الشيخ معتصم السيد أحمد
معاصر الحادی ابحاث میں یہ دعوی بار بار دہرایا جاتاہے کہ الحاد کو کسی ثبوت کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ انسان کی اصل اور فطری حالت ہے جس پر وہ پیدا ہوتا ہے جبکہ خدا کے وجود کا دعویٰ کرنے والے صاحب ایمان پر ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ خیال بظاہر پرکشش محسوس ہوتا ہےکیونکہ یہ کسی بھی دینی وابستگی سے پاک ایک فطری اور معصوم حالت کا تاثر دیتا ہےلیکن درحقیقت یہ الحاد کی اس فکری اور علمی نوعیت کو نظر انداز کرتا ہے جس میں وہ ایک مکمل نظریاتی موقف کے طور پر سامنے آتا ہے۔ الحاد بھی اپنے دعووں کے اعتبار سے ایمان سے کم نہیں ہے اور منطق اس سے بھی اتنے ہی درجے کی دلیل اور توجیہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انسان کسی بھی غیبی تصور کے بغیر پیدا ہوتا ہے؟ اور کیا الحاد کو محض ایک علمی غیرجانبداری کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے یا یہ بھی ایک فلسفیانہ نظریہ ہے جو وجود اور کائنات کی جامع تشریح کا تقاضا کرتا ہے؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہم اس مضمون میں الحادی دعوے کو تفصیل سےدیکھیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ اپنے ساتھ کون سے سائنسی اور فکری تقاضے اور نظریاتی بنیادیں لاتا ہے۔
یہ دعویٰ اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ الحاد محض ایمان کا انکار یا غیر موجودگی نہیں ہے بلکہ یہ ایک فلسفیانہ موقف ہےجو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کائنات، زندگی اور شعور کی ابتدا کے بارے میں مربوط اور مادی (طبعی) توضیحات پیش کی جائیں۔ لیکن اب تک پیش کی گئی یہ توضیحات اس بات کو ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں کہ وہ خالق کے وجود سے بے نیاز ہو سکے۔ اس نکتے کو مزید واضح کرنے کے لیے ہم چند نکات کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
اوّل تو یہ کہنا کہ الحاد وہ "فطری حالت" ہے جس پر انسان پیدا ہوتا ہےمحض ایک دعویٰ ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ انسانی نفسیات اور تاریخ پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان میں ہمیشہ سے کسی اعلیٰ طاقت یا ماورائی ہستی پر ایمان رکھنے کا رجحان رہا ہے۔ارتقائی نفسیات بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خالق یا غیبی قوتوں پر ایمان کا رجحان ممکنہ طور پر انسان کی ادراکی ساخت کا حصہ ہے نہ کہ صرف ایک ثقافتی یا سماجی اثر کا نتیجہ ہے۔
جہاں تک الحاد کا تعلق ہے تو یہ ایک ایسا موقف ہے جو خدا کے وجود کے عقیدے کو شعوری طور پر رد کرتا ہے۔ یہ کوئی "غیرجانبدار" یا "اصل/فطری" حالت نہیں ہے جس پر انسان پیدا ہوتا ہو بلکہ یہ ایک سوچ، غور و فکر اور دینی عقائد کے تجزیے کے بعد سامنے آنے والا نظریہ ہے جس کے تحت انسان ایمان کو ترک کر کے اس کی جگہ مادی یا طبعی متبادلات تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ انسان بغیر کسی مذہبی عقیدے کے پیدا ہوتا ہے علم کی غیر موجودگی (عدمِ شعور) اور بعد میں اختیار کیے گئے شعوری فلسفیانہ موقف کے درمیان خلطِ مبحث ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ الحاد کو نظریۂ ارتقاء یا کائنات کی ابتدا جیسے نظریات کی ضرورت نہیں،حقیقت کو نظر انداز کرنا ہے۔ کیونکہ الحاد دراصل ایک ایسا موقف ہے جو کائنات اور وجود کی توضیح (تفسیر) خالق یا ماورائی قوت کے بغیر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ الحاد بطورِ نظریہ حقیقت کو صرف مادی انداز میں دیکھتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ایسے سائنسی نظریات کو اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو ان مظاہر کی وضاحت فراہم کریں جن کی پہلے خالق کے وجود سے تشریح کی جاتی تھی، جیسے: [مزید نکات آگے بیان ہوں گے]۔
نظریہ ارتقاء: الحاد اس دینی وضاحت کو رد کرتا ہے جو انسان کی پیدائش کو خدا کے عمل سے جوڑتی ہے۔ اسی وجہ سے معاصر الحاد (یعنی موجودہ دور کا الحاد) زندگی کے آغاز اور اس کی تنوع (یعنی انواع کا فرق) کی تشریح کے لیے نظریہ ارتقاء پر انحصار کرتا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ ان سب کا وجود کسی خالق کے بغیر ممکن ہے۔ اگرچہ ہر ملحد حیاتیات کا ماہر نہیں ہوتالیکن الحاد بطور نظریہ نظریہ ارتقاء کو بنیاد بناتا ہے تاکہ یہ وضاحت کی جا سکے کہ زندہ مخلوقات بغیر کسی الٰہی مداخلت کے کیسے وجود میں آئیں۔
نظریۂ کششِ ثقل اور کونیاتی طبیعیات: الحاد اس حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا کہ کائنات کی ابتدا اور اس کی ترقی کی وضاحت طبیعی قوانین کے ذریعے ہونی چاہیے۔ چنانچہ، جہاں ایک مومن یہ مانتا ہے کہ اللہ نے کائناتی قوانین وضع کیے، وہاں ایک ملحد کائنات کی تخلیق کی وضاحت خالصتاً طبعی عوامل کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے بِگ بینگ (انفجار عظیم) اور کونیاتی پھیلاؤ (cosmic inflation) جیسے نظریات سے کائنات کی وضاحت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے الحاد کو مکمل طور پر مادی (طبیعیاتی) وضاحتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ ہر ملحد ماہرِ طبیعیات نہیں ہوتا پھر بھی وہ ان سائنسی نظریات کو اپنی فکر کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
کائنات کی ابتدا: الحاد محض خدا کے وجود کا انکار نہیں ہے بلکہ اس سے یہ تقاضا بھی ہوتا ہے کہ وہ کائنات کی پیدائش کی کوئی متبادل وضاحت پیش کرے۔ چونکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب کائنات موجود نہیں تھی، لہٰذا اگر خالق کا انکار کیا جائے تو یہ بھی بتانا لازم ہو جاتا ہے کہ کائنات کیسے خود بخود صرف قدرتی قوانین کے تحت وجود میں آ گئی۔ اس مقصد کے لیے بعض نظریات جیسے "کائنات کا عدم سے پیدا ہونا" یا "کوانٹم خلا" (quantum vacuum) پیش کیے جاتے ہیں۔ اس لیے، الحاد ایک ایسا نظریہ نہیں ہو سکتا جو ان سائنسی سوالات سے بے نیاز ہو بلکہ اسے ہر اُس مظہر کی طبیعیاتی وضاحت دینی ہوتی ہے جسے مذہب ماورائی طور پر سمجھاتا ہے۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ صرف ایمان کو "دلائل اور ثبوتوں" کی ضرورت ہے جبکہ الحاد "ایک فطری حالت" ہے ایسا کہنا ہی درحقیقت ایک جانبدارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ یا کسی ماورائی قوت پر ایمان انسانی فطرت کا حصہ ہےاور اس بات کی تائید انسانی تہذیب، نفسیات اور بشریات سے متعلقہ مطالعات بھی کرتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بچے فطری طور پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ کائنات کا کوئی مقصد ہے اور بڑے واقعات کا کوئی غیرمادی (ماورائی) سبب ہوتا ہے۔ بعض تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھوٹے بچے بھی فطری طور پر یہ تصور کرتے ہیں کہ قدرت میں پائی جانے والی پیچیدہ اشیاء کو کسی "ذہین خالق" نے تخلیق کیا ہے۔
اسی بنیاد پر، ایمان نہ تو عدم سے شروع ہوتا ہے اور نہ ہی اسے اس انداز میں "ثابت" کرنے کی ضرورت ہے جیسے الحاد کو متبادل وضاحتوں کے ذریعے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے: اللہ کے وجود کا انکار ہی وہ موقف ہے جو انسان کو ایک جامع مادیاتی تشریح پیش کرنے پر مجبور کرتا ہے، ایسی تشریح جو ہر چیز کا احاطہ کرے جیسے کائنات کی ابتدا، اخلاقیات کا وجود اور انسانی شعور کی حقیقت وغیرہ۔
بعض ملحدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری صرف اہل ایمان پر ہےلیکن یہ بات فلسفیانہ طور پر درست نہیں ہے؛ کیونکہ الحاد محض "ایمان کا نہ ہونا" نہیں بلکہ یہ کائنات اور وجود کے بارے میں ایک مخصوص نظریہ اپنانا ہے جو اللہ کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ چونکہ ملحدین قدرتی، اخلاقی اور علمی مظاہر کے لیے متبادل تشریحات پیش کرتے ہیں، اس لیے وہ بھی اس بات کے پابند ہیں کہ اپنے موقف کی صداقت کے لیے دلائل اور ثبوت پیش کریں۔
مثال کے طور پر: اگر کوئی ملحد یہ کہے کہ "کائنات عدم (یعنی کچھ نہ ہونے) سے وجود میں آئی ہے تو اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ عدم (کلی طور پر کچھ نہ ہونا) کس طرح کسی چیز کو پیدا کر سکتا ہے۔ اگر کوئی ملحد یہ کہے کہ "اخلاق صرف ایک سماجی ارتقاء کا نتیجہ ہیں" تو اس پر یہ وضاحت لازم آتی ہے کہ ہم بعض اعمال کو فطری طور پر بُرا کیوں محسوس کرتے ہیں صرف اس لیے نہیں کہ وہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے اندر بھی بُرائی رکھتے ہیں۔
اگر کوئی ملحد یہ کہے کہ "شعور (آگہی) محض ایک دماغی عمل ہے"تو اس پر یہ وضاحت کرنا لازم ہے کہ خالص مادی تعاملات سے خودی (یعنی ذات کا احساس) اور شعوری تجربہ کس طرح وجود میں آتا ہے۔
لہٰذا، جب ہم "الحاد فطری حالت ہے" کے دعوے کا منطقی اورعلمی جائزہ لیتے ہیں تو اس کی فکری کمزوری اور ناپائیداری واضح ہو جاتی ہےاور یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ دعویٰ نفسیاتی اور انسانیات (anthropology) کی اُن تحقیقات کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ انسان فطری طور پر ایمان کی طرف مائل ہے۔ الحاد کوئی سادہ یا انکار کی حالت نہیں بلکہ ایک متبادل فلسفیانہ نظریہ ہے جو خالق کے بغیر کائنات کی مکمل توجیہ پیش کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتا ہے اور اسی بنا پر وہ محض تماشائی یا غیر جانب دار نہیں بلکہ دلائل پیش کرنے کا پابند ہے۔ اگر دینی عقائد کو سوالات کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہےتو الحادی نظریات کو بھی اسی طرح پرکھا جانا چاہیے نہ کہ انہیں بلا دلیل ابتدائی حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔ کیونکہ آزاد عقل کسی نعرے کے سامنے سر نہیں جھکاتی بلکہ سب سے دلیل کا مطالبہ کرتی ہے۔
آخر میں یہ سمجھ لیں کہ الحاد انسان کی "فطری حالت" نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ موقف ہے جو کائنات اور وجود کی ایک خالص مادی تعبیر کو اپنانے کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ نظریہ ان سائنسی تصورات سے بھی الگ نہیں رہ سکتا جو کائنات اور زندگی کی ابتدا کی وضاحت کرتے ہیں بلکہ اسے مذہبی تشریحات کے مقابل متبادل سائنسی وضاحتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، ایمان کا تعلق انسانی فطرت اور بدیہی شعور سے ہےاور اسے اس درجے میں ثبوت کی ضرورت نہیں جس درجے میں الحاد کو ہر اس مظہر کے لیے متبادل تشریح دینی پڑتی ہے جسے وہ مذہبی بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