شیخ مقداد الربیعی
اہل بیت علیہم السلام سے مروی بہت سی معتبر روایات میں کربلا میں حضرت امام حسینؑ کی زیارت کے اجر و ثواب کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ ان روایات میں سے بعض میں یہ بتایا گیا ہے کہ امام حسینؑ کی زیارت کا ثواب ہزار حج اور ہزار عمرے کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایتوں میں ایک آنسو جو انسان امام حسینؑ پر بہاتا ہے اسےپوری زندگی کے گناہوں کی مغفرت کے لیے کافی قرار دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر امام رضا علیہ السلام کی مشہور روایت میں ابن شبیب سے فرمایا:
ابن شبيب إن كنت باكياً لشيء فابك للحسين ابن علي عليه السلام فإنه ذبح كما يذبح الكبش، وقتل معه من اهل بيته ثمانية عشر رجلاً مالهم في الأرض شبيه، ولقد بكت السموات السبع والأرض لقتله. يابن شبيب إن بكيت على الحسين عليه السلام حتى تصير دموعك على خديك غفر الله كل ذنب اذنبته صغيراً كان أو كبيراً قليلاً أو كثيراً.( عيون أخبار الرضا، ص268)
اے ابن شبیب: اگر کسی چیز کے لئے گریہ کرنا چاہو، تو حسین ابن علي ابن ابی طالب(ع)کے لئے گریہ کرو کہ انہیں اس طرح ذبح کیا گیا جیسے بھیڑ کو کیا جاتا ہے اور انکے اہل بیت میں سے اٹھارہ افراد کو شہید کیا گیا، جن کی روئے زمیں پر کوئی مثال نہیں تھی۔ ان کے قتل پر ساتوں زمین و آسماں نے گریہ کیا۔۔۔ ، اے ابن شبیب! اگر تم حسینؑ پر اس طرح روؤ کہ تمہارے آنسو تمہارے رخساروں پر بہہ جائیں، تو اللہ تمہارے تمام گناہ، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، کم ہوں یا زیادہ، معاف کر دے گا۔
ایک اور حدیث میں امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: (من ذُكرنا عنده ففاضت عيناه ولو مثل جناح الذباب غفر الله له ذنوبه، ولو كانت مثل زبد البحر) (وسائل الشيعة ج4، ص501)
"جو شخص ہمارا ذکر سن کر اتنا روئے کہ اس کی آنکھ سے مکھی کے پر کے برابر بھی آنسو بہہ جائے، تو اللہ تعالی اس کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔"
اسی طرح امام رضاؑ سے ایک اور روایت میں آیا ہے:( فعلى مثل الحسين فليبك الباكون فإن البكاء عليه يحط الذنوب العظام) (نفس المصدر ج14، ص504)
حسینؑ جیسے شہید پر رونے والوں کو رونا چاہیے، کیونکہ ان پر رونا بڑے بڑے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ اشکال صرف شیعہ روایات تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے اسلامی علمی ورثے میں پایا جاتا ہے، خواہ وہ امام حسینؑ کی زیارت یا گریہ کے ثواب سے متعلق نہ بھی ہو، جیسے شبِ قدر کے اجر سے متعلق روایات۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علما کرام نے ایسے اشکالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے، جیسا کہ ہمیں ابن الجوزی کی کتاب الموضوعات میں نظر آتا ہے، جہاں انہوں نے خفی ذکر (چھپ کر ذکر کرنے) اور شبِ قدر کے ثواب سے متعلق روایات پر گفتگو کی ہے
کچھ افراد کا خیال ہے کہ اس طرح کی روایات احادیث کے اعتبار (ثقاہت) کو مشکوک بنا دیتی ہیں اور وہ انہیں الٰہی عدل کے منافی سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بظاہر سادہ سا عمل جیسے امام حسینؑ کی زیارت، واجب حج جیسے بڑے عمل کے برابر یا اس سے بڑھ کر ثواب رکھتا ہو؟
یہ اشکال نیا نہیں، بلکہ ابتدائی صدیوں سے علما اس پر گفتگو کرتے آئے ہیں۔چنانچہ علامہ مجلسیؒ نے بحار الانوار میں سید ابنِ طاووسؒ سے نقل کیا ہے کہ اس قسم کے شبہات اُس زمانے ہی سے بعض ایسے لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے تھے جو خود کو اہلِ علم سمجھتے تھے۔ (بحار الأنوار، جلد 44، صفحہ 293)
اس اشکال کا جواب دینے کے لیے علما نے مختلف پہلوؤں سے گفتگو کی ہے۔ ان میں سے ایک اہم جواب معروف محقق شیخ محمد باقر البہبودی نے دیا ہے۔ انہوں نے متعدد ایسی احادیث کو صحیح، حسن اور ضعیف کی اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے مجموعی طور پر ان کے صحیح ہونے کو تسلیم کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ روایات کثرت سے منقول ہیں اور ان پر جرح یا تاویل کی گنجائش کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، یہ روایات اُس زمانے میں بیان ہوئیں جب امام حسینؑ کا ذکر کرنا، ان پر گریہ کرنا، ان کی زیارت و مرثیہ خوانی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے مترادف تھا۔ یہ اعمال بنی امیہ کے ظلم و جبر کے نظام کے خلاف جہاد کے زمرے میں آتے تھے۔ ان کا مقصد بنی امیہ کے باطل نظام کو گرانا، ان کے طرزِ حکومت کو بدنام کرنا اور لوگوں کو ان سے دور کرنا تھا — کیونکہ ان کا طرز عمل قرآن و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انکار کے مترادف تھا۔
دوسرے الفاظ میں، امام حسینؑ کی زیارت اور ان پر گریہ اس دور میں ایک فعال احتجاج، باطل حکمرانوں کے خلاف جہاد، اور منکر کی نفی کا مظہر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ثواب اتنا عظیم قرار دیا گیا، کیونکہ یہ اعمال ان تمام مبارزات (جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر) کی جامع نمائندگی کرتے تھے۔ اور جیسا کہ واضح ہے، یہ معمولی یا سادہ اعمال نہیں تھے، خاص طور پر ایسے دور میں جب ظالم حکمرانوں کا مکمل تسلط قائم تھا۔ تاہم، ایک بات بھی واضح ہے کہ صرف اسی توجیہ پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جو روایات بیان ہوئی ہیں وہ عمومی (مطلق) نوعیت کی ہیں۔ ان میں یہ شرط نہیں پائی جاتی کہ زیارت یا گریہ صرف اُسی وقت عظیم ثواب کا باعث ہوگا جب یہ ظلم کے خلاف ایک عملی جدوجہد یا احتجاج کی صورت اختیار کرے۔ یعنی روایات میں ان پہلوؤں کی صراحت نہیں ملتی۔
اس اشکال کے جواب میں سید روح اللہ موسوی خمینیؒ نے ایک مخصوص انداز سے، نقضی جوابات (یعنی دوسرے موضوعات سے مثالیں دے کر) دیے ہیں، تاکہ بتایا جا سکے کہ زیارتِ امام حسینؑ یا ان پر گریہ کے اجر کو عجیب یا ناقابلِ قبول سمجھنا خود عقل کے خلاف ہے۔ سید خمینیؒ نے اس حوالے سے دو اہم نکات پیش کیے:
1۔ عمل سے پہلے عطا کی گئی بے شمار نعمتیں
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: (وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا)( النحل: 18) اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو، تو انہیں شمار نہیں کر سکو گے۔
اگر ہم اللہ تعالی کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں پر غور کریں جیسے سورج، چاند، چمکتے ہوئے ستارے، رات دن کا آنا جانا، موسموں کی تبدیلی، کائنات کے ذرات، عناصر، دھاتیں، نباتات، جانور، ہوا، پانی، زمین، سمندر، صحرا، بادل، بارش، زرخیز زمینیں، پہاڑ، میدان، مختلف اقسام کی غذائیں، لباس، اور وہ سب کچھ جو ہمارے جسم کے اردو گرد ہے، تو اندازہ ہوگا کہ انسان کو کس قدر غیر مشروط انعامات ملے ہیں۔ اور اگر ہم فقط اپنے جسم پر ہی غور کریں، تو اس میں موجود بے شمار نظام اور اعضاء (آنکھیں، دل، دماغ، زبان، ہاتھ، نظامِ ہضم، تنفس وغیرہ) بھی ایسی نعمتیں ہیں جو ہمیں بغیر کسی پیشگی عمل کے عطا ہوئیں۔یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہماری کسی عبادت یا نیکی کے بغیر، صرف اپنی رحمت سے عطا کیں ہیں، اور وہ بھی صرف مومنوں کو نہیں بلکہ کافروں کو بھی۔تو جب اللہ نے اپنی بے پایاں نعمتیں بغیر کسی شرط یا عمل کے عطا کیں، تو پھر یہ تعجب کیوں کہ وہ زیارتِ امام حسینؑ یا ان پر گریہ جیسے عمل پر بھی عظیم اجر دے گا؟ یعنی اگر عطا بغیر عمل کے ممکن ہے، تو عمل کے بدلے عظیم عطا کو کیسے عجیب سمجھا جا سکتا ہے؟
2۔ محدود عمل اور لامحدود ثواب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ) الحديد: 21.
"اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان و زمین کے برابر ہے، جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے وہ چاہے عطا کرتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔"
اس آیت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ، انسان کا عمل محدود ہے: چند سال کی عبادت، کچھ دن کی بندگی۔ مگر بدلہ کیا ہے؟ ایک ایسی جنت جولامحدود وقت کے لیے ہے۔جو لازوال نعمتوں سے بھری ہوئی ہے اور وسیع تر اتنی جتنا کہ آسمان و زمین۔تو کیا چند سالہ عبادت کا یہ لا محدود انعام عقل کے مطابق ہے؟ اگر یہ بات مان لی جاتی ہے کہ اللہ کا فضل محدود اعمال کے بدلے لامحدود ہو سکتا ہے، تو پھر امام حسینؑ کی زیارت یا ان پر رونے جیسے خلوص بھرے اعمال پر عظیم اجر کا وعدہ بالکل قابلِ قبول اور منطقی ہے۔
3۔ نبی کی اطاعت کا انعام: انبیاء و صدیقین کی رفاقت
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
(وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا) النساء: 69.
"جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے: یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اور وہ کتنے بہترین رفیق ہیں!
اب اگر اعتراض کرنے والا یہ اشکال پیش کرے کہ بھلا کیسے ایک عام مؤمن، جس نے صرف نماز، روزہ اور کچھ دیگر واجبات ادا کیے وہ ان انبیاء اور شہداء کے برابر ہو جائے گا جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں، دکھ جھیلے، اور دینِ خدا کی سربلندی کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا؟! تو پھر (نعوذ باللہ) ان انبیاء، بدر و احد کے شہداء کو شکایت کرنی چاہیے کہ"اے اللہ! ہم نے دین کی خاطر خون بہایا، اذیتیں برداشت کیں، اسلام کو زندہ رکھا، اور تُو ہمیں اُن لوگوں کے ساتھ کیوں شمار کرتا ہے جنہوں نے صرف زندگی کے آخری سالوں میں عبادت کی؟"لیکن ظاہر ہے کہ ایسا اعتراض اللہ کے فضل و عدل کے خلاف نہیں بلکہ اس کی رحمت کا مظہر ہے کہ جو بندہ مخلصی سے اطاعت کرے، وہ بھی اللہ کے مقربین کے ساتھ ہو سکتا ہے۔
4۔ ایک رات کی عبادت کا اجر: ہزار مہینوں سے بہتر
اسی طرح اعتراض کرنے والے کو چاہیے کہ بنی اسرائیل کی طرف متوجہ ہو، جنہوں نے ہزار مہینوں تک جہاد و عبادت کی۔ تو پھر وہ کیوں نہ اعتراض کریں کہ"اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی رات (شبِ قدر) کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا، جس میں ایک عام مؤمن کی عبادت ہمارے طویل جہاد اور بندگی سے بہتر شمار ہوئی؟! (ماخوذ از: کشف الأسرار، صفحہ 165)
ان بزرگ علما میں سے جنہوں نے "زیارت امام حسینؑ" کے اجر پر ہونے والے اشکال کا جواب دیا، ایک اہم نام علامہ مامقانیؒ کا ہے، جو معروف کتاب مرآۃ الکمال کے مؤلف ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ: "اس عظیم اجر پر تعجب کی کوئی وجہ نہیں، اگرچہ یہ اجر عام انسانوں کی عقل سے ماورا ہو۔ کیونکہ اللہ جس کے لیے چاہے ثواب کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور علم والا ہے۔ تعجب کی بات یہ بھی نہیں کہ کوئی مستحب عمل (جیسے زیارت یا گریہ) واجب عمل (جیسے حج) سے زیادہ ثواب رکھے، کیونکہ شریعت میں مثال موجود ہے کہ سلام میں پہل کرنا (جو مستحب ہے)، اس کے ثواب کی مقدار سلام کا جواب دینے (جو واجب ہے) سے کہیں زیادہ ہے۔ مزید برآں، یہ باتیں غیبی امور میں سے ہیں، جن کی حقیقت ہم پر ظاہر نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر اگر ہم ظاہری عقل سے دیکھیں تو پاؤں کے نیچے کا حصہ (باطنِ قدم) مسح کے لیے زیادہ موزوں ہے، کیونکہ "قدم" کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے،لیکن شریعت میں ظاہرِ قدم کے مسح کا حکم ہے، جو ہمیں صرف نص اور غیبی علم سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح حج کا اہم رکن "وقوف عرفات" حرم کی حدود سے باہر ہوتا ہے، حالانکہ بظاہر مسجد الحرام کا مقام افضل ہے۔(مرآۃ الکمال، جلد 1، صفحہ 175)
اس بات کا ایک مختصر جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ جو اکثر علما کے بیانات سے اخذ کیا گیا ہے کہ ثواب کی عظمت کا معیار صرف یہ نہیں کہ عمل واجب ہے یا مستحب۔ اگر ایسا ہوتا تو سلام کا جواب (جو واجب ہے)، سلام میں پہل (جو مستحب ہے) سے زیادہ ثواب رکھتا، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اسی طرح، ثواب کا دار و مدار عمل کی سختی یا آسانی پر بھی نہیں ہوتا، ورنہ وہ لوگ جنہوں نے سادہ عبادات کی ہیں، انبیاء اور صدیقین کے ساتھ نہ اٹھائے جاتے۔ اور ایک رات (شبِ قدر) کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دینا درست نہ ہوتا۔ یہ جو حدیث ہے کہ (أفضل الأعمال أحمزها)"سب سے افضل عمل وہ ہے جو زیادہ مشکل ہو" اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی قسم کے عمل میں جو صورت زیادہ مشقت والی ہو، وہ زیادہ اجر رکھتی ہے۔ جیسے حج پیدل کرنا، سوار ہو کر کرنے سے افضل ہے۔ ثواب کی عظمت کا دار و مدار مقامِ عبادت یا الفاظ کے ظاہر پر بھی نہیں ہوتا۔ جیسے وقوفِ عرفات حرم سے باہر ہوتا ہے، حالانکہ حرم افضل مقام ہے۔ یا مسح پاؤں کے اوپر کے حصے پر کیا جاتا ہے، حالانکہ نیچے کا حصہ بظاہر زیادہ "قدم" کہلانے کا مستحق ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب باتین غیبی حکمتوں پر مبنی ہیں جنہیں ہم پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔ اسی لیے دین کے بارے میں آیا ہے "دینِ خدا کو صرف عقل سے نہیں سمجھا جا سکتا"یعنی ہمیں ان احکام کو بھی ایسے ہی تسلیم کرنا ہوتا ہے، جیسے ہم دیگر عبادات کے اسرار کو تسلیم کرتے ہیں۔