واپس
حجاب: مذہبی فریضہ یا سماجی روایت؟

حجاب: مذہبی فریضہ یا سماجی روایت؟

الشيخ معتصم السيد احمد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے دانشور اور سماجی حلقوں نے حجاب کے مسئلے کو اس نقطہ نظر سے دیکھا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک سماجی مسئلہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ثقافت سے ہی مرد اور عورت کے لباس کی ظاہری شکل کا تعین ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ مذہب ہی انسان کے لباس کو متعین کرنے والا ہو۔ اس...

الشيخ معتصم السيد احمد

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے دانشور اور سماجی حلقوں نے حجاب کے مسئلے کو اس نقطہ نظر سے دیکھا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک سماجی مسئلہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ثقافت سے ہی مرد اور عورت کے لباس کی ظاہری شکل کا تعین ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ مذہب ہی انسان کے لباس کو متعین کرنے والا ہو۔ اس تناظر میں بنیادی بات یہ ہے کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ثقافتی ورثہ  لباس کے رسم و رواج کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہر قوم کی ایک خاص شناخت ہوتی ہے جس سے یہ قوم ممتاز ہوتی ہے ۔ہر قوم کے لباس، خوراک اور رہائش کے انداز سے اس کی ثقافت ظاہر ہوتی ہے، جو معاشروں میں اسے ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ یہ ثقافتی اثر و رسوخ صرف خواتین کے لباس تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ مرد کا لباس بھی اس میں شامل ہیں۔ سماج ایسے قوانین نافذ کرتا ہے جو مردو عورت  کی ظاہری شکل و صورت کے پہناوں کا تعین کرتے ہیں۔یہی سماجی قوانین مردوں کو عورتوں کا لباس پہننے سے روکتے ہیں اور عورتوں کو مردوں کا لباس پہننے سے منع کرتے ہیں۔ اسی لباس  کی وجہ سے مردو عورت کی ظاہری شکل کا تعین ہوتا ہے۔لباس سماجی شناخت کا اہم حصہ ہے اور ہر سماج میں لباس کے کردار کو باہر سے متعین کرنا کافی مشکل ہے۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ہم معاشرے میں ثقافت کے کردار کو تسلیم کریں تو حجاب کو بطور مذہبی فریضہ منسوخ ہی کر دیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لباس اسلامی نظام اخلاق کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔اس سے فرد اور معاشرہ دونوں کی پاکیزگی مطلوب ہے۔یہ صرف ثقافتی ورثہ نہیں بلکہ اس کی اہمیت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔

ہم ثقافتی ورثے کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں یہ واضح رہے کہ حجاب خواتین کی اپنی زینت اور دلکشی سے متصادم نہیں ہے۔ جو لوگ اسلام میں حجاب کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں گویا کہ یہ ایک مسئلہ ہے،وہ خاص قسم کا کوئی پردوہ مراد لے لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں واضح فرق ہے، کیونکہ پردہ کی ضرورت کا تعلق فطری اور مذہبی پہلو سے ہے، جب کہ چادر کیسی ہو گی؟ اس کی شکل و صورت ثقافتی اور معاشرتی معیارات کے تابع ہے۔ اس الجھن سے بچنے کے لیے، ہر ایک پہلو پر الگ الگ بحث کی جانی چاہیے تاکہ ان کے درمیان تعلق اور ان اختلافات کو واضح کیا جا سکے جو ایک کو دوسرے سے الگ  کرتے ہیں۔

ڈھانپنے کی ضرورت: لباس کی شکل اور قسم کے بارے میں بات کرنا ہمیشہ ایک بنیادی اصول کو تسلیم کرنے کے بعد آتا ہے، انسان میں ایسے اعضاء کی موجودگی ہے جسے ڈھانپنا ضروری ہے۔ جب سے انسان روئے زمین پر آیا ہے، اس کے اندر اپنی شرمگاہ کو ڈھانپنے کی فطری خواہش  موجود رہی ہے۔ایک دو دن کی بات نہیں یہ رویہ پوری تاریخ سے جڑا ہوا ہےمحض اتفاق یا عارضی سماجی حالات کی پیداوار نہیں ہو سکتا۔یہ باطنی رہنمائی یا پیدائشی اور ذہنی محرک کی موجودگی کا واضح ثبوت ہے جو انسان کو اس طرز عمل کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابتداء سے لے کر اب تک مختلف ادوار میں انسانیت کو اپنی شرمگاہ کو ڈھانپنے کی ضرورت کی رہنمائی کس نے کی ہے؟

عقلی اور فطری مقصد ہی انسان کی شرمگاہ کو ڈھانپنے کی ضرورت کو ثابت  کرتا ہے، لیکن اس میں مردوں اور عورتوں کے لیے پردہ کرنے کی مقدار کے بارے میں اختلاف کی گنجائش باقی ہے۔ یہاں مذہب اپنے اخلاقی اور سماجی احکامات کے مطابق اس کی مقدار کے تعین میں رہنمائی کرتا ہے۔ مذہبی تعلیمات سے ہٹ کر، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات عام فہم اور عقل میں آتی ہے کہ اکثر لوگ کم از کم شرمگاہ کو چھپاکر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ قدیم معاشروں میں ہوتا تھاجو صرف انتہائی قریبی حصوں کو ڈھانپنے تک محدود تھے۔

مذہب عورت کی شرمگاہ کو ایک عیب کے طور پر نہیں دیکھتا جس پر پردہ ڈالنا ضروری ہے کیونکہ یہ عقل بلکہ عقل  محض کا خیال ہے۔ مذہب اسے الہی انسانی منصوبے میں ایک لازمی عنصر کے طور پر دیکھتا ہے جو معاشرے کی سالمیت اور آگے بڑھانے میں اہم ہے۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے مرد کی شرمگاہ اور عورت کی شرمگاہ کے درمیان فرق کیا ہے۔ مرد کے لیے شرمگاہ کو ڈھانپنا ہی کافی قرار دیا جب کہ عورت کے لیے یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے پورے جسم کو ڈھانپے۔ اس تفریق کی وجہ صرف فطرت میں نہیں ہے بلکہ عورت کے جسم کی خاصیت بھی  ہے جو مرد کی نگاہوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

اس نقطہ نظر سے،شارع مقدس نے عورتوں کو اپنے جسم کو ڈھانپنے کا حکم دیا، اس سے نہ صرف انہیں لالچی لوگوں کی نظروں سے بچایا  بلکہ معاشرے کی پاکیزگی اور عفت کو بھی برقرار رکھنے کا بھی بہترین انتظام فرما دیا۔ اس طرح ہم اسلام میں حجاب کے فلسفے کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ یہ خواتین کی عزت کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی ستون  ہے۔ دوسرا معاشرے کی سلامتی اور سالمیت کو یقینی بناتا ہے۔ یہاں سے اسلامی تحقیق شروع ہوتی ہے جو ایک جامع اخلاقی نظام کے حصے کے طور پر حجاب کے واجب ہونے کا بتاتی ہے جس کا مقصد انفرادی آزادی اور معاشرے کے مفاد کے درمیان توازن قائم  کرنا ہے۔

جب قرآن کریم میں حجاب کے متعلق آیات پر غور کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں ستر کے موضوع کو اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ شرمگاہ کو ڈھانپنا ایک ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ فطرت اور عقل سے کیا جاتا ہے اس کے لیے کسی نئی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا، آیات ایک اور مسئلے پر توجہ مرکوز کرواتی ہیں جسے مذہب ضروری سمجھتا ہے، جو کہ زینت کا موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

) وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ (نور ۳۱ )

۳۱۔ "اور اپنی زیبائش (کی جگہوں) کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے خود ظاہر ہو اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اپنے شوہروں، آبا، شوہر کے آبا، اپنے بیٹوں، شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، بھائیوں کے بیٹوں، بہنوں کے بیٹوں"۔یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو اپنی زینت کو ڈھانپنے کا پابند کیا ہے اور ان کو ظاہر نہیں کیا  جائے گاسوائے ان کے جن کی اس آیت میں اجازت دی گئی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ مذہب نے ان تمام پہلووں کی طرف رہنمائی کی ہے جن کی وجہ سے سماجی تعلقات متاثر ہو سکتے تھے اور باہمی لڑائی جھگڑے تک بات پہنچنی تھی اور اس کی جڑ زینت تھی۔

اس نقطہ نظر سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کو کن چیزوں کا  خیال رکھنا چاہیے،حجاب کے تعین میں اسلام کی رہنمائی بہت ضروری ہے۔حجاب کے معاملے میں صرف معاشرتی رسم و رواج یا ثقافت پر انحصار کرنا ان اخلاقی اقدار کو نظرانداز کرنے کا باعث بن سکتا ہے جن کو اسلام فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب معاشرتی اصول وقت کے ساتھ ساتھ بدل سکتے ہیں اور مختلف ماحول کے درمیان مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسلام ایک تہذیبی پروگرام رکھتا ہے جس کے اعلیٰ اخلاقی مقاصد ہیں جن کے مطابق انسان اور معاشرے کی تعمیر کرنی ہے۔ اسلام صرف رسم و رواج پر مبنی روایتی زندگی کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ اس زندگی میں اپنے وجود کے اعلیٰ ترین مقصد کے حصول کے لیے افراد کی رہنمائی کے لیے کام کرتا ہے۔

مندرجہ بالا بحث  سے یہ بات واضح ہے کہ اسلام کا  حکم زینت کی مقدار کا تعین کرنے پر مرکوز ہے جس کو معین کرنا بہت ہی ضروری  تھا۔ زینت کو حاصل کرنے کے طریقے اور دیگر تفصیلات کو رواج اور اس کے بارے میں عقلاء  کے نقطہ نظر پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یعنی اسلام نے حجاب کی کسی خاص شکل یا پردہ پوشی کے لیے کسی خاص ذریعہ کو نافذ نہیں کیا، اسے لچکدار اور زمان و مکان میں ہونے والی پیشرفت کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ صرف یہ شرط رکھی ہے کہ یہ شریعت کی طرف سے متعین حجاب کی بنیادی مقدار پر عمل کرے اور یہ کہ اپنے آپ میں زینت نہ ہو۔ اس طرح اسلام نے ایک توازن قائم کیا ہے کہ وقت اور حالات کے مطابق جیسا مرضی حجاب کر لیں اصل حکمت اسلامی قانون نے بیان کر دی وہ حاصل ہونی چاہیے۔

دوسرا: عورت اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیے جو لباس استعمال کرتی ہے اس کی قسم اور شکل کا تعین کرنے میں رسم و رواج اور معاشرت کا اظہار ہوتا ہے اور اس سلسلے میں اسلام میں اختلاف نہیں ہے، بلکہ اسلام نے اکثر شریعت کے موضوعات کا تعین کرنے کا اختیار دیا ہے۔ تاہم، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سماجی ثقافت کو کسی مذہبی رہنمائی کے بغیر خواتین کے لباس کا تعین کرنے کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار کے طور پر اختیار کر لیاجاتا ہے اور یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو واضح طور پر غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اس غلط فہمی کی نوعیت کو ہم ایک اور طرح سے درست انداز میں سمجھ سکتے ہیں کہ لباس کس قسم  کا ہو؟اس کی تعیین میں رواج کا کردار ہوتا ہے۔ اسلام نے اس لباس کا رنگ و جنس کے تعین کرنے میں رواج سے اختلاف نہیں کیا کہ عورت کو  کس شکل یا قسم کے  لباس کو پہننا چاہیے۔اسلام نے  ایک واضح شرط رکھی گئی ہے جس میں اس کے جسم کے اس حصے کی وضاحت کی گئی ہے جسے اس کے اخلاق کے مطابق ڈھانپنا ضروری ہے۔ اسلام میں عورتیں جو چاہیں لباس انتخاب کرنے میں آزاد ہیں، بشرطیکہ اس لباس سے دو مقاصد حاصل ہوں: یہ کہ یہ شریعت کے مطابق ضروری زینت کا احاطہ کرے اور یہ کہ اس کا لباس بذات خود کوئی ایسی زینت نہ ہو جو توجہ مبذول کرے۔ جو کہ غیر اخلاقی ہو یا حجاب کے  قانون کے مقاصد سے متصادم ہو۔

حجاب میں چھپانے کی کم از کم حد  کا تعین کرنا اور اس کی  مقدار کو معین کرنا اسلامی قانونِ حجاب کا فطری حق ہے اور تمام قانونی نظاموں میں قانون سازی کے وقت ایسا ہی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر فرانسیسی قانون سازوں  کا خیال ہے کہ اسے خواتین کو حجاب پہننے سے روکنے کے لیے اس بنیاد پر قانون بنانے کا حق حاصل ہے کہ یہ اس کے سیکولر منصوبے سے متصادم ہے، تو اسلام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اخلاقی اور جزو کے طور پر حجاب پر قانون سازی کرے۔

جس طرح فرانسیسی قانون ساز لباس کے معاملے میں قابل قبول یا ناقابل قبول چیز کا تعین کرنے میں معاشرتی ثقافت کی نافذ کردہ اقدار اور رسوم سے مطمئن نہیں تھا، اسی طرح شارع اس بات سے مطمئن نہیں تھا کہ صرف معاشرتی ثقافت کوحجاب کی تعیین میں بنیادقرار دیا جائے۔ یہ مماثلت ظاہر کرتی ہے کہ لباس کی بنیادی حدود کے تعین میں مذہب کی مداخلت رسم و رواج کے کردار کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ اس کی تکمیل کرتی ہے۔مذہبی اقدار اور سماجی حقائق کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بناتی ہے۔

آخر میں، اس سوال کا جواب: کیا حجاب ایک مذہبی فریضہ ہے یا ایک سماجی روایت؟ ایک طرف کو ثابت کرنے اور دوسرے کو جھٹلانے سے  کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا کیونکہ حجاب  بذات خود دونوں جہتیں رکھتا ہے۔ حجاب کی شکل اور اسے پہننے کا طریقہ بنیادی طور پر سماجی ورثے سے مشروط ہے، جو ہر معاشرے میں رائج رواج اور روایات کے مطابق لباس کی قسم اور انداز کا تعین کرتا ہے۔ جہاں تک  ستر کا تعلق ہے یہ ایک مذہبی فریضہ ہے جو رسم و رواج کے طول و عرض سے بالاتر ہے اور یہ الہی قانون سازی پر مبنی ہے جو اسلامی قدر  کے اندر ہو گا، اسلام  اس کی  حدود کو متعین کرتا ہے۔اس کے ذریعے اخلاقی اور سماجی مقاصد کو حاصل کیا جاتا ہے۔

شیئر: