معتصم السيد أحمد
سوال یہ نہیں کہ قرآن معاشرے کے شعور میں موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے فکری نظام اور فیصلہ سازی میں اس کتاب عزیز کا مقام کیا رہ گیا ہے؟۔ قرآن بطور ایک مقدس متن اور شناخت کی علامت کے طور پر تو ہمارے روزمرہ کے معمول میں موجود ہے، لیکن اسے خدا کا حکم اور مرجع مان کر فردی انتخاب اور اجتماعی پالیسیوں کی بنیاد بنائے جانے کے اعتبار سے اکثر اوقات قرآن مجید ہمارے درمیان نظر نہیں آتا ۔ پس یہی ’’مرجعیت‘‘ سے’’علامت‘‘ کی طرف تبدیلی اس تضاد کو سمجھنے کی سب سے دقیق کلیدہے ۔آخر یہ کیا ہورہا ہے کہ قرآن کریم کا ذکر اور اس کی تلاوت تو بڑھتی جا رہی ہے، مگر عملی زندگی کی رہنمائی میں اس کا اثر کمزور ہوتا چلا جا رہا ہے؟
یہاں دو طرح کے ’’موجودگیوں‘‘ کے درمیان فرق کرنا نہایت ضروری ہے۔
ایک علامتی (رمزی) موجودگی ہے، جو احساسِ وابستگی تو دیتی ہے اور جذباتی و وجدانی پہلو کو تقویت بھی بخشتی ہے، لیکن لازمی نتیجے کے طور پر کوئی عملی نظام تشکیل نہیں دیتی حالانکہ اس کی موجودگی یہ تقاضا کرتی ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے قرآن کی طرف رجوع کیا جائے، اور اس کتاب عزیز کو ہمارے تصورات، ترجیحات اور معیاروں پر رہنمائی کا اختیار حاصل ہو۔
پھرجب یہ دوسری(مرجعی) موجودگی غائب ہو جاتی ہے تو قرآن کا متن عمل سے پہلے اس کی بنیاد فراہم کرنے کی بجائے، عمل کے بعد صرف اس سے مانوسیت اور تائید کے لیے استعمال ہونے لگتا ہے۔اور یوں تعلق کی نوعیت بدل جاتی ہے۔یعنی عمل سے پہلے قرآن سے رہنمائی طلب کرنے کے بجائے، عمل کے وقوع پزیر ہونے کے بعد اس کے لیے جواز تلاش کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔یہ تبدیلی محض لفظی نہیں بلکہ منہجی ہے۔ یہ تبدیلی قرآن مجید متن اور ہمارے معاملے کے درمیان تعلق کو ازسرنو ترتیب دیتی ہے کہ کیا قرآن ہمارے لئے یہ طے کرتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، یا پھر ہم پہلے اپنے انتخاب سے ازخود طے کرتے ہیں اور پھر ان کے مطابق قرآن سے ہم آہنگی تلاش کرتے ہیں؟
پہلی صورت میں قرآن معنی اور سمت کا ایک بنیادی ماخذ ہوتا ہے، جبکہ دوسری صورت میں اسے محض ایک توجیہی (جواز فراہم کرنے والا) کردار دے دیا جاتا ہے۔ یہیں سے اثر پذیری کا خلا شروع ہوتا ہے، وہ بھی نہ اس وجہ سے کہ متن میں کوئی کمی ہے، بلکہ یہ اس وجہ سےہے کہ اس کا مقام اور موقع بدل گیا ہیں۔
اس تناظر میں یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ قرآن براہِ راست واقعے پر اثر انداز نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے ذریعے اثر ڈالتا ہے۔ یعنی اس کا اصل عمل اندرونی تشکیلِ نو ہے، وہ اقدار کے نظام کو ترتیب دیتا ہے، کامیابی اور ناکامی کی تعریفوں کی اصلاح کرتا ہے، اور ایسی بصیرت عطا کرتا ہے جو معلومات کو درست فیصلوں میں بدل دیتی ہے۔
اسی لیے قرآن مجید کے بیرونی اثر کا رک جانا دراصل ہمارے اندر داخلی تبدیلی کے عمل کے رک جانے کی علامت ہے۔ یہ بات بے معنی ہے کہ ہم “قرآنی اثرات” کو ایسے واقعے میں تلاش کریں جس کے لئے انسان نے داخلی سطح پر اس کے مقدمات ہی مکمل نہ کیے ہوں۔
اسی زاویے سے قرآن کے ایک بنیادی اصول کی اہمیت واضح ہوتی ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾۔
یہ آیت صرف ایک عمومی اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ معاشرتی حرکت کا ایک تشریحی فریم ورک ہے۔ تبدیلی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جو باہر سے آ کر معاشرے پر مسلط ہو جائے، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو پہلے ارادہ اور معیاروں کی ازسرنو تشکیل سے شروع ہوتا ہے، اور پھر اس کے بعد اسباب کے تحت منظم رویّوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
جب ہدایت کو ایک ’’تیار نتیجہ‘‘ سمجھ کر انتظار کیا جاتا ہے تو قرآن ایک منتظر امید بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ اس کا اصل کردار ایک زندہ اور جاری عمل کے منصوبہ ساز کا ہے۔
اسی طرح ایک اور نہایت خطرناک بگاڑ یہ ہے کہ ایمان اور عمل کے درمیان جدائی پیدا کر دی جائے، اور ایمان کو ایک ایسی وجدانی کیفیت کے طور پرپیش کیا جائے جس کا علم، معیشت اور انتظام جیسے میدانوں میں کسی عملی کردار سے کوئی لازمی تعلق نہ ہو۔ یہ تقسیم ایک دوھرا پن پیدا کرتی ہے کہ دل میں دین، اور عمل میں کوئی اور منطق۔حالانکہ قرآن ایمان اور عمل کے درمیان ایک نامیاتی ربط قائم کرتا ہے، اور ایمان کو ایک ایسی محرک قوت بناتا ہے جو عملی کارکردگی کو جنم دیتی ہے، نہ کہ ایمان کو اس محرک قوت کا متبادل بناتا ہے۔ اسی لیے کوئی بھی ایسا دینی تصور جو واقعیت میں عمل کے معیار پر اثر نہ ڈالے، اپنی اندرونی بھر پور معنویت کے باوجود ایک ناقص تصور ہے، چاہے اس کی وجدانی موجودگی کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔
قرآن کے ساتھ تعلق کی ازسرِنو تشکیل کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اسے دو ایسی ذمہ داریوں سے آزاد کیا جائے جنہوں نے اس کے اثر کو کمزور کیا ہے: ایک یہ کہ اسے ’’ذمہ داری کا متبادل‘‘ بنا دیا جانا، اور دوسرے یہ کہ اسے ’’شناخت کا محض علامتی ذخیرہ‘‘ سمجھ لیا جانا ۔ پہلی صورت میں نص سے وہ کام لیا جاتا ہے جو خود انسان کی اپنی ذمہ داری ہے، اور دوسری صورت میں اسے صرف ایک شناختی علامت تک محدود کر دیا جاتا ہے جو فیصلہ سازی میں دخل نہیں دیتی۔
ان دونوں صورتوں میں متن اپنی رہنمائی کی توانائی کھو دیتا ہے۔ اس کا درست متبادل یہ ہے کہ اسے ایک معیاری مرجع کے طور پر بحال کیا جائے، جہاں ترجیحات کی ترتیب، انتخاب کے معیار، اور وسائل و مقاصد کے درمیان توازن اسی کی رہنمائی میں طے کیا جائے۔
معرفتی سطح پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جزوی قراءت سے ایک ایسی تأسيسی قراءت کی طرف منتقل ہوا جائے جو ان اصولوں کو دریافت کرے جن پر تفصیلات کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ قرآن ہر جزئی مسئلے کے لیے ’’حل کی فہرست‘‘ پیش نہیں کرتا، بلکہ بنیادی قواعد قائم کرتا ہے جیسے عدل، امانت، زمین کی آباد کاری، انسانی کرامت کا تحفظ، استعمال میں اعتدال، کمزوروں کی رعایت، اور ظلم کی حرمت وغیرہ۔یہ اصول جب فعال ہوتے ہیں تو یہ تعلیم، معیشت اور شہری منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں خود بخود پالیسیاں اور عملی منصوبے پیدا کرتے ہیں۔ لیکن محض جزوی حوالہ بازی نص کو ایک تبريری دائرے میں محدود کرکے رکھ دیتی ہے، جہاں وہ صرف پہلے سے طے شدہ موقف کی تائید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
تہذیبی سطح پر یہ فہم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دین داری میں علم اور عمل کے مقام پر دوبارہ غور کیا جائے۔ زمین کی آباد کاری کی دعوت کوئی حاشیہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری کا حصہ ہے: ﴿وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا﴾۔ کسی بھی تبدیلی (انقلاب) کے لیے منظم علم ضروری ہے، اور کسی بھی مؤثر علم کے لیے واضح اقدار کا ایک قابل عمل فریم ورک ناگزیر ہے۔
جب علم کو اقدار سے جدا کیا جاتا ہے تو وہ ایک ایسی قوت بن جاتا ہے جس کے پاس سمت نہیں ہوتی، اور جب اقدار کو علم سے جدا کیا جاتا ہے تو وہ ایک ایسا خطاب بن جاتی ہیں جس کا کوئی عملی اثر نہیں ہوتا۔ قرآن جو توازن پیش کرتا ہے وہ دونوں کو ایک مشترک منصوبے میں جوڑ دیتا ہے: ایسی معرفت جو پیداوار دیتی ہے، اور ایسی اقدار جو اس کی رہنمائی کرتی ہیں۔
یہاں ایک ایسی غیر قابل تغیر سنت واضح ہوتی ہے کہ نتائج ہمیشہ اسباب سے جڑے ہوتے ہیں۔ جو شخص ترقی کے اسباب اختیار کرتا ہے وہ آگے بڑھتا ہے، اور جو انہیں نظرانداز کرتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے، چاہے اس کے نعرے کچھ بھی ہوں۔ یہ کوئی تضاد نہیں بلکہ ایک عمومی قانون کا عملی اظہار ہے۔تاہم قرآن اس میں ایک کیفیتی اضافہ کرتا ہے: وہ صرف قوت پیدا کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس قوت کے استعمال کو عدل کے ساتھ منظم کرتا ہے، اور اسے ایسی معنویت عطا کرتا ہے جو محض فوری مفاد تک محدود نہیں رہتی۔ اس لیے وہ ترقی جو معنی سے خالی ہو، اگرچہ بہت کچھ حاصل کر لیتی ہے، لیکن اپنے انجام اور مقصد کے لحاظ سے ایک طرح کی بے قراری اور اضطراب میں رہتی ہے۔
قرآن کو اس کے مرجعی مقام پر واپس لانا کوئی محض خطابی عمل نہیں بلکہ ایک مرکب عملی و فکری عمل ہے، جس کی ابتدا مطالعہ اور فہم کے ذرائع کی ازسرِنو تشکیل سے ہوتی ہے۔ تدبّر پر مبنی قراءت کا مطلب صرف روحانی معانی کو دریافت کرنا نہیں، بلکہ متن کے سامنے عملی سوالات رکھنا بھی ہے۔ مثلا یہ اصول مجھ سے میرے عملی میدان میں کیا تقاضا کرتا ہے؟ یہ میرے وقت کے نظم، میرے پیشہ ورانہ انتخاب، یا مال و اقتدار کے بارے میں میرے رویّے پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
یہ سوالات متن کو ’’فکر‘‘ کے دائرے سے نکال کر ’’عمل‘‘ کے دائرے میں داخل کر دیتے ہیں۔اس واپسی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے مؤثر ادارہ جاتی ماحول تشکیل دیے جائیں جو اس فکری تبدیلی کی عکاسی کریں۔ مثال کے طور پر تعلیم کے نظام میں صرف مہارت نہیں بلکہ معیار کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ ایسا ذہن تیار ہو جو پیداوار بھی دے اور اقدار کی رہنمائی میں بھی پیش پیش ہو۔
اسی طرح معیشت کو ایسی منطق اپنانی ہوگی جو منافع اور عدل کے درمیان توازن قائم کرے، نہ کہ صرف زیادہ سے زیادہ مالی فائدے کے حصول کو مقصد بنائے۔ اور عمومی انتظامی ڈھانچے کو امانت اور جوابدہی کی ایسی ثقافت درکار ہے جو اپنی مشروعیت کو حق کی بنیاد پر حاصل کرے، نہ کہ محض طاقت یا منصب سے۔ یہ تمام شعبے دین سے باہر نہیں ہیں، بلکہ دراصل دین کو عملی سطح پر فعال کرنے کے میدان ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس مرجعی تبدیلی کو فوری اور اوپر سے مسلط کردہ فیصلوں کے ذریعے حاصل ہونے والا عمل نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ایک تدریجی اور ارتقائی عمل ہے جو فرد سے شروع ہو کر معاشرے تک پھیلتا ہے۔ جب فرد اپنے مرجع کو ازسرِنو ترتیب دیتا ہے تو اس کے رویّے بدلتے ہیں، اور جب یہ رویّے مسلسل جمع ہوتے ہیں تو ایک نیا اجتماعی نمونہ تشکیل پاتا ہے۔یہی سنّت اس تبدیلی کی رفتار کو سمجھاتی ہے کہ یہ کیوں سست ہوتی ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتی ہے کہ جب یہ راسخ ہو جائے تو پھر اس میں استحکام بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
خلاصے کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ، مسئلہ یہ نہیں کہ قرآن نے اپنی رہنمائی کی صلاحیت کھو دی ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے شعور کی ساخت میں قرآن کا مقام بدل گیا ہے۔ اسے دوبارہ مرجع کے طور پر بحال کرنے کا مطلب اس کے ظاہری وجود میں اضافہ نہیں، بلکہ اس کو عمل سے پہلے فیصلہ سازی اور حکم دینے والی حیثیت واپس دینا ہے۔پس جب قرآن دوبارہ اس مقام پر آتا ہے تو سوچنے کا انداز نتائج سے پہلے بدلتا ہے، اور عمل اپنی سمت کو دوبارہ حاصل کر لیتا ہے اس سے پہلے کہ اس کے ذرائع اور وسائل بڑھیں۔اس مرحلے پر سوال یہ نہیں رہتا کہ ہم کیوں نہیں ابھر رہے، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ ہم اپنے علم کو عمل میں کیسے منتقل کریں، تاکہ ہدایت کا اثر ایک ایسی حقیقت کی شکل میں ظاہر ہو جو قرآن کے مطابق چلایا جاتا ہو، نہ کہ صرف اس کے ذریعے خوبصورت بنایا جاتا ہو۔