الشيخ معتصم السيد أحمد
انسان فطری طور پر اُس شے کو نظرانداز کبھی بھی نہیں کرتا جسے وہ اپنے انجام اور مستقبل سے براہِ راست وابستہ سمجھتا ہو۔ اگرچہ یہ ایک سادہ مگر نہایت اہم اصول ہے جس کا مشاہدہ انسان کے روزمرہ طرزِ عمل سے بآسانی کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اُن امور کی جستجو کرتا ہے جو اس کے لیے مفید ہوں، اور اُن عوامل پر خصوصی توجہ مرکوز کرتا ہے جن کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ اس کی زندگی کے حالات و کیفیات میں مؤثر تبدیلی کا سبب بنیں گے۔تاہم جب ہم انسان کے قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک قابلِ غور اور تشریح طلب دوری کا رجحان نظر آتا ہے۔ قرآنِ مجید، جو کہ بادی النظر میں انسان کی دنیوی حیات کے نظم اور اس کے اُخروی انجام کے تعیین سے براہِ راست متعلق ایک جامع ہدایت نامہ ہے، وہ عملی طور پر اکثر انسانوں کی زندگی میں اس طرح کا مرکزی اور فیصلہ کن مقام حاصل نہیں کر پاتا جس کا وہ بجا طور پر مستحق ہے۔
اس کی وضاحت محض قرآنِ مجید کے وجود سے لاعلمی کو جواز بنا کر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ قرآن کا وجود عیان ہے اور اس کی موجودگی بھی وسیع ہے، بلکہ شاید ہی کسی مسلمان کی زندگی ایسی ہو جس میں اس سے کسی نہ کسی درجے کا تعلق یا واسطہ نہ پایا جاتا ہو۔چنانچہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے۔ یہ دراصل اس بات سے متعلق ہے کہ ہم اس کتاب کی حقیقی نوعیت کو کس طرح سمجھتے ہیں، اس سے اپنی توقعات کی حدیں کیا مقرر کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہمارا تعلق کس نوعیت کا ہے۔
انسان اپنی فطرت کے مطابق اُن امور کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے جو اسے فوری اور واضح نتائج و فوائد فراہم کریں۔ وہ براہِ راست اپنے سوال کے جواب، کسی متعین مسئلے کے حل، اور کسی قابلِ پیمائش نتیجہ خیزی کا متلاشی رہتا ہے۔ پس یہی طرزِ فکر اسے اُن چیزوں کے ساتھ زیادہ شدت سے وابستہ کرتا ہے جو فوری طور پر نفع بخش دکھائی دیں، جبکہ اُن امور کے ساتھ اس کا تعامل نسبتاً کم ہو جاتا ہے جو گہرے فہم اور تدریجی عملی تطبیق کے تقاضے رکھتے ہیں۔چنانچہ یہی وہ مرحلے ہے کہ جہاں قرآن کے ساتھ تعلق میں پہلی بنیادی کمزوری نمایاں ہوتی ہے اور اسے اکثر ایک ہمہ جہت انسانی عظمت و بلندی کے جامع منصوبے کے طور پر نہیں پڑھا جاتا، بلکہ اس سے فوری اور جزوی نوعیت کے مسائل کے براہِ راست حل کے اصول کے فوائد کی توقع کی جاتی ہے۔
جبکہ قرآنِ مجید اس نوعیت کے فوری اور جزوی انداز میں کارفرما نہیں ہوتا اور وہ ہر صورتِ حال کے لیے تیار شدہ نسخے بھی فراہم نہیں کرتا، بلکہ انسان کے زاویۂ فکر کی ازسرِ نو تشکیل کرتا ہے اور زندگی کے لیے ایک جامع و ہمہ گیر تصور کی بنیاد رکھتا ہے۔یہ کارکردگی اپنی اثر پذیری میں فوری نہیں ہوتی، بلکہ یہ سلسلہ وار عمل کی متقاضی ہے۔اس کے برعکس جب دوسری طرف اس حقیقت کا شعور ہی موجود نہ ہو تو بعض افراد یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ قرآن اُن کی مطلوبہ ضروریات پوری نہیں کرتا، نتیجتاً اس کی قدر و اہمیت کے منکر نہیں ہوتے۔تاہم ان کے شعور میں فعالیت کے اعتبار سے اسکی حیثیت کمزور پڑجاتی ہے۔
یہ بات ایک اور اہم نکتے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ یعنی ’’قدر و قیمت کے اقرار‘‘ اور ’’عملی زندگی میں اسکے نفاذ‘‘ کے درمیان فرق۔ بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن ایک کتابِ ہدایت ہے اور اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی مضمر ہے، لیکن یہ اعتراف عموماً ایک عمومی تصور کی حد تک محدود رہتا ہے اور روزمرہ عملی زندگی کا حصہ نہیں بن پاتا۔اس صورتحال میں قرآن شناخت کا جزو تو بن جاتا ہے، مگر فیصلہ سازی کا پیمانہ نہیں۔ یعنی اس کا احترام تو کیا جاتا ہے، لیکن اس سے عملی فائدہ اٹھانے اور اسے روز مرہ امور میں بروئے کار لانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔
یہاں اس اہم سوال کا پیدا ہونا لازم ہے کہ آخر یہ اقرار عمل میں کیوں تبدیل نہیں ہو پاتا؟ اس کا جواب متعدد عوامل سے جڑا ہوا ہے، جن میں بعض ثقافتی نوعیت کے ہیں، جبکہ بعض نفسیاتی، اور بعض علمی و فکری۔
ثقافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بہت سے معاشروں میں قرآنِ مجید کے ساتھ ایک ایسا تعلق پروان چڑھا ہے جس میں تلاوت اور ظاہری شعائر کو فہم و تدبر پر فوقیت حاصل ہو گئی ہے۔ اصولی طور پر یہ طرزِ عمل قابلِ اعتراض نہیں، کیونکہ تلاوت بذاتِ خود ایک معتبر اور مطلوب عمل ہے؛ تاہم جب یہی تعلق کی غالب اور واحد صورت بن جائے تو ایک فکری خلا پیدا ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں قرآن کو بتدریج ایک ایسے متن کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے جس کی قراءت کا مقصد زیادہ تر حصولِ ثواب تک محدود ہو جاتا ہے، جبکہ اس کی اصل حیثیت یعنی ایک زندہ اور فعال ماخذِ ہدایت، جس کی طرف انسانی فکر، تجزیہ اور فیصلہ سازی میں رجوع کیا جانا چاہیے ، پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
نفسیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو انسان کو کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کے ساتھ سنجیدگی سے معاملہ کرنا اس پر ایسی ذمہ داریاں عائد کر دیتا ہے جنہیں وہ قبول کرنا نہیں چاہتا۔ کیونکہ قرآن صرف معلومات فراہم کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ انسان کو ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ وہ اسے اپنی اصلاح، محاسبۂ نفس اور ذمہ داری اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اس کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک ایسے محفوظ درجے تک محدود رکھنا پسند کرتے ہیں جو ان سے کسی بڑی تبدیلی کا تقاضا نہ کرے۔
معرفتی زاویے سے دیکھا جائے تو اصل اشکال خود اس منہجِ قراءت میں مضمر ہے جس کے ذریعے قرآنِ مجید کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کثیر افراد ایسے علمی و فکری لوزمات سے محروم ہوتے ہیں جو انہیں متن کے عمیق معانی تک رسائی دے سکیں، مثلاً سیاق و سباق کا ادراک، لسانی لطافتوں کی پہچان، اور مفہوم کی تدریجی تشکیل کا شعور۔ نتیجتاً وہ یا تو سطحی و ظاہری مفہوم پر اکتفا کر لیتے ہیں، یا بالواسطہ سماعی علم پر انحصار کرتے ہوئے ایک غیر مستقیم تعلق پر قانع ہو جاتے ہیں، بغیر اس کے کہ متن کے ساتھ اپنی ذاتی، تنقیدی اور متفاعل نسبت قائم کریں۔بتدریج یہ طرزِ تعامل ایک ایسے ذہنی تاثر کو مستحکم کر دیتا ہے جس میں قرآن ایک “مغلق” یا ناقابلِ رسائی متن محسوس ہونے لگتا ہے، یعنی ایسا متن جس کے ساتھ بامعنی مکالمہ یا فکری تعامل ممکن نہیں۔ اس کے نتیجے میں قرآن کے ساتھ تعلق رسمی اور علامتی سطح تک محدود ہو جاتا ہے، جبکہ اس کی فکری و شعوری تاثیر، جو دراصل اس کا اصل مقصود ہے، کمزور پڑ جاتی ہے۔
تاہم ان تمام عوامل کے باوجود اصل مسئلہ زاویۂ نظر ہی کا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کو ایک ایسی کتاب سمجھا جاتا ہے جو انسان کی علمی لائبریری میں محض ایک اضافہ ہے، یا اسے ایسی کتاب مانا جاتا ہے جو اس پوری لائبریری کی ترتیبِ نو کا تقاضا کرتی ہے؟ دونوں کے درمیان فرق بہت بڑا ہے۔ پہلی صورت میں قرآن علم کے متعدد مصادر میں سے ایک ماخذ بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ دوسری صورت میں وہ ایسا بنیادی مرجع بن جاتا ہے جس کی روشنی میں باقی تمام مصادرِ علم کا ازسرِ نو جائزہ لیا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ بات قابلِ فہم ہو جاتی ہے کہ بعض افراد کی زندگی میں قرآنِ مجید کا اثر واضح طور پر کیوں ظاہر نہیں ہوتا، باوجود اس کے کہ وہ ان کے قریب موجود ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ تعلق اس بنیاد پر استوار نہیں کیا جاتا کہ وہ ایک فعال اور رہنما مصدرِ ہدایت ہے، بلکہ اسے محض ایک عمومی پس منظرکے جزو کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔
نتیجتاً قرآن زندگی کی تشکیل اور رہنمائی میں مرکزی کردار ادا کرنے کے بجائے ایک غیر مؤثر اور غیر فعال موجودگی تک محدود ہو جاتا ہے، جس کی قربت تو برقرار رہتی ہے مگر تاثیر نمایاں نہیں ہو پاتی۔
اس کے برعکس، جب زاویۂ نظر تبدیل ہوتا ہے تو تعلق کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے۔ جب انسان قرآنِ مجید کو محض ایک عمومی متن کے بجائے اپنے لیے ایک براہِ راست خطاب کے طور پر پڑھنا شروع کرتا ہے، تو وہ ایسے معانی اور جہات دریافت کرنے لگتا ہے جو پہلے اس کی نگاہ سے اوجھل تھیں۔ اس مرحلے پر آیات محض معلومات نہیں رہتیں، بلکہ نفس اور زندگی کو سمجھنے کی کنجیاں بن جاتی ہیں۔
یہ تبدیلی کسی بڑے خارجی انقلاب کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ اصل ضرورت طریقۂ قراءت میں تبدیلی کی ہوتی ہے۔ یعنی انسان اس سوال سے آگے بڑھے کہ متن کیا کہتا ہے؟ اور یہ سوال اختیار کرے کہ وہ میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ اور یہ میری سوچ، میرے فیصلوں اور میرے طرزِ تعامل کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
اسی طرح یہ ادراک بھی نہایت اہم ہے کہ قرآنِ مجید کو ایک ہی مرحلے میں مکمل طور پر سمجھ لینا ممکن نہیں۔ یہ ایک ہمہ جہت اور عمیق متن ہے جسے بارہا پڑھا جا سکتا ہے، اور ہر بار اس میں نئے پہلو آشکار ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ معانی متغیر ہیں، بلکہ یہ کہ انسان کی فہم کی صلاحیت بتدریج ارتقا پذیر ہوتی ہے، اور متن اسی ارتقا کے مطابق اپنے نئے مفاہیم منکشف کرتا ہے۔
اسی بنا پر قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق کسی فوری اور سطحی استفادے کی نوعیت نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک مسلسل اور تدریجی ربط ہے جو صبر، تکرار اور غور و فکر کی آمادگی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ اوصاف بسا اوقات اُس تیز رفتار طرزِ زندگی سے ہم آہنگ نہیں ہوتے جو انسانِ معاصر اختیار کیے ہوئے ہے، جس کے باعث اس تعلق کی تشکیل ایک چیلنج بن جاتی ہے۔ تاہم یہی چیلنج درحقیقت اس تعلق کی قدر و اہمیت کو بڑھاتا ہے؛ کیونکہ جو چیز آسانی سے حاصل ہو جائے وہ عموماً گہرا اثر نہیں چھوڑتی، جبکہ جو تعلق تدریجی محنت اور فکری ارتقا کے ذریعے قائم ہو، وہ زیادہ پائیدار اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مسئلہ نہ قرآن کے عدمِ وجود میں ہے اور نہ ہی اس کے ابہام میں، بلکہ اصل مسئلہ ہمارے طرزِ تعامل میں ہے۔ قرآن بطورِ متن ہمارے درمیان موجود ہے، مگر اس کے ساتھ وہ فعّال اور بامعنی تعلق قائم نہیں ہو پاتا جو عمیق فہم، سنجیدہ تدبر، اور حاصل شدہ علم کو عملی صورت دینے کے اصول پر استوار ہو۔
جب یہ تعلق حقیقی بنیادوں پر تشکیل پانا شروع ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری اور یکبارگی ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ ایک تدریجی اور ارتقائی عمل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ابتدا میں زاویۂ نگاہ میں جزوی تبدیلی واقع ہوتی ہے، جس کے بعد انسان کے فیصلوں اور عملی رویّوں میں تبدیلی رونما ہوتی ہے، اور پھر بتدریج اس کا دائرۂ اثر وسیع ہو کر زندگی کے مختلف پہلوؤں کااحاطہ کر لیتا ہے۔ اس تسلسل کے ساتھ انسان اس حقیقت کا ادراک کرنے لگتا ہے کہ قرآن محض ایک مطالعہ کا متن نہیں، بلکہ یہ ایک فعّال اور تغییری امکان ہے جسے وہ پہلے پوری طرح بروئے کار نہیں لا رہا تھا۔
اسی مقام پر سوال کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے۔ یہ سوال باقی نہیں رہتا کہ ہم نے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ بلکہ اس مرحلے پراصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ ہم اب کہاں سے آغاز کریں؟ کیونکہ نہ دروازہ بند ہوا ہے اور نہ ہی متن میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ قرآن اپنی اصل صورت میں موجود ہے، صرف ایک نئی اور مختلف قراءت کا منتظر۔