سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والے اس بات کو بخوبی درک کر رہے ہیں کہ مواد اپلوڈ کرنے ، شئر کرنے یا لائک کرنے کے اعتبار سے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں ،ان کی علمی ، اخلاقی اور دینی سطح کے مطابق مختلف لوگ شامل ہیں۔
جہاں ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق عمل کر رہا ہے ،جو کہ مکمل طور پر اس معاشرے اور ماحول کی عکاسی کرتا ہے جس سے وہ شخص تعلق رکھتا ہے۔ لہذا اسی سوشل میڈیا پر بعض اوقات ایسے پست اخلاق اور حق احترام سے گرے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں جو شیطانی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ایسے مواد اپلوڈ ،شئیر یا لایک کرتے ہیں کہ جو مکمل طور پر بدی اور برائی پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ دین اسلام کے ان اقدار اور اخلاقی اصولوں سے دور ہیں کہ جو دوسروں کا احترام کرنے کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں ،انہی اصولوں میں سے ایک ہر قسم کے نشر یا کمنٹ میں معاشرے کے عمومی ذوق کا پاس و لحاظ رکھا جائے ۔ جبکہ اسی پلیٹ فارم پر آپ ایسے لوگوں کو بھی پاتے ہیں جو قابل احترام ہیں ،وہ سرف نیک اور اچھے امور کے لئے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں ۔ان کے افعال اور اہداف اخلاقی ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کا احترام اور لوگوں کے عمومی ذوق کا خیال رکھتے ہیں ۔ یہ سب در اصل اس صالح ماحول کا اثر ہوتا ہے کہ جس میں ان لوگوں نے پرورش پائی ہوتی ہیں کہ جس میں دینی و اخلاقی قدروں پر عمل ہوتا ہے ،اسلام بھائی چارہ اور محبت کا دین ہونے کے ناطے ایسے لوگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ جن کے ہر فعل اور قول سے ان کی اچھی تربیت ،اچھا دین اور دین پر اس کا بھر پور عمل نطر آتا ہے۔
سوشل میڈیا موجودہ دور کی بیک وقت بہترین اور اور خطرناک ترین میڈیا ہے ،کیونکہ یہاں پر موجود ہر پیج ایک مکمل چینل کا کردار ادا کرتا ہے ،ایک ایسا چینل ہے کہ جو مواد کے اعتبار سے ایک شخص کی سوچ اور اپنے ارد گرد کے بارے میں اس کے طرز فکر پر انحصار کرتاہے ۔ اور وہ شخص بھی اپنی علمی و سماجی قدر و قیمت بڑھانے کے لئے بھی اسی میڈیا کو استعمال کر سکتا ہے ،کیونکہ اسی کے ذریعے سے اسے کسی قسم کی پابندی کے بغیر عالمی فضا میں جانے کی سہولیت میسر آتی ہے ۔ جہاں اسے دنیا کی مختلف ثقافتوں کے بارے میں بلا استثنی جاننے ،ان سے بلا روک ٹوک تعلق پیدا کرنے کا موقع میسر آتا ہے ۔اس طرح اسے دیگر ادیان و ثقافتوں کو پڑھنے ،ان کو نشر کرنے اور تعلقات اور دوست بنانے کے مواقع حاصل کرتا ہے ،ان سب کے نتیجے میں وہ کبھی دوسروں کو متاثر کرتا ہے اور کبھی خود دوسروں سے متاثر ہو جاتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر فعال لوگ اپنی دینی اور ثقافتی معلومات کی سطح کو بلند کرے تاکہ کسی وقت وہ ان طاقتوں کا آسان ہدف نہ بن جائے جو سوشل میڈیا پر لوگوں کے دینی اور ثقافتی افکار پر حملے کرتے رہتے ہیں۔
معیار سے گری نشریات:
سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں کی فعلیات پر نظر کرنے سے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کا مستوی بہت پست ہے جو کہ ان کے پست اور ناکارہ ثقافت کا مظہر ہے۔ اور یہ لوگ اسالیب و طرق نشر سے کسی قسم کا سروکار نہیں رکھتے۔ بلکہ وہ نشر کے ابجدیات سے بھی ناآشنا ہیں، مختلف مسائل کو اجاگر کرنے میں ان کا بد ترین طریقہ کار ،جبکہ فکری افلاس اور اپنی دینی و ثقافتی اقدار سے لا علمی ایسے لوگوں کے ثقافتی کم مائگی اورمعاشرے کے عمومی ذوق سے ناآشنائی پر دلیل ہیں ۔خصوصا جن تک یہ مواد پہنچتے ہیں ان پر ، اپنے منفی اثرات کی وجہ سے عمومی ذوق کو اہمیت دینے والوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ اورپریشانی کی بات ہے ،کیونکہ ان نشر ہونے والے مواد کو دیکھ کر ثقافتی بحران اور سطح فکر کی پستی کا اندازہ ہوتا ہے ،جبکہ اسلام کی دعوت علم حاصل کرنے اور بلند اخلاق کی بنیاد پر قائم ہے ۔ یہ امر اس بات کا متقاضی ہے کہ سوشل میڈیا سے بڑے پیمانے پر اسلام کے معارف کو انسانوں تک پہنچانے کے لئے استعمال کیا جائے ۔
کیونکہ اس سے مختلف میدانوں میں استفادہ کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ علمی ،ثقافتی ، دینی اور فنی میدانوں میں بیک وقت کام کرنے کے بے انتہا مواقع موجود ہیں ، لہذا یہ ایک بنیادی اسلامی پیغام ہے جسے نظر نداز نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصا جب ہم ایک ایسے ترقی یافتہ اسلامی معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جواپنی تمام تر امکانیات کوپاک اسلامی عقیدے کے زیر سایہ کرہ ارض کو آباد کرنے اور اہل زمین کی خیر و خوبی کی راہ میں مسخر کر دے۔ ایسی حالت میں جب ہم ایسے لوگوں سے روبرو ہوتے ہیں کی جو نہ عمومی ذوق سے آشنا ہیں اور نہ ہی وہ دینی و عرفی اقدار کا خیال رکھتے ہیں۔ اسلام میں ایسے لوگوں کی کوئی قیمت نہیں جب تک وہ اپنے ان غلط رویےسے توبہ نہ کرے ،کیونکہ یہ لوگ معاشرے کے معتدل مزاج لوگوں کو دین سے دور کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جب ایسے لوگ معاشرے میں فساد کی بیج بو رہے ہوتے ہیں تو پوری طاقت کے ساتھ ہم ان کے مقابل کھڑے ہو جائیں تاکہ وہ معاشرے کو خراب کرنے والے کردار ادا نہ کر سکیں۔
اسی طرح ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کہ جو سوشل میڈیا سے مکمل طور پر ممکنہ حد تک استفادہ کرے یہ بھی ایک مشکل اور محنت طلب کام ہے، خصوصا جب اس میدان میں ایسے لوگ موجود ہوں کہ جن کو اپنے پیجز پر نشر کرنے والے مواد کی کوئی تمیز و ترتیب معلوم نہیں ہوتی ،جبکہ دوسری طرف ایسے ایسے لوگ ہیں جو انہی بے سر وپا چیزوں کو لائک اور شئیرز کے ذریعے آگے بڑھانے والوں کی بھی کمی نہیں .جبکہ خدا وند متعال اس بارے میں قرآن میں ارشاد فرما رہا ہے کہ ،(إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ) جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان کے درمیان بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اللہ یقینا جانتا ہے مگر تم نہیں جانت (النور-19)
مناسب اور مفید نشریات:
اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو چیزوں کو سمجھنے اور اپنے منشورات میں بلند مستوی رکھتے ہیں، ان کا سارا ہم وغم معاشرے میں علم اور اچھائیوں کا فروغ ہے۔ اسلامی اخلاق کا ملتزم رہنا اور معاشرے کے اخلاقی اقدار کا احترام نیز جس معاشرے میں وہ رہتے ہیں وہاں کے لوگوں کے اجتماعی ذوق سے آشنائی انہیں ایسا کرنے پر ابھارتی ہے ۔ پس وہ مسلسل علمی اور مؤثر ابحاث اورایسی چیزوں کو نشر کرتے ہیں کہ جن سے لوگوں کی ذہنی سطح بلند کرنے میں مدد مل سکے .ایسے لوگ آیت کریمہ (الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَـئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ وَأُولَـئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ) جو بات کو سنا کرتے ہیں اور اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی صاحبان عقل ہیں۔ (الزمر-18) کے مصداق ہیں۔
سوشل میڈا کی نشریات دیکھنے اور رد عمل دینے والوں کی ذمہ داریاں
کسی بھی پوسٹ کولائک کرنا ،باوجود اس کے کہ لوگ اسے معمولی سا کام سمجھتے ہیں، ایک شرعی و اخلاقی مسئولیت رکھتا ہے کہ جس کے لئے انسان خدا اور معاشرے کے سامنے جواب دہ ہے۔ پس سوشل میڈیا پوسٹ پر کسی قسم کا رد عمل دینے والوں کو اس بات کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ۔ اسے اپنے لائکس اور کمنٹس بے اہمیت اور بے قیمت اور لا بالی کے انداز سے اس طرح استعمال نہیں کرنا چاہئے کہ اس سے کسی فاسق کی بکواسات نشر کرنے میں حوصلہ افزائی ہو جائے اور وہ یہ سمجھے کہ اس کے یہ بکواسات بہت سے لوگوں کے لئے دلچسپی کا موجب ہیں۔ کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں لائک کرنے والا شخص بھی برائی ،فحاشی اور بکواس چیزیں پھیلانے میں صاحب پوسٹ کے ساتھ شریک قرار پائے گا۔ یہ چیز معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کا سبب بنتا ہے، کیونکہ اس طرح کی رزائل کا وسیع پیمانے پر پھیلنا اور لوگوں کے لائک اسے ایسے اجتماعی مظہر کی شکل دینا کہ جس پر قابو پانا ممکن نہ ہو۔
اسی طرح بہت سے" لائک " ایسے گندے پوسٹ بنانے والوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ بہت سے لوگ ان کے اس عمل سے خوش اور راضی ہیں ۔
فرد اور معاشرے کی دینی و ثقافتی تربیت:
شریعت مقدسہ کے حلال و حرام کا علم حاصل کر کے دینی شعور میں اضافہ کرنا ،اسی دینی عقائد اور اخلاقی اصولوں سے آشنائی حاصل کرنا نفس امارہ اور شیطانی وسوسوں کا کہ جو انسان کو اس برائی اور بے حیائی کی جانب کھینچتی ہیں کہ جن کے مواقع بعض سوشل میڈیا پیجز اور ٹی وی چینلز وغیرہ فراہم کر رہے ہیں ،سے مقابلے کے لئے بہترین ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں ۔
ان حالات میں ان چینلز اور پیجز کی صورت میں موجود سماجی خطرے سے پردہ اٹھانا بہت ضروری ہے تاکہ عام لوگ ان برائوں کے جال میں پھنسنے سے محفوط رہے ،کیونکہ اس جال میں اگر پھنس جائے اس کے نفسیاتی اور شہوانی حالت پر ان چیزوں کی تاثیر کی وجہ سے وہ نفسیاتی اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے ،جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ شہوات نفسانی سے مغلوب ہو کر دوسروں کی عزت و ناموس سے کھیلنے جیسے گھناونے جرائم کا مرتکب ہو جاتا ، جو دین اسلام میں ناقابل قبول اور حرام ہے، جس کا مرتکب مستحق عقاب ہے۔
لہذا اصلاح معاشرہ کے لئے کوشش کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں لوگوں کو ایجوکیٹ کرے،سیمینارز منعقد کریں اور بروشرز کے ذریعے لوگوں کو ان خطرات کی جانب متوجہ کریں کیونکہ بطور کلی معاشرہ کو ان برائیوں کے اثرات سے بچانا بے حد ضروری ہے ۔ بلکہ ایسے مواقع کو پہچان کر ان کا مقابلہ کرنا شرعا بھی واجب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق اسلامی فقہ کا موقف بہت واضح اور شجاعانہ ہے۔ اسلام ان ذرائع کے علمی اور اصلاحی مقاصد کے لئے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،کیونکہ یہ ذرائع ہر شخص کی پہنچ میں ہیں اور تعلیمی و اصلاحی میدانوں میں ان کا استعمال نہایت مفید واقع ہو سکتے ہیں ۔ خصوصا اسلام حصول علم اور نشر معارف کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے کہ جس پر بہت ساری قرآنی آیات دلالت کرتی ہیں (قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ) کہدیجئے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے یکساں ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں (الزمر-9)، اسی طرح اسلام ان علماء اور سیائنسدانوں کی بھی قدر کرتا ہے کہ جن کی محنتوں سے ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور انسانی زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا ہوئیں ۔ اسلام کے نزدیک علم کی یہی اہمیت در اصل وہ طاقتور عامل ہے کہ جس کی وجہ سے اسلام مسلمانوں کو حصول علم اور علوم و فنون کی نشر و اشاعت کے لئے ان جدید سماجی روابط کے زرائع کو استعمال کرنے کی تلقین کرتا ہے،
لیکن دوسری جانب اسلام انہی وسائل کوغلط اور معاشرے کی بنیادی سٹریکچر کو تباہ کرنے والی چیزوں کے لئے استعمال کرنے کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ کیونکہ اسلام کا یہ بنیادی اصول ہے کہ حسن خلق اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ لہذا سوشل میڈیا کی نسبت دین مبین اسلام کا موقف جاننا اور اسے اہمیت دیتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں بعض نادان لوگ کہ جن کا کام ہی لوگوں میں برائیوں کو پھیلانا اور دین پر بے سر وپا الزامات لگاناہے ،ان کی کوئی علمی قدر و قیمت نہیں ہے ،اور اسلام ان کے اس طرز عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جس کی وجہ سے اسلام اور ان کے درمیان ایک لڑائی کی کیفیت ہے ،لیکن یہ سنت الہی ہے کہ ہمیشہ حق وسچ کو شیطانی قوتوں پر کامیابی حاصل ہوتی ہے،اس کے لئے معاشرے میں لوگوں کی علمی اور فکری سطح کو بلند کیا جائے تاکہ وہ اس قابل ہو سکے کہ ان شیطانی ہتھکنڈوں سے پردہ اٹھائے اور ان کے خلاف عقل و شعور کے ساتھ نبرد آزما ہو سکے،اور شہوات نفسانی کے دلدل میں معاشرے کے افراد کو پھنسنے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
عادل مشکور الظویھری