واپس
فکری دہشت گردی کا نفسیاتی مطالعہ

فکری دہشت گردی کا نفسیاتی مطالعہ

فکری دہشت گردی  کا نفسیاتی مطالعہ الشيخ معتصم السيد أحمد فکری دہشت گردی" کی اصطلاح جدید دور کے ان اصطلاحات میں سے ایک ہے جو ثقافتی اور میڈیا کے حلقوں میں کثرت سے سننے میں آتی ہیں۔ یہ اصطلاح دیگر تصورات ، جیسے آزادی، حقوق، اور جمہوریت کے ساتھ استعمال ہوتی ہے، جن کا مقصد انسانی حقوق اور فکری و شہری مس...

فکری دہشت گردی  کا نفسیاتی مطالعہ

الشيخ معتصم السيد أحمد

فکری دہشت گردی" کی اصطلاح جدید دور کے ان اصطلاحات میں سے ایک ہے جو ثقافتی اور میڈیا کے حلقوں میں کثرت سے سننے میں آتی ہیں۔ یہ اصطلاح دیگر تصورات ، جیسے آزادی، حقوق، اور جمہوریت کے ساتھ استعمال ہوتی ہے، جن کا مقصد انسانی حقوق اور فکری و شہری مساوات کو فروغ دینا ہے۔ اس نقطہ نظر سے، اس اصطلاح کو ایک رہنمائی اور تربیتی دائرے میں دیکھا جاسکتا ہے، لہذا اس کا مقصد نہ تو کسی علمی نظریے کی تشکیل ہے اور نہ ہی کسی فلسفیانہ اصول کی بنیاد، بلکہ یہ ایک خاص انسانی رویے کا تجزیہ ہے۔ یہ اصطلاح ایک منفی اخلاقی خصوصیت کی عکاسی کرتی ہے جو مختلف انسانی معاشروں میں پائی جاتی ہیں،خواہ وہ مذہبی میدان ہو یا سیاسی ہو یا سماجی۔

لفظ "دہشت گردی" اور "فکری" کا باہمی تعلق ایک منفی رشتہ کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ آزادی، فکر کی بنیادی شرط ہے، جبکہ دہشت گردی اس آزادی پر حملہ ہے۔ لہٰذا، یہ اصطلاح ایک ایسے رویے پر تنقید کرتی ہے جو آزادانہ سوچ و فکری اقدار کے خلاف ہے۔ اگرچہ اصولی طور پر "دہشت گردی" اور" فکر" کے تعلق کوسبھی مسترد کرتے ہیں، لیکن یہ مظہر انسانی حقیقت میں موجود ہے، جو اس اصطلاح کو ایک ایسے رویے کی مذمت کا ذریعہ بناتا ہے جو پہلے ہی قابل اعتراض ہے، یہ کسی نئے نظرئے کا بیان نہیں ہے ۔اسی لیے "فکری دہشت گردی" کے حامیوں کی موجودگی یا اس کو مذہبی، ثقافتی یا سیاسی طور پر جائز قرار دینے کی کوشش ناقابل تصور ہے۔ یہ بات اس مسئلے کو نفسیاتی پہلو سے دیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اس سے پہلے کہ اسے فکری یا ثقافتی زاویے سے دیکھا جائے ۔

انسان اپنی فطری جبلت کے مطابق تسلط اور غلبے کی طرف مائل ہوتا ہے، اور اس کی خود غرضی اور مفادات کی اجارہ داری اسے ایسے خیالات کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے جو اس کے فوائد کو خطرے میں ڈالتے ہوں ۔ لہٰذا، فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ان نفسیاتی عوامل کو گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے جو اس رجحان کو بڑھاوا دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف فکری یا ثقافتی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جائے۔اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ نفسیاتی خواہشات "فکری دہشت گردی" کے بنیادی اسباب میں سے ہیں، تو صرف فکری اور ثقافتی حل اس مسئلے کو ختم کرنے یا اس کی جڑیں ختم کرنے میں مؤثر نہیں ہو گا ۔ یہ خیال اس مسئلے کو زیر بحث لانے والوں میں پائے جانے والے ان عام رجحانات کے خلاف ہے جن میں زیادہ تر توجہ فکری اور ثقافتی آزادی اور مساوی مواقع کی اہمیت پر دی جاتی ہے۔

اسی لئےہمارا خیال ہے کہ یہ نقطہ نظراس مسئلے کی حقیقی جڑ پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کرتا جو اس رجحان کو تقویت دیتا ہے۔ کیونکہ اصل مسئلہ انسان کے آزادی پر یقین رکھنے یا نہ رکھنے کا نہیں ہے، بلکہ ان کی بنیاد ان ذاتی مفادات میں ہے جو اسے آزادی کے اصولوں پر عمل کرنے سے روکتی ہیں ۔ اسی تناظر میں، ہمارا مقصد اس مضمون میں آزادی کے اصول کو بنیاد فراہم کرنا یا فکری اور ثقافتی طور پر فکری دہشت گردی" کی مذمت کرنا نہیں ہے، کیونکہ فکری دہشت گردی خود ایسی چیز ہے کہ جسے سبھی ناپسند اور مسترد کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارا مقصد ان نفسیاتی عوامل کو بے نقاب کرنا ہے جو اس رجحان کو انسانی معاشروں میں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

فکری دہشت گردی کا تصور:

فکری دہشت گردی دوسروں کے نظرئے کا احترام نہ کرنے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ، اور اس کی مختلف شکلیں ہوتی  ہیں۔یہ رویہ ہنسی مذاق اور نظرانداز کرنے سے شروع ہوتا ہے اور جسمانی یا نفسیاتی تشدد تک جا پہنچتا ہے تاکہ اس مخالف نظریے کو دبایا جا سکے یا چھین لیا جائے۔ویکیپیڈیاکی تعریف کے مطابق، فکری دہشت گردی "ایک ایسی نظریاتی شکل ہے جو دوسرے فرد کے آزادی اظہار اور عقیدے کے حق کو تسلیم نہیں کرتی، اور خیالات کو محدود کرتی ہے اس بنیاد پر کہ وہ کسی مخصوص ثقافت، مسلک، یا عقیدے کے خلاف ہیں" ۔ اگرچہ یہ تعریف "فکری دہشت گردی" کے مظاہر کوتو درست طور پر بیان کرتی ہے، لیکن یہ اس رجحان کو نظریاتی محرکات سے جوڑتی ہے، جس سے اسے کسی حد تک جواز فراہم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نظریہ – چاہے وہ کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو – اپنے ماننے والوں کے نزدیک ایک جائز محرک کے طور پرپر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں، "فکری دہشت گردی" اپنی اصل میں ایک ایسا عمل ہے جو ہر حالت میں قابل مذمت ہے، کیونکہ یہ نفسیاتی انحراف سے پیدا ہوتا ہے جو نفس کی خود پسندی اور تکبر کو ظاہر کرتا ہے ۔

کسی شخص کا اپنے خیالات کو درست سمجھنا دوسروں کے خلاف "فکری دہشت گردی" کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر خیالات عقل پر مبنی ہوں اور منطقی دلائل سے تقویت یافتہ ہوں، تو وہ نہ تو گفتگو اور تحقیق کے دروازے بند کرتے ہیں اور نہ ہی حقیقت کی تلاش کو روکتے ہیں۔ بلکہ ایسے خیالات اپنے حامل کو ان پر تنقید اور نظرثانی کے ذریعے آزمانے کی ترغیب دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے انسان علمی اور فکری طور پر بلند ہوتا جاتا ہے، حقیقت کے سامنے اس کی عاجزی بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ دوسروں کے خیالات کو قبول کرنے کے لیے زیادہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ لیکن اگر یہ یقین، نفس کی خواہش اور تکبر پر مبنی ہو، تو یہ لازمی طور پر دوسروں کے سوچنے اور اظہار کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی طرف لے جاتا ہے ۔

لہٰذا، کسی مخصوص خیال کی برتری کے اعتقاد اصل مسئلہ نہیں ہے، جب تک کہ یہ اعتقاد علمی بنیادوں پر قائم ہو اور انسانی علم کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ کیونکہ علم کی فطرت ہی اجتماعی اور ارتقائی ہے، جو تصحیح اور ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اہل عقل ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر علم – چاہے وہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو – کسی نہ کسی حد تک غلطی کے امکان کا حامل ہوتا ہے۔اس فہم کے ذریعے ہم "فکری دہشت گردی" کے کسی بھی پوشیدہ جواز کو ختم کر سکتے ہیں اور اسے اس کی نفسیاتی جڑوں تک محدود کر سکتے ہیں، جو انسانی غرور اور اجارہ داری کے رجحان میں پائی جاتی ہیں، نہ کہ صرف خیالات کے اختلاف میں۔

اسی نقطہ نظر سے، میں فہد الطریسی کے فکری دہشت گردی کے اس تعریف سے متفق نہیں ہوں، جب وہ کہتے ہیں کہ: "ہر وہ عمل جو کسی مخصوص رائے کو مسلط کرنے یا دوسروں کو اس روئے پر مجبور کرنے کی کوشش کا حصہ ہو جسے اس عمل کو انجام دینے والا خود درست سمجھتا ہو وہ فکری دہشت گردی ہے۔"فکری دہشت گردی" چاہے وہ انفرادی ہو، سماجی ہو، سیاسی ہو یا میڈیا کے شعبے میں ہو، ہمیشہ طاقت کے منطق سے جنم لیتی ہے، نہ کہ منطق کی طاقت سے۔  یہ فرق واضح کرتا ہے کہ" فکری دہشت گردی" کسی مخلص یقین سے نہیں ابھرتی بلکہ غلبہ اور کنٹرول کے رجحان سے پیدا ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر، سیاسی طاقت کی آمریت، مذہبی گروہوں کی شدت پسندی، قبائلی تعصبات کا غلبہ، یا طبقاتی تفریق کو صرف سچائی کے مالک ہونے کے احساس سے نہیں جوڑا جا سکتا، بلکہ ان کا بنیادی سبب مفادات کو اجارہ داری کے ساتھ قابو میں رکھنے کی وہ نفسیات ہے کہ جن کے آثار مذکورہ بالا مظاہر کی شکل میں نظر آتے ہیں ۔ یہ نفسیات انسان کو دوسروں کے حقوق چھیننے پر مجبور کرتی ہے، چاہے اس کی نظریاتی وابستگی کچھ بھی ہو۔

اسی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فکری دہشت گردی درحقیقت ایک نفسیاتی کیفیت ہے جو انسان کے غلبے اور کنٹرول کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے مظاہر میں اپنی مخصوص سوچ کو دوسروں پر مسلط کرنا اور ان کے خیالات کو کسی بھی دستیاب ذریعے سے دبانا شامل ہے ۔

فکری دہشت گردی کا نفسیاتی تجزیہ

انسانی شخصیت کئی پیچیدہ عوامل پر مبنی ہوتی ہے، جن میں وراثت، تربیت، سماجی و سیاسی تعلقات اور ارد گرد کا ماحول شامل ہیں۔ اس لیے یہ فطری بات ہے کہ انسانوں کی شخصیت میں اختلاف پایا جائے۔ شخصیت ہی انسان کاخارجی حقائق کے ساتھ تعلق میں واسطے کا کردار ادا کرتی ہے اور اس کے فکری رجحانات اور رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ یہاں سے حب نفس یا پھر  قرآن کی زباں میں خواہشات نفسانی کا کردار نمایاں ہوتا ہے، جو انسان کی جانبداری اور غیر معروضیت کا بنیادی محرک بنتا ہے۔جب خواہشات انسان کی جہاں بینی پر غالب آجاتے ہیں، تو وہ اپنے اور دوسروں کے درمیان فرق دیکھنے کے قابل نہیں رہتا، بلکہ ہر چیز میں صرف اپنی ذات کو دیکھتا ہے۔ اس وقت دوسروں کے حقوق کو نظرانداز کرنا یا غصب کرنا ایک فطری عمل بن جاتا ہے، جو اس بے قابو خود پرستی کا نتیجہ ہوتا ہے۔اگرچہ طاقت کے ذریعے تسلط حاصل کرنا سب کے لیے ممکن نہیں ہوتا، لیکن یہ رجحان خاص طور پر ان افراد میں واضح ہوتا ہے جو سیاسی، عسکری، مالی، یا علاقائی طاقت رکھتے ہیں۔ جہاں تک دیگر طبقات کا تعلق ہے، وہ عام طور پر ایسے گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں جو نسل، مذہب، سیاست، یا مشترکہ مفادات کے روابط سے جڑے ہوتے ہیں، اور ان روابط کی بنیاد پر انہیں وہ طاقت حاصل ہو جاتی ہے جو انہیں اقلیت کے حقوق غصب کرنے کے قابل بناتی ہے ۔ یہ انسانی رویہ صرف ابتدائی معاشروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسے مہذب معاشروں اور جدید سیاسی نظاموں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام شہریوں کے حقوق میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے در اصل یہ خوف کار فرما ہوتا ہے کہ کوئی انتشار ان سیاسی اور مالی اشرافیہ کے مفادات کو خطرے میں نہ ڈال دیں ، لہذا یہ عدل و مساوات پر حقیقی یقین کی بنیاد پرقائم نہیں ہوتا ۔

اسی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حب ذات اکثر منفی نفسیاتی صفات کا بنیادی سبب ہے، جیسے تکبر، حسد، تعصب، اور نسل پرستی، اور یہی صفات "فکری دہشت گردی" کی قدرتی جڑیں ہیں۔ جب یہ صفات انسان کے نفس میں جڑ پکڑ لیتی ہیں، تو یہ اسے دوسروں کو خارج کرنے اور اپنے خیالات کو پرتشدد یا نرم طریقوں سے مسلط کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔چنانچہ "فکری دہشت گردی" انسان کی نرگسیت (خود پسندی) اورانسان پر ذات کے غیرمعمولی غلبے کا براہ راست نتیجہ ہے، اسے کسی معروضی حقیقت یا کسی حقیقی فکری اصول کے ساتھ اس شخص کےخلوص سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

اسلام اور فکری دہشت گردی

مندرجہ بالا حقائق سے یہ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی بھی فکر، عقیدہ، یا علمی تصور "فکری دہشت گردی" جیسے رجحان کو جواز فراہم نہیں کر سکتا۔ اس رجحان کا بعض مذہبی اور سیاسی رجحانات میں پایا جانا خود ان نظریات کی حقیقت سے نہیں بلکہ انسان کی ذات میں موجود "انا" اور طاقت کے حصول کی خواہش سے جڑا ہوا ہے۔ یہی حقیقت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کوئی مخصوص فکر یا عقیدہ اس "فکری دہشت گردی" کا ذمہ دار نہیں ہے۔

اسی بنیاد پر، ہم ان کوششوں کو مسترد کرتے ہیں جو دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں، اور ساتھ ہی ان شدت پسند گروہوں کو بھی مسترد کرتے ہیں جو اپنے دہشت گردانہ اقدامات کو اسلام کے نام پر جائز قرار دیتے ہیں ۔ بہت سی تحقیقات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ نفسیاتی پیچیدگیوں اور تربیتی انحرافات نوجوانوں کے شدت پسند گروہوں میں شمولیت کا بڑا سبب ہیں۔ لہٰذا، دہشت گردی، چاہے وہ فکری ہو یا خونریز، کے خاتمے کے لیے فکری علاج سے پہلے نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔اسلام، جو کہ ایک اخلاقی منصوبے کے طور پر انسانی نفس کی تطہیر اور تربیت پر زور دیتا ہے، اس رجحان کے خاتمے کے لیے سب سے مناسب حل پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم حاصل کرنے سے پہلے نفس کی تزکیہ کو لازمی قرار دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (يُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ) انہیں پاکیزہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے (سورۃ الجمعہ: 2)

اسلام انسان کو راستے پر چلنے کے لیے ان تمام رکاوٹوں سے چھٹکارا پانے کا حکم دیتا ہے جو اس کے ذہن پر بوجھ بن کر اس کی آزادی کو محدود کرتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ)  اور ان پر لدے ہوئے بوجھ اور (گلے کے) طوق اتارتے ہیں (الاعراف :157) , تکبر، غرور، حسد، خودغرضی، نسل پرستی اور تمام جاہلی رجحانات انسان کے لیے زنجیروں کی طرح ہیں جو اسے حقائق کو غیرجانبداری سے دیکھنے سے روکتی ہیں۔اس کے برعکس، اللہ کی توحید کا اقرار انسان کو توازن فراہم کرتا ہے، کیونکہ اللہ کے ساتھ تعلق انسان کو اس کے مخلوق کے ساتھ تعلق کا شعور دلاتا ہے، جو سب کے حقوق کی بنیاد بنتی ہے۔

اللہ نے ہمیں طاغوت کی عبادت اور ظالموں کے ساتھ میل جول سے بچنے کی تاکید کی تاکہ انسان اپنی خواہشات کی غلامی سے آزاد ہو سکے۔ اور اگرچہ اسلام حقیقت کا مطلق پیغام ہے، لیکن اس نے لوگوں کو ایمان لانے یا نہ لانے پر جبر نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ) پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے ۔ (الكهف :29)  اور اللہ نے فرمایا: (قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ) ۔ (هود :28)

(نوح نے) کہا: اے میری قوم! مجھے بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا ہے مگر وہ تمہیں نہ سوجھتی ہو تو کیا ہم تمہیں اس پر مجبور کر سکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت میں حکمت اور عمدہ نصیحت کا سہارا لیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: )ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ(۔ (اے رسول) حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان سے بہتر انداز میں بحث کریں، یقینا آپ کا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذمہ داری صرف پیغام رسانی اور حق کی یاد دہانی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (طَهَ مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَخْشَى) طہ ! ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں بلکہ یہ تو خوف رکھنے والوں کے لیے صرف ایک یاد دہانی ہے۔ (طه: 1تا3)اور فرمایا: (فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ)  پس آپ نصیحت کرتے رہیں کہ آپ فقط نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر مسلط نہیں ہیں . ( الغاشية :21. 22)

یہ آیات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسلام اپنے مخالفین کے خلاف فکری دہشت گردی کے عمل سے دور ہے۔ بلکہ قرآن نے مخالفین کے دلائل کو بیان کیا اور ان کو اسی تقدس کے ساتھ پیش کیا، جیسے باقی آیات وضو کے بغیر چھونا ممنوع ہے اسی طرح مخالفین کے دلائل پر مشتمل آیات بھی مسلمانوں کے لیے وضو کے بغیر چھونے کی اجازت نہیں، حالانکہ وہ مخالفین کے خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار سے خطاب کیا، تو انھوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ غلط ہیں، بلکہ فرمایا: (وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ۔) تو ہم اور تم میں سے کوئی ایک ہدایت پر یا صریح گمراہی میں ہے۔ (سبا : 24)۔پس، جو بھی منفی رویے، تشدد اور دہشت گردی بعض مسلمانوں کی طرف سے دوسروں کے خلاف کی گئی، وہ ان کے منحرف نفسیات کی عکاسی کرتی ہے، اور اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ یہ ایسی سرگرمیاں ہیں جو اسلام کے اصل مقصد کے خلاف ہیں۔

خلاصہ یہ کہ اسلام انسان کے حقِ اظہار رائے کو تسلیم کرتا ہے اور فکری آزادی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، وہ کسی بھی قسم کی فکری دہشت گردی کو کبھی بھی جائز نہیں قرار دیتا جو مخالف آراء کو دبانے یا دوسروں پر فکری اجارہ داری مسلط کرنے کی کوشش کرے۔ بلکہ اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ بات چیت اور سمجھوتہ انسانوں کے درمیان ہم آہنگی اور امن کے قیام کا بہترین طریقہ ہے، اورکوئی بھی ایسی کوشش جو ان اقدار کو کسی بھی نام سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، دراصل وہ دین کے پیغام کے خلاف ہے۔

شیئر: