واپس
ہدایت سے محروم علم کے مسائل اور اُن کا حل

ہدایت سے محروم علم کے مسائل اور اُن کا حل

انسان اب بہت کچھ کرنے کے قابل ہو گیا ہے مگر اسے یہ مکمل معلوم نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ اب “صلاحیت” کا نہیں بلکہ “درست رہنمائی” کا ہے ۔جب علم اُس فکری و اخلاقی دائرے سے جدا ہو جائے جو اس کے معنی اور مقصد کا تعین کرتا ہے، تو وہ تعمیر و اصلاح کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک ایسی بے لگام قوت میں بدل جاتا ہے جو مختلف بلکہ متضاد سمتوں میں استعمال ہو سکتی ہے۔

الشيخ معتصم السيد أحمد

آج کی دنیا کو علم کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ اس کے استعمال کے طریقے کا ہے۔ دور حاظر کا انسان ہر روز نت نئی دریافتیں کر رہا ہے اور ان حدود کو بھی پار کر رہا ہے جنہیں وہ کبھی عبور کرنے کا تصور بھی نہیں کرتا تھا۔ مگر اس روز افزون پیش رفت کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی بڑھتے جا رہے ہیں کہ اس ترقی کی آخر سمت کیا ہے؟یہ اس لیے نہیں کہ علم میں کوئی غلطی ہےبلکہ یہ اس لیے ہے کہ جس راستے پر یہ آگے بڑھ رہا ہے اس کی منزل اور مقصد اب دونوں واضح نہیں رہے۔

اگرچہ انسان اب بہت کچھ کرنے کے قابل ہو گیا ہے مگر اسے یہ مکمل معلوم نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ اب “صلاحیت” کا نہیں بلکہ “درست رہنمائی” کا ہے ۔جب علم اُس فکری و اخلاقی دائرے سے جدا ہو جائے جو اس کے معنی اور مقصد کا تعین کرتا ہے، تو وہ تعمیر و اصلاح کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک ایسی بے لگام قوت میں بدل جاتا ہے جو مختلف بلکہ متضاد سمتوں میں استعمال ہو سکتی ہے۔

اس تناظر میں خرابی خود علوم کی تفصیلات میں نہیں بلکہ انسان کی زندگی میں ان کے مقام میں نظر آتی ہےکہ کیا یہ محض مظاہر کو سمجھنے اور انہیں قابو میں لانے کے ذرائع ہیں یا یہ ایک وسیع تر تصور کا حصہ ہیں جو انسان کے اپنے اردگرد کی دنیا سے تعلق کو متعین کرتے ہیں؟ ان دونوں میں فرق محض نظری نہیں بلکہ براہِ راست اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ان علوم کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

علم اپنی فطرت کے لحاظ سے اس بات پر توجہ دیتا ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں۔ وہ تجزیہ کرتا ہے، وضاحت کرتا ہے اور مظاہر کے درمیان تعلقات کی تلاش کرتا ہے۔ یہی اس کا بنیادی کام ہے اور اس کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ لیکن یہ کام، چاہے کتنا ہی دقیق کیوں نہ ہو، مگر یہ ہمارے اس دوسرے اہم سوال کا جواب نہیں دیتا کہ ہم اس علم کے ساتھ کیا کریں؟ یہ سوال اسی دائرے کا حصہ نہیں اور اس کے لیے محض تجربہ اور مشاہدہ ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ رہنمائی بھی درکار ہوتی ہے۔

پس یہیں سے دونوں میں علیحدگی کا آغاز ہوا کہ بہت سے جدید اذہان کے سیاق و سباق میں علم کو یوں سمجھا جانے لگا جیسے وہ اپنے آپ میں ہی کافی ہو اور اسے کسی بیرونی رہنمائی کی ضرورت نہ ہو۔ بس یہ کافی ہے کہ ہم جان لیں، پھر اس کا استعمال مفاد یا صلاحیت کے مطابق خود ہی ہوتا رہے، اور اس طرح  وقت کے ساتھ سائنسی کامیابی کا معیار منزل تک پہنچنا بن گیا، مقصد اہم نہ رہا۔ کیا ہم کامیاب ہوئے؟ ہاں۔ مگر کیا ہمیں ایسا کرنا چاہیے تھا؟ یہ سوال اب پہلے جیسی شدت سے موجود نہیں رہا۔

