واپس
سلسلة معارج الإيمان: کیا سائنس خدا کے وجود کو رد کرتی ہے؟

سلسلة معارج الإيمان: کیا سائنس خدا کے وجود کو رد کرتی ہے؟

مشہور ملحد "ریچرڈ ڈاکنز " ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ کئی نمایاں سائنسدانوں کو ملحد کے طور پر پیش کرے، تاکہ قارئین کو یہ باور کرائے کہ ان سائنسدانوں کی تحقیقات نے انہیں خدا کے انکار تک پہنچا دیا ہے، اور جو بھی اپنا ذہن سائنس کے حوالے کرتا ہےوہ بھی اسی نتیجے پر پہنچتا ہے! اس دعوے کی بنیاد اس نظریے پر رک...

مشہور ملحد "ریچرڈ ڈاکنز " ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ کئی نمایاں سائنسدانوں کو ملحد کے طور پر پیش کرے، تاکہ قارئین کو یہ باور کرائے کہ ان سائنسدانوں کی تحقیقات نے انہیں خدا کے انکار تک پہنچا دیا ہے، اور جو بھی اپنا ذہن سائنس کے حوالے کرتا ہےوہ بھی اسی نتیجے پر پہنچتا ہے!

اس دعوے کی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی ہے کہ واحد مستند اور محفوظ طریقہ جس کے ذریعے کسی شے کے وجود یا عدم وجود کو خارجی دنیا میں ثابت کیا جا سکتا ہے، وہ سائنسی تجرباتی طریقہ ہے، جو سائنسدان اپنی تحقیقات اور مطالعے میں اختیار کرتے ہیں۔ کئی ملحدین نے اس بات کی وضاحت کی ہے، جن میں برٹرینڈ رسل کہتے ہیں: "جو چیز سائنس دریافت کرنے سے قاصر ہے، اسے انسان بھی نہیں جان سکتا" (علم اور دین، صفحہ 243)۔ اسی طرح، جے۔ پی۔ مورلینڈ  جو کہ ایک  معاصر سائنسدان  ہے وہ  کہتا ہے  : "صرف سائنس ہی معقولیت رکھتی ہے، صرف سائنس ہی حقیقت کو پا سکتی ہے اور باقی سب کچھ محض عقیدہ اور رائے ہے... اگر کوئی چیز سائنسی طریقے سے ثابت نہیں کی جا سکتی اور تجربہ نہیں کی جا سکتی، تو وہ صحیح یا معقول نہیں ہو سکتی" (القضية الخالق، لی سٹرویل، صفحہ 94)۔

اور چونکہ  اللہ تعالی کے وجود کو سائنسی تجرباتی طریقے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس کے وجود پر ایمان لانا اور کائنات کی تخلیق کو اس سے منسوب کرنا صحیح نہیں ہے۔ بوجین سکوٹ، جو نیشنل سینٹر فار سائنس ایجوکیشن کے محقق ہیں، کہتے ہیں: "ہم کسی کلّی خدا کو ٹیسٹ ٹیوب میں نہیں رکھ سکتے" (القضية الخالق، صفحہ 24)۔ ان سے پہلے اسٹورٹ مل نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا: " خدا  اور مذہب پر ایمان " جس میں انہوں نے کہا: "خدا کا جدید دنیا میں کوئی مقام نہیں ہے، کیونکہ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ الٰہیت کے تصور کو تجربے کے تحت لا سکے" (الإلحاد في الغرب، رمسيس عوض، صفحہ 206)۔

سائنس کی حدود

لیکن ٹھہریں. کیا واقعی سائنس خدا کے وجود کو ثابت یا نفی کر سکتی ہے؟ اور اس سے پہلے، یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ان کے نزیک سائنس سے مراد کیا ہے؟

جب تک ہم سائنس کی تعریف اور مفہوم کو نہیں سمجھتے، ہم اس کی حدود اور دائرہ کار کا تعین نہیں کر سکتے، اور اس کے بغیر ہم یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکتے کہ سائنس کسی چیز کو ثابت یا رد کر سکتی ہے یا نہیں۔

جدید اصطلاح میں سائنس سے مراد وہ معلومات ہیں جو حس اور تجربے کے ذریعے ثابت کی جا سکتی ہیں۔ جو چیزیں تجربے اور مشاہدے کے ذریعے پرکھی اور ناپی نہیں جا سکتیں، وہ علم کی حدود سے باہر ہیں۔ اس بنیاد پر سائنس صرف محسوسات (مادی چیزوں) تک محدود ہوتا ہے اور ان سے تجاوز نہیں کر سکتا۔خدا کے وجود کا سوال فلسفیانہ اور عقیدتی ہے، اور سائنس اس کا براہ راست جواب نہیں دے سکتی۔ سائنس قدرتی مظاہر اور ان کے قوانین سے نمٹتی ہے، اور تجرباتی شواہد پر مبنی وضاحتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جبکہ خدا کے وجود یا عدم وجود جیسے مسائل تجربے اور آزمائش کے تابع نہیں ہیں، اس لیے صحیح سائنسی طریقہ کار یہ ہے کہ اسے سائنسی تجرباتی طریقے سے نہ ثابت کیا جائے اور نہ ہی نفی کیا جائے، کیونکہ یہ اس کے دائرے سے باہر ہے۔

علمی محاکمہ

اس اہم اور مرکزی  نقطہ کی تصدیق کرنے اور ڈاکنز کے مغالطے کو بے نقاب کرنے کے لیے، دنیا کی سب سے اہم علمی تنظیم یعنی امریکن اکیڈمی آف سائنس سے رجوع کرنا ضروری ہے، جو اس تنازعے کا فیصلہ کرتی ہے۔ وہ  کہتی ہے کہ : "سائنس قدرتی دنیا کے بارے میں علم کا ذریعہ ہے، اور یہ قدرتی دنیا کی وضاحت صرف قدرتی اسباب کے ذریعے کرتی ہے، لہذا سائنس مافوق الفطرت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی، خدا کے وجود یا عدم وجود کا مسئلہ سائنس کے لیے غیر جانبدارانہ  ہے۔" (خدا نے کون پیدا کیا، ایڈگار انڈورز، صفحہ 70)۔

اس مطلب  کو بڑے سائنسدانوں نے بھی بیان کیا ہے، جن میں سٹیفن جے گولڈ بھی شامل ہیں، جو کہتے ہیں: "سائنس اپنے محدود طریقوں سے خدا کے وجود کے مسئلے پر حتمی فیصلے نہیں کر سکتی ،  نہ ہی اسکی تصدیق کرسکتی ہے   اورنہ انکار، اور بطور سائنسدان ہم اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔" (سائنس اور خدا کا وجود، جان لینکس، صفحہ 160)۔

باالفاظ دیگر، یہاں سائنس کا مطلب ہے کہ وہ ظواہر پر کس طرح وقوع پذیر ہوتی ہیں؟ اس پر گفتگو کرتی ہے۔ لیکن جیسے کہ " یہ ظواہر کس نے پیدا کیا ہے"  اور "کیوں پیدا کیا ہے؟" جیسے سوالات سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہیں، اور ان سوالوں کے جوابات کے لیے دیگر علمی میدان جیسے مذہب اور فلسفے کی ضرورت ہے۔ نوبل انعام یافتہ سر پیٹر میڈاوار اپنی کتاب "ایک نوجوان سائنسدان کو نصیحت" میں اسی نقطہ کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہتا ہے کہ : "سائنس کی حدود کا وجود واضح ہے اس کے عجز سے کہ وہ ابتدائی اور آخری چیزوں کے سوالات کا جواب دے سکے، جیسے: 'سب کچھ کیسے شروع ہوا؟' یا 'ہم یہاں کیوں ہیں؟'، 'زندگی کا مقصد کیا ہے؟'.وہ کہتا ہے کہ  ہمیں ان سوالات کے جوابات کے لیے تخیلاتی ادب اور مذہب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔" (Hannah Devlin. Hawking: God Did Not Greate The Universe. 12 Sep 2010.

فرانسس کولنز جوکہ جینوم انسٹیٹیوٹ کا ڈائریکٹر ہے وہ  کہتا ہے کہ  : "سائنس 'کائنات کے وجود میں آنے کی وجہ کیا ہے؟'، 'انسانی وجود کا مطلب کیا ہے؟'، 'مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟' جیسے سوالات کے جوابات دینے کے قابل نہیں ہے۔" (جان لینکس کے مضبوط دلائل، صفحہ 70)۔

آسٹن فاور لکھتے ہیں: "ہر سائنس دنیا کی چیزوں کےمحض  ایک پہلو کو منتخب کرتی ہے اور ہمیں دیکھاتی ہے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے، اور جو چیز اس کے دائرہ کار سے باہر ہے وہ اس سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اور چونکہ خدا اس دنیا کا حصہ نہیں ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی مظہر ہے، خالق کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے ـ چاہے وہ کتنا بھی صحیح ہو ـ وہ کسی بھی قسم کے علوم سے متعلق نہیں ہو سکتا۔" ( Fan 1997. P. 26ـ/ Is science a religion? The Humanist. Jan 

یہ صورتحال مجھے ایک کہانی کی یاد دلاتی ہے جو میں نے بہت پہلے ایک مضمون کے آغاز میں لکھی تھی، یہ ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے  جس نے ایک کارکن کو میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے ریت کے نیچے دھاتیں تلاش کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ اس آلے کی درستگی اور زیر زمین دفن معدنیات کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت پر حیران رہ گیا۔

چنانچہ اس نے وہی مشین لی اور اسی مشین کو استعمال کرتے ہوئے زمین کے اندر دبی پلاسٹک اور لکڑی کی چیزوں کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ جب اسے کچھ نہیں ملا تو اس نے کہا: "اس ساحل پر کوئی لکڑی یا پلاسٹک نہیں ہے کیونکہ میں نے یہ مشین استعمال کی ہے، جس نے اپنی قابلیت  اور اہلیت سے یہ ثابت کیا ، کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہے اور مجھے کچھ نہیں ملا۔"

ایسا لگتا ہے کہ اس شخص نے اس آلے کو غیر متعلقہ موضوع کے لیے استعمال کرکے بڑی غلطی کی ہے۔

دیکھیں یہ بندہ اس مشین سے اور بھی متاثر ہوا اور کہا: یہاں کوئی لکڑی یا پلاسٹک موجود نہیں ہے، کیونکہ میں جب بھی اس مشین کو استعمال کرتا ہوں، مجھے کچھ نہیں ملتا،  اور میں اس کے سوا کسی چیز پر یقین نہیں کرتا!"

اس شخص کی غلطی ان آلات پر اعتماد کرنے میں نہیں تھی جو معدنیات کا پتہ لگانے میں کامیاب رہے،  بلکہ اس کی غلطی یہ تھی  کہ اس نے علم کا واحد ذریعہ ان آلات تک محدود رکھا، یہ آلہ، اگرچہ اپنے میدان میں مؤثر ہے، لیکن دنیا کی ہر چیز کا پتہ نہیں لگاتا۔

ریچرڈ ڈاکنز اور ان جیسے دیگر افراد اپنے تجرباتی علم کے شوق میں یہی غلطی کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ وہ صرف وہی مانیں گے جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اور ان کے لیے سائنسی تجربہ  ہی حقیقت کو دریافت کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ یہ لوگ تجرباتی علم کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں اور اس کے کردار کو غلط سمجھتے ہیں، جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں۔

در حقیقت، ڈاکنز ایک حیاتیات کے ماہر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ انہیں فلسفیانہ مسائل پر رائے دینے کا اہل نہیں بناتی، خاص طور پر  ان کے  وہ خیالات جو ان کے مباحثوں اور شہرت کی بنیاد بنی  ہیں، وہ حیاتیاتی مسائل نہیں ہیں بلکہ فلسفیانہ نوعیت کے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں: ہم ڈاکنز سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ عقلی دلیل کی حجیت پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں، اگر وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں، تو عقلی دلیل واضح طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یورپ کے بڑے فلاسفرز کی اکثریت خدا کے وجود پر ایمان رکھتی  ہے، جیسا کہ معاصر فلسفی ایڈورڈ فیسر نے اشارہ کیا ہے: "آدمی کو 'نئے ملحدین' کی کتابوں میں مغرب کی تہذیب کی تاریخ کے عظیم فلاسفرز ـ جیسے ڈیکارٹ، لیبنیز، لاک، برکلے، بوئل، نیوٹن وغیرہ ـ کا کوئی ذکر نہیں ملتا، کہ وہ خالصتاً عقلی دلائل کی بنیاد پر خدا کے وجود پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ بلکہ آدمی دیکھتا ہے کہ وہ ـ ملحدین ـ اپنے قارئین کو ان فلسفیانہ مسائل کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے جو ان کے سائنسی نظریے (کہ تجرباتی سائنس واحد عقلی ذریعہ ہے) کے لیے بڑے مسائل ہیں... اور فلاسفرز کے بارے میں عام طور پر جو تصویر پیش کی جاتی ہے کہ وہ انتہا پسند مشکوک ہیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ غلط ہے، کیونکہ خدا کے وجود کو عقلی طور پر ثابت کرنے کا نظریہ فلاسفرز میں بڑے پیمانے پر مقبول ہے، اگر یہ غالب نظریہ نہ ہو۔" (الخرافة الأخيرة، صفحہ 44-45)

اگر ڈاکنز عقلی دلیل پر یقین نہیں رکھتے اور صرف تجرباتی سائنس کے نتائج پر انحصار کرتے ہیں، تو یہ دعویٰ (کہ تجرباتی سائنس واحد علم کا ذریعہ ہے) خود ایک فلسفیانہ مسئلہ ہے جسے سائنس سے ثابت نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس پر عقلی دلیل سے ہی استدلال کرنا پڑے گا۔ "سائنسی یا وضاحتی (تجرباتی سائنس کو علم کا واحد ذریعہ ماننے کی پوزیشن) بذات خود ایک فلسفیانہ موقف ہے، نہ کہ کچھ اور۔" (الخرافة الأخيرة، صفحہ 188) لہذا یہ نقطہ نظر (سائنسی یا وضاحتی) خود متضاد ہے۔

اپلائیڈ فزکس کے پروفیسر جارج ہربرٹ لونٹ بھی ان سائنسدانوں میں شامل ہیں جو سائنس کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں کے تضادات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ تفصیل سے کہتے ہیں: "جیومیٹری کے علم میں یہ معروف ہے کہ ہم چند بنیادی مفروضات پر بہت سی نظریات کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ (بنیادی مفروضات سے مراد وہ امور ہیں جو جانچ اور تجربے کے بغیر قبول کیے جاتے ہیں) یا وہ مفروضات جنہیں ہم بغیر کسی بحث یا دلیل کے درست مان لیتے ہیں۔ سائنسدان سب سے پہلے ان مفروضات کو قبول کرتے ہیں اور پھر ان کے نتائج اور مضمرات کی پیروی کرتے ہیں۔ جب کسی نظریے کو ثابت کیا جاتا ہے تو اس کا ثبوت آخرکار ان بنیادی مفروضات پر منحصر ہوتا ہے، تاہم، تمام نظریات مل کر بھی کسی بنیادی مفروضے کی صحت پر دلیل فراہم نہیں کر سکتیں۔ ہم ان مفروضات کی صحت کو ان کے استعمال کے نتائج اور مشاہدات کی بنیاد پر جانچ سکتے ہیں۔

نظریات کی صحت یا ان کے اور حقیقت کے درمیان تضاد نہ ہونا کسی مفروضے کی صحت کی مکمل دلیل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ان مفروضات کو قبولیت اور ایمان کی بنیاد پر مانتے ہیں، لیکن یہ قبولیت اور ایمان اندھا نہیں ہے۔

اسی طرح خدا کے وجود کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس کا وجود فلسفیانہ طور پر بدیہی ہے۔ چیزوں کے ذریعے خدا کے وجود کا استدلال، جیسے جیومیٹری میں ہوتا ہے، بدیہیات کو ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ان بدیہیات اور مشاہدات کے درمیان اتفاق ہو تو یہ اس بدیہی کی صحت کی دلیل ہے۔ اس طرح خدا کے وجود کا استدلال اس بات پر منحصر ہے کہ جو توقعات ہم رکھتے ہیں اگر خدا ہے تو ان کا مشاہدات کے ساتھ مطابقت ہونا۔یہ استدلال کمزور ایمان کی نشاندہی نہیں کرتا، بلکہ یہ فکری بنیادوں پر قبولیت کی علامت ہے، جو اندھے تسلیم کی بجائے حقیقت پر مبنی ہے۔" (اللہ يتجلى في عصر العلم، صفحہ 185)

بروفیسر اے۔ ای۔ مانڈر کہتے ہیں: "جو حقائق ہم براہ راست جانتے ہیں انہیں محسوس حقائق کہا جاتا ہے، لیکن جو حقائق ہم جانتے ہیں وہ صرف محسوس حقائق تک محدود نہیں ہیں۔ اور بھی بہت سی حقائق ہیں جنہیں ہم نے براہ راست نہیں جانا، مگر ہم نے انہیں دریافت کیا ہے۔ ہماری اس دریافت کا ذریعہ استنباط ہے۔ اس قسم کی حقائق کو ہم مستنبط حقائق کہتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ دونوں حقائق میں کوئی فرق نہیں ہے، فرق صرف اس بات میں ہے کہ پہلی حقیقت کو ہم براہ راست جانتے ہیں اور دوسری کو واسطے سے۔ حقیقت ہمیشہ حقیقت ہی رہتی ہے، چاہے ہم اسے براہ راست جانیں یا استنباط کے ذریعے۔ ... کائنات کی بہت سی حقائق کو حواس براہ راست نہیں جان سکتے، تو پھر ہم ان کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں؟ ... اس کا ایک ذریعہ استنباط یا تعلیل ہے۔ دونوں ہی فکری طریقے ہیں، جنہیں ہم معلوم حقائق سے شروع کرتے ہیں اور ایک نظریہ پر پہنچتے ہیں: 'یہ چیز یہاں موجود ہے حالانکہ ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا'." (A.E. Mander Clearer Thinking, p. 46).

دوسری بات یہ ہے کہ بیرونی  اشیاء کے وجود  کی اثبات کے طریقے صرف حسی ادراک اور تجربے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کا ثبوت ان کے آثار اور افعال کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ بہت سی ایسی حقائق بھی ہیں کہ  جن پر تجرباتی سائنسدان ایمان رکھتے ہیں اور اپنی دریافتوں کی بنیاد رکھتے ہیں،لیکں وہ حسی ادراک اور تجربے کے ذریعے ثابت نہیں کی جاتیں۔ بایوکیمسٹری کے ماہر وین اولٹ اس تضاد کو بیان کرتے ہیں جو خدا کے وجود کو اس بنیاد پر انکار کرتے ہیں کہ اس کا وجود تجرباتی سائنسی طریقے کے تحت نہیں آتا: "سائنسدان کچھ فرضی تصورات کو درست تسلیم کرتے ہیں، جن کا حسی ادراک ممکن نہیں ہے۔ کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے پروٹون یا الیکٹران کو دیکھا ہے، لیکن لوگ ان کے آثار کو محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح ذرات کے ساخت اور خواص کے بارے میں، اور دور دراز کے اجرام فلکی کی تشکیل کے بارے میں نظریات اور مفروضات کو بھی براہ راست تجربات کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سی معلومات جن کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور جن کی سچائی پر وہ یقین رکھتا ہے، اسے قبول اور ایمان لانا پڑتا ہے، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ایمان اندھا ہوتا ہے۔ یہ ایمان اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اسے مختلف موضوعات میں آزمایا جائے، جس سے یہ اور بھی مضبوط ہوتا ہے اور انسان کو خدا کے وجود کے تصور پر اسی طرح کا ایمان رکھ سکتا ہے(الله يتجلى في عصر العلم، تحرير جون كلوفرمونسيما، 136)

آخری بات یہ ہے کہ سائنس کا مقصد خدا کے وجود کو ثابت یا رد کرنا نہیں ہے، بلکہ قدرتی دنیا کو سمجھنا اور شواہد و تجربات کی بنیاد پر مظاہر کی وضاحت کرنا ہے۔جبکہ  ایمان اور روحانیت کے معاملات فلسفہ، مذہب اور ذاتی تجربات کے دائرے میں آتے ہیں۔

شیخ مقداد الربیعی

شیئر: