واپس
فتنہ کبری سے موجودہ فرقہ واریت تک کا سفر

فتنہ کبری سے موجودہ فرقہ واریت تک کا سفر

الشيخ معتصم السيد أحمد اسلامی تاریخ کے دھارے کو بدلنے والے اہم واقعات میں سے ایک اہم واقعہ جسے مورخین نے "فتنہ کبریٰ" کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہ در اصل واقعات کا ایک سلسلہ تھا جس کی چنگاری خلیفہ عثمان بن عفان کے خلاف اٹھنے والی بغاوت سے بھڑکی اور ان کے قتل پر منتج ہوئی، جس کے بعد اسلامی معاشرے میں بدا...

الشيخ معتصم السيد أحمد

اسلامی تاریخ کے دھارے کو بدلنے والے اہم واقعات میں سے ایک اہم واقعہ جسے مورخین نے "فتنہ کبریٰ" کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہ در اصل واقعات کا ایک سلسلہ تھا جس کی چنگاری خلیفہ عثمان بن عفان کے خلاف اٹھنے والی بغاوت سے بھڑکی اور ان کے قتل پر منتج ہوئی، جس کے بعد اسلامی معاشرے میں بدامنی اور اختلافات کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لہر جنگ جمل، صفین اور نہروان جیسے بڑے معرکوں تک جا پہنچی، اور اسلامی دنیا میں اس کے نتیجے میں شدید مسلکی تقسیمات پیدا ہوئیں، جنہوں نے مسلمانوں کو ایک مستقل خانہ جنگی کی حالت میں ڈال دیاکہ جس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔ موجودہ دور کی سیاست نے ان تاریخی واقعات کومذھبی تنازعات کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کیا، چنانچہ دنیا کے مختلف گوشوں سے جنگجو گروہ عراق و شام میں شیعوں سے لڑنے کے لیے "نصرتِ صحابہ" کے نعرے کے تحت نکل کھڑے ہوئے، اور علاقائی طاقتوں نے یمن میں اُبھرتے ہوئے "شیعہ وجود" کو دبانے کے لیے اتحاد قائم کیا، جبکہ شیعوں نے علی علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کے پرچم بلند کیے اور اپنی شناخت اور مقدسات کے دفاع میں شدید معرکے لڑے۔

سقيفہ بنی ساعدہ کے بعد رسالت کے راستے میں جو انحراف پیدا ہوا، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ایک دائمی مسلکی تصادم میں بدل گیا، جو آج بھی مذہبی اور مسلکی نعروں کے تحت جاری ہے، حالانکہ اس کا اصل جوہر محض دین کو سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ کتنے ہی خون بہائے گئے، اور کتنی ہی اقوام کو تہہ تیغ کر ڈالا گیا، صرف اس لیے کہ کچھ لوگوں نے اسلام کو دین اور اصولوں کا مجموعہ سمجھنے کے بجائے اسے غلبہ و تسلط کے منصوبوں کی تکمیل کا ہتھیار بنا لیا۔

عصر حاضر کی سیاسی قوتوں نے، خواہ وہ علاقائی حکومتیں ہوں یا بین الاقوامی ادارے، اس تاریخی اختلاف کو فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کیا۔ ہم نے خاص طور پر عراق، شام اور یمن میں خونریز جھڑپیں دیکھیں جن میں "دفاعِ صحابہ" کے نام پر "اہل بیت علیہم السلام کے پیرو کاروں پر حملے کئے گئے ، فرقہ وارانہ عنوانات کے تحت لشکر اور مسلح گروہ حرکت میں آئے، حالانکہ ان جنگوں کا اصل ہدف وہ سیاسی ایجنڈے تھے جن کا محبت یا نفرت، ایمان یا کفر سے کوئی تعلق نہ تھا۔

یہ صورتِ حال صرف موجودہ دور کی پیداوار نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ میں بھی اس کے خونریز نقوش ملتے ہیں، جنہیں مؤرخین نے اپنی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ سنی و شیعہ کے نام پر بہت سی خونریزیاں کی گئیں۔  سنہ 354 ہجری کے واقعات میں ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ بغداد کے "مسجد براثا" پر بعض اہلِ سنت نے حملہ کیا اور وہاں موجود شیعہ افراد کو قتل کر دیا۔

سنہ 350 ہجری میں اہلِ سنت نے ترک اور زنجی سپاہیوں کی مدد لی، جو راہ چلتے لوگوں سے پوچھتے کہ تمہارے ماموں کون ہیں؟ اگر وہ معاویہ کا نام نہ لیتے تو انہیں پیٹتے۔ مصر میں اہلِ سنت جب شیعوں سے لڑنا چاہتے تو گلیوں میں نعرہ لگاتے: "معاویہ علی کے بھی ماموں ہے"۔

سنہ 363 ہجری میں ایک بڑی فتنہ انگیزی اُس وقت ہوئی جب کچھ اہلِ سنت نے شیعوں کے یومِ غدیر اور عاشور کے عزاداری کے مقابلے میں کہا: "ہم علی والوں سے لڑیں گے"۔ اس کے نتیجے میں دونوں طرف سے بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔

سنہ 555 ہجری میں نیشاپور میں حنفیوں اور دوسری طرف شافعیوں اور شیعوں کے درمیان مسلکی تعصب نے ایک عظیم خونریزی کو جنم دیا، جس میں علما اور فقہا سمیت بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے، بازار، مدارس اور گھروں کو جلا دیا گیا۔

عثمانی دورِ حکومت میں دربار کے ایک نام نہاد عالم (شیخ نوح حکیم حنفی) کے ایک فتویٰ کے نتیجے میں اناطولیہ (ترکی) میں 40 سے 70 ہزار شیعہ، جبل عامل (لبنان) میں 44 ہزار اور حلب (شام) میں 40 ہزار شیعہ سلطان سلیم اول (متوفی 925 ہجری) کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔ سلطان نے حکم دیا تھا کہ عثمانی سلطنت میں جہاں کہیں بھی شیعہ ملیں، انہیں قتل کر دیا جائے۔ حتیٰ کہ روایت کے مطابق حلب میں کوئی شیعہ باقی نہ رہا؛ ان کے مردوں کو قتل کیا گیا، عورتوں کو قیدی بنایا گیا، اموال لوٹے گئے، اور جو بچے تھے، انہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا۔ شیخ نوح کا فتویٰ، جو کتاب "الفتاوى الحامدية" میں مذکور ہے، میں شیعوں سے قتال کو واجب اور ان کے قتل کو جائز قرار دیا گیا ہے، اور جو شخص ان کے کفر یا قتال میں شک کرے، اسے بھی کافر کہا گیا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

"یہ شیعہ کافر، باغی، فاجر ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کفر، بغاوت، عناد، فسق، زندقہ اور الحاد کی تمام اقسام کو جمع کر دیا ہے، اور جو شخص ان کے کفر، الحاد، قتال کی وجوبیت یا قتل کے جواز میں شک کرے، وہ بھی ان ہی کی طرح کافر ہے... پس ان خبیث کافروں کو قتل کرنا واجب ہے، چاہے وہ توبہ کریں یا نہ کریں۔"

سنہ 407 ہجری میں شمالی افریقہ کے علاقوں میں المعز بن بادیس نے شیعوں کے خلاف نہایت وحشیانہ اور وسیع پیمانے پر قتلِ عام کیا، یہاں تک کہ ان علاقوں میں شیعہ آبادی تقریباً ختم ہو گئی۔ پھر سنہ 450 ہجری میں سلاجقہ نے بغداد میں ایک ہولناک قتل عام کا ارتکاب کیا ، جس میں شیعوں کے گھروں اور کتب خانوں کو جلا دیا گیا، اور اسی دوران شیخ طوسی کو نجف اشرف ہجرت کرنا پڑی، جہاں انہوں نے حوزہ علمیہ نجف الاشرف کی بنیاد رکھی۔

یہ تمام واقعات ایک ایسے تاریخی سیاق کی تشکیل کرتے ہیں جسے آج کے فرقہ وارانہ حالات سے جدا نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ آج بھی تاریخ کو ایک مسخ شدہ، تعصب زدہ زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تاریخی شخصیات کو مقدس علامات بنا دیا گیا ہے اور فرقوں کو جامد سانچوں میں ڈھال دیا گیا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی کسی خاص صحابی کے سیاسی موقف یا کسی تاریخی واقعے پر علمی تنقید یا اظہار نظر کرے تو اسے گویا دینِ اسلام پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

جو یہ سمجھتا ہے کہ فتنہ کبریٰ محض ایک گزرا ہوا واقعہ ہے، وہ اس تاریخی تسلسل کو نہیں سمجھتا جو اُمت کے اجتماعی شعور کا حصہ بن کر نئے واقعات کا سبب بنتا ہے ۔

آج کے مسلمانوں کے رویے اُن کے تاریخی واقعات سے متعلق مؤقف سے الگ نہیں ہیں، کیونکہ شیعہ اور سنی کے مابین جو اختلاف ہے، وہ نہ تو آج کا پیدا کردہ ہے، اور نہ ہی یہ اکیسویں صدی کی فکری تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، بلکہ یہ براہِ راست ان تاریخی واقعات کا نتیجہ ہے جو سقيفہ کے واقعے سے شروع ہوئیں، خلافتِ عثمان پر اٹھنے والی تحریک سے سے لیکر صفین و جمل جیسے معرکوں میں یہ بہت واضح ہوئیں، اور کربلا میں آ کران کی شناخت بالکل جدا ہو گئے۔

چنانچہ آج کے مسلمان کی دینی و فکری شناخت، یا تو علوی راستے کا تسلسل ہے یا اموی راستے کا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ اسلام درحقیقت اسی گزرے ہوئے ماضی کی پیداوار ہے، جسے نہ نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنا فرقہ وارانہ بحران کو سلجھانے کی جانب پہلا قدم ہے، جو امتِ مسلمہ کے وجود کو چیر پھاڑ کر رکھے ہوئے ہے۔ اگر ہم واقعی اس بحران کی آگ کو بجھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی جڑوں تک جانا ہوگا، یعنی اختلاف کے بنیادی اسباب کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ دین کو سیاسی مقاصد کے لیے سواری بنانے کا عمل ہی وہ چیز ہے جس نے یہ گہرا تضاد پیدا کیا، ماضی میں بھی اور آج بھی۔

جب ہم اسلام کو ایک ابدی اصولوں اور اقدار کے نظام کے طور پر وراثتی روایت کو ایک انسانی اجتہاد اور عمل کے طور پر دیکھتے ہیں ، تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے تنازعات دین کی حفاظت کے لیے نہیں تھے، بلکہ دین کو استعمال کرنے کے لیے تھے۔ سقيفہ پہلا واقعہ تھا جس میں اسلام کو اقتدار کے منصوبے کے لیے استعمال کیا گیا، فتوحات بھی دولت اور اثر و رسوخ کے لیے دین کے استعمال کی ایک شکل تھیں، اور فتنہ کبریٰ بھی اسی سیاق میں ایک ایسا آلہ بن گیا جسے بنو امیہ نے اپنے تسلط کو مضبوط کرنے کے لیے مذہب کے نام پر استعمال کیا۔ آج بھی ہمارے خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی پرانے طرز کا ایک نیا نمونہ ہے، جس میں مذہبی علامات اور نعرے علاقائی و بین الاقوامی سیاسی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

آج جو فرقہ واریت ہم دیکھ رہے ہیں، وہ درحقیقت اقتدار کی اس کشمکش کا براہِ راست تسلسل ہے جو فتنہ کبریٰ کے بعد نمایاں طور پر سامنے آئی، اور اگر اس موجودہ صورتِ حال کا کوئی سنجیدہ حل تلاش کرنا ہے، تو اس تاریخی تقسیم کی بنیادی جڑوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اُس نازک اور فیصلہ کن مرحلے کی طرف لوٹنا ہوگا، مگر کسی مسلک کی فتح کے لیے نہیں، بلکہ صرف سچائی کی حمایت کے لیے۔ کیونکہ جب سچائی مؤمن کا قبلہ بن جائے، تو فرقہ وارانہ وابستگی کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے، اور اصول اور اقدار پرقائم موقف معیار بن جاتا ہے۔

جو شخص اسلام کو خلافت کے تجربے کا اسیر بنا دیتا ہے اور اُس دور کی شخصیات کو ایسی تقدیس عطا کرتا ہے کہ اُن پر تنقید یا نظرثانی ممکن نہ رہے، وہ درحقیقت اُنہی سیاسی نظاموں کا تابع رہتا ہے جو دین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور جو یہ سمجھتا ہے کہ بعض صحابہ پر تنقید گویا اسلام کو منہدم کرنے کے مترادف ہے، وہ کبھی بھی کسی اختلافی آواز یا متبادل روایت کو قبول نہیں کر سکے گا۔ ایسی ذہنیت جو الٰہی وحی اور انسانی عمل کے درمیان فرق نہیں کر سکتی، وہی دراصل فرقہ واریت کے بیج مذہبی گفت و شنید کی زمین میں بو رہی ہے۔

یہ درست نہیں کہ فرقہ واریت کو خالص دینی غیرت کا مظہر سمجھا جائے، بلکہ اکثر اوقات یہ تاریخ کے بارے میں ایک بند ذہنی رویّے کا نتیجہ ہوتی ہے، جو انسانی موقف اور اجتہاد کو ایسی عقیدتی حیثیت دے دیتی ہے جو سوال یا تحقیق کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی۔ تاریخی شخصیات کے اندھے دفاع اور ان کے افکار کے بجائے ان کی ذات سے وابستگی ہی وہ رویہ ہے جو اختلاف کو ہوا دیتا ہے اور تنازع کو بڑھاتا ہے۔

اسلامی حکومتوں کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو وقتی طور پر دبانے کی کوششیں محض وقتی مرہم ہوتی ہیں، جنہیں وہ صرف اُس وقت اپناتی ہیں جب فرقہ وارانہ کشیدگی اُن کے مفاد میں نہیں ہوتی، لیکن جیسے ہی انہیں اس کشیدگی کی ضرورت پیش آتی ہے، وہی حکومتیں دوبارہ آگ بھڑکانے لگتی ہیں۔ اگر ہم مختلف مسالک کے درمیان ماضی میں کسی حد تک موجود پرامن بقائے باہمی کے ادوار پر غور کریں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ سیاسی ضرورت کے تحت پیدا ہونے والے سکون کے لمحات تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فرقہ واریت کا پس منظر کسی عقیدتی اختلاف سے زیادہ سیاسی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔

لہٰذا، اس فرقہ وارانہ ہتھیار کو ناکارہ بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان ایک تنقیدی شعور سے لیس ہو، جو تاریخ کو تقدیس اور اندھی تقلید سے ہٹ کر علمی تناظر میں پڑھے، اور تب جا کر اسے یہ احساس ہوگا کہ تاریخ میں جو کچھ بھی ہوا، وہ اکثر اسلام کے الہام سے نہیں، بلکہ اقتدار کے احکام سے ہوا۔اگر ہم ان خطابات پر غور کریں جو فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں، تو ہمیں نظر آئے گا کہ وہ ایسے بیانیے پر قائم ہیں جو عوام کو اُن افراد کے خلاف بھڑکاتے ہیں جو تاریخی شخصیات پر تنقید یا سوال اٹھاتے ہیں۔ ان شخصیات کو عوامی شعور میں ایسی مقدس "سرخ لکیریں" بنا دیا گیا ہے کہ لوگ ان کے لیے جان دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ان شخصیات کو اسلام سے الگ کرنا ہی اس اشتعال انگیز خطابات کے اثر کو زائل کرنے کی پہلی شرط ہے۔

آج کے دور میں یہ ممکن نہیں رہا کہ شیعہ مسلک کے بعض صحابہ کرام سے متعلق مؤقف کو چھپایا جا سکے، اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ تمام شیعہ افراد کو پابند کیا جائے کہ وہ دوسروں کی مقدسات پر کوئی تنقید نہ کریں۔ یہ باتیں اب عام ہو چکی ہیں، چھپائی نہیں جا سکتیں، یہ چھپتی نہیں بلکہ شائع ہوتی ہیں، سکرینوں پر دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں گالم گلوچ یا توہین پر پابندی کا فتویٰ دینا یقیناً ضروری ہے، مگر یہ فتاویٰ اس گہرے فکری اور تاریخی اختلاف کو ختم نہیں کر سکتیں جو دونوں فریقین کے درمیان تاریخی شخصیات کی قدر و قیمت کے حوالے سے موجود ہے۔

لہٰذا اس اختلاف کا حل صرف ایک منضبط، شائستہ علمی مکالمے میں ہے جو سب کی عزت کو محفوظ رکھتے ہوئے ہو۔ شیعہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حدودِ ادب سے تجاوز کرے، اور سنی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ علمی تحقیق کا دروازہ بند کر دے، جب تک تحقیق تاریخی دستاویزات اور واقعات کی روشنی میں کی جا رہی ہو۔یہ تاریخی ورثہ امت کے کندھوں پر ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے، اور آج کے مسلمان کے پاس اس سے آنکھ چرانے کے بجائے، اسے شجاعت سے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ایک پختہ شعور پروان چڑھے جو اسلام کو ایک الٰہی اور ابدی پیغام کے طور پر دیکھے، اور صحابہ کو ایسے انسانوں کے طور پر، جن کا تجزیہ اور نظرثانی ممکن ہے۔

اس سیاق میں ایک ذاتی واقعہ بیان کرنا مناسب ہوگا، جو میرے  تونس سے قاہرہ کے ایک سفر کے دوران پیش آیا۔ میرے برابر میں لیبیا میں سرگرم ایک اسلامی جماعت کا رہنما بیٹھا تھا۔ شروع میں میں نے ان کے ساتھ کسی مذہبی بحث سے گریز کیا، خاص طور پر اس لیے کہ ان کی ظاہری شکل و صورت سخت تعصب کا تاثر دے رہی تھی۔ مگر وہ خود خاموش نہ رہے۔ جلد ہی انہوں نے اسلامی دنیا کی صورتحال اور عرب بہار کے بعد اسلام پسندوں کی امیدوں پر گفتگو شروع کر دی، اور میں نے بہت احتیاط سے ان کی باتوں کا ساتھ دینا شروع کیا۔ یہ گفتگو ایسے ہی جاری رہی، یہاں تک کہ میرے منہ سے "ایرانِ اسلامی" کا ذکر آ گیا۔ یہ سنتے ہی ان کی لہجے میں اچانک سختی آ گئی، اور انہوں نے غصے سے کہا: "یہ سب رافضی نجس لوگ ہیں۔ میں نے جواب دیا: "ہم سیاست کی بات کر رہے ہیں، اور سیاست نہ دین دیکھتی ہے نہ مسلک۔ اگر ہم آپ کی رائے کو تسلیم بھی کر لیں، تو اس سے سیاست کی نوعیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، بالکل ویسے ہی جیسے ہم ان حکومتوں سے معاملہ کرتے ہیں جن کے حکمران بدھ مت یا عیسائیت کے پیروکار ہوتے ہیں۔

لیکن انہوں نے بات کاٹتے ہوئے کہا: "ان سب سے اسلام کو اتنا خطرہ نہیں جتنا رافضیوں سے ہے۔ تشیع ایک ایسا مسلک ہے جو اسلام کو اندر سے تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ وہ کسی بھی بیرونی خطرے سے زیادہ خطرناک ہیں۔" اس پر میں نے ہمت کر کے ان سے پوچھا: "شیعوں سے اصل مسئلہ کیا ہے؟" تو انہوں نے بلا تردد کہا: "مسئلہ یہ ہے کہ وہ صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں، اور دین صحابہ کے بغیر باقی نہیں رہتا۔"

میں نے ان سے گزارش کی کہ وہ میرے ساتھ ایک ذہنی خاکہ تصور کریں، جو دو دائروں پر مشتمل ہو: پہلا دائرہ اُس اسلام کی نمائندگی کرتا ہے جس میں عقائد، احکام اور شریعت شامل ہے، اور دوسرا دائرہ اُن لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو ان عقائد پر ایمان رکھتے ہیں اور اُنہیں اپناتے ہیں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا:

"کیا دوسرے دائرے میں لوگوں کا وجود پہلے دائرے میں اسلام کے باقی رہنے کے لیے ضروری ہے؟ یعنی، کیا اسلام کا وجود اس بات پر موقوف ہے کہ لوگ اس پر ایمان لائیں؟"

انہوں نے پورے اعتماد اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا: "اسلام تو اسلام ہے، چاہے انسان پیدا بھی نہ ہوتے، کیونکہ وہ حق ہے، اور حق کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔" میں نے کہا: "بہت خوب! تو صحابہ کو آپ کس دائرے میں رکھیں گے؟ پہلے میں یا دوسرے میں؟" کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ بولے: "ظاہر ہے دوسرے دائرے میں، وہ بھی باقی انسانوں کی طرح مؤمن اور مکلف ہیں۔" میں نے کہا: "تو پھر مسئلہ شیعوں کے ساتھ کیا ہے؟ وہ تو پہلے دائرے یعنی اسلام کی حقیقت پر کوئی اعتراض نہیں کرتے، بلکہ صرف دوسرے دائرے میں موجود بعض افراد کے مقام و کردار پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یعنی وہ ان لوگوں کے اخلاص یا انحراف پر بات کرتے ہیں، نہ کہ خود اسلام کے اصولوں پر۔ جبکہ آپ نے جن یہودیوں اور عیسائیوں کو کم خطرناک قرار دیا، وہ تو پہلے دائرے، یعنی اسلام ہی کا انکار کرتے ہیں۔" یہ سن کر وہ طویل خاموشی میں ڈوب گئے، اور ان کے چہرے پر حیرت اور صدمے کے آثار نمایاں تھے۔ پھر ایک طویل گفتگو کے بعد، جس میں میں نے ان کے ذہن میں راسخ کئی غلط فہمیاں واضح کیں، وہ قدرے پُرسکون لہجے میں بولے: "شاید واقعی وقت آ گیا ہے کہ ہم شیعوں کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر پر نظرثانی کریں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس موضوع پر غیر جانبدارانہ نگاہ سے تحقیق کروں گا۔" مجھے کامل یقین ہے کہ کوئی بھی شخص جس کے اندر عقل و انصاف کی رمق باقی ہو، اگر اس کے سامنے حقائق اس وضاحت سے پیش کیے جائیں تو وہ اپنے خیالات پر ضرور نظرِ ثانی کرے گا۔ لیکن جو شخص تعصب میں اندھا ہو چکا ہو، اور جس نے اپنا دل و دماغ بند کر لیا ہو، وہ وقت کی کارواں سے کٹ کر اکیلا رہ جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ تنہائی میں گھرا ہوا ہے، جہالت اور نفرت کی دیواروں کے درمیان قید ہے ۔

اسی لیے فرقہ واریت کوئی وقتی انحراف نہیں، بلکہ ایک قدیم نزاع کا تسلسل ہے، جس کے اصل اسباب کو چھپا دیا گیا اور اسے دین کا لبادہ پہنا دیا گیا۔ اس لعنت سے نجات کا راستہ اختلافات پر پردہ ڈالنے میں نہیں، اور نہ صرف ظاہری وحدت کی دعوت دینے میں ہے، بلکہ اس کا واحد حل خود احتسابی میں ہے: اس بات کا اعتراف کہ ہمارے ماضی کا ایک بڑا حصہ سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہوا، اور یہ کہ اُس ماضی کو غیر معقول تقدیس دے کر آج کے زمانے پر مسلط کرنا کسی صورت درست نہیں۔

شیئر: