الشيخ معتصم السيد أحمد
سنہ 60 ہجری رجب کے مہینے کے وسط میں جب معاویہ بن ابی سفیان وفات پا گیا، تو اس کے ساتھ ہی خلافت کے اُس تجربے کو پس پشت ڈال دیا گیا جو کم از کم ظاہری طور پر، شورائی اصول پر قائم تھا۔ یوں اسلامی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہوا، جس کا واضح عنوان تھا: "وراثتی بادشاہت"۔ معاویہ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اصرار کیا کہ حکومت کو اپنے بیٹے یزید کے لیے وراثت میں چھوڑے، اس بات کی کوئی پرواہ کیے بغیر کہ یزید اس عہدے کے لائق ہے بھی یا نہیں اور اس معاملے پر امت کی رضا حاصل ہے یا نہیں۔ معاویہ کے اس فیصلے نے خلافت کے نظام کو ایک وراثتی سلطنت میں بدل دیا، جس پر قبائلی تعصب اور خاندانی مفادات کا گہرا رنگ واضح تھا ۔ اس بنیادی تبدیلی کے ساتھ ہی مسلمان ایک نئے دور میں داخل ہو گئے، جہاں اللہ عز وجل اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت و بندگی کی بجائے آلِ امیہ سے وفاداری حکومتی عہدوں اور مراعات کی معیار بن گئی۔ اور یوں انحراف نے اسلامی نظام کے قلب میں اپنا راستہ بنانا شروع کر دیا۔ اس انحراف کے ابتدائی نتائج میں سے ایک نمایاں نتیجہ یہ تھا کہ اسلامی ریاست میں دینی و الٰہی شعور ماند پڑ گیا، اور وہ قبائلی تعصبات دوبارہ زندہ ہو گئیں جنہیں اسلام نے اپنے ابتدائی پیغام میں ہی دفن کر دیا تھا۔
اب عادل اور ظالم حاکم میں فرق مٹا دیا گیا، اور حاکمِ وقت کو ہی شرعی مرجع سمجھا جانے لگا ، چاہے وہ پرہیزگار ہو یا فاسق۔ اس سوچ کا عملی مظاہرہ اموی حکومت کے طرزِ عمل میں ہوا، جس نے نہ صرف اپنے مخالفین کو سیاست سے باہر نکالا بلکہ انہیں بدنام کرنے اور نہایت بد صفت انسان کے طور پر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ خاص طور پر اہلِ بیتؑ کے نمائندہ شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، کیونکہ وہ نبی اکرمؐ کے حقیقی جانشین اور آپ کے پاکیزہ مشن کے وارث تھے اور ان ہستیوں کا اس نظام کو قبول کئے بغیر رہنا ہی اس نظام میں انحراف کی ایک جیتی جاگتی دلیل تھا۔
عبدالرحمن بن ابی بکر نے ان تبدیلیوں کا گہرا ادراک اس وقت ظاہر کیا جب انہوں نے یزید کی بیعت کو "رومی طرزِ حکومت" سے تشبیہ دی۔ جب مروان بن حکم، جو اس وقت مدینہ میں معاویہ کا گورنر تھا، مسجدِ نبوی میں یزید کے لیے بیعت کا خط پڑھ کر سنانے لگا، تو لوگ مشتعل ہو گئے اور ماحول میں اضطراب پھیل گیا۔
اسی موقع پر عبدالرحمن بن ابی بکر نے بلند آواز سے کہا "کیا تم محمدؐ کی امت کے لیے کوئی بہتر انتخاب چاہتے ہو؟ ہرگز نہیں! تم تو اسے رومیوں کی طرح 'ہرقلی نظام' بنانا چاہتے ہو، کہ جب ایک ہرقل مر جائے تو دوسرا ہرقل اس کی جگہ لے!" یہ رومی نظام کی طرف اشارہ تھا، جہاں بادشاہت ایک ہی خاندان میں وراثت کے طور پر منتقل ہوتی تھی۔
عبدالرحمن کا یہ تبصرہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت کی عکاسی تھا:
معاویہ نے اسلامی اقدار کو اقتدار کی خواہش پر قربان کر دیا، اور حق کو ذاتی و خاندانی مفاد سے بدل دیا۔ یزید، اس تبدیلی کی واضح علامت تھا، کیونکہ وہ نہ علم میں معروف تھا، نہ پرہیزگاری یا سیاسی فہم میں، بلکہ اس کی شہرت شراب نوشی، عیش پرستی، اور بدکرداری پر مبنی تھی۔ چنانچہ صحابہ اور تابعین میں سے چند جلیل القدر شخصیات نے اس کی بیعت سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ اسے اس عظیم منصب کے لائق نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن اموی ریاست کا سانحہ یزید کی حکومت سے شروع نہیں ہوا، بلکہ اس کی جڑیں اس سے بھی پرانی ہیں۔ معاویہ خود ان افراد میں سے نہیں تھا جنہوں نے نبوت کے چشمۂ فیض سے سیرابی پائی ہو، کیونکہ اس کی پرورش مکہ کی جاہلی فضا میں ہوئی، اور وہ اُن طلقاء میں سے تھا جنہوں نے فتحِ مکہ کے بعد اسلام قبول کیا، یعنی جب قریش اسلام کے خلاف عسکری طور پر شکست کھا چکی تھی تب معاویہ وغیرہ نے اسلام قبول کیا تھا ۔ مدینہ میں اس کا قیام بھی زیادہ دیر نہ رہا کہ وہ رسول خدا اور آپ کے اصحاب سے کچھ سیکھتا، بلکہ جلد ہی خلیفہ نے اسے گورنر بنا شام بھیج دیا۔ وہاں اس نے اسلامی ریاست کے متوازی ایک نیا منصوبہ شروع کیا: "حکومت شام"، جو رومی بادشاہت کے انداز کی طرف مائل تھی، اور جس کی ساخت میں دین و رسالت کے بجائے اقتدار اور چالاکی کے عناصر زیادہ غالب تھے۔
طبری نے حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: "معاویہ میں چار خصلتیں ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے صرف ایک بھی ہوتی تو وہ اس کے لیے ہلاکت کا سبب بن جاتی:
2- اس کا نادانوں کے ذریعے اس اُمّت پر زبردستی قابض ہونا، یہاں تک کہ اس نے امت کا معاملہ ان کی مشاورت کے بغیر چھین لیا، حالانکہ اُس وقت صحابۂ کرام اور اہلِ فضیلت موجود تھے۔
2- اس کا اپنے بعد اپنے بیٹے کو جانشین بنانا، جو کہ شرابی، نشہ باز، ریشم پہننے والا، اور گانے کے آلات بجانے والا تھا۔
3- اس کا زیاد بن ابیہ کو (اپنا بھائی) قرار دینا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بچہ بستر والے کا ہوتا ہے، اور زانی کے لیے صرف پتھر ہے (یعنی اسے سزا دی جاتی ہے)۔
4- اور اس کا حجر بن عدی کو قتل کرنا۔ ہلاکت ہو اس پر، حجر کے بارے میں اس پر باربار ہلاکت ہو۔ اور یہ سب کچھ خلفاء کی بنی امیہ کے ساتھ نرمی کا نتیجہ تھا، کیونکہ خلفاء کی طرف سے انہیں قریب کیا گیا، عطیے دیے گئے، اور بعض مناصب بھی سونپے گئے، حالانکہ ان میں سے بعض ابھی تک جاہلیت کی باقیات سے پاک نہیں ہوئے تھے۔
یہ بات واضح ہے کہ ان کو قریب کرنا ان پر اعتماد کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ اس خواہش کی بنیاد پر تھا کہ انہیں غیر نیوٹرل بنایا جائے اور ان کے شر سے بچا جائے۔ لیکن جب سیاست اقدار کے معیار سے خالی ہو جائے تو وہ عدل و انصاف پر تلوار بن کر چلتی ہے۔ بنی امیہ کا اثر و رسوخ اپنے عروج پر اُس وقت پہنچا جب عثمان بن عفان خلیفہ بنے، جو خود بھی بنی امیہ میں سے تھے۔ انہوں نے بنی امیہ کے لیے اقتدار کے دروازے کھول دیے تاکہ وہ ریاست کے تمام اہم شعبوں پر قابض ہو جائیں۔ عثمان نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو مختلف صوبوں اور اعلیٰ مناصب پر فائز کیا، یہاں تک کہ خلافت تمام مسلمانوں کی نمائندہ حکومت کی بجائے بنی امیہ کا خاندانی نظام معلوم ہونے لگی ۔
ان میں سب سے نمایاں گورنر معاویہ بن ابی سفیان تھا، جو شام پر مقرر ہوا، اور اسی طرح ولید بن عقبہ کو کوفہ کا گورنر بنایا گیا، عبداللہ بن ابی سرح کو مصر کا حاکم مقرر کیا گیا، اور دیگر کئی افراد بھی بنی امیہ کے درباریوں میں شامل تھے۔ مولانا مودودی نے اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ خلافتِ مسلمین خلافتِ عثمان کے دور میں کس حال کو پہنچ گئی، فرمایا: "اس خاندان (یعنی بنی امیہ) کے وہ افراد جو خلافتِ عثمان کے دور میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہوئے، وہ سب کے سب طلقاء میں سے تھے۔ طلقاء سے مراد وہ مکی گھرانے ہیں جو آخر وقت تک نبی اکرم ﷺ اور اسلامی ریاست کے خلاف دشمنی پر قائم رہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ کے بعد اُنہیں معاف کر دیا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
معاویہ، ولید بن عقبہ، اور مروان بن حکم، ان ہی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جنہیں امان دی گئی اور نبی ﷺ نے انہیں معاف کر دیا۔ رہا عبداللہ بن ابی سرح، وہ تو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو گیا تھا، اور ان چند افراد میں سے تھا جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں کے نیچے بھی ملیں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی باشعور شخص یہ بات قبول نہیں کر سکتا کہ وہ لوگ جنہوں نے اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، اور جن کی قربانیوں سے دین کا پرچم بلند ہوا، اُنہیں پیچھے کر دیا جائے اور ان کی جگہ ایسے لوگ مسندِ اقتدار پر بٹھا دیے جائیں جو کسی طرح بھی مسلمانوں کی قیادت کے اہل نہیں تھے، بلکہ وہ صحابہ اور تابعین کی صفوں کے آخر میں آتے تھے، نہ کہ ابتدا میں۔" (خلافت و ملوکیت ، مودودی، صفحہ 65-66)
یہ اقتدار محض اتفاقی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک طویل المدت منصوبہ بندی اور بنی امیہ کی طرف سے اقتدار کے مراکز میں قدم جمانے کی شدید خواہش کا نتیجہ تھا۔ اسی وجہ سے وہ تجزیہ جو خلیفہ عمر بن خطاب کے قتل کو بنی امیہ کے مفادات سے جوڑتا ہے، کوئی مفروضہ نہیں بلکہ اس کے شواہد اور تاریخی سیاق و سباق موجود ہیں۔ عمر کے قتل نے بنی امیہ کے لیے خلافت کی راہ ہموار کی، جو عثمان بن عفان کی قیادت میں ان کے ہاتھ میں آئی۔
اسی طرح یہ بات بھی واضح ہے کہ فتنے کے واقعات اور حضرت عثمان کے قتل سے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھانے والا ابو سفیان کا گھرانہ تھا، جس کی نمائندگی معاویہ کررہا تھا۔ اسلامی دنیا میں جو بد نظمی اور شورش انہوں نے پیدا کی، وہی اُن کے لیے خلافت کا مطالبہ کرنے کا راستہ بنی۔ اگر معاملات سکون سے چلتے اور خلافت صحابۂ کرام کے درمیان بتدریج منتقل ہوتی رہتی، تو آلِ ابی سفیان کی کبھی باری نہ آتی۔ لیکن انہوں نے حالات کو جان بوجھ کر خراب کیا تاکہ وہ "گدلے پانی میں مچھلیاں پکڑ" سکیں۔ اگرچہ عثمان کا تعلق بنی امیہ سے تھا، مگر ان کی خلافت پوری طرح بنی امیہ کے حق میں نہیں تھی، اور نہ ہی یہ یقینی تھا کہ خلافت اُن کے خاندان میں ہی باقی رہے گی۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ معاویہ اس قدر پُرعزم تھا کہ خلافت کو اپنے بیٹے یزید کے لیے موروثی بنا دے، تاکہ یہ اقتدار کبھی ان کے گھرانے سے باہر نہ جائے۔
جب خلافت امام علی بن ابی طالبؑ کے ہاتھوں میں آئی، تو اس کا مقصد اقدار کا توازن بحال کرنا اور رسالت کی روح کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔ چنانچہ بنی امیہ کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ ان کا مقابلہ کریں، کیونکہ امام علیؑ ان کے منصوبے کے لیے ایک براہِ راست خطرہ بن گئے تھے۔ اسی لیے انہوں نے اُن کے خلاف ہر ممکن حربہ استعمال کیا: داخلی فتنوں سے لے کر کھلی جنگوں تک، میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیزی سے لے کر سیاسی قتل تک۔
یوں جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ جنگ جمل، پھر صفین، پھر نہروان، اور یہ سب ایک بنیادی سوال کے گرد گھومتی تھیں:اقتدار کا اصل حقدار کون ہے؟ کیا وہ جو نبوی اقدار کا تسلسل ہے؟ یا وہ جس کے پاس تلوار اور چالاکی کی طاقت ہے؟ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انجام کار، تلوار کا پلڑا بھاری رہا۔ اور جب امام علیؑ کی شہادت واقع ہوئی، پھر امام حسنؑ بھی دنیا سے چلے گئے، تو معاویہ کے لیے راستہ بالکل ہموار ہو گیا تاکہ وہ ایک مکمل بادشاہی نظام کی بنیاد رکھ سکے۔ چنانچہ اُس نے خلافت کو موروثی بنانے کے اصول وضع کیے اور لوگوں کو زبردستی یزید کی بیعت پر مجبور کیا۔ یزید کسی بھی اسلامی قدر کی پاسداری نہیں کرتا تھا، بلکہ وہ کھلم کھلا گمراہی کا مجسمہ تھا۔ اپنے مختصر دورِ حکومت میں اس نے دین کی روح کے خلاف ہر وہ کام کیا جو ممکن تھا: امام حسینؑ کا قتل، مدینہ میں قتلِ عام، خانۂ کعبہ پر حملہ — اور ان کے علاوہ بھی بہت سے جرائم۔
یزید درحقیقت معاویہ کے منصوبے کا قدرتی تسلسل تھا، مگر فرق یہ تھا کہ یزید نے وہ نقاب بھی اُتار پھینکا جو معاویہ نے چہرے پر چڑھایا ہوا تھا۔ یزید نے بنو امیہ کی حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ ایسا اقتدار جس کی کوئی دینی مشروعیت نہ تھی، اور جو جبر اور خاندانی مفادات کی بنیاد پر قائم ایک موروثی بادشاہت تھی۔ اور یہاں سب سے بڑی ستم ظریفی نمایاں ہوتی ہے: اسلام ایک ایسا دین ہے جو آزادی، عدل اور مساوات کا پیامبر ہے، لیکن اموی ریاست نے اسلام کو محض ظاہری نعروں تک محدود کر دیا، اور اس کے جوہر کو عملی زندگی سے غائب کر دیا۔ انہوں نے خود خلافت کے مفہوم کو بدل ڈالا، حکومت کو خاندانی مال غنیمت بنا دیا، لوگوں کو بادشاہوں کے غلاموں کی مانند کر دیا، اور دینی اقدار کو تخت کے حصول کے لیے زینے کے طور پر استعمال کیا۔ اسی لیے ہم اُن تمام تاریخی بیانیات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جو اس انحراف کو "فتنہ" یا "وحدتِ امت کی حفاظت" جیسے عنوانات کے تحت جواز دینے کی کوشش کرتی ہیں، کیونکہ تاریخ کو تب ہی صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے جب اس میں حق کی تلاش کا جوہر سامنے رکھا جائے، نہ کہ غالب قوتوں کے مفادات پر مبنی توجیہات۔
سیاسی بغاوت کو "فتنہ" کا نام دینا دراصل عقلوں کو دھوکہ دینا ہے، اور اس المیے کو ایک مبہم پردے میں چھپانے کی کوشش ہے، جو اس روشن حقیقت کو چھپاتا ہےکہ اسلام کو اُن لوگوں نے چُرا لیا تھا جنہوں نے اسے اپنی خواہشات کا آلۂ کار بنا لیا۔
چنانچہ، اموی دور کا آغاز کہ جسے بعض لوگ استحکام کا زمانہ قرار دیتے ہیں، درحقیقت ایسا ہرگز نہ تھا۔ بلکہ یہ ایک ہمہ گیر فکری تحریف اور شعور کو مسخ کرنے کا دور تھا، جس میں رسالت کا اصل پیغام دبنے لگا، اور اقتدار پرستی کا منصوبہ غالب آ گیا۔ حکومت نبوت کے جوہر سے دور ہو کر ایک نئی جاہلیت کی آغوش میں جا گری۔ ایسی جاہلیت جو اسلام کا نام تو لیتی تھی، مگر اس کی روح کو ذبح کر چکی تھی۔ اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اموی دور اسلامی نظام کا تسلسل نہیں تھا، بلکہ اس پر ایک گہرا انحراف اور چالبازانہ قبضہ تھا۔ ایک ایسا انحراف جس نے سمت اور اقدار دونوں کو بدل دیا۔ ان حقائق کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ تاریخ کو صحیح تناظر میں دیکھا جا سکے، اور اسلامی شعور کو اُن سرکاری بیانیوں کے تسلط سے آزاد کیا جا سکے جو درباری اور خریدے گئے قلمکاروں نے بادشاہوں کے سائے میں لکھے۔