واپس
مسلمان اور ہَنس کی چال

مسلمان اور ہَنس کی چال

ہر امت اور قوم کی ایک ثقافتی شناخت ہوتی ہے جو اسے دیگر اقوام عالم اور امتوں سے ممتاز کرتی ہے اور وہ ثقافتی شناخت اس امت کی میراث اور اور اعلی اقدار و روایات سے جنم لیتی ہے مگر تیسری دنیا کے ممالک میں ہمیں دوسرے تہذیبی اور ثقافتی ماڈلز کا سامنا ہے جو ہمارے افکارپر مسلط کر دیے گئے ہیں۔ خاص طور پر مغرب...

ہر امت اور قوم کی ایک ثقافتی شناخت ہوتی ہے جو اسے دیگر اقوام عالم اور امتوں سے ممتاز کرتی ہے اور وہ ثقافتی شناخت اس امت کی میراث اور اور اعلی اقدار و روایات سے جنم لیتی ہے مگر تیسری دنیا کے ممالک میں ہمیں دوسرے تہذیبی اور ثقافتی ماڈلز کا سامنا ہے جو ہمارے افکارپر مسلط کر دیے گئے ہیں۔ خاص طور پر مغربی ثقافت کو دیکھیں جس کےلئے آخری دو صدیوں میں مغربی اقوام نے اپنی دنیاوی ترقی اور برتری کے زور پر پوری دنیا میں اپنی تہذیب و ثقافت کو پھلانے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ خود کو حریّت و آزادی اور ثقافت و تہذیب کا علمبردار ظاہر کریں۔ پس چنانچہ  اس سے نام نہاد (ثقافتی یلغار) کا آغاز ہوا، جو درحقیقت مغرب کی کوشش تھی کہ اپنا ثقافتی نمونہ دنیا کے لوگوں پر مسلط کرے۔

ہم اس تہذیب و ثقافت کی اقتصادی اور سیاسی خوبیوں کا انکار نہیں کرتے مگر ہمیں اس کی سیاہ اور تباہ کن جہات اور زاویوں سے غفلت نہیں برتنی چاہیے ۔ہم جس بات کی دعوت دیتے ہیں وہ ہےکہ کسی بھی تہذیب و ثقافت سے استفادہ کامل ادراک اور آگاہی کے ساتھ ہونا چاہیے ورنہ اندھی تقلید سے اس میں موجود خوبیوں کے ساتھ اس کی برائیوں کی بھی پیروی لازم آئے گی۔ اور یہ قوی امکان ہے کہ یہ پیروی معاشرے کی ساخت وپرداخت کے ساتھ سازگار نہ ہو۔

عجیب بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالوھاب مسیری نے اپنی کتاب (العالم من منظور غربی) میں عرب اور غیر عرب معاشروں میں موجود مغربی تہذیب و ثقافت کی بہت سی  مثالیں جیسے کھانے پینے، اوڑھنے بچھونے اور گھر کی تعمیر و سازوسامان، حتی کہ اپنی رسوم و رواج اور مفاہیم و اقدار میں پیروی وغیرہ ذکر کرنے کے بعد ایک واقعہ بیاں کیا ہے جو انہیں کسی عرب ملک کے ائیرپورٹ پر پیش آیا کہ جب وہ انتظار گاہ میں قالین بچھے ہوئے فرش پر بیٹھنے لگے تو وہاں موجود ایک خدمت گار نے انہيں ایسا کرنے سے روک دیا اور کہنے لگا کہ وہ کرسی پر بیٹھیں کیونکہ اس طرح فرش پر بیٹھنا غیر مہذب طریقہ شمار ہوتا ہے ۔حالانکہ وہ خدمت گار اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے  اس حقیقت سے نا واقف تھا کہ ایل مغرب میں کرسیوں پر بیٹھنے کی عادت اس وجہ سے تھی کیونکہ ان کے ہاں زمین ٹھنڈی ہوتی ہے اور و ہاں گرم قالین کا رواج نہیں ہوتا ہے، لیکن یہ بھی علم ہونا چاہئے کہ بعض طبی تحقیقات نے حد سے زیادہ بلند کرسیوں پر بیٹھنے کے مضر صحت اثرات اور ریڑھ کی ہڈی میں اس کے ضرر اور نقصان کو بھی بیان کیا ہے  پھر بھی ہم کرسی کا استعمال کرتے ہیں ،یہ سب مغربی تہذیب و ثقافت کو مکمل طور پر قبول کرنے کا انجام ہے۔

اس سے یہ  نہ سمجھا جائے کہ ہم کرسیوں پر بیٹھنے سے منع کرتے ہیں یا مغرب کی تمام رسوم اور رواج کو ترک کرنے کی تاکید کرتے ہیں یہ تو غیر طبیعی طور پر ان کی پیروی کے نتائج اور اثرات  کی ایک مثال ہے اس کے اسباب و عوامل سے قطع نظر مسلمان اس پر عمل پیرا ہیں اور اس کے اسباب و عوامل کی جستجو کرنے کی زحمت نہیں کرتے بلکہ فقط اس لیے یہ کام کرتے ہیں کہ یہ تہذیب یافتہ لوگوں کی علامت ہے ۔

مغربی تہذیب و ثقافت کو ہمارے ممالک میں پچھلے صدی کی چالیس کی دہائی میں بعض سیاسی اور قومی تحریکوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو اسلامی میراث سے زیادہ قریب ہونے کی دعوت دیتی تھیں نیز اسلامی معاشرے کی حقیقت و ماہیت اور شناخت کو مسخ نہ کرنے کی تاکید کرتی تھیں مگر یہ دائيں بائيں کی کوششیں یعنی سطحی کاوشیں اس وجہ سے ناکامی سے دو چار ہوئيں کیونکہ وہ مغربی تہذیب و ثقافت کے ظاہر سے مقابلہ کرنے پر اصرار اور تاکید کرتی تھیں اور اس کی اساس و بنیاد کے درپے نہيں ہوئيں اور اس مضمون و محتوی یعنی اصل پیغام کی بجائے اس کی ظاہری شکل و صورت کا مقابلہ کرتی رہیں۔

حقیقت میں یہ مغربی تہذیب و ثقافت کی پیروی سے نافقط نکلنا چاہتے تھے بلکہ یہ اس  تہذیب و ثقافت کی بنیاد پر اسلامی تہذیب و ثقافت کو ڈھالنے کی کوششیں کرتے رہے اور معاشرے کی ظاہری شکل و صورت کی حفاظت کرنا چاہتے تھے۔

 اس سے مجھے وہ تحریر یاد آتی ہے جو بعض معاصر تہذیب یافتہ افراد نے لکھی کہ جب وہ اپنے بعض اسلامی دوستوں کے ساتھ ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا ،تو ایسے میں آزاد کشتی کا پروگرام شروع ہوا ،جسے دیکھ کر اس اسلامی بھائی میں جوش پیدا ہوا اور اس نے انہيں ایسے پروگراموں کے منفی پہلوؤں کی طرف متوجہ کرانا چاہا کہ اس سے انسان میں بری طرح غیظ و غضب ، انتقام اور تکبر و بڑائی کے جذبات جنم لیتے ہیں تو انہوں نے بڑے ادب و احترام سے حاضرین سے کہا: فرض کریں کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اس وقت یہاں تشریف  فرما ہوتے تو کیا اس پروگرام کی نوعیت یہی ہوتی جسے دیکھنے کا ہمارا ارادہ ہے ۔ یعنی  کیا ایسے پروگراموں کو دیکھنا ہمارے لئے ممکن ہوتا؟!

تو حاضرین میں سے ایک نے فورا جواب دیا: ہرگز نہيں،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ایسے پروگرام کو دیکھنا قبول نہ فرماتے۔پس وہ  اسلامی بھائی خوش ہوا اور اس کے سبب اور علت کے متعلق سوال کیا؟ تو حاضرین میں سے ایک اور شخص نے جواب دیا: کیونکہ کشتی کرنے والےپہلواں اس شرعی لباس کو نہيں پہنے ہوئے  جو  ناف سے گھٹنوں  کے درمیان والے حصے کو ڈھانپنے پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ یہ لوگ اپنے جسم کے ان حصوں کو ظاہر کرتے ہيں جن کو ظاہر کرنا جائز نہيں ہوتا۔

یہ لطیف مثال ہمیں ان طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہے جو مغربی تہذیب و ثقافت سے مقابلہ کیلئے محض سطحی چيزوں کا سہارا لیتے ہیں ،ان کے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کیلئے ایسے پروگرام بھی   ملاحظہ کرناممکن تھا اگر کشتی کرنے والے مناسب لباس پہن کر آتے۔

ہمارا ماننا یہ ہے کہ ہمیں اس مغربی تہذیب و ثقافت کو کامل اور جامع نقد و نظر سے گزارنا چاہیے جو کچھ بھی ہمارے دینی اور عربی معاشرے کی تہذیب و ثقافت میں باہر سے وارد ہوتا ہے چاہے وہ اقدارو اخلاق سے متعلق کوئی کام ہو یا علمی منہج اور روش کے متعلق ہو یا یورپی  نظام  اور سیاست سے متعلق ہو اور ان میں سے ہر ایک کی خوبیوں اور برائیوں کو جاننے کیلئے غور و فکر کرنی چاہیے اسے محض ان کی مشابہت کی سعی و کوشش  اور ان سے استفادہ کے توڑ تک محدود نہيں رکھنا چاہیے ؛ کہیں ہم اس کوّے کی مانند نہ ہو جائيں جو کبوتر کی چال سیکھنے کی کوشش کرنے لگا تو اپنی چال بھول گیا نتیجہ میں کبوتر کی چال اپنانے میں ناکام ہوا اور اپنی چال چلنے میں بھی مشکلات کا شکار ہوگیا (اسی لیئے کہتے ہیں: کوّا چلا ہنس کی چال ،اپنی بھی بھول گیا)۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ کافی عرصہ پہلے ڈاکٹر علی وردی کی بعض کتابوں -جس کا نام یاد نہيں-میں ایک اہم مقالہ دیکھا تھا ۔اس میں انہوں نے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا :

1۔محافظ طبقہ(دیرینہ اقدار کی حفاظت کرنے والاگروہ)؛

2۔اصلاح گر طبقہ؛

اوران کے نزدیک دونوں ہی معاشرے کیلئے ضروری اور لازمی جزو ہیں ۔اصلاح کرنے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جدید ترقی یافتہ چیزوں کو لائيں اور حفاظت کرنے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جدید چیزوں کو اپنی اقدار کے تابع کریں۔تاکہ معاشرہ ان افکار اور مفید نظام سے استفادہ کرے لیکن ضرر رساں چيزوں سے بچ جائےاور انہوں نے ان دونوں میں سے کسی ایک کی کمی سے ڈرایا تھا ۔پس اصلاح طلب افراد کے بغیر معاشرہ جدت ، ترقی اور مطلوبہ تحرّک کھو دیتا ہے اور حفاظت کرنے والوں کے بغیر معاشرہ میں ہر خشک و تر امڈ آتا ہے ۔

تو ہم اپنی مدح و تعریف اور نقص و کمزوریوں سے بالا تر ہونے کی تاکید نہيں کرتے جیسا کہ ہم اپنی پسماندگی کی تاویل بھی نہيں کرنا چاہتے؛کیونکہ ہم یقین رکھتے ہيں کہ ہمای تہذیب و ثقافت میں پسماندگی کے عوامل و اسباب خارجی ہونے سے پہلے داخلی ہيں اور خداوند کریم کے اس فرمان کو سمجھتے ہيں جس میں فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ ما بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا ما بِأَنْفُسِهِم‏؛بے شک اللہ تعالی اس وقت تک  کسی  قوم کی حالت نہيں بدلتا جب تک خود وہ اپنے آپ کو نہيں بدلتے(الرعد: 11)

ہم زیادہ سے زیادہ اس بات کی تاکید کرنا چاہتے ہيں کہ اصلاح و تبدیلی کیلئے مغربی تہذیب و ثقافت سے جدید نظاموں کو وارد کرنا ہمیشہ ہمارے فائدہ میں نہيں ہے بلکہ اصلاح و تبدیلی کے کام کو قرآن کریم اورعترت کی مثالی میراث کی روشنی میں انجام پانا چاہیے کہ قرآن اور عترت ہی تمام اسلامی اقدار کا منبع اور ماخذ ہيں اور بڑے سوالوں کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔

ہماری نظر میں اصلاح اور تبدیلی کی جو بھی کوشش درج ذیل دوبڑے ارکان سے خالی ہوگی وہ ناقص اور کمزور ہوگی:

1)جب تک مصلح شخص دینی نصوص کو سمجھنے میں اجتہاد کہ مرتبہ اور ملکہ پر فائز نہ ہوگا اور وہ نصوص دینی کو سمجھنے کے قواعد کو جاری کرنے کی کافی استعداد اور قدرت سے بہرہ مند نہيں ہوگا؛

2) اور عصری علوم و فنون کی کافی معرفت نہيں رکھتا ہوگا تو وہ حقیقی معنوں میں اصلاح اور تبدیلی انجام دینے کے عمل کی قیادت نہيں کرسکتا۔ کیونکہ یہ دونوں ارکان باہم مضبوطی سے مربوط ہيں ۔

پس حقیقی مصلح کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ واقعیت اور حقیقت کی اصلاح کرتا ہے اس لیے وہ نصوص سے پہلے واقعیت کا کافی مطالعہ کرتا ہے اس کے بعد وہ نص کی طرف رجوع کرتا ہے تاکہ اس سے رہنمائی حاصل کرسکے ۔

 علامہ سید محمد باقرالصدر رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی ضرورت پر زور دیتے ہيں کہ تفسیر قرآن کریم معاشرتی حقیقی مشکلات کے حل کیلئے واقعیت کی بنیاد پرانجام پانی چاہیے ، وہ فرماتے ہيں:

(جزئی طور پر تفسیر کرنے والے مفسر کا تفسیر میں کردار اکثر و بیشتر سلبی اور منفی ہوتا ہے ،وہ قرآن کریم کی بعض نصوص کو لیتا ہے؛ مثلا ایک آیت یا قرآن کریم کا کچھ حصہ ، اور پہلے سے فرضیئے یا تجاویز اور آراء سے خالی ہوتا ہے ۔اورقرآن کریم کو لفظوں سے حاصل ہونے  والے معانی کی روشنی میں معین کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کہ ایک توحید پرست مفسر یا تفسیرموضوعی کرنے والا مفسر اس کے برخلاف اپنے کام کو نصوص سے شروع نہیں کرتا، بلکہ وہ زندگی کے حقائق سے شروع کرتا ہے ۔وہ زندگی کے موضوعات میں سے کسی عقیدہ یا اجتماع و معاشرہ یا تکوین سے متعلق کسی موضوع پر اپنی نظر مرکوز کرتا ہے اور اس موضوع سے متعلق انسانی فکر کے تجربات سے اٹھنے والی مشکلات کو بطور کامل دیکھتا ہے اور جو کچھ انسانی فکر نے حل پیش کیئے ہیں ان کا جائزہ لیتا ہے ، جو کچھ تاریخ میں اس سے متعلق سوال اٹھائے گئے ہيں ان کو سامنے رکھتاہے اور ان میں خالی جگہوں کی تعیین کرتا ہے ،پھر نصوص قرآن کو حاصل کرتا ہے نہ اس لیے کہ نص کے سامنے خود کو سامع یا کاتب کی حیثیت سے پیش کرے، بلکہ اس لیے کہ نص کے سامنے ایک ایسا موضوع آمادہ و تیار کرکے پیش کرے جو مختلف آراء و افکار اور انسانی نظریات کی آماجگاہ رہا ہے۔ وہ قرآنی نصوص سے گفتگو اور مکالمہ شروع کرتا ہے ، سوال اور جواب کرتا ہے ۔مفسر سوال کرتا ہے قرآن کریم اس کو جواب دیتا  ہے۔مفسر جن نتائج کو انسانی ناقص تجربات سے جمع کر چکا ہے جو غلط و صحیح اعمال اور کوششوں کے نتیجہ میں بنےہوتے ہیں جن کو مفکرین نے واقعیت پر انجام دینے کی کوشش کی ہوتی ہے ۔الغرض اسے اس موضوع سے متعلق بشری ابحاث کا جامع نتیجہ حاصل ہوتا ہے ۔پھر وہ اس نتیجہ سے فاصلہ حاصل کرتا ہے؛ تاکہ قرآن کریم کے سامنے بیٹھ سکے مگر صرف خاموش ہوکر سننے کیلئے بیٹھنا مقصود نہيں، بلکہ اس سے کلام کرنا ہے ، سوال کرنے اور سمجھنے کیلئے بیٹھنا ہے ، غور و فکر کرنے کیلئے قرآن کریم کی بارگاہ میں بیٹھنا ہے ،نص قرآنی سے اس موضوع کے متعلق مکالمہ کرنا ہے ۔جس کا مقصد ہوتا ہے  کہ اس موضوع سے متعلق قرآنی مؤقف اور نظریہ کشف کرے اور اس نص سے ممکنہ حل کو حاصل کرے ۔اس نص کا اس موضوع میں دیگر آراء اور نظریات سے مقائسہ کرسکے، اس طرح تفسیر موضوعی کے نتائج بشری تجربات کے ساتھ مربوط ہوتے ہيں ؛کیونکہ وہ انسانی موضوع سے متعلق دیگر نظریات کے مقابلے میں اسلامی نظریہ کی حد بندی کیلئے قرآنی تعلیمات کا مجموعہ ہوتے ہيں۔

اس طرح قرآن کریم واقعیت اور حقیقت کی گہرائی تک پہنچاتا ہے اور قرآن کریم انسانی زندگی کی مشکلات کا حل پیش کرتا ہے ، کیونکہ ایسی تفسیر واقعیت سے شروع ہوکر قرآن کریم پر اختتام پذیر ہوتی ہے ، نہ یہ کہ یہ تفسیر قرآن سے شروع ہو کر قرآن پر ختم ہو جائے اور واقعیت سے دور ہو اور انسانی تجربات اور نظریاتی میراث سے جدا ہو ،بلکہ حقیقی اور موضوعی تفسیر وہی ہوتی ہے جو واقعیت بشری سے شروع ہو اور قرآن کریم جیسے عظیم الشان منبع و مصدر پر اختتام پذیر ہو ، جسے اسلامی تعلیمات کا قیّم اور نگران و نگہبان قرار دیا گیا ہے  اور وہ تنہا مصدر ٹھہرا ہے جس کی روشنی میں واقعیات کی نسبت الہی نظریات کو سمجھا جاتا ہے ؛(المدرسۃ القرآنیۃ، ص23-30))۔

اس طرح دینی نصوص اور علوم کے نتائج میں باہمی تفاعل اور تکامل و ترقی جاری رہتی ہے؛ تاکہ قرآنی قوانین اور احکام، انسانی حیات و  زندگی کی ضروری جہات پر مکمل رہنمائی اور راہ حلّ پیش کر سکیں ، آخر میں قرآن کریم کی اس آیت میں تدبر اور غور و فکر کی دعوت  دی جاتی ہے ، فرمایا:

وَ اعْلَمُوا أَنَّ فيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطيعُكُمْ في‏ كَثيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّم؛ جان لو تم میں خدا کےرسول موجور ہيں ، اگر وہ بہت سے مسائل میں تمہاری پیروی کریں تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے ، (سورہ حجرات، آیت 7)۔

پس اسلام کو وہ گلدستہ ہدایت اور ہدیہ الہی سمجھنا چاہیے جو خداوند کریم نے عنایت فرمایا ہے دوسروں کی آراء و نظریات پر انحصار نہيں کرنا چاہیے ۔

شیخ مقداد الربیعی: محقق و استاد حوزہ علمیہ

شیئر: