واپس
اسلامی دنیا کی پسماندگی اور مغرب کی ترقی: کیا ترقی کا راز سیکولرازم میں پوشیدہ ہے؟

اسلامی دنیا کی پسماندگی اور مغرب کی ترقی: کیا ترقی کا راز سیکولرازم میں پوشیدہ ہے؟

تحریر: شیخ معتصم سید احمد ایک طویل عرصے سے سیکولرازم اور اسلامی دنیا کی پسماندگی وسیع پیمانے پر اہم فکری مباحثے کا مرکزی موضوع رہی ہے۔ اور  اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اسلامی دنیا میں سیکولرازم کی عدم موجودگی ہی اس کی مختلف شعبوں میں پسماندگی کی بنیادی وجہ ہے۔ لیکن در حقیقت  یہ نقطۂ نظر ان گہرے اور پ...

تحریر: شیخ معتصم سید احمد

ایک طویل عرصے سے سیکولرازم اور اسلامی دنیا کی پسماندگی وسیع پیمانے پر اہم فکری مباحثے کا مرکزی موضوع رہی ہے۔ اور  اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اسلامی دنیا میں سیکولرازم کی عدم موجودگی ہی اس کی مختلف شعبوں میں پسماندگی کی بنیادی وجہ ہے۔ لیکن در حقیقت  یہ نقطۂ نظر ان گہرے اور پیچیدہ عوامل کو نظر انداز کرتا ہے جنہوں نے اسلامی دنیا کی تہذیبی حقیقت پر دیرپا اثر ڈالا ہے۔اگر ہم مغربی دنیا کی ترقی کے عوامل پر غور کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ سیکولرازم نہ تو اس کی ترقی کی  واحد وجہ ہے اور نہ ہی شاید سب سے اہم۔ جدید مغربی تہذیب کا ارتقاء ایک طویل اور پیچیدہ عمل کا نتیجہ ہے، جو چودہویں صدی سے سترہویں صدی کے دوران یورپ میں بڑے پیمانے پر سماجی، فکری اور تہذیبی تبدیلیوں کے ذریعے ممکن ہوا۔ ان تبدیلیوں میں ایک اہم پہلو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرنا تھا، لیکن ترقی کا یہ سفر صرف اسی پر منحصر نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ، فکری آزادی، علمی ترقی، اور سماجی و ثقافتی نظریات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جنہوں نے معاشرتی ڈھانچے کو نئی شکل دی۔

جب ان تبدیلیوں کا موازنہ اسلامی دنیا کی صورتحال سے کیا جائے تو ایک واضح فرق سامنے آتا ہے۔ مغربی دنیا کو ممتاز کرنے والی سب سے اہم بات انسان کی اپنی ترقی ہے۔ حقیقی ترقی کسی خاص سیاسی نظام کے نفاذ سے مشروط نہیں ہوتی، بلکہ یہ انسان کی اپنی ذات کو سمجھنے اور اپنے اردگرد کی دنیا کا ادراک حاصل کرنے سے  حاصل ہوتی ہے۔ ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان ایسی علمی اور ثقافتی اقدار کو اپناتا ہے جو اسے پیداوار، جدت اور تخلیق کی طرف راغب کرتی ہیں۔اسلامی دنیا کی حالت کو دیکھیں تو وہاں انسان کو سماجی اور ثقافتی پابندیوں کا سامنا رہا ہے، جو اسے تہذیب کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے سے روکتی ہیں۔ ان پابندیوں نے نہ صرف فکری آزادی کو محدود کیا بلکہ انسان کو اپنی مکمل صلاحیتوں کے اظہار سے بھی باز رکھا۔ نتیجتاً، وہ معاشرتی ڈھانچے اور فکری رویے جو ترقی کو فروغ دیتے ہیں، اسلامی دنیا میں کمزور ہو گئے۔

اگرچہ سیکولرازم کو اکثر مغرب کی ترقی کا بنیادی عامل سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ ممالک جو "سیکولر" کہلاتے ہیں، کسی طور پر مکمل یا مثالی نمونہ نہیں ہیں۔ ان ممالک نے سائنسی اور تکنیکی میدان میں بے مثال ترقی کی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں اخلاقیات اور روحانیت جیسے اہم شعبوں میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔)ہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سیکولرازم نے ان روحانی اور اخلاقی اقدار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو کبھی مغربی تہذیب کی بنیاد کا حصہ تھیں۔ ان اقدار کو ترک کرنے کے نتیجے میں معاشرتی ڈھانچے میں ایک گہرا ثقافتی اور اخلاقی خلا پیدا ہوا ہے۔ یہ خلا نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ آنے والے وقتوں میں مزید سنگین چیلنجز کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔(

جہاں تک اسلامی دنیا کا تعلق ہے، امت کو ایسے سیاسی تجربات سے گزرنا پڑا ہے جنہوں نے اسلام کو اس کے اصل تہذیبی اور فکری محتوا سے خالی کر دیا۔ ان تجربات کے نتیجے میں دین اور زندگی کے درمیان تعلق غیر متوازن ہو گیا، جس نے معاشرتی اور تہذیبی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا۔اسلامی دنیا کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ایک جامع اور مربوط نظریے کی عدم موجودگی ہے، جو انسان اور معاشرے کو ہمہ جہت انداز میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ موجودہ نظریات میں وہ وسعت اور گہرائی نہیں جو تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے ساتھ مثبت انداز میں  مطابقت پیدا  کر سکیں۔ یہ نظریاتی کمزوری اسلامی دنیا کو ترقی کی راہ میں پیچھے رکھتی ہے اور اسے ایک جمود کی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔

یہاں دلچسپی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی دنیا کی پسماندگی اسلام کے بطور دین  قبول کرنے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ ان سیاسی اور سماجی تجربات کا نتیجہ ہے جنہوں نے اسلام کے تہذیبی اور فکری پہلو کو نظرانداز کر دیا۔اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو نبی اکرم کی وفات کے بعد بڑے انحرافات رونما ہوئے، خصوصاً بنی امیہ اور بنی عباس کے ادوار میں۔ ان ادوار میں اسلامی حکمرانوں نے دین کے اس اصل پیغام  اور تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا، جو انسان کی ترقی، معاشرتی انصاف، اور فلاحی معاشرے کی تعمیر پر زور دیتی تھیں۔ اس کے برعکس، ان ادوار میں زیادہ توجہ اقتدار کے استحکام اور سیاسی غلبے پر مرکوز رہی۔

اگرچہ اسلامی دنیا کے کئی خطوں میں سیاسی نظام حقیقی  شریعتِ اسلامی سے دور ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود مطلوبہ ترقی  کا  حصول ممکن نہیں ہوسکا۔  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ نظام، جنہوں نے دین کو سیکولرازم سے بدلنے کی کوشش کی یا غیر اسلامی نظام کو اپنایا، اسلامی دنیا کو درپیش تہذیبی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔یہ ناکامی صرف سیاسی نظاموں کی کمزوری تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق براہِ راست خود انسان سے بھی ہے۔ انسان جو اس دنیا کا حقیقی معمار ہے، وہ علمی اور فکری پسماندگی کا شکار ہے۔ اس کی فکری نشوونما رک گئی ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی ترقی اور تہذیب کے فروغ کے لیے استعمال کرنے سے قاصر ہے۔

اسلام اپنی اصل اور  حقیقت کے اعتبار سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں  بلکہ  یہ ایک ایسا مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے ایک جامع اور مکمل انسانی تہذیب کی تشکیل ممکن ہے۔ اسلام کا پیغام علم، عدل، مساوات، اور انسانیت کی فلاح پر مبنی ہے، جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی اصول ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ علم اور ٹیکنالوجی تہذیبی بیداری اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، اسلامی دنیا میں تحقیق اور ترقی کے لیے مناسب معاونت اور وسائل کی کمی ان بنیادی عوامل میں شامل ہے جو امت مسلمہ کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اسلامی دنیا کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقی اسلامی اقدار کی طرف رجوع کیا جائے، نہ کہ سیکولرازم کو اپنانے یا دین میں تفریط کرنے کی طرف ۔ اسلام نہ صرف ایک مذہبی نظام ہے بلکہ ایک ایسی ثقافتی اور اقداری شناخت بھی فراہم کرتا ہے جو ایک جامع تہذیبی تصور پیش کرتا ہے۔ یہ تصور علم، عمل، تعاون، اور انسان کی ہمہ جہت ترقی پر مبنی ہے، جو کسی بھی ترقی یافتہ اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔تہذیب کی تعمیر محض نظریات یا خارجی ماڈلز کو درآمد کرنے سے ممکن نہیں ہوتی،  بلکہ اس کے ساتھ ساتھ  اپنی ذاتی ، علاقائی اور ملکی  حقیقت کا گہرا جائزہ نہ لیا جائے، جو کسی بھی  قوم یا ملک کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ درآمد شدہ ماڈلز اکثر ایسی پیچیدگیوں اور تضادات کو جنم دیتے ہیں جو نہ صرف مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ معاشرتی توازن کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

آخرکار، بیداری کا مسئلہ کسی سیاسی نظام کے نفاذ یا سیکولرازم کو اپنانے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ امت اپنی خودمختار صلاحیت کو فعال کرے۔ یہ صلاحیت ایک ایسے شعور یافتہ انسان، ایک ترقی یافتہ معاشرے، اور ایسی درست رہنمائی کے ذریعے ہی ممکن ہے جو امت کو مثبت تبدیلی کی راہ پر گامزن کر سکے۔یہ رہنمائی انسانی اقدار کے ساتھ  مطابقت کرتے ہوئے انہیں مضبوط کرے، اور دیگر اقوام کے کامیاب تجربات سے استفادہ کرنے میں مدد دے، لیکن اس کے ساتھ ہی اپنی ثقافتی اور دینی شناخت کو برقرار رکھے۔(اسلامی دنیا کو اپنی شناخت کھوئے بغیر جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ عالمی ترقی کے دھارے میں شامل ہو سکے)

شیئر: