فلم اسٹار ٹریک: دی نیکسٹ جنریشن (Star Trek: The Next Generation)کی آخری قسط میں، کیو- (بظاہر- لافانی اور طاقتورشخص ) کیپٹن پیکارڈ کو زمین پر زندگی کی ابتدا کا مشاہدہ کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔
پیکارڈ خود کو اچانک ایک فوضوی منظر میں کھڑا پاتا ہے جہاں آتش فشانی لاوے کے بہاؤ اور پھیلتے ہوئے آتش فشاں پہاڑوں سے بھری زمین دکھائی دیتی ہے، جس میں زمین تاریک، بدنما، اور زندگی سے بالکل خالی دکھائی دیتی ہے۔ جب پیکارڈ اچانک چھلانگ لگا کے خود کو سنبھالتا ہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیتا ہے، کیو جوش و خروش کے ساتھ آتش فشاں کے قریب ایک کیمیائی مادے سے بھرے تالاب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
کیو کہتا ہے: "یہاں آؤ، میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔ کیا تم یہ دیکھ رہے ہو؟ یہ تم ہو۔" پیکارڈ شک و شبہ سے کیو کی طرف دیکھتا ہے۔ کیو اصرار کرتا ہے: "میں سنجیدہ ہوں! یہاں دیکھو، یہ کیمیائی مٹی ہے۔ پہلی بار اس سیارے پر زندگی تشکیل پانے والی ہے۔ یہاں امینو ایسڈز کا مجموعہ ہے جو پہلے پروٹین بنانے والے ہیں، جو زندگی کی بنیادی اینٹ ہے۔"
پھر کیو انسانی نوع کی اہمیت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے: "عجیب ہے، ہے نا؟ سب کچھ جو تم جانتے ہو، تمہاری پوری تہذیب، سب کچھ یہاں اس چھوٹے سے تالاب سے شروع ہوتا ہے۔"
یہ ناقابل فراموش مکالمہ کیو اور کپتان انٹرپرائز کے درمیان، یقیناً ایک تصوراتی کام ہے، لیکن یہ مغرب کے تعلیمی نصاب اور سائنسی مضامین میں موجود ایک نظریہ کی عکاسی کرتا ہے، کہ انسان صرف ایک کیمیائی عناصر کا مجموعہ ہے جو ایک گندے تالاب میں اتفاقاً جمع ہوگیا۔
اگر یہی حقیقت ہے، تو پھر انسان پر الٰہی توجہ کا راز کیا ہے؟ جس نے اسے اپنی (اشرف المخلوقات) مخلوقات کا سردار بنایا اور اس کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیا:
(وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ عِبَادٌ مُّکۡرَمُوۡنَ ، لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ، يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ) (الأنبياء: 26-28).
ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں: اللہ نے بیٹا بنایا ہے، وہ پاک ہے (ایسی باتوں سے) بلکہ یہ تو اللہ کے محترم بندے ہیں۔ وہ تو اللہ (کے حکم) سے پہلے بات (بھی) نہیں کرتے اور اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔اللہ ان باتوں کو جانتا ہے جو ان کے روبرو اور جو ان کے پس پردہ ہیں اور وہ فقط ان لوگوں کی شفاعت کر سکتے ہیں جن سے اللہ راضی ہے اور وہ اللہ کی ہیبت سے ہراساں رہتے ہیں۔
انسان کی بے قدری کے مقابلے میں، کائنات کی وسعت کے پیش نظر، کیوں انسان کو یہ اہمیت دی گئی کہ اللہ تعالی نے اس کے لیے بشارت اور ڈرانے والے نبی بھیجے؟ کیا یہ انسان کی قدر و قیمت کی بابت مبالغہ نہیں؟
در حقیقت، یہ ایک جائز سوال ہے اگر مادی اشیاء کی قدر کے لحاظ سے پیمائش کی جائے۔ کہ انسان کی قدر عظیم کہکشاؤں کے مقابلے میں آخر کیا ہے جو اللہ تعالی نے اسے اس قدر اہمیت دے دی؟ لیکن یہ الٰہی توجہ خود اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے جسمانی وجود میں نہیں، بلکہ کسی اور چیز میں ہے، جس کی وضاحت قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ در حقیقت، یہ وہی سوال ہے جو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا جب اس نے انہیں انسان کی تخلیق اور اسے زمین پر خلیفہ بنانے کی اطلاع دی:
(وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً) اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں، ، تب فرشتوں نے سوال کیا: (أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ) کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟ جب کہ ہم تیری ثناء کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (البقرة: 30).
ان کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ انسان کی زمینی تخلیق، جسے خدا نے زمین پر رہنے کے لیے بنایا، اور مادی مخلوق ہونے کی وجہ سے جسے اپنے ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے، جبکہ اسی وجہ سے فساد اور خونریزی بھی ہوتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ مادی دنیا میں انسان کی وہ تخلیق، جسے زمین پر رہنے کے لیے بنایا گیا ہے، اسے الٰہی صفات سے متصف ہونے سے روکتی ہے۔ تو کیسے ایک مخلوق جو مادی ضروریات کی بنیاد پر پیدا ہوئی ہے، اللہ کی صفات کی مظہر بن سکتی ہے؟ اور یہ کہ فرشتے، جو ان زمینی خصوصیات سے پاک ہیں، آخر وہ کیوں خلافت کے اہل نہیں ہیں؟
اللہ نے انہیں مختصر جواب دیا، اور تفصیلی جواب اس وقت تک نہیں دی کہ جب تک فرشتے انہیں خود نہ دیکھ لیں۔پھر فرمایا:
(إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ) اللہ نے فرمایا: (اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (البقرة: 30)، پھر فرمایا (َعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ) اور (اللہ نے) آدم کو تمام نام سکھا دیے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا پھر فرمایا : اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔ (البقرة: 31)،
تب فرشتے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: (قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ)، فرشتوں نے کہا: تو پاک و منزہ ہے جو کچھ تو نے ہمیں بتا دیا ہے ہم اس کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ یقینا تو ہی بہتر جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (البقرة: 32).
پھر اللہ تعالیٰ نے آدم سے کہا کہ فرشتوں کو نام بتائیں: (قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ)، (اللہ نے) فرمایا: اے آدم! ان (فرشتوں) کو ان کے نام بتلا دو، (البقرة: 33)
یوں انسان کی اصل فضیلت ظاہر ہوئی، جس نے اسے زمین پر خلافت کے لیے موزوں بنایا۔ اللہ تعالی نے انسان میں اپنے اسماء کے علم کا خزانہ ودیعت کیا، اور اگر انسان اس علم کو حاصل کرتا ہے، تو وہ اللہ کا خلیفہ بن سکتا ہے۔
لہذا، خلافت کا مطلب "کسی ایسی چیز کا کسی دوسری چیز کی جگہ لینا ہے، جو اس کی تمام صفات، افعال اور احکام کو منعکس کرے، اور یہ اعلیٰ مقام انسان کو اسماء کے علم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، جو اسے کسی اور مخلوق حتیٰ کہ فرشتوں سے بھی ممتاز کرتا ہے۔
یہی خلافت کا حقیقی مطلب ہے، جسے انسان اللہ تعالی کے اسماء کے علم سے حاصل کرتا ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا:
(اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا)
ترجمہ: وہی اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور انہی کی طرح زمین بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ نے بلحاظ علم ہر چیز پر احاطہ کیا ہوا ہے۔ (الطلاق: 12).
خلافت کا مفہوم یہی ہے، اور انسان اسے صرف اسماء کے علم کے ذریعے حاصل کرتا ہے، جو کہ فرشتوں کو بھی میسر نہیں۔
اللہ تعالی کے اسماء گرامی حقائق وجودی ہیں جو عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں اور حق تعالیٰ نے انہیں حتیٰ کہ اپنے فرشتوں سے بھی پوشیدہ رکھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے ظاہر ہوتا ہے:
قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"،
(اللہ نے) فرمایا: اے آدم! ان (فرشتوں) کو ان کے نام بتلا دو، پس جب آدم نے انہیں ان کے نام بتا دیے تو اللہ نے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں خوب جانتا ہوں۔(البقرة: 33).
یہ صرف الفاظ نہیں ہیں، کیونکہ اگر یہ صرف الفاظ ہوتے تو یہ کوئی معقول حجت نہ ہوتی۔ اور بھلا کیا حجت ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو کچھ الفاظ سکھائے اور پھر فرشتوں کے سامنے اسی شخص کو خلیفہ مقرر کرکے ان پر فخر کرے؟
علامہ محمد حسین الطباطبائی فرماتے ہیں: (فقد ظهر مما مر ان العلم بأسماء هؤلاء المسميات يجب أن يكون بحيث يكشف عن حقائقهم وأعيان وجوداتهم، دون مجرد ما يتكفله الوضع اللغوي من اعطاء المفهوم، فهؤلاء المسميات المعلومة حقائق خارجية، ووجودات عينية وهي مع ذلك مستورة تحت ستر الغيب، غيب السماوات والأرض، والعلم بها على ما هي عليها كان أولاً ميسوراً ممكناً لموجود أرضي لا ملك سماوي، وثانياً: دخيلاً في الخلافة الإلهية) (الميزان، ج1، ص117).
ترجمہ: پس جو کچھ گزرا، اس سے ظاہر ہوا کہ ان ناموں کا علم ایسا ہونا چاہئے جو ان کی حقیقتوں اور وجودات کی اصلیت کو ظاہر کرے، نہ کہ صرف لغوی مفہوم تک محدود ہو۔ یہ معلوم شدہ نام حقیقی ، خارجی حقائق اور عینی وجودات ہیں، جو آسمانوں اور زمین کے غیب کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کی حقیقت کے مطابق علم پہلے تو صرف ایک زمینی مخلوق کے لئے ممکن اور آسان تھا، نہ کہ کسی آسمانی فرشتے کے لئے، اور دوسرے یہ کہ یہ علم الٰہی خلافت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
اسماء کا علم فرشتوں کی قدرت سے باہر ہے اور ان کے لیے ممکن نہیں ہے، اسی لیے ان کو اسماء کا علم آدم کے ذریعے نہیں ملا۔ قرآن مجید نے آدم کے بارے میں کہا: (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا)، جبکہ فرشتوں کے بارے میں کہا: (فَلَمَّا أَنبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ) آدم کو اسماء کا علم دیا گیا یعنی وہ ان اسماء کی حقیقت کو پا گئے جتنا کہ ان کا استحقاق تھا، جبکہ فرشتوں کو صرف خبر دی گئی۔ صاحب الميزان فرماتے ہیں:
فما حصل لملائكة من العلم بواسطة أنباء آدم لهم بالأسماء هو غير ما حصل لآدم من حقيقة العلم بالأسماء بتعليم الله تعالى فأحد الامرين كان ممكنا في حق الملائكة وفي مقدرتهم دون الآخر، وآدم انما استحق الخلافة الإلهية بالعلم بالأسماء دون أنبائها إذ الملائكة انما قالوا في مقام الجواب: سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا، فنفوا العلم". (الميزان، ج1، ص117).
ترجمہ: فرشتوں کو جو علم آدم علیہ السلام کے نام بتانے سے ملا وہ مختلف تھا اس علم سے جو آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے حاصل ہوا۔ ایک چیز فرشتوں کے لیے ممکن اور ان کی قدرت میں تھی، جبکہ دوسری نہیں تھی۔ آدم علیہ السلام نے اللہ کی خلافت ناموں کا حقیقی علم حاصل کرنے کی بنیاد پر پائی، نہ کہ صرف ناموں کی خبر دینے کی وجہ سے۔ فرشتے جواب میں کہنے لگے: پاک ہے تو، ہمارے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جو تو نے ہمیں سکھایا، پس انہوں نے اپنے علم کی نفی کی۔"
اسی پہلو سے انسان کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، وہ مخلوق جو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کی قدرت رکھتی ہے، اور اس کے سبب اللہ تعالیٰ کا انسان پر خاص توجہ دینا اور کائنات کو اس کے لیے مسخر کرنا قابل فہم ہے:
(أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ) (لقمان: 20).
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ نے تمہارے لیے مسخر کیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں کامل کر دی ہیں اور (اس کے باوجود) کچھ لوگ اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس نہ علم ہے اور نہ ہدایت اور نہ کوئی روشن کتاب۔
آخر میں، ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر و قیمت کیا ہے، اور ملحدین کے نزدیک کیا قدر و قیمت ہے۔
شیخ مقداد الربيعي – محقق و استاد، حوزہ علمیہ