہ بچ گیا۔ اور اسی نئی زندگی کے احساس نے اسے اپنی پوری زندگی بدلنے پر آمادہ کیا چنانچہ اس نے امریکہ میں اپنی باوقار ملازمت چھوڑ دی اور انشورنس کی رقم کے سہارے لندن منتقل ہو گیا، تاکہ ایک نئے سائنسی سفر کا آغاز کر سکے۔ وہ ایک ایسے سوال کا جواب تلاش کرنا چاہتا تھا جو ڈارون کے نظریۂ ارتقا کے سب سے پیچیدہ مسائل میں شمار ہوتا تھا: کہ آخر ایثار، یعنی دوسروں کے لیے اپنی ذات کی قربانی دینے کا جذبہ، فطری انتخاب کے ذریعے کیسے وجود میں آ سکتا ہے؟ یہ محض سوال نہ تھا بلکہ سوال کی شکل میں یہ ایک معمہ در معمہ سلسلہ غور و فکر تھا کہ اگر فطری انتخاب کا مطلب زیادہ موزوں اور طاقتور کا باقی رہنا ہی ہے، تو پھر ایسا رویہ کیسے پیدا ہوا جو خود فرد کو نقصان پہنچاتا ہے اور دوسرے کو فائدہ دیتا ہے؟
ڈارون نے اسے گروہی انتخاب کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ اسے ریاضیاتی صورت پرپیش نہ کر سکا۔ پس یہیں جارج پرائس نے اپنی ریاضیاتی غیر معمولی صلاحیت دکھائی۔ اور اس نے لندن کی ایک چھوٹی سی لائبریری کے کمرے میں، ولیم ہیملٹن کی “رشتہ داری کے انتخاب” سے متعلق تحقیقات کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد ایک ایسی مساوات ایجاد کی جو بظاہر سادہ تھی، مگر اپنے اندر نہایت گہری معنویت رکھتی تھی۔
پرائس مساوات: Δz = Cov(w,z) + E(w·Δz)
اس مساوات کو بعض ماہرین نے ڈارون کے بعد حیاتیاتی ارتقا کی سب سے اہم مساوات قرار دیا ہے۔ یہ کسی بھی ارتقائی تبدیلی کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کرتی ہے:
1. جینیاتی صفت اور تولیدی کامیابی کے درمیان تعلق
2. گروہ کے اندر موجود فرق اور اس کے اثرات
اس مساوات کے ذریعے جارج پرائس نے ریاضیاتی انداز میں ثابت کیا کہ ایثار اور قربانی جیسے رویّے ارتقائی طور پر وجود میں آ سکتے ہیں، بشرطیکہ فائدہ اٹھانے والا فرد انہی جینز کا حامل ہو، یعنی قریبی رشتہ دار ہو۔ یہ ایک زبردست سائنسی کامیابی تھی۔ پرائس نے اپنی دریافت مختصر انداز میں ولیم ہیملٹن کو بھیجی، جس پر ہیملٹن حیران رہ گیا کہ ایک گمنام شخص نے چند سطروں میں اُس مسئلے کو حل کر دیا جس نے اسے برسوں سے الجھا رکھا تھا۔
لیکن ان مساواتوں کو لکھتے ہوئے جارج پرائس کی زندگی میں ایک عجیب تبدیلی آنےلگی…ساٹھ کی دہائی کے آخر میں، جب وہ لندن کی گالٹن لیبارٹری میں اپنے دفتر میں بیٹھا کام کر رہا تھا، تو اسے اچانک ایک حیران کن حقیقت کا احساس ہوا کہ ریاضی یہ تو سمجھا سکتی ہے کہ ایثار اور قربانی “کیسے” وجود میں آتی ہے، لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو تو انسان ’’کیوں‘‘نیکی کرتا ہے!اس نے ریاضی کے ذریعے یہ ثابت کیا تھا کہ جینز انسان کو خود غرض بناتے ہیں وہی تصور جسے بعد میں رچرڈ ڈاکنز نے جین کی خود غرضی کے نام سے مشہور کیا لیکن اسی کے ساتھ وہ اپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ انسان بعض اوقات بغیر کسی فائدے کے، بلکہ کبھی کبھی اپنے دشمنوں کے لیے بھی، قربانی دے دیتے ہیں۔
1956ء میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں جو اس کے ایمان لانے سے پہلے کا تھا پرائس ہر قسم کے مافوق الفطرت مظاہر کے “ثبوت” پر سخت تنقید کرتا تھا۔ وہ خالص مادّیت کا ایک مضبوط حامی تھا۔ لیکن اب… اپنی ہی مساوات کے سامنے جارج پرائس کو محسوس ہونے لگا کہ ریاضی کے پیچھے بھی “کوئی حقیقت” موجود ہے۔ اس کی سوانح عمری کے مؤرخ اورن ہارمن لکھتے ہیں: پرائس نے ایثار کے معمہ کو ریاضیاتی طور پر حل کر لیا تھا، لیکن اسی حل نے اسے ایک اور زیادہ خطرناک سوال کے سامنے لا کھڑا کیاکہ اگر انسان صرف وراثت اور مادی اسباب کا مجموعہ ہے، تو پھر مجھے نیک کیوں ہونا چاہیے؟
یہ ایک گہرا وجودی تضاد تھا۔ ریاضیاتی ایثار، اگر اس کے پیچھے کوئی اعلیٰ مقصد نہ ہو، تو دراصل ایک چھپی ہوئی خود غرضی ہی بنتا ہے یعنی جینز کی خود غرضی۔ لیکن حقیقی انسانی ایثار، جہاں انسان بغیر کسی مادی یا جینیاتی فائدے کے اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے، سائنس اس کی مکمل توجیہ پیش نہیں کر سکتی۔ یہ ایک ایسا حیرت انگیز مظہر ہے جس کے لیے کسی “معجزہ پیدا کرنے والی ہستی” کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
حیرت انگیز تبدیلی… اور خالق پر ایمان
ستر کی دہائی کے آغاز میں جارج پرائس ایک گہرے روحانی تجربے سے گزرا۔ یہ محض فکری تبدیلی نہیں تھی، بلکہ اس کی پوری زندگی اور وجود کےلئےایک مکمل انقلاب آفرینِ تھا۔ اس نے معروف مسیحی مفکر C. S. Lewis کی کتابیں پڑھیں، اور خاص طور پر ’’اخلاقی قانون‘‘کے اصول سے بہت متاثر ہوا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ تمام انسانوں کے اندر صحیح اور غلط کا جو فطری احساس پایا جاتا ہے، وہ محض اندھے ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ انسان کے اندر خدا کی نشانی اور اس کی عطا کردہ فطرت کا اثر ہے۔
پھر اس کی زندگی میں ایک اور حیران کن موڑ آیا کہ اس نے خود نظریۂ ارتقا پر ہی اعتراض کرنا شروع کر دیا۔ جی ہاں، وہی سائنس دان جس نے نظریۂ ارتقا کی سب سے اہم ریاضیاتی مساوات پیش کی تھی،وہی اب تخلیقِ کائنات کا حامی بن گیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق وہ یہاں تک ماننے لگا تھا کہ زمین کی تخلیق صرف چھ سے دس ہزار سال پہلے ہوئی، جیسا کہ بائبل کے لفظی مفہوم سے سمجھا جاتا ہے۔
اپنے ایک خط میں وہ لکھتا ہے کہ سائنس صرف یہ بیان کرتی ہے کہ چیزیں ’’کیسے‘‘ہوتی ہیں، لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ ’’کیوں‘‘ ہوتی ہیں۔ اور وہ زبان جس میں خدا نے کائنات کو لکھا ہے یعنی انسانی جینوم اور پوری کائنات انتہائی پیچیدہ، دقیق اور حکمت سے بھرپور ہے، جو ایک دانا اور علم رکھنے والے خالق کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔جارج پرائس اب یہ سمجھنے لگا تھا کہ اس کی اپنی مساوات، اپنی ریاضیاتی صحت کے باوجود، دراصل صرف اُس نظام کی ظاہری وضاحت ہے جو خالق نے قائم کیا ہے۔ یہ دنیا میں خیر، محبت اور ایثار کے وجود کی آخری اور مکمل توجیہ نہیں۔
وہ دیوانہ درویش… جو بے گھروں کے لیے آسرا بن گیا۔
اس مرحلے پر جارج پرائس صرف نظریاتی ایمان پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کی زندگی عملی ایثار اور خدمت میں بدل گئی۔ اس نے اپنے گھر کا سامان فروخت کر دیا، یہاں تک کہ اپنی سائنسی تحریریں اور مشہور مساوات کے مسودے بھی پھینک دیے۔ پھر لندن کے ایک نہایت چھوٹے فلیٹ میں رہنے لگا، اور اس نے اپنی زندگی سڑکوں پر رہنے والے بے گھروں اور محروم لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ وہ گلیوں میں پھر کر بے گھر افراد کو تلاش کرتا، انہیں اپنے گھر لے آتا، کھانا کھلاتا، کپڑے دیتا، پیسے دیتا، بلکہ اپنے ہاتھوں سے ان کے پاؤں تک دھوتا تھا۔سخت سرد راتوں میں بھی وہ باہر نکلتا اور اُن لوگوں کو ڈھونڈتا جنہیں معاشرہ سب سے زیادہ حقیر سمجھتا تھا۔ پھر ان سے کہتا: ـمیں تم سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ خدا تم سے محبت کرتا ہے۔
اس کے ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ وہ بے گھر لوگوں کو اپنے گھر لے آتا، انہیں اپنے دسترخوان پر بٹھاتا، ان کی زندگی کی کہانیاں سنتا، ان کے دکھوں پر آنسو بہاتا، اور پھر اپنی جیب میں موجود آخری پاؤنڈ بھی ان پر نچھاور کر دیتا تھا۔یوں جارج پرائس نے اُس ’’ایثار‘‘ کو، جسے اس نے کبھی ریاضی کی زبان میں سمجھنے کی کوشش کی تھی، اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کر دیا۔ لیکن اب وہ اسے جینیاتی میکانزم نہیں سمجھتا تھا، بلکہ ایک الٰہی ذمہ داری اور روحانی فریضہ مانتا تھا۔
دردناک انجام… مگر ایسی روحانی میراث، جو آج بھی دلوں کو روشن کرتی ہے۔
جنوری 1975ء میں جارج پرائس کی لاش اس کے تنگ و تاریک اور سادہ فلیٹ سے ملی۔ مختلف روایات کے مطابق اس نے یا تو اپنی رگیں کاٹ لی تھیں یا اسپرین کی زیادہ مقدار استعمال کی تھی جبکہ اُس وقت اس کی عمر صرف 52 سال تھی۔
جارج پرائس اپنے پیچھے کئی ایسی چیزیں چھوڑ گیا جو آج بھی لوگوں کو حیران کرتی ہیں:
اس کی یہ تحریر، جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں اس دنیا سے جا رہا ہوں، کیونکہ اب میرے اندر اتنا ایمان نہیں رہا کہ اس درد کو برداشت کر سکوں۔
’’پرائس مساوات‘‘ وہ مشہور ریاضیاتی فارمولا جو آج بھی رویّاتی جینیات اور ارتقائی حیاتیات کی بنیادوں میں شمار ہوتا ہے، اور دنیا کی بڑی جامعات میں پڑھایا جاتا ہے۔
لندن کے بے گھر افراد کی گواہیاں، جو اس کے بارے میں کہتے تھے کہ گویا ہم نے یسوع مسیح کو اپنے درمیان دیکھا تھا۔
لیکن شاید سب سے زیادہ اثر انگیز الفاظ اس کے ساتھی سائنس دان والیوم ڈی ھملٹن نے اس کی وفات کے بعد لکھے کہ :جارج پرائس وہ عظیم ترین سائنس دان تھا جسے میں نے جانا… لیکن وہ سب سے زیادہ رحم دل انسان بھی تھا۔ اس نے اپنی مساوات کو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک زندہ رکھا ، دوسروں کے لیے اپنی ذات کی قربانی کی صورت میں دیا اور ایسی قربانی کو محض وراثت کے اصولوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
خلاصہ :
جارج کی زندگی اُن لوگوں کے لیے ایک سبق ہے جو سمجھتے ہیں کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جارج پرائس کی کہانی محض ایک’’ذاتی تبدیلی‘‘ کی داستان نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فکری دھماکہ ہے جو خالص مادّی سوچ کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔
اوّل: سائنس ’’کیسے‘‘کو بیان کرتی ہے، ’’کیوں‘‘ کو نہیں پرائس کی مساوات یہ تو بتاتی ہے کہ ایثار سے متعلق جینز کیسے منتقل ہوتے ہیں، لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ آخر جارج پرائس نے اپنی زندگی غریبوں اور بے گھروں کی خدمت کے لیے بدلنے کا اخلاقی فرض کیوں محسوس کیا۔یہ اندرونی احساس، یعنی ضمیر، انسان کے اندر موجود اُس الٰہی نور کی نشانی ہے جسے محض مادّی اصولوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
دوم: حقیقی ایثار حیاتیات سے بلند تر ہے۔اگر ایثار صرف جینیاتی حکمتِ عملی ہوتا، جیسا کہ بعض مادّی مفکرین کہتے ہیں، تو جارج پرائس جیسا ذہین انسان کبھی اپنی دولت، آرام اور صحت قربان نہ کرتا۔ جبکہ اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا، کیونکہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ خدا کے بغیر زندگی کے کوئی حقیقی معنی نہیں۔
سوم: عقل انسان کو ایمان سے دور نہیں کرتی، بلکہ یہ اسے ایمان تک پہنچا سکتی ہے۔جارج پرائس نے ایمان کے لیے اپنی عقل ترک نہیں کی تھی۔ بلکہ اس نے ریاضی اور سائنسی فکر کی بلند ترین سطحوں کو استعمال کیا، یہاں تک کہ علم کی آخری سرحدوں تک پہنچ گیا… حتی کہ وہاں اسے خدا کی نشانیاں دکھائی دینے لگیں۔
چہارم: عملی ایمان سب سے مؤثر دلیل ہے۔لاادریت یا الحاد کا بہترین جواب صرف فلسفیانہ ابحاث نہیں، بلکہ عملی کردار بھی ہے۔پرائس نے صرف ایمان کے بارے میں نہیں لکھا، بلکہ اسے اپنی زندگی میں رچایا بسایا، بے گھروں، محروموں اور تنہا انسانوں کے درمیان۔ہم مسلمان جب جارج پرائس، ساندیج یا فرنسس کولن جیسے لوگوں کی کہانیاں پڑھتے ہیں، تو ہمیں ان میں قرآن کی اس آیت کی جھلک نظر آتی ہے:
﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ﴾
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی حق ہے۔ سورۂ فصلت: 53
جارج پرائس نے اپنی مساوات میں ایک نشانی دیکھی کہ ایسا حیرت انگیز اور نہایت دقیق ریاضیاتی نظام، جو ایثار کی وضاحت تو کرتا تھا، لیکن ساتھ ہی گویا پکار پکار کر یہ بھی کہہ رہا تھا۔ اس نظم کے پیچھے ایک عظیم حکمت موجود ہے۔اسی احساس نے اسے اس مقام تک پہنچایا کہ وہ دنیا سے ایک مفلوج الحال انسان کی حیثیت سے رخصت ہوا، مگر اس کا دل خدا اور انسانوں کی محبت سے لبریز تھا۔ اور یوں اس کی پوری زندگی گویا ایک ہی پیغام میں سمٹ گئی: علم کو روح سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ عقل اگر دل کے بغیر ہو تو اندھی بن جاتی ہے، اور دل اگر عقل کے بغیر ہو تو بھٹک جاتا ہے۔