بغی کے عربی زبان میں ایک سے زیادہ معانی ہیں کبھی یہ طلب کے معنی میں آتا ہے یعنی جب کہیں گے بغیت الشئ تو اس کا معنی یہ ہوگا میں اس چیز کو طلب کررہا ہوں جیسے ارشاد باری تعالی ہے: (ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ) (سورہ الکھف۔۶۴) ترجمہ: موسیٰ نے کہا: یہی تو ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔
بغی ظلم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: (خَصۡمٰنِ بَغٰی بَعۡضُنَا عَلٰی بَعۡضٍ) (سورہ ص۔۲۲) ترجمہ: ہم نزاع کے دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے ۔
اور "بغی" حد سے بڑھ جانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے زانی عورت کے لیے بغی کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اس نے حد سے تجاوز کیا اور فحشاء کی مرتکب ہوئی۔
اصطلاحی طور پر دیکھا جائے تو بغی کا معنی یہ ہیں کہ امام عادل کی اطاعت سے نکل جانا اور اس سے جنگ کرنا۔ تاریخ اسلام میں بغاوت کی بہت زیادہ مثالیں ہیں، جیساکہ جنگ جمل اور دیگر واقعات ہمارے سامنے ہیں، اسی طرح معاویہ کا حضرت عثمان کے قتل کے بعد خلیفۃ المسلمین حضرت علیؑ کے خلاف بغاوت کرنا کہ جن کی اطاعت فرض تھی۔ اسی طرح معاویہ کا حضرت امام حسن ؑ کے خلاف بغاوت کرنا جب کہ ان کی اطاعت اس پر فرض تھی اور وہ قانونی خلیفہ تھے۔
کوئی یہ پوچھ سکتا ہے کہ امام حسین بن علی ؑ کے یزید کے خلاف اٹھنے کو کیسے دیکھتے ہیں جبکہ اس کے باپ معاویہ کی موت سے خلافت اس کی طرف آ گئی تھی؟ کیا یہ بغاوت نہیں تھی؟
اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یزید بن معاویہ قانونی خلیفہ ہی نہیں تھا۔ کیونکہ وہ اپنے باپ کی وصیت سے خلیفہ بن بیٹھا تھا جو کہ خود اپنی وقت میں ہی قانونی خلیفہ نہیں تھا۔یزید عادل حکمران نہیں تھا اس کے فاسق ہونے پر معتبر دینی شخصیات نے گواہیاں دی تھیں۔ لھو و لعب میں موہ ہر وقت مبتلا رہتا تھا، دین اور رب کے پیغام سے کوسوں دور تھا۔ عیش و عشرت ، بدکاری ، بے حیائی اور شراب خوری کا دلدادہ تھا۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر امام حسینؑ نے اس کے خلاف قیام کیا کیونکہ آپؑ اپنے نانے رسول اکرمﷺ کی امت کی اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ سن اکسٹھ ہجری میں امام حسینؑ شہید کر دیا گیا ۔یزید نے تریسٹھ ہجری میں اپنے لشکر کو حکم دیا کہ وہ نبی اکرمﷺ کے شہر مدینہ منور پر حملہ کرے اس سے صحابہ کرام کی بڑی تعداد شہید ہوئی،اس نے صحابہ کی خواتین کو اپنے لشکر کے لیے مباح قرار دیا۔اس نے چونسٹھ ہجری میں بیت اللہ شریف پر منجنیق سے حملہ اس میں بہت سے لوگ قتل ہوئے۔ان سب کی بنیاد پر اہل حق میں سے کوئی بھی ایسا نہیں گزرا جو یزید کو خلیفہ رسولﷺ اور اس کی حکومت کو قانونی کہتا ہو۔
ظلم دوسروں پر زیادتی کرنا ہوتا ہے اور ان کے ساتھ انصاف قائم نہ کرنا ہوتا ہے اور اسی طرح دوسروں کو تکلیف دینا ہوتا ہے۔عدل اس کے برعکس ہوتا ہے اور جور کا مرتبہ ظلم سے سخت اور شدید ہے یہ تمام مترادفات نہیں ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے:
تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ(سورہ البقرہ۔۲۲۹) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کرتے ہیں پس وہی ظالم ہیں۔
دوسری جگہ پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ(سورہ غافر۔۱۷) آج ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا، آج ظلم نہیں ہو گا، اللہ یقینا جلد حساب لینے والا ہے۔
حدیث قدسی جسے نبی اکرمﷺ نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اے میرے بندے میں نے خود پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے ،اسی طرح ظلم کو تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے اس لیے تم ظلم مت کرو۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم سب ظلم سے بچو،ظلم قیامت کے تاریکی پیدا کرے گا۔