الشيخ معتصم السيد أحمد
ریاست کے حوالے سے مذہبی اور سیکولر طرزِ فکر کے درمیان بحث انسانی خیالات اور تجربات کی تاریخ کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہ بحث محض دو نقطۂ نظر کے درمیان کشمکش نہیں، بلکہ انسان کی ان کوششوں کی عکاسی کرتی ہے جو روحانی اقدار اور مادی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس موضوع پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے،خصوصا ہم ان بنیادی اقدار پر روشنی ڈالیں گے جو کسی بھی سیاسی نظام کی بنیاد ہونی چاہئیں، اور ایک متوازن نقطۂ نظر پیش کریں گے جو "مذہبی انداز نظر بمقابلہ سیکولر طرزفکر" کی دوہرےپن سے آگے نکل سکے۔
اسلام اور بدلتی اقدار:
اسلام کسی جامد شکل یا تصویر تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس مسلسل حرکت اور تجدیدعمل کا موقع فراہم کرتا ہے جو زمانے کی تبدیلیوں کو جذب کرتے ہوئے بنیادی اقدار کو محفوظ رکھتا ہے۔ کسی بھی سیاسی نظام کو قبول کرنے کا بنیادی معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ عدل، رحمت اور انصاف جیسی اقدار سے کس حد تک قریب ہے۔ اسلام ایک قدری نظام کے طور پر انسان کو کسی خاص شکل کا پابند نہیں کرتا، بلکہ اسے اخلاقی دائرہ فراہم کرتا ہے جو اسے خوب سے خوب ترکی طرف گامزن کرتا ہے، جبکہ عملی تفصیلات انسان کے اجتہاد پر چھوڑتا ہے، جو اس کے زمان و مکان کے حالات کے مطابق ہوں۔
جدید ریاست نے بے شک کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن یہ ایک نامکمل اختیار ہے کیونکہ اس نے اگر چہ انسان کی مادی ضروریات کو پورا کرنے پر تو توجہ دی لیکن اس کی روحانی اور اخلاقی خواہشات کو نظر انداز کر دیا۔ انسانی تہذیب کو روح اور مادہ کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں جدید ریاست ناکام ہوئی، کیونکہ اس نے مادی پہلو کو ترجیح دی۔لہٰذا، جدید ریاست کو آخری اور حتمی نمونہ سمجھنا ایک غلطی ہے، گویا انسانیت نے اپنے سیاسی اور سماجی نظاموں کی ترقی میں آخری منزل تک پہنچا دیا ہو۔ یہ تصور اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ انسان اپنی فطرت میں تخلیقی مخلوق ہے اور اس کی ضروریات اور چیلنجز وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ انسانی عقل میں نئے نظام وضع کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جو روایتی انداز سے آگے بڑھ کر اقتدار کی تنظیم اور سماج کے انتظام کے نئے راستے نکالتا ہے۔ جدید ریاست خود ایک طویل فکری اور تہذیبی ارتقاء کا نتیجہ ہے، جو مختلف عوامل جیسے صنعتی انقلاب، روشن خیالی کے افکار، اور بڑی سماجی تبدیلیوں کے تعامل سے پیدا ہوئی۔ تاہم، یہ ماڈل، اپنی نسبتی کامیابی کے باوجود، خامیوں سے مبرا نہیں۔
تجربات نے ثابت کیا ہے کہ انسان ہمیشہ ایسے متبادل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کی متوازن فطرت سے زیادہ ہم آہنگ ہوں، ایک ایسی فطرت جو مادی اور روحانی، انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کو یکجا کرتی ہے۔ اسی لیے، انسانیت کے لیے تخلیقی امکانات ہمیشہ کھلے رہتے ہیں تاکہ زیادہ عادلانہ، پائیدار اور لچکدار نظام وضع کیے جا سکیں جو مسلسل بدلتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔اسی بنیاد پر ہمیں جدید ریاست کو انسانی ارتقاء کے ایک مرحلے کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ اختتام کے طور پر۔ اور یہ جرات پیدا کرنی چاہیے کہ ہم سماجی اور سیاسی تنظیم کے ایسے نئے انداز کا تصور کریں جو انسان اور اس کے حقیقی مفادات کو عمل کے مرکز میں رکھے۔نہ تو سیکولرازم کے داعی انسان کی روحانی ضروریات کو مکمل طور پر سمجھ سکے، جو محض مادی وسائل سے پوری نہیں ہو سکتیں؛ کیونکہ انسان فطرتاً اپنی زندگی کے ایک بلند تر مقصد کی تلاش میں رہتا ہے اور اپنی وجودی سوالات کے ایسے جوابات چاہتا ہے جو مادی عقل کی حدود سے ماورا ہوں۔ اسی لیے جب سیکولرازم کے حامیوں نے دین کو عوامی زندگی سے خارج کیا، تو ایک گہرا روحانی خلا چھوڑ دیا، جس نے بعض افراد کو اندرونی بےگانگی اور مقصدیت کے احساس سے محرومی کی طرف دھکیل دیا۔
دوسری طرف، مذہبی ریاست کے حامی انسان کی مادی ضروریات کو کافی حد تک نہیں سمجھ سکے، جو مضبوط اقتصادی نظام، جدید تعلیم، اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی متقاضی ہیں تاکہ انسان کی فلاح و بہبود کو بہتر بنایا جا سکے اور اسے زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ روحانی پہلو پر حد سے زیادہ زور دینے کے ساتھ عملی زندگی کی ضروریات کو نظرانداز کرنا معاشرتی غربت اور تہذیب کے قافلے سے پیچھے رہ جانے کا سبب بن سکتا ہے۔اس مسئلے کے حل کا دارومدار کسی ایک پہلو کو نظرانداز کرنے میں نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان ایک منصفانہ توازن قائم کرنے میں ہے؛ ایسا توازن جہاں معاشرے مضبوط مادی بنیادوں پر قائم ہوں جو انسان کی روزمرہ کی ضروریات پوری کریں، اور ساتھ ہی روحانی تسکین کے لیے بھی گنجائش ہو، جو نفسیاتی توازن اور داخلی ہم آہنگی پیدا کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کی جانب لے جاتا ہے، جو انسان کی مادی اور روحانی دونوں جہتوں کی تکمیل کرتا ہے۔دین کی بنیادی حیثیت ایک تنقیدی کردار کی ہے؛ یہ وہ اخلاقی روح ہے جو انسانی تہذیب کو توانائی اور حرارت فراہم کرتی ہے۔ اس لیے دین کو سطحی یا ظاہری دائرے تک محدود کرنا اس کی حقیقت کو مسخ کرنے اور اس کے جوہر کو مٹانے کے مترادف ہے۔ سیکولر مکتبۂ فکر یہی غلطی کرتا ہے جب دین کو ایک جامد ظاہری شکل میں محدود کر دیتا ہے، جبکہ دین اپنی اصل میں کسی مقررہ شکل تک محدود نہیں، اور نہ ہی یہ جامد ہے۔ دین وہ اقدار ہیں جو تہذیب کے جسم میں اسی طرح جاری و ساری ہیں جیسے روح انسان کے جسم میں۔
مثال کے طور پر، اسلام ایک قدری اور اخلاقی نظام ہے جو انسان کی مسلسل حرکت کا نگران ہے اور اس حرکت کو ان اقدار کے مطابق منظم کرتا ہے۔ مثلاً، دین عدل کی قدر پر زور دیتا ہے، لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے کوئی مخصوص شکل یا طریقہ مسلط نہیں کرتا، بلکہ یہ فیصلہ انسان پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنے زمانی حالات کے مطابق کیا راستہ اختیار کرے۔ اس تناظر میں، دین ایک ترغیب دینے والے اور اخلاقی اقدار کے نفاذ کی سفارش کرنے والے کے طور پر کام کرتا ہے، اور اگر انسان ان اقدار کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہتا ہے تو اس ناکامی کی ذمہ داری دین پر عائد نہیں ہوتی۔چنانچہ، دین کو زندگی سے الگ کرنے کی کوئی بھی کوشش دراصل اخلاقی اقدار کو مٹا دینے اور اس تنقیدی اختیار کو خارج کرنے کے مترادف ہے جو ان اقدار کے عملی نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ ایک غلط راستہ ہے جو بلا شبہ انسان کی اصل تصویر کو مسخ کر دیتا ہے۔
عدل: سیاسی اصلاحاتکاجوہر
نظری سطح پر، عدل اس صورت میں ممکن ہے اگر ہم یہ تسلیم کریں کہ حکومت کا نظام اپنے قدری اصولوں کو دین سے یا مادی بنیادوں سے اخذ کرتا ہے، مگر فرق ان دونوں تجربات میں عدل کے مفہوم کی تفصیل میں ہے۔ مادی عدل مادی ضروریات اور معنوی ضروریات کے درمیان اعتدال اور توازن قائم نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ بنیادی طور پر ان معنوی ضروریات کو تسلیم نہیں کرتی۔ جبکہ دین کے تصور میں عدل انسان کی تمام ضروریات کو تسلیم کرتا ہے اور ان کے درمیان مواقع کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا ہے تاکہ کوئی ضرورت دوسری ضرورت کے نقصان پر پوری نہ ہو۔ یہ جامع نقطہ نظر عدل کو ایک مکمل انتخاب بناتا ہے، بشرطیکہ ہم دین کو ایک لچکدار قدری ڈھانچہ سمجھیں، نہ کہ ایک جامد نظام۔
نظری طور پر، ریاست سیکولر کو دینی ریاست پر ترجیح دینا ممکن نہیں ہے، بشرطیکہ ہم سیکولرازم کو مادی پہلو میں افراط اور روحانی و اخلاقی پہلو میں تفریط کے طور پر سمجھیں۔ اس کے مقابلے میں، اگر ہم دین کو ایک ایسا توازن سمجھیں جو انسان کو مادی اور معنوی دونوں پہلوؤں میں تکامل عطا کرتا ہو، تو پھر سیکولرازم ایک نامکمل انتخاب بن جاتا ہے جو صرف دین کے ساتھ مکمل ہو سکتا ہے۔
لیکن جب ہم انسانیت کے تجربے کی حقیقت سے تجزیہ شروع کرتے ہیں، تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ حکومتی سطح پر دینی تجربات اکثر منفی پہلو کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جدید سیکولر تجربات، خاص طور پر یورپی ممالک میں، ایک خواب کی صورت میں انسانوں، حتی کہ مسلمانوں کے لیے بھی، سمجھے گئے ہیں۔ اس سے تصویر مبہم ہوجاتی ہے جس میں دینی اور سیکولر تجربات کے درمیان موضوعی تفریق مشکل ہوجاتی ہے، بلکہ دینی تجربے میں مقابلے کی روح ہی غائب ہو جاتی ہے۔ایک غیر جانبدار اور موضوعی تجزیہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ نہ تو سیکولر تجربہ انسان کی آرزووں کا مثالی عکس ہے، اور نہ ہی دینی تجربات دین کی سچی تعبیر ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ دینی و سیکولری بحث کو دوبارہ ایک نیک نیتی کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے جو انسان کی حقیقی آرزوؤں کو سامنے لائے۔ انسان کی آرزؤں کو موازنوں اور مقابلوں میں تلاش کرنا غلط ہے، کیونکہ یہ انسان کو ان حدود میں قید کر دیتا ہے جو وہ پہلے ہی تجربہ کر چکا ہے۔ جتنی بگاڑی ہوئی شواہد دینی تجربے کے بارے میں مل سکتی ہیں، اتنی ہی بگاڑی ہوئی شواہد سیکولر تجربے کے بارے میں بھی موجود ہیں۔ اس لیے ہمیں ریاست، دین اور انسان کے مفاہیم کو نئی سرے سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے، جو تاریخی تجربات کی منفی نقوش سے آزاد ہوں۔
اس کے نتیجے میں، دینی اور سیکولر دونوں مکاتب فکر کو انسانی ہمدردی کے سطح پر اتر کر دوبارہ غور و فکر کرنا ہوگا تاکہ انسان کو روحانیت اور مادیات کے لحاظ سے بہتر طور پر سمجھا جا سکے، اور پھر ایک ایسا نظام تلاش کیا جا سکے جو انسان کی حقیقی آرزوؤں کو پورا کرے، بغیر اس کے کہ یہ تلاش صرف تجربے کی حدود میں قید ہو۔ اگر انسان کو حقیقتاً اور حقیقت پسندانہ طور پر سمجھا جائے کہ وہ روح اور جسم کا مرکب ہے جو دنیا میں زندگی گزار رہا ہے اور آخرت کی طرف متوجہ ہے، تو پھر دین کو ان غیر دینی مکاتب فکر کی سطحی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
خاتمہ
دینی اور شہری ریاست کے درمیان بحث محض دو متضاد نظریات کا مقابلہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانیت کی جانب سے روحانیت اور مادیات کے لحاظ سے بہترین اور مکمل ترین ماڈل کی تلاش کا عکاس ہے۔ حل ان دونوں کے درمیان ترجیح دینے میں نہیں، بلکہ اس دوئی کو عبور کرنے اور ایک زیادہ جامع اور لچکدار ماڈل تلاش کرنے میں ہے جو انسان کی حقیقت کو حقیقت پسندانہ طور پر سمجھتے ہوئے، اس کے مادی اور روحانی پہلوؤں کے درمیان توازن قائم کرے۔مستقبل میں فکری جرات کی ضرورت ہے جو ریاست کے تصور کو نئے سرے سے بیان کرے، ایک ایسی ریاست جو عہد کے تقاضوں اور انسانیت کی گہرائی میں موجود قدروں کے درمیان توازن پیدا کرے۔ اس طرح، عدلیہ عملی ڈھانچہ اور جامع نظام بن جائے گی جو انسان کے دنیاوی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے اس کی زندگی کے بلند تر مقصد کی طرف رہنمائی کرے گا۔