واپس
امام حسینؑ پر رونے کے خصائص و اثرات کا خلاصہ

امام حسینؑ پر رونے کے خصائص و اثرات کا خلاصہ

السيد علي العزام الحسيني اس مقالے میں کوئی نئی بات نہیں ہے، نہ ہی کسی پچھلی غلطی کی اصلاح ہے، اسی طرح نہ کسی کمی کی تلافی اور نہ ہی کسی ابہام کی وضاحت ہے۔ اس مقالے کے لکھنے کی ایک وجہ موجودہے وہ ہے کسی لمبی بات کو مختصر کرنا، بکھری ہوئی باتوں کو یکجا کرنایا بےترتیب مواد کو ترتیب دینا ہے۔ امام حسینؑ...

السيد علي العزام الحسيني

اس مقالے میں کوئی نئی بات نہیں ہے، نہ ہی کسی پچھلی غلطی کی اصلاح ہے، اسی طرح نہ کسی کمی کی تلافی اور نہ ہی کسی ابہام کی وضاحت ہے۔ اس مقالے کے لکھنے کی ایک وجہ موجودہے وہ ہے کسی لمبی بات کو مختصر کرنا، بکھری ہوئی باتوں کو یکجا کرنایا بےترتیب مواد کو ترتیب دینا ہے۔ امام حسینؑ پر رونے کے بارے میں بہت طویل بات ہو چکی ہے، جہاں روایات بہت تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہےاور تجزیہ معلومات کے ساتھ خلط ہو گیا ہے۔اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ ان سب کو منظم طریقے سے یکجا کروں، ترتیب کے ساتھ مختصر کروں اور انہیں دو حصوں میں پیش کروں: خصوصیات اور اثرات کو اس  انداز میں بیان کروں گا کہ الفاظ کم ہوں اور معانی زیادہ ہوں۔

الف: جہاں تک امام حسینؑ پر رونے کے خصائص کی بات ہے تو اہم ترین خصائص یہ ہیں:

1-نبی اکرمؐ نے امام حسینؑ پر ان کی شہادت سے پہلے روئے

ایسا مختلف مواقع اور مختلف اوقات میں کئی بار ہوا کہ امامؑ کی پیدائش سے پہلے، پیدائش کے دن اور آپؑ بچپن میں گریہ فرمایا۔ کبھی باقاعدہ سوگ کی کیفیت تھی اور کبھی اس کے بغیر بھی ایسا ہوا۔ یہ واقعہ کبھی حضرت اُمِّ سلمہؓ کے گھر میں پیش آیا، کبھی حضرت عائشہؓ کے گھراور کبھی حضرت علیؑ اور سیدہ فاطمہؑ کے گھر پیش آیا جہاں نبی اکرمﷺ امام حسینؑ پر روئے۔ اس کی تفصیلات روایات میں مذکور ہیں۔

2- امام حسینؑ پر گریہ سے نماز باطل نہیں ہوتی

مؤمنین پر پوشیدہ نہیں کہ نماز کے دوران جان بوجھ کر رونا عام طور پر نماز کو باطل کرنے والے امور میں سے ہے لیکن بہت سے بڑے فقہاء نے اس حکم سے ایک استثناء ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ اگر نماز میں گریہ سید الشہداءؑ کی مصیبت پر (قربتِ الٰہی کی نیت سے) ہویا اس کے دائرہ کار کو بڑھائیں تو یہ گریہ اہلِ بیتؑ کے مصائب پر ہو تو وہ نماز کو باطل نہیں کرتا جیسا کہ آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی کے رسالہٴ عملیہ میں بیان ہوا ہے (دیکھیے:  المنهاج ، ج1، ص236)۔

3-جزع کی مکروہیت سے مستثنیٰ ہے۔

اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں، جن میں سے ایک صحیح روایت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "ہر قسم کا جزع اور رونا مکروہ ہے، سوائے امام حسینؑ پر جزع اور رونے کے" (بحارالأنوار، ج 44، ص 280)۔

4- ایمان کی نشانی

مؤمنین کو حسین بن علیؑ کا یہ مشہور قول یاد ہے: "میں قتیل عبرت ہوں ، کوئی مؤمن مجھے یاد نہیں کرتا مگر وہ روتا ہے۔" کامل الزیارات میں اس پر ایک پورا چھتیسواں باب ہے: "امام حسینؑ… کوئی مؤمن انہیں یاد نہیں کرتا مگر وہ روتا ہے!"جس طرح امامؑ کے والد امیرالمؤمنینؑ کی محبت ایمان کی علامت ہے، اسی طرح امام حسینؑ پر رونا بھی ایمان کی علامت ہے۔

5- آپ پر کائنات روتی ہے

اس بارے میں سب مسلمانوں کے ہاں روایات بکثرت موجود ہیں کہ امام حسینؑ پر آسمان، زمین، فرشتے، جنّات، پتھر روئے، سورج گرہن میں آگیا اور دوپہر کے وقت ستارے نظر آنے لگے، یہاں تک کہ گمان ہوا کہ قیامت برپا ہو گئی ہے (دیکھیے: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ، ج9، ص196)۔ حقیقت یہ ہے کہ آپؑ کے لیے تمام مخلوقات روئیں، وہ بھی جو نظر آتی ہیں اور وہ بھی جو نظر نہیں آتیں (دیکھیے: الکافی ، ج4، ص576)۔

ب: گریہ کے اثرات نہایت اختصار کے ساتھ درج ذیل ہیں:

1-وہ آنکھ جو امام حسینؑ پر روئی ہو، قیامت کے دن نہیں روئے گی۔

امیرالمؤمنینؑ سے ایک طویل حدیث میں آیا ہے: "قیامت کے دن ہر آنکھ رونے والی اور جاگتی ہوگی، سوائے اس آنکھ کے جسے اللہ نے اپنی کرامت کے لیے خاص کیا ہو اور جو حسینؑ اور آلِ محمدؐ پر ہونے والی پامالی پر روئی ہو" (الصدوق، الخصال، ج2، ص610)۔

2-رونے والے کے وقتِ موت ائمہؑ کی آمد

یہ بات امام جعفر صادقؑ کی مسمع بن عبد الملک بصری سے حدیث میں آئی ہے: "اللہ تمہارے اس آنسو پر رحم کر جان لو! تم اپنی موت کے وقت میرے آباء کو تمہارے پاس حاضر دیکھو گے اور وہ ملک الموت کو تمہارے بارے میں وصیت کریں گے۔ جو بشارت وہ تمہیں دیں گے وہ سب سے افضل ہوگی اور ملک الموت تم پر اس ماں سے بھی زیادہ نرمی اور رحمت کرے گا جو اپنے بچے پر انتہائی شفیق ہوتی ہے" (کامل الزیارات ، ص204)۔

3- گریہ علیؑ اور حسینؑ کی نظرِ رحمت کا سبب بنتا ہے 

اس کی بنیاد وہ روایت ہے جو ابنِ قولویہ نے اپنی سند سے امام صادقؑ سے نقل کی ہے کہ "امام حسینؑ اس شخص کو دیکھتے ہیں جو ان پر روتا ہے، پھر اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور اپنے والد سے بھی اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کو کہتے ہیں" (ماخذ: کامل الزیارات، ص103)۔

اسی طرح یہ سیدہ زہراؑ کی دلجوئی بھی ہے، امام صادقؑ نے ابو بصیر سے فرمایا:"اے ابو بصیر! بے شک فاطمہؑ اپنے بیٹے حسینؑ پر روتی ہیں اور ہچکیوں سے بلک اٹھتی ہیں کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم ان لوگوں میں شامل ہو جو فاطمہؑ کو خوش کرتے ہیں؟" (ماخذ: کامل الزیارات ، ص171)۔

4- یہ گریہ آگ سے نجات، جنت کا استحقاق اور گناہوں کی بخشش ہے

یہ روایات و احادیث میں بکثرت نقل ہوا ہے۔ ان روایات میں وسعت اور عموم پایا جاتا ہے یہ موضوع (یعنی گریہ) کے اعتبار سے ہو یا اس کے اثر کے اعتبار سےہوں عموم رکھتی ہیں۔ موضوع کے لحاظ سے "گریہ" کا مفہوم احادیث میں وسیع ہے جو حتیٰ کہ تباکی (رونے کی کوشش) کو بھی شامل کرتا ہے۔ اس میں وہ کمزور صورتیں بھی آتی ہیں جیسے: آنکھوں میں آنسو آجانا، یا صرف ایک قطرہ آنسو کا نکلنا، یا آنسو اتنے کم ہوں مکھی کے پر کے برابرہوں بھی شامل ہے۔اسی طرح گریہ کے اثر کے باب میں بھی وسعت اور شمول ہے۔ امام علی رضاؑ نے ریان بن شبیب سے فرمایا: "اگر تم حسینؑ پر اس طرح روؤ کہ تمہارے آنسو تمہارے رخسار پر بہہ جائیں تو اللہ تمہارا ہر گناہ کو معاف کر دے گا: چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کم ہو یا زیادہ" (امالی الصدوق، ص192)

شیئر: