واپس
معرفتِ نفس سے حقیقت کی معراج تک

معرفتِ نفس سے حقیقت کی معراج تک

شيخ مصطفى الهجري انسان اپنی پوری عمر ایسے امور کے تعاقب میں گزارتا ہے جو اس کے باطن و حقیقتِ ذات سے خارج ہیں۔ مثلاً مرغوب غذا جس کی خواہش دل میں بے قرار رہتی ہے، مشروب جو جسمانی پیاس بجھاتا ہے، مسکن جو عارضی آسودگی اور ظاہری تحفظ فراہم کرتا ہے، اور شادی و رفاقت جو اس کی دنیوی زندگی کو بظاہر مکمل کرت...

شيخ مصطفى الهجري

انسان اپنی پوری عمر ایسے امور کے تعاقب میں گزارتا ہے جو اس کے باطن و حقیقتِ ذات سے خارج ہیں۔ مثلاً مرغوب غذا جس کی خواہش دل میں بے قرار رہتی ہے، مشروب جو جسمانی پیاس بجھاتا ہے، مسکن جو عارضی آسودگی اور ظاہری تحفظ فراہم کرتا ہے، اور شادی و رفاقت جو اس کی دنیوی زندگی کو بظاہر مکمل کرتی ہے۔ ہر صبح اٹھتا ہے تو اسی سفر کو ازسرِ نو شروع کرتا ہے، کوشش و محنت کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔

لیکن اس ہمہ گیر مصروفیت، بے ہنگم دوڑ اور مادّی تقاضوں کے حصول کے لیے جاری اس لا محدود جدوجہد کے اندر ایک نہایت بنیادی اور وجودی سوال اس کی نگاہ سے اوجھل رہ جاتا ہےکہ کیا یہی اس کے وجود کا حقیقی مقصد ہے؟ کیا انسان محض اپنی مادی حاجات اور جسمانی ضروریات کا اسیر بن کر رہنے کے لیے تخلیق ہوا ہے، یا اس کی حیات کے پسِ منظر میں کوئی ایسی اعلیٰ، گہری اور ماورائی غایت بھی کارفرما ہے جو اس کے شعوری انکشاف اور بامقصد تلاش کی منتظر ہے؟

دنیاوی زندگی کا شور و غل، وسائل کی کشمکش، زمانی تقاضوں کا دباؤ اور معاشی و معاشرتی ضروریات کے پیچھے ہمارا مسلسل دوڑنا، ہمیں فکری انتشار اور روحانی و معنوی  طورپر غفلت میں مبتلا کر چکا ہے۔ یہاں تک کہ ہم اپنے وجود کے حقیقی معنی، اپنی باطنی مرکزیت اور مقصدِ تخلیق کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ ہماری کیفیت اُس مسافر کی سی ہو جاتی ہے جو صحرا کی وسعتوں میں سرگرداں ہو کر صرف سراب کو دیکھتا ہے، اُسے آبِ حیات گمان کرتا ہے، مگر جب قریب پہنچتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں حقیقتاً کچھ بھی نہیں تھا۔

یہی المیہ ہے کہ انسان ظاہری کامیابیوں، مادی آسائشوں اور حسی لذتوں کے باوجود باطنی خلا، قلبی تشنگی اور معنوی بے سمتی سے نجات نہیں پا سکتا، جب تک وہ اپنی زندگی کی اصل غایت، اپنے وجود کی ربانی نسبت اور خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو شعوری طور پر دریافت نہ کرے اور اُسے اپنے فکری و عملی نظامِ حیات کا مرکز نہ بنا دے۔

قرآنِ کریم اس نہایت اہم مسئلے کو ہرگز نظرانداز نہیں کرتا، بلکہ واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ محض مادّہ پرستی، دنیاوی دوڑ دھوپ اور نفس کی غفلت دراصل ایک الٰہی سزا کی صورت ہے، جو اُس وقت انسان پر مسلط ہوتی ہے جب وہ اپنے ربّ کو فراموش کر دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ. وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (الحشر: 18-19)

ان آیاتِ مبارکہ میں مؤمنین کو دو بنیادی خطرات سے خبردار کیا گیا ہے:

اوّلا، تقویٰ چھوڑ کر غفلت اور عدمِ محاسبہ والی زندگی اختیار کرنا، کہ انسان یہ نہ دیکھے کہ اپنے ’’آج‘‘ سے وہ اپنے ’’کل‘‘ کے لیے کیا بھیج رہا ہے۔

ثانیا، اُن لوگوں کے نقشِ قدم پر چل پڑنا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو نتیجتاً اللہ تعالی نے انہیں خود ان کی حقیقتِ نفس سے غافل کر دیا؛ یعنی ان کی پوری توجہ صرف مادّی مفادات، وقتی لذتوں اور دنیوی مشاغل تک محدود ہو کر رہ گئی۔

یوں قرآن ایک جامع اصول بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالی  کو بھول جانا، خود اپنی ذات کو بھول جانے کا مقدمہ ہے۔ جب انسان تقویٰ اور آخرت کی جواب دہی سے غافل ہوتا ہے تو اپنی حقیقی قدر، روحانی ضرورت اور مقصدِ وجود سے بھی بیگانہ ہو جاتا ہے، اور یہی کیفیت ’’الخسران المبین‘‘ یعنی کھلے اور حقیقی خسارے کی اصل بنیاد بن جاتی ہے۔

قرآنی تصویر کشی اس حقیقت کو ایک اور مقام پر اور بھی زیادہ جلی اور نمایاں انداز میں واضح کرتی ہے، جہاں اس انسان کی حالت بیان کی گئی ہے جو پوری طرح شهوات میں ڈوب چکا ہو اور لذتوں کے تعاقب میں نفسِ امّارہ کا اسیر بن گیا ہو:

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الأعراف: 176)

اور اگر ہم چاہتے تو ان( آیات) کے طفیل اس کا رتبہ بلند کرتے لیکن اس نے تو اپنے آپ کو زمین بوس کر دیا اور اپنی نفسانی خواہش کا تابعدار بن گیا تھا، لہٰذا اس کی مثال اس کتے کی سی ہو گئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تو بھی زبان لٹکائے رہے اور چھوڑ دو تو بھی زبان لٹکائے رکھے، یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں، پس آپ انہیں یہ حکایتیں سنا دیجئے کہ شاید وہ فکر کریں۔

یہ نہایت بلیغ اور لرزہ خیز تشبیہ اس المیہ کو عیاں کرتی ہے کہ جب انسان پوری طرح خواہشِ نفس کے تابع ہو جائے اور اپنی پوری توانائی لذتوں اور شہوات کے پیچھے صرف کر دے تو وہ ’’حالتِ لہاث‘‘ (اس پر دائمی تھکن اور ہانپنے جیسی کیفیت مسلط ہو جاتی ہے) کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال اُس کتے کی سی ہو جاتی ہے جو چاہے اُس پر حملہ کیا جائے یا اُسے چھوڑ دیا جائے، دونوں صورتوں میں ہانپتا ہی رہتا ہے۔ یعنی ایک ایسی داخلی بے قراری، تھکن اور تشنگی جو کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی سیراب ہوتی ہے؛ مسلسل دوڑ، مسلسل تھکن، مگر بغیر کسی حقیقی وصولی کے۔

اور چونکہ ’’معرفتِ نفس‘‘ (اپنے باطن اور حقیقتِ وجود کی شناخت) انسان کی ہدایت اور تکمیل کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے خداوندِ متعال نے آیاتِ انفسیہ کو بھی اپنی پہچان کا مستقل ذریعہ قرار دیا ہے، جنہیں آفاقی آیات کے ہم مرتبہ ذکر کیا گیا ہے:

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (فصلت: 53)

اس آیتِ کریمہ میں یہ بنیادی قرآنی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان کے لیے راہِ ہدایت صرف بیرونی کائنات (آفاق) پر غور و فکر تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اپنے نفس، اس کے باطنی تجربات، روحانی کیفیات، اخلاقی کشمکش اور وجودی سوالات بھی الٰہی نشانیوں کا حصہ ہیں۔ یوں معرفتِ نفس، معرفتِ رب تک پہنچنے کا ایک فیصلہ کن اور لازمی راستہ قرار پاتی ہے؛ جو شخص اپنے نفس کو پہچاننے سے غافل رہے، وہ درحقیقت ان آیاتِ الٰہی سے روگردانی کرتا ہے جو اُس کے اندر ہی ودیعت کی گئی ہیں۔

انسان اپنی تمام باطنی کیفیات، پوشیدہ اسرار، تعجب خیز صلاحیتوں اور خداداد استعدادات کے ساتھ خود خدا کی عظمت، حکمت اور ربوبیت پر دلالت کرنے والی ایک نمایاں الٰہی نشانی (آیت) ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے امیر المؤمنین علیہ السلام نے نہایت جامع جملے میں یوں بیان فرمایا: المعرفة بالنفس أنفع المعرفتين (غرر الحکم) یعنی نفس کی معرفت دو معرفتوں میں سب سے زیادہ فائدہ مند معرفت ہے؛ کیونکہ جو شخص اپنی حقیقت، اپنے باطن اور اپنی وجودی سمت کو پہچان لیتا ہے، وہی دراصل معرفتِ خدا، معرفتِ دین اور مقصدِ حیات  کی معرفتِ کے لیے داخلی طور پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

اسی گہری فہم کے پس منظر میں قرآنِ کریم کا یہ ارشاد اور بھی واضح ہو کر سامنے آتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (المائدۃ: 105)

اس آیتِ مبارکہ میں انسان کی اہم اور بنیادی ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے۔ کہ سب سے پہلے انسان پر خود اپنی ذات کی طرف توجہ کرنا  لازم ہے؛ اسے چاہیے کہ اپنے نفس کی حفاظت کرے، اس کی اصلاح و تہذیب کا اہتمام کرے، اسے آلودگیوں سے پاک کر کے تزکیہ و تطہیر کے ذریعے کمال اور قربِ الٰہی کی طرف ارتقا دے۔ گمراہ معاشرہ اور دوسروں کا انحراف اُس وقت تک اس کے لیے حجة نہیں بن سکتا، جب تک وہ خود راہِ ہدایت پر قائم رہنے کی سنجیدہ اور شعوری کوشش کرتا رہے۔

احادیثِ معصومین علیہم السلام اسی حقیقت کو مزید صراحت کے ساتھ اجاگر کرتی ہیں اور گویا اس قرآنی تصور کی تفصیل و تشریح بن جاتی ہیں:

عجبت لمن ينشد ضالته وقد أضل نفسه فلا يطلبها۔

مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو اپنی گم شدہ چیز کو تو تلاش کرتا پھرتا ہے، لیکن جس نے اپنی ہی نفس کو گم کر دیا ہو، وہ اسے تلاش ہی نہیں کرتا!

یہ حدیث اس فکری و روحانی المیے کو نمایاں کرتی ہے کہ انسان معمولی دنیوی نقصان پر تڑپ اٹھتا ہے، مگر جب اپنی ذات، اپنی معنویت اور اپنے مقصدِ وجود سے کٹ جاتا ہے تو اسے اس کا شعور تک نہیں رہتا۔ نال الفوز الأكبر من ظفر بمعرفة النفس۔ سب سے بڑی کامیابی اُسے نصیب ہوئی جس نے معرفتِ نفس حاصل کر لی۔

یہاں ’’فوزِ اکبر‘‘ کو مال و دولت، عہدہ و منصب یا ظاہری کامیابیوں سے نہیں جوڑا گیا، بلکہ نفس کی پہچان سے ربط دیا گیا ہے؛ یعنی حقیقی فلاح اس بات میں ہے کہ انسان اپنے اندر پوشیدہ الٰہی امانت، اخلاقی استعداد اور روحانی جہت کو شناخت کر کے اسے فعلیت میں لائے۔

كلما ازداد علم الرجل زادت عنايته بنفسه وبذل في رياضتها وصلاحها جهده۔ جتنا انسان کا علم بڑھتا جاتا ہے، اتنی ہی اس کی اپنے نفس کی طرف توجہ بڑھتی ہے اور وہ اس کی تربیت و اصلاح کے لیے زیادہ محنت کرتا ہے۔

یوں قرآن و حدیث کے اس مجموعی بیانیہ میں ایک مرکزی نکتہ ابھر کر سامنے آتا ہے: انسان کی سب سے پہلی اور سب سے بنیادی علمی و عملی ذمہ داری "معرفتِ نفس" اور "تہذیبِ نفس" ہے؛ اسی کے ذریعے وہ اپنی ربانی نسبت، اپنی اخروی انجام دہی اور اپنی حقیقی انسانیت سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔

شیئر: