واپس
پرفریب تقدس: یزید کے جعلی فضائل اور چھپے حقائق- شخصیت سازی کا تحقیقی مطالعہ

پرفریب تقدس: یزید کے جعلی فضائل اور چھپے حقائق- شخصیت سازی کا تحقیقی مطالعہ

الشيخ مصطفى الهجري تاریخِ ادیان کے مختلف مراحل میں بعض افراد کو ایسی تقدیس (پاکیزگی) عطا کرنے کی کوششیں کی گئیں، جو انہیں تنقید اور جواب دہی سے بالاتر بنا دیتی تھیں۔خواہ تاریخی طور پر ایسے شواہد موجود ہوں جو اس جعلی و خودساختہ تصویر کی تردید مکمل کرتے ہوں۔ یہ تقدیس مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی رہی ہے ،...

الشيخ مصطفى الهجري

تاریخِ ادیان کے مختلف مراحل میں بعض افراد کو ایسی تقدیس (پاکیزگی) عطا کرنے کی کوششیں کی گئیں، جو انہیں تنقید اور جواب دہی سے بالاتر بنا دیتی تھیں۔خواہ تاریخی طور پر ایسے شواہد موجود ہوں جو اس جعلی و خودساختہ تصویر کی تردید مکمل کرتے ہوں۔ یہ تقدیس مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی رہی ہے ، جن میں سے ایک معروف مثال ہمیں مسیحی کیتھولک مذھب میں "صکوك الغفران" (بخشش کے پرچے) کے عنوان سے ملتی ہے، جہاں کلیسا (چرچ) رقم کے عوض ایک پرچہ فروخت کرتا تھا، جس کے ذریعے خریدار کے لیے آخرت کا عذاب یا تو مٹایا جاتا یا کم کر دیا جاتا۔ اس رجحان سے اسلامی دنیا بھی خالی نہ رہی ، اگرچہ اس کی شکل مختلف تھی۔ یہاں یہ غیر رسمی مگر مؤثر "صکوکِ غفران" یعنی بخشش ناموں کی صورت میں ظاہر ہوا، جن کا عملی اظہار کچھ مخصوص شخصیات کے حق میں مدح سرائی پر مبنی من گھڑت روایات کے ذریعے کیا گیا، ایسی روایات کہ جو ان افراد کو ۔ خواہ وہ اخلاقی یا سیاسی اعتبار سے کتنے ہی قابل نفرت کیوں نہ ہوں ۔ مغفرت یافتہ قرار دیتی ہیں۔ نتیجتاً، ایسے افراد پر تاریخی تنقید یا تحقیق نہ صرف ممنوع یا معیوب سمجھی جاتی ہے، بلکہ بعض اوقات تو یہ دین پر حملہ تصور کی جاتی ہے۔

اس سلسلے کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک وہ "صکِ غفران" (بخشش نامہ) ہے جو غزوۂ بدر کے مجاہدین کو دیا گیا۔ اس معاملے پر علمی دنیا میں ایک جاندار اور سنجیدہ بحث پائی جاتی ہےکہ کچھ اہلِ علم اسے رسولِ خدا کی طرف سے ان مجاہدین کی سچی تکریم سمجھتے ہیں، جنہوں نے اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگ میں حصہ لیا لیکن اس فضیلت کوان اصحاب کے لئے بعد کے کسی بھی غلط عمل سے بری الذمہ ہونے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعد میں اس فضیلت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔چونکہ بعض شخصیات ایسی تھیں جنہیں یہ "صکِ غفران" حاصل نہیں تھا، لہٰذا ان کے لیے نیا بخشش نامہ گھڑنے کی ضرورت پیش آئی۔

اسی کی ایک مثال یزید بن معاویہ ہے،جو نہ صحابہ میں شمار ہوتا ہے اور نہ اہلِ بدر میں، بلکہ اس کے افعال، بالخصوص واقعۂ کربلا میں کیے گئے اس کے مظالم اس سے مسلمانوں کی ناراضگی اور ناپسندیدگی کا باعث بنے۔ چنانچہ اس کے حق میں ایسی روایات گھڑی گئیں جو محض اس بنا پر اسے مغفرت کا مستحق ٹھہراتی ہیں کہ وہ یا تو قسطنطنیہ کا فاتح تھا یا اس کے لشکر میں شریک تھا۔

حالانکہ یہ ایک مشکوک تاویل ہے، جو زیادہ تر پرپیگنڈہ و سیاسی رنگ پر مشتمل ہے، اس کی کوئی حقیقی دینی بنیاد نہیں ہے ۔ ابن کثیر کی طرف بھی اسی قسم کی عجیب و غریب تاویل منسوب کی گئی ہے، جب وہ لکھتا ہے؛"اللہ تعالیٰ یزید کو مسلمانوں کی خلافت عطا نہ کرتا اگر اس میں کوئی راز نہ ہوتا، اور وہ راز اس کی ماں میسون بنت بجدل کی دینداری اور ایمان داری تھی… یہاں تک کہ اس نے معاویہ کے ایک خواجہ سرا غلام سے بھی پردہ کیا، پھر ایک خواب دیکھا کہ گویا اس کے جسم سے چاند نکل رہا ہے، جس کی تعبیر یہ کی گئی کہ اس کی کوکھ سے ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جو خلافت حاصل کرے گا۔ (البدایہ والنہایہ، جلد 8، صفحہ 155)

لیکن یہ تاویل تاریخی تنقید کے ادنیٰ ترین معیار پر بھی پوری نہیں اترتی، بالخصوص اس لیے کہ اس بات پر امت کا عمومی اتفاق ہے کہ یزید اور اس کے والد معاویہ کی خلافت "مُلکِ عضوض" (جبری بادشاہت) تھی، نہ کہ خلافتِ راشدہ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہےکہ "میرے بعد خلافت تیس برس تک ہوگی، پھر وہ بادشاہت میں بدل جائے گی۔ یزید کو ( جو کہ تاریخی طور پر شراب نوشی اور عیش و عشرت کا عادی تھا )نیک و صالح شخص کے طور پر پیش کرنے کی کوشش، دراصل اس کے حامیوں کی فکری تنہائی کی علامت ہے، یہ گویا سیاسی ہے کہ جیسے کوئی شخص چیتھڑوں سے بنا ہوا لباس پہنے ہوئے ہو اور لوگوں کے درمیان گھوم رہا ہو، اور وہ ان کی نظریں برداشت کرنے کا اتنا عادی ہو گیا ہو کہ اب اسے ان کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ایک محقق نے تشبیہ دی: "وہ خود کو دوسروں سے الگ تھلگ محسوس کرنے لگا، گویا اس کے اردگرد ایک ہالہ بن گیا ہو جو دوسروں کی نگاہوں کی چمک کو اس تک پہنچنے سے روکتا ہے، چنانچہ وہ اس پہلو سے بے حس ہو گیا ہے۔

یہی حال بعض یزید کے حامیوں کا ہے، جو مشکوک یا غیر مستند روایات میں الجھ جاتے ہیں، جیسے وہ روایت جو حسین بن علیؑ کی یزید کی قیادت میں قسطنطنیہ کے لشکر میں شرکت سے متعلق ہے، جیسا کہ ابن عساکر کے ہاں منقول ہے۔ یہ ایک واضح کوشش ہے امام حسینؑ کی تحریک کو بے بنیاد ظاہر کرنے اور اس کی اخلاقی مشروعیت کو ختم کرنے کی، گویا امامؑ نے اس کی امارت کو پہلے تسلیم کر لیا تھا اور پھر اس کے خلاف خروج کیا، لیکن جب ہم طبری، ابن الاثیر، ابن کثیر اور یعقوبی جیسے بڑے تاریخی مآخذ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں کہیں بھی ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی جو امام حسینؑ کی اس فوجی مہم (قسطنطنیہ کی) میں شرکت کی تصدیق کرے، حالانکہ اگر ایسا واقعی ہوا ہوتا تو یہ ایک ایسا واقعہ ہوتا جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

درحقیقت یہی طریقۂ کارہے کہ جس کے ذریعے "تقدیس گھڑی جاتی ہے" اور یہ عمل بہت حد تک کیتھولک کلیسا کے اُس طرزِ عمل سے مشابہ ہے جس میں گناہوں کی بخشش کے عوض رقم لی جاتی تھی۔ مگر بعض اسلامی بیانیوں میں یہ بخشش روحانی (یعنی معنوی) نوعیت کی ہوتی ہے ہے، جو سیاسی یا عقیدتی وفاداری کے بدلے میں دی جاتی۔یہ طرزِ فکر مسلمان عقل و شعور پر نہایت خطرناک اثرات مرتب کرتا ہے، کیونکہ اس سے کچھ شخصیات تنقید سے بالا تر ہو جاتی ہیں، چاہے ان کے جرائم کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اور یوں دین، ایک معیارِ عدل بننے کے بجائے، موجودہ صورتحال کو جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ امت جو عدل پر مبنی، مضبوط اور مصادر و موازین سے مربوط تاریخی تنقید کی صلاحیت سے محروم ہو اور سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی خیالی تقدیسوں میں ڈوب جائے وہ ایک ایسی امت بن جاتی ہے جس کی بصیرت دھندلا جاتی ہے۔ اور وہ فکری سطح پر الٹے تصورات (یعنی حقائق کو اُلٹا دیکھنے) میں مبتلا ہو جاتی ہے ،لہٰذا ایسی گمراہ کن تقدیس پر تنقید کرنا دین پر حملہ نہیں، بلکہ درحقیقت یہ سچے دین سے وفاداری اور اسے ان افراد کی غیر ضروری شخصیت سازی سے پاک رکھنے کی کوشش ہے، جو اس کے مستحق نہیں ہیں۔

شیئر: