واپس
فطری خواہشات سے تکامل تک: انسان کیسے انسانیت کو دوبارہ حاصل کرتا ہے؟

فطری خواہشات سے تکامل تک: انسان کیسے انسانیت کو دوبارہ حاصل کرتا ہے؟

الشيخ مصطفى الهجري عام طور پر انسان اپنی زندگی کے آغاز پر رویّے کے لحاظ سے جانوروں جیسا ہوتا ہے۔ بچہ ابتدائی مراحل میں صرف اپنی فطری خواہشات اور جسمانی ضرورتوں، جیسے بھوک، پیاس اور نیند تک محدود رہتا ہے۔ اس کی توجہ مکمل طور پر مادی چیزوں کی طرف ہوتی ہے جو اسے فوری جسمانی آرام اور لذت فراہم کریں۔ وہ...

الشيخ مصطفى الهجري

عام طور پر انسان اپنی زندگی کے آغاز پر رویّے کے لحاظ سے جانوروں جیسا ہوتا ہے۔ بچہ ابتدائی مراحل میں صرف اپنی فطری خواہشات اور جسمانی ضرورتوں، جیسے بھوک، پیاس اور نیند تک محدود رہتا ہے۔ اس کی توجہ مکمل طور پر مادی چیزوں کی طرف ہوتی ہے جو اسے فوری جسمانی آرام اور لذت فراہم کریں۔ وہ نہ اپنی ذات میں دلچسپی لیتا ہے اور نہ ہی اسے اپنی ذات کا شعور ہوتا ہے۔ چنانچہ جب بھوک لگتی ہے تو کھانا مانگتا ہے اور جب پیاس لگتی ہے تو پانی طلب کرتا ہے۔وہ خود کو بہتر بنانے یا اپنی صفات کو سنوارنے کے بارے میں نہیں سوچتا۔

یہ رویہ بچپن کے مرحلے میں فطری ہوتا ہےلیکن اصل مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان پوری زندگی اسی طرز پر چلتا رہے۔ جب اس کی ساری توجہ صرف مادی ضرورتیں پوری کرنے اور جسمانی خواہشات کی تسکین تک محدود ہو جائیں اور وہ اپنی ذہنی اور روحانی صلاحیتوں کو بڑھانے کی طرف بالکل توجہ نہ دے۔

اپنی ذات کو بھلا دینا اور اس کی طرف توجہ نہ دینا انسان کو حیوانی درجے تک گرا دیتا ہے۔ جو انسان صرف کھانے پینے کی فکر میں رہے اور صرف اپنی مادی لذتوں کے حصول کے بارے میں سوچے، اُس میں اور جانور میں آخر کیا فرق رہ جاتا ہے؟

جتنا انسان کی توجہ اپنی ذات سے کم اور بیرونی مادی چیزوں کی طرف زیادہ ہوتی جاتی ہے، اس کا اتنا ہی اپنی حقیقت اور انسانیت کا شعور کمزور پڑتا جاتا ہے۔ حالانکہ انسان کی نشوونما اور بلندی اسی شعور سے وابستہ ہے۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات کی طرف توجہ بڑھانے کی کوشش کرے اور اپنے اردگرد کی مادی چیزوں میں حد سے زیادہ مشغول نہ ہو۔

یہ عقل مندی نہیں کہ انسان اپنی مادی لذتوں میں ڈوبا رہےاور اندھا دھند خواہشات کی پیروی کرے اوروہ اپنے حقیقی مفادات، اپنی ذات، اپنے مقصد اور اُن چیزوں پر غور کرنا چھوڑ دے جو اسے دائمی خوشی دے سکتی ہیں۔ حقیقی عقل یہ سمجھتی ہے کہ مادی ضرورتیں مقصد نہیں بلکہ ذریعہ ہیں اور اصل اعلیٰ مقصد انسان کی ذات کا کمال اور اس کی بلندی ہے۔

اگر انسان حقیقی کمال اور بلند مرتبے تک پہنچنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ اُن صلاحیتوں، خصوصیات اور استعدادات کو تسلیم کرے جو اللہ نے اسے عطا کی ہیں۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی ذات میں چھپے ہوئے خزانوں کو پہچانے اور انہیں نکھارنے اور ترقی دینے کے لیے محنت کرے۔

یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ اخلاقی بگاڑ، جہالت اور دیگر آفات کا اصل سبب انسان کا اپنی حقیقت سے غافل ہونا ہے۔ جب انسان یہ بھول جائے کہ وہ جسم اور روح کا مجموعہ ہے اور اس کا کمال اور خوشی اپنی ذات کی معرفت سے مشروط ہے تو وہ راستہ کھو دیتا ہے اور راہ بھٹک جاتا ہے۔

انسان کو چاہیے کہ  اس میں جسم اور روح دونوں نشوونما کریں۔ نہ مادی پہلو میں اتنا زیادہ جائے کہ روحانی پہلو نظر انداز ہو اور نہ روحانی پہلو میں اتنا غرق ہو جائے کہ جسم کی پرواہ نہ ہو۔ یہ ایک باریک توازن ہے جس کے لیے انسان کی فطرت اور اس کے وجود کے مقصد کا گہرا شعور ضروری ہے۔ورنہ انسان اپنے انسانی مقاصد اور امیدوں تک پہنچنے سے دور رہ جائے گا اور اپنی تخلیق اور زندگی کے مقصد تک نہیں پہنچ پائے گا۔ وہ ایک لا متناہی دائرے میں دوڑتا رہے گا، ایسے سراب کے پیچھے بھاگتا رہے گا جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

صرف اپنی ذات کو پہچان کر ہی انسان اپنی عظیم صلاحیتوں اور استعدادات کو جان سکتا ہے۔ یہ وہ پوشیدہ قوتیں ہیں جو اللہ نے اس میں رکھی ہیں اور جوجاگنے اور استعمال کا انتظار کر رہی ہیں۔صرف انہی صلاحیتوں اور استعدادات کو بروئے کار لا کر ہر انسان اپنے اُس کمال تک پہنچتا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

آخر میں انسان کو ایک بنیادی حقیقت سمجھنی چاہیے: کھانا، پینا، رہائش، شادی اور دیگر مادی ضروریات خود میں مقصد نہیں ہیں بلکہ یہ اعلیٰ مقصد حاصل کرنے کے وسائل ہیں یعنی ذات کا کمال اور انسانی کمال تک پہنچنا۔

ان مادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنا بالکل درست اور ضروری ہےلیکن سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انہیں واحد مقصد بنا لیا جائے اور اس میں اتنا غرق ہو جائیں کہ اپنی ذات کو بھلا دیں اور اسے سنوارنے کی طرف توجہ نہ دیں۔ عقل مند انسان وہ ہے جو اپنی مادی ضروریات اور ذات کی نشوونما و تزکیہ کے درمیان توازن رکھے تاکہ کوئی پہلو دوسرے پر حاوی نہ ہو۔

ہمیں ہمیشہ قرآن کے انتباہ کو یاد رکھنا چاہیے: جس نے اللہ کو بھلا دیا، اللہ اس کی ذات کو بھلا دیتا ہے اور جس نے اپنی ذات کو بھلا دیا وہ ہمیشہ ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں رہتا ہے، بالکل ایسے جیسے کتا ہانپتا رہتا ہے چاہے اسے پکڑا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔

آئیے اپنی ذات کو پہچاننا پہلی ترجیح بنائیں، اپنی عظیم صلاحیتوں کو پہچاننے اور نکھارنے کی کوشش کریں اور اپنی ذات کو آلودگیوں سے پاک کر کے تزکیہ کریں۔ خوشی اور کمال تک پہنچنے کا یہی حقیقی راستہ ہےاور یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔

اللہ ہی کامیابی دینے والا اور سیدھے راستے کی رہنمائی کرنے والا ہے۔

شیئر: