الشيخ مصطفى الهجري
جدید علمِ کونیات کی تاریخ میں ایک نام ایسا ہے جسے "بیسویں صدی کا عظیم ترین ماہرِ کونیات" کہا جاتا ہے۔ جبکہ سائنسی صحافی ڈینس اووربائی نے مجلہ "نیویارک ٹائمز" میں لکھا ہے کہ کائنات کے اسرار کی تلاش میں انسانیت کے سفر کے دوران، آلن ریکس سینڈیج کی آواز ہر دوسرے معاصر ماہرِ کونیات سے بلند سنائی دیتی ہے۔یہ نابغۂ روزگار سائنسدان، جس نے ہبل کانسٹنٹ کو درست سمت کی طرف رہنمائی کیا، کائنات کی عمر کا تعین کیا، اور خود ایڈون ہبل کی غلطیوں کی اصلاح کی، اور جس نے کرافورڈ انعام (جو فلکیات میں نوبل پرائز کے برابر سمجھا جاتا ہے) حاصل کیا ، اپنے بچپن اور جوانی میں مکمل طور پر ملحد تھا۔ پھر ایک بنیادی اور گہری تبدیلی کے ساتھ وہ خالق پر ایمان لے آیا، اور بعد ازاں کھلے طور پر مسیحیت اختیار کر لی۔ یہ سب کچھ ان حقائق کی وجہ سے ہوا جو اس نے اپنی دوربینوں اور سائنسی مساوات میں خود دیکھا۔
آلن ریکس سینڈیج سنہ 1926ء میں ایک علمی یہودی النسل خاندان میں پیدا ہوا، لیکن وہ بچپن ہی سے ملحدانہ ماحول میں پروان چڑھا۔ اس نے جامعہ الینوائے سے طبیعیات میں تعلیم حاصل کی، پھر کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے والٹر باڈی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، اور براہِ راست ایڈون ہبل، جو رصدی علمِ کونیات کے بانی سمجھے جاتے ہیں، کے شاگرد رہے۔ ایڈون ہبل کی اچانک وفات کے بعد، سینڈیج نے سن ۱۹۵۳ میں ان کے تحقیقی پروگرام کو سنبھالا تب اسے ان کے کچھ نظریات میں بڑی غلطیوں کا انکشاف کیا۔ چنانچہ اس نے کائناتی پھیلاؤ کی مستقل قدر ۲۵۰کلومیٹر فی سیکنڈ فی میگا پارسیک سے کم کرکے ۵۰سے بھی کم کر دی، اور یہی قدر آج تک تقریباً قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔
سینڈیج نے ۵۰۰سے زائد تحقیقی مقالات شائع کیے، دو کہکشانی اٹلس (1961ء او1981ء) مرتب کیے، اور کہکشاں (ایم ۸۲)سے خارج ہونے والی عظیم گیسائی لہروں کو دریافت کیا۔ اس نے مرصد پالومار میں ۲۰۰انچ ہیل دوربین کے ذریعے جدید رصدی علمِ کونیات کی بنیاد رکھی۔ مجلہ "نیچر" نے اس کے انتقال پر لکھا کہ "وہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف کا عظیم ترین فلکی مشاہدہ کار تھا۔"
تبدیلی کا آغاز کیسے ہوا؟
اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے درمیانی عرصے میں آلن سینڈیج ایک شدید "وجودی اضطراب" کا شکار ہونے لگا، جو زندگی کے معنی سے متعلق تھا۔ وہ ایک انٹرویو میں کہتا ہے کہ تقریباً بارہ سال کی عمر سے ہی مجھے اس خیال نے حیران کر رکھا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب بالکل کچھ بھی موجود نہیں تھا نہ زمین، نہ سورج، نہ کہکشائیں، نہ وقت، نہ خلا… پھر اچانک سب کچھ وجود میں آ گیا۔ یہ سوال کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہوا؟یہ میری زندگی کا سب سے بڑا شوق بن گیا۔ پھرجوں جوں وہ کائنات کے مطالعے میں گہرائی تک جاتا گیا، اس کا یہ احساس بڑھتا گیا کہ محض اتفاق اس حیرت انگیز نظم و ترتیب کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ سینڈیج کہتا ہے کہ: جتنا زیادہ میں نے جانداروں کا مطالعہ کیا، اتنا ہی میرا یقین پختہ ہوتا گیا کہ ہر خلیے ہر عضو اور ہر حیاتیاتی نظام میں موجود یہ نہایت دقیق تنظیم محض اندھے ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ جبکہ ایک چھوٹے سے بیج سے ایک عظیم بلوط کے درخت کا بڑھنا ایک ایسی پیشگی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے جسے صرف مادی انداز میں نہیں سمجھایا جا سکتا۔پھر وہ ایک غیر معمولی صراحت کے ساتھ اضافہ کرتا ہے۔ کہ میں ملحد تھا… لیکن سائنس ہی نے مجھے ایمان تک پہنچایا۔ یہ کائنات اس قدر حیرت انگیز، اس قدر پیچیدہ اور نہایت باریک توازن کے ساتھ قائم ہے کہ اسے محض ایک اتفاقی کونیاتی حادثہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بڑی تبدیلی کا لمحہ
۱۹۷۰ کی دہائی کے اواخر میں،یعنی کئی دہائیوں کی تحقیق کے بعد، سینڈیج ایک فیصلہ کن نتیجے پر پہنچا کہ بگ بینگ صرف ایک طبیعیاتی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک "تخلیقی غیبی واقعہ" ہے جسے اُن طبیعی قوانین کے اندر رہ کر نہیں سمجھا جا سکتا جنہیں ہم جانتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ سائنس اس گہرے سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ کائنات عدم سے وجود میں کیوں آئی؟ مادہ، توانائی، زمان اور مکان کا عدم سے ظہور کسی بیرونی علت کا تقاضا کرتا ہے… ایک ایسی علت جو خود غیر معلول ہو یعنی ایک خالق۔
ایک مشہور انٹرویو میں اس نے وہ جملہ کہا جس کی گونج بہت دور تک سنی گئی کہ کائنات اگر اپنے طبیعی وجود میں معمولی سی بھی مختلف ہوتی، ایک اربویں حصے کے برابربھی، تو ایٹم ٹوٹ جاتے، ستارے پھٹ جاتے یا کاربن تشکیل ہی نہ پاتا… مگر سب کچھ ایسی باریکی سے متوازن ہے جو تصور سے بھی باہر ہے۔ یہ دقیق توازن ایک دانا و حکیم خالق کے وجود کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔
جب آلن سینڈیج سے نوبل انعام یافتہ طبیعیات دان اسٹیفن وائنبرگ کے اس قول کے بارے میں پوچھا گیا کہ ’’جوں جوں کائنات زیادہ قابلِ فہم ہوتی جاتی ہے، وہ اتنی ہی بے مقصد دکھائی دیتی ہے‘‘تو سینڈیج نے سخت ردِّعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل لغو بات ہے۔ کائنات اپنی غایت (مقصد) کے اعتبار سے بالکل بھی قابلِ فہم نہیں۔ یہ حیرت انگیز حد تک دقیق توازن کے ساتھ قائم ہے، اور جتنا ہم اسے سمجھتے جاتے ہیں، اتنی ہی ہماری حیرت بڑھتی جاتی ہے۔ وائنبرگ کے اس نظریے کو قبول کرنا اس عدمیت کی طرف لے جاتا ہے جس نے نطشے کو جنون تک پہنچا دیا۔ میں اس طرح جینا قبول نہیں کرتا۔
وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ سائنس اور مذہب ایک ہی گھر کے دو کمرے ہیں۔اور اپنے ایک مضمون میں اس نے لکھا کہ دونوں میدان اس عظیم غیبی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سائنس دان اور الٰہیات کے ماہرین مختلف پہاڑوں پر چڑھ رہے ہوتے ہیں، لیکن جب وہ چوٹی پر پہنچتے ہیں تو ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور جب اس سے پوچھا گیا کہ اگر تمہیں اختیار دیا جائے کہ تم کائنات کو اپنی مرضی سے ڈیزائن کرو، تو کیا تم اس میں کوئی تبدیلی کرو گے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں ایک ذرہ بھی تبدیل نہیں کروں گا۔ کیونکہ کوئی بھی تبدیلی خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو ہماری موجودگی کو ناممکن بنا دیتی۔ کائنات اس طرح مرتب کی گئی ہے کہ ہم وجود میں آ سکیں اور یہی سب سے بڑا راز ہے۔
آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ: ایک ایسے عالم کی گواہی ہے جس نے کائنات کے دل میں رہ کر خدا کو دیکھا۔ آلن سینڈیج اسلام قبول نہ کر سکا ، لیکن اس نے سب سے مشکل اور اہم سفر طے کیا: مطلق الحاد سے ایک حکیم، علیم اور قادر خالق کے قطعی یقین تک، اور پھر اس خالق کی ذاتی تلاش تک ، یہاں تک کہ اس نے (اپنے نقطۂ نظر کے مطابق) اسے مسیحیت میں پا لیا۔
اپنی وفات (۲۰۱۰ء) سے پہلے ایک آخری انٹرویو میں اس نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی کائنات کا مشاہدہ کرتے ہوئے گزاری اور جتنا زیادہ میں نے دیکھا، اتنا ہی میرا یقین بڑھتا گیا کہ اس سب کے پیچھے ایک عظیم، حکیم اور محبت کرنے والی ہستی کا ارادہ کارفرما ہے۔
بلاشبہ آلن سینڈیج جیسے عظیم مرتبے کے سائنس دان کی گواہی، جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مساوات اور دوربینوں کے درمیان گزارا ہو، اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ حقیقی علم، جب اخلاص اور عاجزی کے ساتھ حاصل کیا جائے تو وہ انسان کو خدا سے دور نہیں کرتا… بلکہ بالآخر اسے خدا کی طرف ہی لے جاتا ہے۔ پس اگر بیسویں صدی کا یہ عظیم ماہرِ کونیات ستاروں اور کہکشاؤں میں خدا کی نشانیاں دیکھ سکتا ہے، تو ہم مسلمانوں کے لیے یہ پیغام اور بھی واضح ہے، جبکہ ہمارے رب کا ارشاد ہے:
﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ﴾ عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے نفسوں میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر چیز پر گواہ ہے؟