واپس
سلسلہ: راہ نور کے مسافر۔ جینوم پراجیکٹ کے سربراہ فرانسس کولنز کا اعتراف: سائنس نے خدا تک رہنمائی کی

سلسلہ: راہ نور کے مسافر۔ جینوم پراجیکٹ کے سربراہ فرانسس کولنز کا اعتراف: سائنس نے خدا تک رہنمائی کی

کولنز نے اپنے آخری مشہور انٹرویو میں کہا کہ اگر میں آج بھی ملحد ہوتا تو خوف اور مایوسی کی زندگی گزارتا لیکن اب میں ہر دن اس خالق کی عظمت پر حیرت میں مبتلا رہتا ہوں جس نے میری پیدائش سے پہلے ہی میرا نام زندگی کی کتاب میں لکھ دیا تھا۔

الشيخ مصطفى الهجري

26 جون 2000 کو امریکی صدر بل کلنٹن وائٹ ہاؤس میں کھڑے تھے اور ان کے ساتھ صرف ایک سائنس دان، فرانسس کولنزموجود تھے۔ اس موقع پر کلنٹن نے ایسے الفاظ کہے جس کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی:آج ہم اس زبان کو سمجھنے لگے ہیں جس میں خدا نے زندگی کو لکھا ہے اور ہم زندگی کے اس عظیم تحفے کی پیچیدگی، خوبصورتی اور معجزاتی حیثیت کو دیکھ کر مزید احترام اور حیرت محسوس کر رہے ہیں۔

یہ دراصل انسانی جینوم منصوبے کی تکمیل کا باضابطہ اعلان تھاجو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور اہم سائنسی منصوبہ تھا۔ اس پر تقریباً 3 ارب ڈالر لاگت آئی، اس میں 20 ممالک کے 2400 سائنس دانوں نے حصہ لیااور اس کی قیادت ایک ہی سائنس دان، ڈاکٹر فرانسس سیلرز کولنزنے کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی سائنس دان، جس نے حیاتیات کے سب سے بڑے انقلاب کی قیادت کی، اپنی جوانی میں ایک پکا ملحد تھا… پھر یہ مکمل تبدیل ہوا ،خدا پر ایمان لے آیااور بعد ازاں بائبلی مسیحیت کو اختیار کیا۔ اس نے اس بات کا کھلے عام اعلان بھی کیا اور ’’دی لینگویج آف گاڈ‘‘ کے عنوان سے ایک مشہور کتاب لکھی جس کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں۔

فرانسس کولنز کون ہیں؟

سابق ڈائریکٹر امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (NIH)، جو دنیا کا سب سے بڑا طبی تحقیقاتی ادارہ ہے، جس کا سالانہ بجٹ 47 ارب ڈالر ہے۔

انسانی جینوم منصوبے (2000) کا بانی۔ سسٹک فائبروسس، ہنٹنگٹن اور نیوروفائبرومیٹوسس سمیت مختلف بیماریوں کے جینز کا دریافت کنندہ۔ لوکَل کلوننگ (استنساخِ موضِعی) نامی تکنیک کے موجد، جس نے علمِ وراثت میں انقلابی تبدیلی پیدا کی۔

دی لینگویج آف گاڈ کے مصنف جو علم اور ایمان پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔

متشدد الحاد سے ایمانِ کامل تک

کولنز ایک مکمل ملحد گھرانے میں پروان چڑھا۔ اس کے والدین آزاد خیال (لاادری/ملحد) تھے۔ انہوں نے اسے گھر پر ہی تعلیم دی، اور وہ صرف کلاسیکی موسیقی سیکھنے کے لیے چرچ جاتا تھا۔ اس کے والد اکثر اس سے صاف کہتے تھے کہ خدا وغیرہ کی ان باتوں پر توجہ نہ دو، بس موسیقی پر دھیان دو۔ یونیورسٹی کے زمانے میں وہ ایک سخت غصے والا ملحد بن گیا۔ کولنز کہتے ہیں:میں ایک شدید غصے والا ملحد تھا میں یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ روحانی زندگی جیسی کوئی چیز بھی موجود ہے۔اس نے فزیکل کیمسٹری، پھر کوانٹم میکینکس کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں میڈیکل کالج میں داخل ہوااور یہیں سے اس کی تبدیلی کا سفر شروع ہوا۔ مگر تین چیزوں نے اس کے الحاد کو مکمل طور پر ہلا کر رکھ دیا:

پہلا: مرنے والے مریض اور اخلاقی قانون

ایک نوجوان ڈاکٹر کے طور پر وہ ایسے مریضوں کے ساتھ بیٹھتا جو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہوتے تھےاور وہ اس سے پوچھتے کہ ڈاکٹر، موت کے بعد آپ کی کیا رائے ہے؟اس نے دیکھا کہ ایمان رکھنے والے مریض حیرت انگیز سکون کے ساتھ مرتے ہیں جبکہ وہ اپنے تمام علم کے باوجود کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا۔کولنز کہتے ہیں کہ میں سوچنے لگا کہ ان لوگوں کو یہ غیر معمولی سکون کہاں سے ملتا ہے؟ اور ارتقاء ہر انسان کے اندر موجود اس مطلق اخلاقی قانون کی وضاحت کیسے کرتا ہے؟ ہم سب کیوں محسوس کرتے ہیں کہ بے گناہ کو قتل کرنا قطعی غلط ہے، چاہے کوئی سزا نہ بھی ہو؟ ارتقاء اس کی وضاحت نہیں کر سکتا۔

دوسرا: سی. ایس. لیوس کی کتاب ’’مسیحیتِ محض‘‘

ایک ایمان والی بوڑھی مریضہ نے یہ کتاب اسے دی۔ ابتدا میں اس نے اسے مذاق میں پڑھنا شروع کیا مگر پھر وہ اندر سے متاثر ہو گیا۔ کولنز کہتے ہیں کہ میں اس کتاب کو رد کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن میں خود ہی اس سے قائل ہوتا چلا گیا، خاص طور پر لیوس کی اخلاقی قانون والی دلیل نے مجھے جھنجھوڑ دیا کہ اگر خدا نہ ہو تو پھر مطلق نیکی اور بدی کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔

تیسرا: انسانی جینوم کی حیرت انگیز پیچیدگی۔

جتنا وہ جینوم کی گہرائی میں اترتا گیا، اس کی حیرت بڑھتی چلی گئی۔ کولنز کے الفاظ ہیں:انسانی جینوم ایک انتہائی درست ریاضیاتی زبان میں لکھا گیا ہے جو کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔یہ ایک انتہائی پیچیدہ کمپیوٹر پروگرام کی طرح ہےمگر انسانی ذہانت کے بنائے گئے کسی بھی پروگرام سے اربوں گنا زیادہ خوبصورت ہے۔ تمہارے جسم کا ہر خلیہ ڈی این اے کی تقریباً دو میٹر لمبی ہدایات رکھتا ہےجو غیر معمولی درستگی کے ساتھ لکھی گئی ہیں۔یہ اتفاق نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی ہے۔

ایک دن جب وہ جنگل میں گھوم رہا تھا تو اس نے ایک جمی ہوئی آبشار کو دیکھا جو تین الگ دھاروں سے بن کر ایک میں مل رہی تھی۔ وہ برف میں گھٹنوں کے بل گر  کر رو پڑا اور کہا: اے خدامیں تجھ پر ایمان لایا۔ میں خود کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔

کولنز کہتے ہیں:اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ کائنات کی ہر چیز معنی رکھتی ہے۔ میں اب خدا کو تلاش نہیں کر رہا تھا بلکہ میں نے اسے پا لیا تھا۔

سائنس اور خالق کے بارے میں سائنسی کے بیانات

انسانی جینوم پڑھنے کے بعد میں پہلے سے زیادہ یقین کے ساتھ خدا کے وجود پر ایمان رکھتا ہوں۔ جینوم خدا کی لکھی ہوئی ایک کتاب ہے، ایسی زبان میں جسے ہم ابھی مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے۔ بگ بینگ ایک ایسی قوت کا تقاضا کرتا ہے جو وقت اور مکان سے ماورا ہویعنی خدا۔ کیمیائی مادّے سے زندگی کا آغاز بغیر الٰہی مداخلت کے ناممکن ہے۔ارتقاء شاید ’کیسے‘کی وضاحت کرے مگر خدا ’کیوں‘ کی وضاحت ہے۔

جب انہوں نے 2006 میں اپنی کتاب “دی لینگویج آف گاڈ” شائع کی تو ملحدین شدید غصے میں آ گئے۔ رچرڈ ڈاکنز نے ان پر سخت تنقید کی۔سیم ہیرس نے کہا کہ کولنز نے عقلی خودکشی کر لی ہے۔  ریسرچ جرنل “نیچر” نے اداریہ شائع کیا جس میں انہیں سائنس کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔ یہاں تک کہ جب انہیں نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تو ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ایمان پر مبنی تنظیم (بایولوگوس) سے الگ ہو جائیں، اس خوف سے کہ ان کے عقائد ان کے سائنسی فیصلوں کو متاثر کریں گے۔

کولنز نے نہایت سکون سے جواب دیا کہ میں خدا پر ایمان رکھنے کی وجہ سے سائنس میں کمزور نہیں ہوا بلکہ میرا ایمان مجھے سائنس کی خوبصورتی کو اور بہتر طور پر دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ تاریخ کے زیادہ تر عظیم سائنس دان بھی خدا پر ایمان رکھنے والے تھے نیوٹن، کیپلر، فیراڈے، میکسویل، مینڈل وغیرہ۔یہاں تک کہ آئن سٹائن بھی خدا کے بارے میں احترام سے بات کرتا تھا۔

خلاصہ: ایک سائنس دان کی گواہی،جس نے حیات کی کتاب پڑھی اور خالق کے الفاظ دیکھے۔ فرانسس کولنز اس دور کے عظیم ترین سائنس دانوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے تاریخ کے سب سے بڑے سائنسی منصوبے کی قیادت کی، انسان کے مکمل جینیاتی کوڈ کو پڑھا اور اپنی لیبارٹری سے اس یقین کے ساتھ نکلے جو کسی راہب سے بھی مضبوط تھا: سائنس ایمان کی دشمن نہیں بلکہ خدا تک پہنچنے کا سب سے خوبصورت راستہ ہے۔

کولنز نے اپنے آخری مشہور انٹرویو میں کہا کہ اگر میں آج بھی ملحد ہوتا تو خوف اور مایوسی کی زندگی گزارتا لیکن اب میں ہر دن اس خالق کی عظمت پر حیرت میں مبتلا رہتا ہوں جس نے میری پیدائش سے پہلے ہی میرا نام زندگی کی کتاب میں لکھ دیا تھا۔فرانسس کولنز کی یہ گواہی ہمارے دور کی سب سے طاقتور گواہیوں میں سے ایک ہے کہ جب ایک سائنس دان اخلاص کے ساتھ تخلیق کی کتاب پڑھتا ہےتو اسے ہر صفحے پر خالق کے دستخط نظر آتے ہیں۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

(سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ)فصلت ۵۳

ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یقینا وہی (اللہ) حق ہے۔

شیئر: