امانت سے ہی انسان کی قیمت معلوم ہوتی ہے اور انسانی اخلاق کی اعلی منزل کا نام ہے۔ امانتداری ایسی صفت حسنہ جو اللہ تعالی ان لوگوں کوعطا کرتا ہے جن پر وہ انعام کرتا ہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولً(سورہ الاحزاب ۔۷۲)
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو ان سب نے اسے اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا، انسان یقینا بڑا ظالم اور نادان ہے۔
فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ(سورہ البقرۃ۔۲۸۳)
اگر تم ایک دوسرے پر اعتبار کرو تو جس پر اعتبار کیا جائے اسے چاہیے کہ دوسرے کی امانت ادا کرے اور اپنے رب یعنی اللہ سے ڈرو۔
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ(سورہ النساء۔۵۸)
بے شک اللہ تم لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل کے سپرد کر دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو۔
نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے امانت رکھی ہے اسے واپس کرو اور تم اس کے ساتھ بھی خیانت نہ کرو جس نے تمہاری ساتھ خیانت کی ہے۔
امانت کا متضاد خیانت ہے اس بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ(سورہ الانفال۔۲۷)
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو درحالیکہ تم جانتے ہو۔
امانت کا دائرہ کار ہر اس چیز کو بھی شامل ہے جسے اللہ نے آپ کے سپرد کیا ہے اور اس کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے جیسے اعضا کی حفاظت،عزت کی حفاظت،لوگوں کے حقوق کی حفاظت اور اسی طرح کی بہت سی چیزیں اس میں شامل ہیں۔
امانت کے بہت سے مصادیق ہیں ان میں سے اہم یہ ہیں:
۱۔لوگوں کے مال کی حفاظت میں امانت داری :جب بھی امانت رکھنے والا طلب کرے اسی وقت اسے محفوظ انداز میں جیسی وہ امانت سپرد کرتے وقت تھی اسی حالت میں پلٹا دینا۔یہ امانت کا سب سے اہم مصداق ہے اور معاشرے میں اسی کو امانت سمجھا جاتا ہے۔امام سجاد ؑ سے مروی ہے: خدا کی قسم اگر میرے بابا حسینؑ کا قاتل میرے پاس وہ تلوار امانت مین رکھوائے جس سے اس نے میرے بابا کوقتل کیا تھا تو میں اسے وہ تلوار واپس کروں گا۔
۲۔تبلیغ رسالت میں امانتداری:اس کی مثال انبیاء اور رسولؑ ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونےو الے احکامات کو پہنچاتے تھے اس طرح رسولؑ تبلیغ رسالت میں امین ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ بغیر کسی کمی بیشی کے پیغام کو پہنچا دے۔اگر وہ کمی یا زیادتی کرے گا تو دین میں خرابی پیدا ہو جائے گی اور اللہ پناہ کہ دین میں کسی قسم کی خامی اور نقص پیدا ہو۔یہاں یہ بات فائدہ مند ہو گی کہ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ نبی کو ہر صورت میں کسی بھی غلطی سے معصوم ہونا چاہیے اگر ہم اس کے لیے غلطی کے جواز کے قائل ہو جائیں تو دین میں خلل واقع ہو جائے گا۔کسی بھی طرح کا خلل اور نقص کسی بھی آسمانی شریعت میں واقع ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ تمام کی تمام آسمانی شریعتیں ایک کامل کی طرف سے آئی ہیں خود کامل ہیں اور جوپہنچانے والے ہیں وہ بھی کامل ہیں ۔اسی لیے یہ ضروری ہے کہ تمام انبیاءؑ اور مرسلینؑ کا معصوم ہونا ضروری ہے اور اسی طرح یہ بھی لازمی ہے کہ معصومین کسی بھی خطا،سہو اور نسیان سے پاک ہوں۔
۳۔فیصلے میں امانت:فیصلہ کرنے والے مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ امین ہو اور وہ ہر صورت میں یہ چاہتا ہو کہ امانتداری اس کےملک کے تمام شعبوں میں نظر آئے جس کا تعلق مسلمانوں سے براہ راست ہوتا ہے،اسی طرح مسلمانون کے بیت المال میں امانتداری کا مظاہر ہو یا جسے آج کل قومی خزانہ کہا جاتا ہے اس کی حفاظت کرے۔جب حاکم امین اور اس کے نفاذ کا ہر صورت طلبگار نہیں ہوگا کہ اس کے تمام شعبوں میں تمام مصالح میں امانت کی مراعت کی جائے تو اس ملک میں ظلم و خرابی پیدا ہو جائے گی،اس ملک کی دولت ضایع ہو جائے گی اس کی قوم بھی ظلم کا شکار ہو جائے گی۔ہمارے پاس تاریخ میں اس کی بہت زیادہ مثالیں ہیں۔
۴۔تدوین ،نقل اور تاریخ میں امانت:بالخصوص اس وقت جب اس تدوین ونقل کا تعلق اہم معاملات سے ہو اور حساس چیزوں کو لیے ہو جیسے احادیث نبویﷺ کی تدوین اور اسی طرح اہم تاریخی واقعات کی تدوین۔اسلامی تاریخ میں اس حوالے سے بہت زیادہ خیانتیں،دھوکہ دہیاں اور مخالفتیں واقع ہوئی ہیں لوگوں نے احادیث کو وضع کیا اور حاکم کی خوشنودی کے لیے دیگر کی تنقیص کی ہے۔اس حوالے سے اموی دور حکومت بہت زیادہ مشہور ہے۔بہت سے لوگوں نے حقائق چھیایا اور انہیں مسخ کر دیا ان کا مقصد یا تو حکرانوں کی خوشنودی حاصل کرنا تھا یا ان کے حکم کے مطابق ایسا کرنا تھا ہر دو صور ت میں امانت برباد ہوئی اور خیانت کا مظاہرہ کیا گیا۔