الشيخ معتصم السيداحمد
جو شخص تاریخ کو کھلی آنکھوں اور غیر جانبدار دماغ کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ اس حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا کہ امتِ مسلمہ کی ابتدائی تاریخ سے لے کر آج تک اس کی فکری اور عملی جہتوں کو دو متضاد نظریات کی کشمکش نے تشکیل دیا ہے،ایک اقتدار کا منطق اور دوسرا رسالت کا منطق، یعنی ایک طرف وہ منطق ہے جو اقتدار کے استحکام اور حکومت کی بقا کو خود مقصد سمجھتی ہے، خواہ اس کے لیے انصاف، اخلاقی اصولوں اور دینی اقدار کو قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ دوسری طرف وہ منطق ہے جو دین کے جوہر کو اصولوں، اخلاقیات اور عدل پر استوار دیکھتی ہے، چاہے اس کی قیمت قربانیوں، جان و مال کے نقصان یا مظالم کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔یہ اختلاف محض کوئی جزوی یا فروعی نوعیت کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ فکری و عملی سطح پر ایک بنیادی اور گہرا انشقاق ہے ۔ایک ایسا نظریاتی تصادم جس کے اثرات آج تک امتِ مسلمہ کی اجتماعی صورتِ حال پر سایہ فگن ہیں، اور جس نے ہماری سیاسی، دینی اور سماجی شناخت کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔
خطِ رسالت نے ابتدا ہی سے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ جب اقتدار خود ایک مقصد بن جائے، تو وہ دین کے خلاف ہو جاتا ہے۔ پھر وہ دین کو اپنے تابع بنا لیتا ہے، اس کے مفاہیم کو بدل دیتا ہے، اپنے مفاد کے مطابق تاریخ لکھتا ہے، اور ایک ایسا جھوٹا شعور پیدا کرتا ہے جو ظالم حکمرانوں کو "اولی الامر" (فرمانبرداری کے لائق) اور حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو "باغی" بنا کر پیش کرتا ہے۔اسی لیے امام حسینؑ کا قیام اس پورے اقتداری طرزِ فکر کے خلاف ایک فیصلہ کن اعلان تھا۔ یہ منطقِ رسالت سے وفاداری کا اظہار تھا ، وہ منطق جو نہ کسی دھوکے کو قبول کرتی ہے، نہ کسی جھوٹے مفاہمت کو، چاہے اس کا نتیجہ تنہائی ہو، پیاس ہو یا جان کا نذرانہ۔
اسی لیے ہم یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ شیعہ مکتبِ فکر امام حسینؑ کی تحریک کو زندہ رکھنے پر اتنا زور کیوں دیتا ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ حسینؑ نبی اکرم ﷺ کے نواسے تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ منطقِ رسالت کے سب سے بڑے نمائندہ تھے، جو اقتدار کے غلط نظریے کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔اگر یومِ عاشورا ہمیں ظلم اور قربانی کی شدت دکھاتا ہے، تو اربعین ہمیں حسینؑ کے موقف کی گہرائی اور تسلسل کا احساس دلاتی ہے۔ اربعین صرف ایک یادگار دن نہیں، بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ اس جدوجہد کو یاد دلاتی ہے جو آج بھی جاری ہے، اور اس شعور کو جگاتی ہے جسے ظالم حکمران دبانا چاہتے ہیں یا مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب کروڑوں زائرین اربعین کے موقع پر کربلا کی جانب پیدل سفر کرتے ہیں، تو وہ محض ایک تاریخی واقعے کو یاد نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ وہ پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم آج بھی امام حسینؑ کے مشن کا حصہ ہیں۔یہ سفر دراصل حق و باطل کے درمیان جاری معرکے میں اپنی وفاداری کا اعلان ہے۔ یہ اعلان کہ ہم حسینی فکر کے وارث ہیں، اور ہم ہر اس سوچ، نظام اور طرزِ حکمرانی کو مسترد کرتے ہیں جو بنی اُمیہ کی طرح دین کو اقتدار کا آلہ بناتا ہے، چاہے وہ ماضی میں ہو یا موجودہ دور کی شکل میں۔اربعین کا یہ عظیم اجتماع نہ کوئی ثقافتی رسم ہے، نہ صرف ایک جذباتی عمل۔ یہ ایک زندہ، باشعور اور مزاحمتی اعلان ہے، جو دنیا اور تاریخ سے کہتا ہے:ہم نے ظلم کو نہ کل قبول کیا، نہ آج کریں گے؛ ہم نہ بھولے ہیں، نہ بھولیں گے؛ ہمارا راستہ تمہارا نہیں ۔ ہمارا راستہ اُس حسینؑ کا ہے، جس نے کربلا میں للکار کر کہا تھا: "ذلت ہم سے ممکن نہیں!
تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار ہمیشہ ایک باشعور قوم سے خائف رہا ہے۔ یہ خوف کوئی وقتی یا حادثاتی چیز نہیں، بلکہ ایک مستقل حقیقت ہے۔ جو یزید کے دور سے لے کر آج کے جدید نظامِ اقتدار تک، ہر دور میں دیکھی جا سکتی ہے۔اسی شعور سے خوفزدہ ہو کر طاقت کے ایوانوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ تاریخ کو مسخ کر دیا جائے۔ حق اور صداقت کی آواز بلند کرنے والوں پر "فتنہ"، "بغاوت"، اور "جماعت سے خروج" جیسے سنگین الزامات لگائے جائے ۔ دوسری طرف، انہی ایوانِ ظلم کے محافظوں کو "راشدین"، "عادلین" اور "مجتہدین" کے القاب سے نواز کر عوام کو دھوکے میں رکھا گیا، تاکہ ظلم کو عدل، اور باطل کو حق کے لباس میں چھپا دیا جائے۔ لیکن امام حسینؑ کے ماننے والوں نے صدیوں سے اس جھوٹ پر مبنی تاریخ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ وہ آج بھی حق کو اس کی اصل شکل میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک عاشورا کوئی وقتی سیاسی اختلاف نہیں تھا۔ یہ محض دو افراد یا دو گروہوں کی جنگ نہیں تھی۔ بلکہ یہ دو بالکل مختلف نظریات، دو راستوں اور دو عالمی نظریہ ہائے حیات کے بیچ ایک فیصلہ کن جدوجہد تھی۔
اربعین کی زیارت محض ایک مذہبی رسم یا روایتی اجتماع نہیں، بلکہ اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ گہرا اور فکری اعتبار سے مضبوط ہے۔یہ زیارت دراصل ایک سالانہ شعوری تربیت ہے، جس کے ذریعے افراد خود کو اس راستے سے جوڑتے ہیں جو استسلام (جھک جانے) کے منطق کے خلاف مزاحمت، قربانی کے منطق کو اختیار کرنے، اور دین کو اقتدار کے آلے کے بجائے ایک اصلاحی پیغام کے طور پر سمجھنے پر قائم ہے۔یہی وہ فکری بنیاد ہے جس کے باعث اہلِ بیتؑ کے پیروکار اس زیارت کو محض ایک روایتی یادگار کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی نظریاتی شناخت کے استحکام اور شعوری وابستگی کے تجدیدی عمل کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ زیارت اس شعور کو زندہ رکھتی ہے جو ہر دور میں دین اور سیاست کے نام پر کیے جانے والے تحریف، استبداد اور فریب کو رد کرتا ہے۔
اور یہی سے ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ہر سال زیارتِ اربعین پر تنقید کا نشانہ کیوں بنائے جاتے ہیں۔ اسے پسماندگی، فرقہ واریت یا غیر ضروری جذباتیت کا رنگ دے کر اصل پیغام کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اصل مسئلہ اس پیدل چلنے کے عمل میں نہیں، بلکہ اُس مفہوم میں ہے جو یہ سفر اپنے ساتھ لیے ہوتا ہے ۔ وہ مفہوم جو اُن نظاموں، حکومتوں اور تحریکوں کو بے نقاب کرتا ہے جو بظاہر اسلام کا نام لیتی ہیں مگر باطن میں یزیدی منطق کو اپنائے ہوئے ہیں۔پس، امام حسینؑ کی طرف یہ سفر محض ایک مذہبی روایت نہیں، بلکہ ایک شعوری اعلان ہے ۔ ایک اعلان جو یہ باور کراتا ہے کہ ہم دین کو طاقت کی چادر اوڑھا کر مسخ نہیں ہونے دیں گے، اور امت کے شعور کو حکومتی بیانیے کے تابع نہیں بنائیں گے۔
شیعہ مکتب نے اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا ہے، اسی لیے وہ زیارتِ اربعین کو ایک معمولی یا وقتی یادگار کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ اسے ایک زندہ تحریک، مسلسل بیداری اور حسینی عہد کی تجدید سمجھتے ہیں۔ یہ زیارت انہیں یاد دلاتی ہے کہ اسلام کا وہ پیغام جو کربلا سے اٹھا تھا، اسے کبھی خلافت کے محلات میں قید نہیں کیا جا سکتا۔اور دین وہ نہیں جو مؤرخینِ دربار نے لکھا، بلکہ دین وہ ہے جو امام حسینؑ نے اپنے لہو سے لکھا ۔ جسے امام زین العابدینؑ اور حضرت زینبؑ نے قید و اسیری کے سفر میں زندہ رکھا اور نسلوں تک پہنچایا۔ یہی سفر، یہی پیغام، یہی راہ - جو کربلا سے کوفہ و شام تک گئی ۔ آج بھی وہ سچا اور زندہ راستہ ہے جس سے اسلام، تاریخ اور امت کی موجودہ حالت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اربعین ہمیں ہر سال یہ یاد دلاتی ہے کہ حق کی راہ قربانی، استقامت اور شعور سے بنتی ہے، نہ کہ اقتدار، روایت یا تحریف سے۔
جب زیارتِ اربعین کو اس فکری اور معنوی سیاق میں سمجھا جائے تو یہ محض ایک مذہبی موقع یا روایتی اجتماع نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک زندہ اور واضح اعلان بن جاتا ہے کہ ہم مزاحمت کی صف میں کھڑے ہیں، نہ کہ خاموشی یا مفاہمت کی صف میں، اور ہم اصلاح و اصول کے منطق کو اختیار کرتے ہیں، نہ کہ ظلم کے لیے تیار کیے گئے جوازوں کو۔ اربعین امام حسینؑ کے راستے سے وابستگی کا عملی اظہار ہے، جو یزید کے طرزِ فکر اور طرزِ حکومت کے مقابل میں ایک مستقل اعلانِ براءت ہےان کو اقتدار کا آلہ، تاریخ کو طاقت کے تابع، اور عوامی شعور کو مطیع بنانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
زیارتِ اربعین یادداشت کی ایک زندہ علامت ہے، جو صدیاں گزرنے کے باوجود بھی اپنے پیغام کو نہ صرف محفوظ رکھے ہوئے ہے بلکہ ہر سال کروڑوں زائرین کے قدموں اور آنکھوں کے آنسوؤں کے ذریعے اسے تازہ کرتی ہے۔ زیارتِ اربعین مسلمانوں کے مذہبی کیلنڈر کا ایک عارضی یا روایتی دن نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ کربلا کا پیغام ختم نہیں ہوا، امام حسینؑ کی تحریک ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ عمل ہے، اور منطقِ اقتدار اور منطقِ رسالت کے درمیان کشمکش آج بھی معاشروں کی سوچ، اجتماعی کردار اور انسانی طرزِ عمل میں جاری ہے۔کربلا کی طرف اٹھایا جانے والا ہر قدم اس تاریخی حقیقت کو جھٹلانے والی تمام کوششوں کا انکار ہے، اور امام حسینؑ کی تربت پر گرنے والا ہر آنسو مظلوم سے دائمی وفاداری اور ظالم سے کھلا انکار ہے۔
ایک ایسی دنیا میں جہاں خیانتیں معمول بن چکی ہوں اور مفاد پرستانہ سمجھوتوں کو "سیاسی حقیقت پسندی" کے طور پر پیش کیا جاتا ہو، زیارتِ اربعین آج بھی ایک زندہ اور بیدار ضمیر کی صدائے احتجاج ہے، جو اس بات کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے کہ ظلم کو دین کی زبان میں پیش کیا جائے، یا خاموشی کو حکمت کا نام دے کر حق کو دفن کیا جائے، یا تاریخ کو مسخ کر کے حال کو مطیع بنایا جائے۔ اربعین اس پوری فکری گمراہی کے خلاف ایک واضح موقف ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دین کا اصل چہرہ اقتدار کے پردوں میں چھپانے کے لیے نہیں بلکہ ظلم سے ٹکرانے کے لیے ہے۔
جو شخص امام حسینؑ کے راستے پر چلتا ہے، وہ محض ان کے روضےکی زیارت کے لیے نہیں جاتا، بلکہ وہ ان کے شعور، ان کے موقف اور ان کے انقلابی منصوبے سے وابستگی کے عہد کی تجدید کے لیے جاتا ہے۔ وہ اس راستے سے واپس لوٹتا ہے تو ایک نئے شعور، ایک زندہ عہد، اور ایک اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ لوٹتا ہے۔
اسی لیے زیارتِ اربعین ہر سال ہمارے لیے ایک نئے عہد کی تجدید بن جاتی ہے۔ یہ وعدہ کہ جب تک ہم امام حسینؑ کی یاد کو زندہ رکھتے ہیں، ہم کبھی اس تاریخ کو سچ نہیں مانیں گے جو ظلم کے محلات میں لکھی گئی ہو، اور نہ ہی ہم اصلاح و حق کی اُس پرچم کو زمین پر گرنے دیں گے جو امام حسینؑ نے کربلا میں بلند کیا تھا۔یہ زیارت ہمیں ہر سال یاد دلاتی ہے کہ ہم امام حسینؑ کے راستے پر ہیں، نہ کہ ان ظالموں کی راہوں پر جنہوں نے دین کو اقتدار کے تابع کر دیا تھا۔