واپس
کمیت ۔ روح القدس کی تایید

کمیت ۔ روح القدس کی تایید

نام کمیت بن زید بن خنس بن مخالد بن ذویبۃ بن قیس بن عمرو بن وھب بن عمرو بن سبیع بن مالک بن سعد بن ثعلبۃ بن دودان بن اسد بن خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضر بن نزار اور نزار قبائل عرب کا باپ ہے ، کمیت کا تعلق قبیلہ اسد سے ہے، ۶۰ ہجری کو کوفے میں پیدا ہوئے اس لئے ان کو کمیت کوفی بھی پکارا جاتا ہے ۔ کمیت...

نام کمیت بن زید بن خنس بن مخالد بن ذویبۃ بن قیس بن عمرو بن وھب بن عمرو بن سبیع بن مالک بن سعد بن ثعلبۃ بن دودان بن اسد بن خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضر بن نزار اور نزار قبائل عرب کا باپ ہے ، کمیت کا تعلق قبیلہ اسد سے ہے، ۶۰ ہجری کو کوفے میں پیدا ہوئے اس لئے ان کو کمیت کوفی بھی پکارا جاتا ہے ۔

کمیت نے امام باقر اور امام صادق علیھما السلام کا پورا زمانہ درک کیا ہے نیز یہ

بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے امام سجاد علیہ السلام کا بھی کچھ زمانہ درک کیا ہے۔

کمیت نے ایک عورت سے شادی کی جس کا نام حبّی بنت عبدالواحد بن مخالد تھا ان سے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام المستھل رکھا گیا۔ ان کا ایک اور بھی فرزند تھا جس کو جیش کہتے تھے ۔ پہلا بیٹا کمیت کی کنیت کا سبب بنا جس کی وجہ سے کمیت کو ابوالمستھل کہا جاتا تھا ۔خاص طور سے المستھل ہمیشہ باپ کے ساتھ رہتا تھا کیونکہ ان کا باپ بہرا تھا اور شعر بھی صحیح طرح  زبان سے ادا نہیں کر سکتا تھا اس لئے وہ اپنے بیٹے کو کہتا کہ وہ ان کے اشعار پڑھے ۔

دوسرے پہلو سے ، کمیت بنو اسد کا خطیب اور فقیہ تھا علاوہ اس کے وہ حافظ قرآن بھی تھے اسی طرح ان کو خوش نویسی بھی آتی تھی جو اس زمانے کی بارونق صنعتوں میں شمار ہوتی تھی۔ علاوہ اس کے کمیت بہترین نسب والے بھی تھے۔ اسی طرح خطاطی بھی اس زمانے کا ایسا پیشہ شمار ہوتی تھی جس کو صرف اشرافیہ ہی اختیار کرسکتی تھی ۔

ظاہری خصوصیات

کمیت شجاعت میں ممتاز تھے  خاص طور سے تیر اندازی میں تو ان کے مانند کوئی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں کہا گیا کہ " بنو اسد میں کمیت سے بڑھ کر کوئی تیر انداز نہیں پایا جاتا ۔ نیز وہ ایک ماہر گھڑ سوار بھی تھے ۔

البتہ وہ بات جو کمیت کے بارے میں قابل توجہ ہے وہ ان کا حد سے زیادہ  تعصب کا مالک ہونا ہے۔ وہ اپنے آپ کو باقی عرب قبائل کی نسبت عدنانیین سے منتسب ہونے پر بڑا غروراور فخر کیا کرتے تھے۔ خاص طور سے وہ اپنے آپ کو قحطانیین کے مقابلے میں زیادہ تعصب کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے عدنانی شعراء کے علاوہ دوسرے شعراء پر طنز بھی کیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ان کے دشمن بھی کافی زیادہ ہوئے ۔ جن میں ابو عینۃ اور حکیم اعور کلبی پیش پیش تھے ۔

عقاید :

کمیت آل علی کا محب تھا ۔ بنو ہاشم کے ساتھ محبت میں مشہور تھا ۔ کمیت نے بنو ہاشم کے بارے میں اتنے قصاید کہے جو  قصاید الھاشمیات " سے معروف ہوئے۔ وہ آل محمد ﷺ  کی محبت کے اظہار میں ذرا سا تامل  سے بھی  کام نہیں لیتے تھے ۔  امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ان کا یہ کلام ہے:

ومن أكبر الأحداث كانت مصيبــة علينا قتيلُ الأدعياء الملحّــــــبُ

ومنعفر الخدين من آل هاشـــــــــم ألا حبّذا ذاك الجبين المتّـــــرب

اسی طرح واقعہ کربلا کے بارے میں منظوم کلام کہا ہے:

ومَن عجب لم أقضه أن خيلهـــــم     لأجوافها تحت العجاجة أزمــل

هَماهم بالمستلئمين عوابـــــــــــس كحدآن    يوم الدّجن تعلو وتسفـل

يحلئن عن ماء الفـــــــرات وظلـه حسيناً     ولم يشهر عليهن منصل

كأنَّ حسيناً والبهاليل حولـــــــــــه     لأسيافهم ما يختلي المتقبِّـــــــــل

يخضن به من آل أحمد في الوغى    دما طل منهم كالبهيم المحجِّــــل

وغاب نبي الله عنهم وفقـــــــــــده    على الناس رزء ما هنالك مجلل

فلم أر مخذولاً أجلَّ مصيبــــــــــة    وأوجب منه نصرة حين يخـــذل

کمیت کا یہ کلام بھی آل محمد ﷺ کی محبت میں ہے :

بني هاشم رهــــــــــط النبي فإنني لهم وبهم أرضى مراراً وأغضب

خفضت لهم مني جناحي مـــــودةٍ إلـــــى كنف عطفاه أهل ومرحب

ان کے محب اہلبیت ہونے کا بہترین ثبوت کے لئے امام زین العابدین علیہ السلام کی وہ دعا ہے جو کمیت کے حق میں فرمائی ہے :

"اللّهم إنّ الكميت جادّ في آل رسولك وذرّية نبيّك بنفسه حين ضنّ الناس، وأظهر ما كتمه غيره من الحقّ، فأمته شهيداً، وأحيه سعيداً، وأره الجزاء عاجلاً، واجز له جزيل المثوبة آجلاً، فإنّا قد عجزنا عن مكافأته، وأنت واسع كريم".

پروردگار! بیشک کمیت نے اس وقت تیرے رسول کی آل اور ان کی ذریت کی خاطر اپنی جان کی بازی لگائی ہے جب لوگ اس راہ میں جی چراتے تھے اور اس حق کو آشکارا کیا جس کو غیر چھپاتا تھا ، پس اے پروردگار ! ان کو شہادت کی موت نصیب فرما اور ان کی زندگی کو نیک بنا ، ان کو دنیا میں بھی جزاء دے اور اور آخرت میں بھی ثواب جزیل عطا فرما ، بتحقیق  ہم ان کو جزاء دینے سے عاجز ہیں اور تو وسعت دینے والا  اور کریم ہے ۔"

ان کے اشعار کی تعریف کرتے ہوئے امام باقر علیہ السلام نے فرمایا :

اللہ کی قسم اے کمیت اگر ہمارے پاس کوئی مال ہوتا تو ہم ضرور اس میں سے تم کو عطا کرتے، لیکن تمہارے لئے ان اشعار کا انعام وہی کچھ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے حسان بن ثابت کے لئے فرمایا: " اے حسان ! جب تک تم اپنی زبان سے ہمارا دفاع کرتے رہوگے روح القدس تمہارے ساتھ  رہے گی "۔ نیز یہ بھی تو فرمایا تم جب تک ہمارے حق میں بولتے رہو گے روح القدس کی تایید بھی تم پر ہوتی رہے گی ۔ "

رحلت :

کمیت ۱۲۶ہجری کو  انتقال کر گئے  اور ان کی وصیت جو اپنے بیٹے کو کی تھی کہ "بیٹے ! مجھ تک روایات کے ذریعے پہنچا ہے کہ کوفے کی پشت پر ایک خندق ہے جس میں مردے دفن کئے جاتے ہیں لیکن ان کی قبور کو کھول کر ان مردوں کو دوسروں کی قبور میں دفن کردیا جاتا ہے۔ مجھے پشت کوفہ میں دفن نہ کرنا بلکہ جب میں مرجاؤں تو مجھے اس جگہ دفن کردینا جس کو "مکران " کہا جاتا ہے ۔

شیئر: