نسل پرستی اور کافر کی نجاست ؟
الشيخ معتصم السيد احمد
بعض لوگ وقتاً فوقتاً یہ الزام لگاتے رہتے ہیں کہ اسلام میں بعض احکام نسل پرستی پر مشتمل ہیں۔ اس الزام کی وجہ اسلام کے وہ احکام ہیں جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ جبکہ بلا شبہ، نسل پرستی ایک مذموم اور ناپسندیدہ رویہ ہے، جو نسل، رنگ، زبان یا مذہب جیسے عوامل کی بنیاد پر تفریق یا امتیازی سلوک پر مبنی ہوتی ہے، اور اس کے نتیجے میں کسی ایک گروہ کو دوسرے پر ترجیح دی جاتی ہے یا کسی گروہ کو دیوار سے لگایا جاتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے اپنے آغاز سے ہی اس رویے کا مقابلہ کرنے اور اس کو جڑوں سے اکھاڑنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان سب کو باوجود ناقدین کی تہمت آمیز آوازیں آج بھی آتی ہیں، جو اسلام پر تنقید کرتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان الزامات کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے اور ان کا معروضی انداز میں تجزیہ کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن انسان کو بطور انسان ہی خطاب کرتا ہے، یعنی بغیر کسی نسل، رنگ یا جنس کی تفریق کے انسان کو مخاطب قرار دیتا ہے ۔ یہ بات ان بہت ساری آیات سے واضح ہوتی ہے جو تمام انسانوں کو مخاطب کرتی ہیں، جیسے "یا بنی آدم" اے فرزندان آدم !، اور "یا أیها الناس" اے لوگو!۔ یہ خطاب قرآن کے عالمگیر پیغام کو ظاہر کرتا ہے۔ قرآن کی پہلی سورت، سورہ فاتحہ، اس بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ "رب العالمین" سارے جہان کا رب ، انسانوں کے معبود، ہے، اور آخری سورت، سورہ ناس، یہ بتاتی ہے کہ اللہ "إلہ الناس" ہے۔ یعنی اللہ بغیر کسی استثنا کے تمام انسانوں کا خالق ہے ۔
اس طرح، قرآن اپنی آیات کے ذریعے لوگوں کو ان کے مشترک اصل کی یاد دہانی کراتا ہے اور ان کے اندر یہ شعور اجاگر کرتا ہے کہ وہ سب ایک ہی نفس سے پیدا ہوئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :)يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً( اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بکثرت مرد و عورت (روئے زمین پر) پھیلا دیے (نساء : 1) ایک اور آیت میں فرمایا:)هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ( وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا. (المؤمن : 67)
یہ مشترک اصل پر زور دینا نسل پرستی کے لیے کسی بھی جواز کو مسترد کرتا ہے، اور تمام انسانوں کے درمیان برابری کے اصول کو مستحکم کرتا ہے ۔قرآن کریم لوگوں کو ایک دوسرے پر فخر کرنے یا ایک دوسرےکی تحقیر کرنے سے بھی منع کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا:)يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ(
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی عورتیں عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگایا کرو اور ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کیا کرو، ایمان لانے کے بعد برا نام لینا نامناسب ہے اور جو لوگ باز نہیں آتے پس وہی لوگ ظالم ہیں۔ (الحجرات : 11) اس طرح، قرآن تمام لوگوں کے درمیان برابری اور باہمی احترام کے تصور کو فروغ دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ حقیقی فضیلت صرف تقویٰ اور نیک عمل میں ہے
پس نسل پرستی اسلام کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے، جو تمام انسانوں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان اللہ کے سامنے برابر ہیں۔ قرآن نے اس مشترکہ اصول کو عبادت کے فریضے سے جوڑا ہے، جیسا کہ فرمایا:(وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا ۘ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ ہُوَ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اسۡتَعۡمَرَکُمۡ فِیۡہَا فَاسۡتَغۡفِرُوۡہُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ قَرِیۡبٌ مُّجِیۡب۔(
اور ثمود کی طرف ان کی برادری کے فرد صالح کو بھیجا، انہوں نے کہا : اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں آباد کیا لہٰذا تم اسی سے مغفرت طلب کرو پھر اس کے حضور توبہ کرو، بے شک میرا رب بہت قریب ہے، (دعاؤں کا) قبول کرنے والا ہے۔ (هود : 61) ۔
یہ تعلق انسانی برتری کو نسل یا وراثت کی بنیاد پر تصور کرنے کو ناممکن بناتا ہے۔
اس کے برعکس، اسلام نے ایک اور طرح کی امتیاز کی اجازت دی ہے، جو نسل یا رنگ پر مبنی نہیں ہے بلکہ انسان کی نفسیاتی، اخلاقی، روحانی اور عملی جدوجہد پر مبنی ہے۔ یہ امتیاز فضیلت اور کمال کی قدروں پر قائم ہے، جیسے علم کو جہالت پر فوقیت دینا یا تقویٰ کو نافرمانی پر ترجیح دینا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ)
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک یقینا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، اللہ یقینا خوب جاننے والا، باخبر ہے (سورۃ الحجرات: 13)۔
اس منطق کے مطابق، مومن کی تعریف اور کافر کی مذمت نسل پرستی نہیں بلکہ اس شخص کی قدر ہے جس نے خیر، کمال، حق اور ہدایت کے راستے کو چنا۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جوشرعی احکام مسلمان کو ممتاز کرتے ہیں، وہ اخلاقی اور قانونی اختیارات سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کا نسل پرستی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ مسلمان کو بعض خصوصیات دی جائیں، کیونکہ اس کا طرزِ زندگی دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ احکام انسانی حقوق اور مشترکہ فرائض پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ مثال کے طور پر، کافر کے ناپاک ہونے کا حکم نسل پرستی نہیں ہے، کیونکہ یہ مسلمان کو سماجی برتری یا عوامی تعلقات میں ترجیح نہیں دیتا۔ بلکہ یہ حکم ذاتی طہارت سے متعلق ہے، جہاں مسلمان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس جگہ کو دھو لے جہاں کافر کی رطوبت کے ساتھ لمس ہوا ہو۔ اس قانون میں دوسرے کے حقوق کی پامالی یا اس کی توہین شامل نہیں ہے.
اسی تناظر میں شرعی احکام اور نسل پرستی کے درمیان فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ نسل پرستی موروثی فرق کو بنیاد بنا کر اقوام اور گروہوں کے درمیان قانونی اور سماجی امتیاز کو جائز قرار دیتی ہے، جبکہ اسلامی احکام انفرادی ذمہ داریوں پر مبنی ہیں، جو عمومی حقوق کو متاثر نہیں کرتے اور نہ ہی کسی گروہ کو دوسرے پر برتری دینا ان احکام کا ہدف ہوتا ہے ۔ اسلام ہر ممکن طریقے سے نسل پرستی کی مخالفت کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو بھی امتیاز فضیلت اور تقویٰ پر مبنی نہ ہو، وہ باطل ہے ۔
اسی طرح، اسلام تمام انسانوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی دعوت دیتا ہے اور انصاف پر مبنی سلوک کی اہمیت پر زور دیتا ہے، چاہے دین یا نسل میں اختلاف ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ (
جن لوگوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اللہ تمہیں ان کے ساتھ احسان کرنے اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا، اللہ یقینا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(الممتحنة:8)یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دین کا اختلاف دوسرے کے ساتھ ظلم یا سخت رویے کا جواز نہیں بن سکتا۔
لہٰذا، اسلام اپنی بنیاد اور قوانین میں نسل پرستی کی نفی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا دین ہے جو انسانی تعلقات کو انصاف اور مساوات پر قائم کرتا ہے، ساتھ ہی اخلاقی اور روحانی مسابقت کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے۔ یہ مسابقت ہر کسی کے لیے بغیر کسی امتیاز کے کھلی ہے، اور مسلمان کے لیے مخصوص احکام اس کے اندرونی اور روحانی پاکیزگی کے لیے ہیں، نہ کہ دوسروں کو نیچا دکھانے یا کہ انہیں کسی قوم پر برتر قرار دینے کے لیے۔