واپس
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور کیسے لوٹیں…احساسِ گناہ کی زنجیروں سے آزاد ہو کر؟

ہم اللہ تعالیٰ کے حضور کیسے لوٹیں…احساسِ گناہ کی زنجیروں سے آزاد ہو کر؟

شیخ مصطفیٰ الہجری اکثر نوجوان اللہ تعالیٰ سے محض   اس لیے دور نہیں ہوتے کہ اُن کے دلوں میں خدا سے بغاوت در آتی ہے بلکہ صورتحال یہ ہوتی ہے کہ  وہ خود کو اُس کی رحمت کے لائق نہیں سمجھ پاتے، حالاں کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اُن کی سب سے بڑی ضرورت ہی خدا کی رحمت ہے۔  پس جب وہ لغزش کرتے ہیں تو پھر اس کا ب...

شیخ مصطفیٰ الہجری

اکثر نوجوان اللہ تعالیٰ سے محض   اس لیے دور نہیں ہوتے کہ اُن کے دلوں میں خدا سے بغاوت در آتی ہے بلکہ صورتحال یہ ہوتی ہے کہ  وہ خود کو اُس کی رحمت کے لائق نہیں سمجھ پاتے، حالاں کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اُن کی سب سے بڑی ضرورت ہی خدا کی رحمت ہے۔  پس جب وہ لغزش کرتے ہیں تو پھر اس کا بوجھ اُن کے دل پر گرتا ہے،اور پھر یہی بوجھ بڑھ کر ایک ایسی نَدامت میں بدل جاتا ہے جو شرمندگی، یاس اور دل شکستگی کی شکل میں اس کی سانسیں تک روک لیتی ہیں۔ اور اُس کے بعد وہ گناہ سے دوری کی بجائے خدا سے اور زیادہ دور ہو جاتے ہیں، حتی کہ نماز سے، دعا سے، اور اللہ کی بارگاہ میں لوٹ آنے سے بھی۔پس  اصل بحران یہی سے جنم لیتا ہے۔

حالانکہ دین انسان کو توڑنے نہیں آیا اور نہ  ہی وہ انسان کو اس کے ماضی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھنے کے لیے آیا ہے، بلکہ دین کا مقصد یہ ہے کہ وہ گرنے والوں کا ہاتھ پکڑے، شکست خوردہ دلوں کو اُٹھائے، اور ان کے انکسار کو توبہ کی چابی بنا دے۔ احساسِ گناہ بذاتِ خود بُرا نہیں بلکہ یہ تو زندہ دل کی علامت ہے کہ دل ابھی مردہ نہیں ہوا ہے۔ لیکن خطرہ تب ہے جب گناہ کا احساس ندامت سے آگے بڑھ کر خدا کی جانب واپسی کے تمام راستوں پر قفل لگا دے۔اورجب شیطان کان میں سرگوشی کرے کہ :اللہ اب تمہیں قبول نہیں کرے گا، توبہ تمہارے لیے نہیں، تم ہمیشہ کے لیے گِر چکے ہو۔

یہی وہ  آتش جہنم ہے جو انسان اپنے سینے میں پال لیتا ہے؛ جہاں مایوسی ایمان کی چادر چھین لیتی ہے، اور رحمتِ خدا پر یقین متزلزل ہونے  لگتا ہے۔جبکہ قرآن کریم  اس مایوسی کے فریب کو جڑ سے کاٹتا دکھائی  دیتا ہے:

﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ (الزمر: 53)

کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندے! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ۔

غور کیجیے! یہاں اللہ نے یہ نہیں فرمایا: ’’اے میرے نیک بندو‘‘ بلکہ فرمایا: ’’اے وہ لوگو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی‘‘۔

یعنی وہ جو حدوں سے گزر گئے، خطاؤں میں ڈوب گئے، اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے، انہی کو اللہ نے پکارا ہے۔ اور وہ بھی  اس لیے نہیں کہ اُنہیں ملامت کرے، بلکہ اس لیے کہ اُنہیں مایوسی کی کھائی میں گرنے سے بچا لے۔

اکثر لوگ توبہ اور خود کو حقیر سمجھنے کے مابین خلطِ ملط کر دیتے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیشہ جھکے رہنے، ہر دم اپنے آپ کو حقیر سمجھنے، اور احساسِ گناہ میں جکڑے رہنے کا نام ہی اخلاص ہے۔ حالانکہ اہلِ بیت علیہم السلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ توبہ کا مقصد اصلاح ہے، نہ کہ تھکن، شکست اور خود کو توڑ ڈالنا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: (لا كبيرة مع الاستغفار، ولا صغيرة مع الإصرار) (الكافي: ج2، ص288)

استغفار کے ساتھ کوئی گناہ بڑا نہیں رہتا، اور اصرار کے ساتھ کوئی گناہ چھوٹا نہیں رہتا۔

کیا خوب فرمایا! یعنی دروازہ اُس وقت بند ہوتا ہے جب انسان خود دروازے سے منہ موڑ لے۔ ورنہ اللہ کی رحمت تو گناہوں سے دوری اختیار کرنے والے بندوں کے انتظار میں ہمیشہ کھلی ہے۔ توبہ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہار مان کر کہہ دے: میں تو برا ہوں اور کبھی بہتر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ توبہ یہ ہے کہ انسان سچے دل سے اعتراف کرے کہ میں نے غلطی کی اور میں آج سے نئی شروعات کرتا ہوں۔

امام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان ہے: (التائب من الذنب كمن لا ذنب له)  (وسائل الشيعة: ج16، ص76)

جو شخص گناہ سے توبہ کر لے، وہ ایسا ہے گویا اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔

غور کیجیے! یہ ایسا نہیں جیسے گناہ کم ہو گیا ہو یا بخشش تو ہو گئی مگر داغ باقی رہ گیا ہو بلکہ اس عمل کے ےبعد بندہ یوں ہو جاتا ہے جیسے گناہگارتھا ہی نہیں! یہ انسانوں کی زبان نہیں، یہ اُس خدا کی زبان ہے جس نے واپسی کے دروازے پوری طرح کھول رکھے ہیں۔

تو پھر ہم احساسِ گناہ کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟

یہ  اس لیے کہ ہم اس سچ کو بھول جاتے ہیں کہ  اللہ نے بابِ توبہ اس لیے نہیں کھولا کہ ہم بڑے طاقتور ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ ہم کبھی کبھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ استغفار اس لیے نہیں ہے  کہ انسان گناہ نہیں کرتا، بلکہ اس لیے کہ گناہ انسان کی ساخت کا حصہ ہے اور توبہ اس کا علاج۔

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

(من ندم فقد تاب، من تاب فقد أناب ) (مستدرك الوسائل: ١٢ / ١١٨ / ١٣٦٧٤.)

جس نے ندامت محسوس کی، اُس نے توبہ کی  اور جس نے توبہ کی، اُس نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔

یعنی علاج کی سب سے پہلی سیڑھی فرار نہیں، نہ انکار،اور  نہ ہی خود کو توڑ ڈالنا ہے بلکہ خاموش اعتراف ہےجس میں نہ خود پر ظلم کرتا، نہ دل پر کوڑے برسانا، اور نہ مایوسی کی دھند گم ہوجاتا ہے بلکہ صرف اتنا  سااقرار کرنا ہے کہ میں غلط تھا اور میں واپس آ رہا ہوں۔کیونکہ گناہ کی سب سے ہولناک اثر یہ نہیں کہ وہ انسان کو آلودہ کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ انسان کو واپسی کے راستے سے کاٹ دیتا ہے۔ گناہ تو معاف ہو سکتا ہے لیکن مایوسی انسان کے اور اللہ کے درمیان واپسی کے تمام راستے کاٹ دیتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے یاس و نااُمیدی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے:

﴿إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (يوسف: 87)

اللہ کی رحمت سے تو کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مایوس انسان کافر ہے بلکہ یہ کہ مایوسی کفر کے راستے کی علامت ہے۔  کیونکہ یہ اللہ تعالی  کی رحمت کے بارے میں بُرا گمان اور اس کے فضل کے مقابل  جہل کا راستہ دکھاتی  ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک بندہ اپنے آپ کو توڑے بغیر اللہ کی طرف کیسے پلٹیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تک واپسی کے لیے نہ کسی غیر معمولی کارنامے کی ضرورت ہے، نہ ہی اپنے آپ کو کوسنے کی، بلکہ صرف سچائی، حوصلہ اور ایک نئی ابتدا کافی ہے کہ جس میں :

  1. گناہ کا اعتراف کریں، مگر حد سے بڑھا کر نہیں۔
  2. اسے جواز نہ بنادیں، اور نہ ہی اسے اپنی شناخت بنا لیں۔
  3. مایوسی نہیں ہونی چاہئے، اصرار  نہ کریں ۔گناہ گار انسان بار بار گربھی جائے  تب بھی واپسی کا در بند نہیں ہوتا۔
  4. استغفار دل سے کریں زبان کا اقرار کافی نہیں۔
  5. چھوٹے مگر پختہ قدم سے آغاز کریں: نماز، دعا اور عملِ خیر کے ذریعے۔
  6. اپنے بارے میں بدگمانی سے زیادہ اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھیں۔ ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ (الشورى: 25) اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔
  7. اللہ تمہیں ٹوٹا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا وہ تمہیں لوٹتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔
  8. وہ تمہارے شکستہ دل پر خوش  نہیں بلکہ  تمہاری واپسی پر خوش ہوتا ہے۔
  9. وہ نہیں چاہتا کہ تم ہمیشہ گناہ کے قیدی رہو بلکہ یہ کہ گناہ سے عبرلیکر آگے بڑھو۔

المختصر:توبہ ذلت نہیں  بلکہ یہ عظمت ہے۔ یہ اختتام نہیں یہ سفر کی حقیقی ابتدا ہے۔ اور جسے یہ حقیقت سمجھ آ جائے وہ اللہ کی طرف زندہ دل کے ساتھ لوٹتا ہے، ٹوٹے ہوئے حوصلے کے ساتھ نہیں۔ اور اللہ ہی سیدھے راستے کی ہدایت دینے والا ہے۔

شیئر: