قدیم زمانے سے انسانوں نے مختلف مذاہب ،ادیان اور عقائد کا مشاہدہ کیا ہے۔ان ادیان میں سے کچھ آسمانی ادیان تھے جو انبیاء اور رسولوں کے ذریعے آئے اور کچھ ایسے ادیان تھے جو انسانوں نے خود بنائے تھے۔انسان مذہب اور عقائد کے معاملے میں مختلف راستوں پر چلا ہے۔دقِت نظر سے دیکھا جائے تو عقیدہ چاہے وہ مذہبی عقیدہ ہو ،سیاسی عقیدہ ہو یا اجتماعی زندگی کا کوئی عقیدہ ہو یہ انسانی زندگی میں پایا جانے والا مضبوط ترین تعلق ہے۔یہ تعلق خون،نسل اور نسب سے بھی زیادہ گہرا ہوتا ہے اس لیے کسی بھی انسان کے لیے عقیدہ کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا۔انسان اس وقت تک عقیدہ تبدیل نہیں کرتا جب تک کہ وہ انتہائی مجبور نہ ہو جائے۔وہ ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جس پر وہ ایمان لایا ہے وہی درست ہے اور اس کے علاوہ کوئی عقیدہ درست نہیں ہے اور باقی سب کے سب عقائد غلط ہیں۔انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس عقیدہ کے مطابق عمل کرنا درست ہے اور اس کے علاوہ سب کفر والحاد ہے اسی وجہ سے وہ یہ ضروری سمجھتا ہے کہ اپنے عقیدے کا دفاع کرے اور اسی میں ہی اپنی زندگی گزارنا،جدوجہد کرنا اور مرنا چاہتا ہے۔انسان وہ اپنے معبود کے سامنے پورے خشوع وخضوع کےساتھ کھڑا ہوتا ہے اس کا بدن لرز رہا ہوتاہے۔وہ اسی حالت میں خود قربان کرتا ہے اس کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا معبود پتھر ،ستارے یا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ قدیم زمانے سے ہی انسان بتوں ،سورج چاند،ستاروں،آگ ،شرم گاہ اور بعض جانوروں جیسے گائے اور چوہے کی پرستش کرتا آیا ہے۔ ابتداء میں تمام عقائد و ادیان مورثی ہوتے ہیں قرآن مجید اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: قَالُوۡا بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا کَذٰلِکَ یَفۡعَلُوۡنَ(الشعراء۔۷۴)
انہوں نے کہا: (نہیں) بلکہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے پایا ہے۔
کوئی بھی تحقیق نہیں کرتا اور نہ دقت سے دیکھتا ہے کہ کیا ان کا دین صحیح ہے؟اور ان کے عقیدے کی بنیاد کیا ہے؟ ان کا اعتقاد اسی بات پر ہوتا ہے کہ ان کے آباء واجداد کی اکثریت علما کی تھی اور انہیں اس دین کو ان سے جانا ہے ان کے اجداد نے درست دین کا ہی انتخاب کیا ہے۔ان کے عقیدے کا نسلا بعد نسل ہر زمانے میں آگے بڑھنا اور ختم نہ ہونا یہ بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہی عقیدہ ان کی نظر میں درست ہے۔
زمانہ قدیم سے ہی دینی،گروہی اور عقیدتی جھگڑے جاری ہیں اور ختم نہیں ہوئے،اس پر جنگیں ہوئیں بڑے بڑے فتنے اٹھے جنہوں نے خشک و تر کو نگل لیا،کھیتی و انسانیت ہلاک کر دیا۔یہ جھگڑے طویل زمانے سے جاری ہیں اور ان کی بنیاد عقیدتی اور دینی ہے اور اس کی وجہ اندھا تعصب ہے وہ ایک طرف کو اہل حق اور مومن کہتے ہیں اور دوسری طرف کو کافر اور حق کے راستے سے منحرف سمجھتے ہیں۔
اسلام اور ادیان و عقائد کا احترام :
اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ تمام کے تمام انسان ایک جان سے پیدا ہوئے ہیں حدیث شریف ہے: "كلكم من آدم وآدم من تراب" تم سب آدمؑ سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔اسی لیے تمام انسان اللہ کے سامنے کنگھی دانوں کی طرح برابر ہیں،کسی مالدار کو کسی فقیر پر،کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے سوائے تقوی کے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ(الحجرات۔۱۳) تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک یقینا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
اسلام کسی کی گردن پر اپنا عقیدہ ٹھونستا نہیں ہے کیونکہ عقیدہ صرف اور صرف رضا و رغبت سے ہی قبول کیا جاتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ(سورہ البقرہ۔۲۵۶) دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں، بتحقیق ہدایت اور ضلالت میں فرق نمایاں ہو چکا ہے۔
اس بنیاد پر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کفار کو قتل کرنا درست نہیں صرف چند موارد ایسے ہیں جہاں پر ایسا کرنا درست ہے جیسے اپنی جان کو بچانے کے لیے ، اسلام صرف عقیدہ میں اختلاف کی وجہ سے قتل نہیں کرتا اور اسی طرح اسلام کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ اسلام کو قبول کرے۔وہ جنگیں اور غزوات جو نبی اکرمﷺ کے زمانے میں ہوئے وہ سب کی سب دفاعی جگیں تھیں اگرچہ یہ جنگیں بعض اوقات مسلمانوں نے شروع کی تھیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات حملہ کرنا دفاع کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اسلام اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دوسرے ادیان کے ساتھ مکالمہ کیا جائے اس آیت کریمہ سے یہی رہنمائی ملتی ہے: اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ(سورہ النحل۔۱۲۵) (اے رسول) حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان سے بہتر انداز میں بحث کریں۔
قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد باری ہے:لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ (سورہ البقرہ۔۲۵۶) دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں۔
اسلام کے ابتدائی زمانے میں اگر کچھ جنگیں ایسی واقع ہوئیں جو اس پالیسی کے خلاف تھیں تو اس کے ذمہ دار وہی ہوں گے جنہوں نے ان جنگوں کر برپا کیا اس کی ذمہ داری اسلام پر نہیں ہو گی۔اسلام کی کبھی بھی یہ تعلیم نہیں رہی کہ تلوار کے ذریعے سے دین کو پھیلایا جائے۔ہم ان سے یہ کہتے ہیں کہ اندلس کو تلوار کے ذریعے فتح کیا گیا تھا اب وہ کہاں ہے؟ اندلس کا اسلام کہاں ہے؟ اس کے مقابل انڈونیشیا کو دیکھیں یہ دنیا کا سب سےبڑا اسلامی ملک ہے مگر یہاں اسلام تلوار سے ہرگز نہیں آیا۔