یہ تبدیلی کسی صریح غلطی کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ بتدریج ہونے والے اثرات کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ علم آگے بڑھتا ہے اور اس کے استعمال کے دائرے وسیع ہوتے جاتے ہیں مگر وہ فریم ورک جو اسے قابو میں رکھتا ہے کمزور رہتا ہے۔ اسی کمزوری کے ساتھ بگاڑ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ علم میں بذاتِ خود کوئی خرابی ہے بلکہ یہ اس لیے ہے کہ یہ علم ایک واضح ہدایت کے بغیر کام کر رہا ہوتا ہے۔

اس صورتحال میں انسان اُس شخص کی مانند ہوجاتا ہے کہ  جس کے پاس نہایت درست اور طاقتور اوزار تو ہیں مگر اس پر واضح نہیں کہ وہ کیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ وہ بہت کچھ بنا سکتا ہے لیکن اسے اس پریقین نہیں کہ جو کچھ وہ بنا رہا ہے وہ متوازن ہے یا طویل مدت میں فائدہ مند بھی ہوگا۔ یہاں مسئلہ اوزاروں میں نہیں بلکہ وژن اور واضح مقصد کی کمی میں ہے۔

اس کے برعکس علم کے مقام کا ایک مختلف تصور بھی موجود ہے۔ یہ علم کی اہمیت سے انکار نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی قدر کو کم کرتا ہےلیکن اسے ایک خلا میں کام کرنے کے لیے بھی نہیں چھوڑتا۔ اس کے مطابق علم کو ایک اخلاقی اور اقداری فریم ورک کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی سمت متعین کرے اور اس کے استعمال کو منظم کرے۔ یہ فریم ورک دریافت کی تفصیلات میں مداخلت نہیں کرتا بلکہ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔

اس فہم کے مطابق علم اپنی خودمختاری بھی نہیں کھوتا اور اسے اس انسان سے الگ بھی نہیں کرتا جو اسے استعمال کرتا ہے۔ انسان محض ایک ایسا وجود نہیں جو صرف کارکردگی اور مہارت تلاش کرتا ہو بلکہ وہ معنی اور مقصد بھی ڈھونڈتا ہے۔ایسے میں اگر اس پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو علم محض ایک تکنیکی سرگرمی بن کر رہ جاتا ہے،اور وہ انسانی سطح پر ایک مکمل اور بامعنی منصوبہ نہیں رہتا۔

یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ہمیں یہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہم ہر سائنسی تفصیل کو مذہبی متون میں تلاش کریں اور نہ ہی یہ کہ انہیں تجربہ گاہ اور تحقیق کا متبادل بنا دیں۔ کیونکہ ایسا کرنا مختلف دائروں کو آپس میں خلط ملط کر دینا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن نہیں کہ علم کو بغیر کسی ایسی رہنمائی کے چھوڑ دیا جائے جو اسے منظم اور متوازن رکھے۔ کیونکہ اصل توازن اسی میں ہے کہ ہر شعبہ اپنا کام کرےمگر ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ بھی نہ ہو۔

مذہبی متن انسان کو یہ نہیں بتاتا کہ پہاڑ کیسے حرکت کرتے ہیں یا ستارے کیسے بنتے ہیں لیکن یہ اسے اس کائنات میں اس کے مقام کو سمجھنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے اور اس کے پاس موجود علم کے ساتھ اس کے اخلاقی تعلق کو متعین کرتا ہے۔ پس یہی فریم ورک علم کو ایک سمت دیتا ہے اور اسے بے قابو طاقت بننے سے روکتا ہے۔

اس تناظر میں انسان کا رویہ حتیٰ کہ سادہ چیزوں کے بارے میں بھی بدل جاتا ہے۔ قدرتی وسائل محض استعمال کے قابل مواد نہیں رہتے بلکہ ایک ذمہ داری بن جاتے ہیں۔ ان کا استعمال صرف فائدے کے معیار پر نہیں پرکھا جاتا بلکہ انصاف، دوسروں کے حق اور پائیداری کے اصولوں پر بھی جانچا جاتا ہے۔ یہ معانی مساوات اور فارمولے پیدا نہیں کرتےبلکہ وہ وسیع تر وژن پیدا کرتا ہے جو ان کے گرد موجود ہوتا ہے۔

اسی طرح یہ فہم ترقی کی تعریف کو بھی نئے انداز میں متعین کرتا ہے۔ ہر وہ چیز جو حاصل کی جا سکتی ہو ضروری نہیں کہ اسے ترقی ہی سمجھا جائے بلکہ اس کے اثر کو انسانی زندگی پر دیکھا جاتا ہے۔ کیا یہ توازن قائم کرتی ہے؟ کیا یہ انسان کی عزت و وقار کو محفوظ رکھتی ہے؟ کیا یہ اس کی انسانیت کو مزید مضبوط بناتی ہے؟ یہ سوالات علم کی جانچ میں اخلاقی پہلو کو دوبارہ شامل کر دیتے ہیں۔

اس مرحلے پر ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جب علم صرف ظاہر پر اکتفا کرتا ہے تو اس کے جوابات بھی محدود ہو کررہ جاتے ہیں۔یعنی  وہ مظاہر کی وضاحت تو کر سکتا ہےلیکن ان کے مقصد کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ وہ صرف بیان کرتا ہے مگر معنی متعین نہیں کرتا۔ یہ حدود علم کی کمی نہیں بلکہ اس کی فطرت کا حصہ ہیں۔ کیونکہ اسے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے نہیں بلکہ ایک مخصوص قسم کے سوالات کے جواب کے لیے بنایا گیا ہے۔

جب دوسرے سوالات بغیر جواب کے رہ جاتے ہیں تو ترقی کے باوجود ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ انسان کے پاس وسائل تو ہوتے ہیں لیکن سمت نہیں ہوتی۔ وہ یہ جانتا ہے کہ کیسے پہنچنا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ کہاں جانا ہے۔ یہی بات بڑھتی ہوئی بے چینی کی کیفیت کو سمجھاتی ہے حالانکہ امکانات کی کمی نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس جب علم کو ایک وسیع تر وژن کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کا مقام بدل جاتا ہے۔ وہ محض قابو پانے کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ سمجھنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف فطرت کو مسخر کرنا نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے تعلق کو سمجھنا بھی شامل ہو جاتا ہے۔ یہ تبدیلی ترقی کو سست نہیں کرتی بلکہ اسے زیادہ متوازن بنا دیتی ہے۔

یہیں پر انسان کا کردار دوبارہ سامنے آتا ہے کیونکہ وہی علم اور اس کے استعمال کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔ اگر وہ صرف ایک حاصل کرنے والے یا استعمال کرنے والے کے کردار تک محدود رہے اور معنی کے بارے میں سوال نہ کرے تو علم اقدار سے الگ ہی رہتا ہے۔ لیکن اگر وہ یہ سوالات دوبارہ اٹھائے تو وہ اس عمل میں ایک بار پھر رہنمائی اور سمت  کو شامل کر دیتا ہے۔

آخر میں اصل چیلنج علم کی ترقی نہیں بلکہ اسے ایک ایسے فریم ورک میں دوبارہ رکھنا ہے جو اس کے مقام کے مطابق ہو۔ ایسا فریم ورک جو اسے محدود نہ کرے بلکہ اس کی رہنمائی کرےجو اسے روکے نہیں بلکہ اسے منظم کرے۔ کیونکہ علم، چاہے جتنا بھی ترقی کر جائے، اسے ایک ایسی طاقت کی ضرورت رہتی ہے جو اس کی سمت متعین کرے، ورنہ وہ ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک ایسی طاقت بن جاتا ہے جس کےراستے کی کوئی ضمانت نہیں رہتی۔

یہ طے ہے کہ جب علم اپنی یہ ہدایت  دوبارہ حاصل کر لیتا ہے تو پھروہ پیچھے نہیں ہٹتا بلکہ انسان کی خدمت میں زیادہ مؤثر ہو جاتا ہےکیونکہ وہ اب خلا میں کام نہیں کرتا بلکہ وہ اب ایک ایسے وژن کے اندر رہتا ہے جو ہر علم کو اس کےمعنی اور ہر استعمال کو اس کی حد عطا کرتاہے۔

شیئر: