واپس
صنفی شناخت کا نظریہ(جینڈر): فکری اساس اوراسکے تباہ کن سماجی اثرات

صنفی شناخت کا نظریہ(جینڈر): فکری اساس اوراسکے تباہ کن سماجی اثرات

الشيخ مصطفى الهجري یہ منظر انسانی بنیادی تصورات میں ایک انقلابی اور ہمہ گیر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، کہ سنہ ۲۰۲۲میں فرانسیسی ادارہ برائے خاندانی منصوبہ بندی نے ایک اشتہاری پوسٹر جاری کیا، جس میں ایک حاملہ مرد کی تصویر شائع کی گئی،اس کے  ساتھ ہی یہ چونکا دینے والا جملہ بھی درج تھا "ہم جانتے ہیں کہ بع...

الشيخ مصطفى الهجري

یہ منظر انسانی بنیادی تصورات میں ایک انقلابی اور ہمہ گیر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، کہ سنہ ۲۰۲۲میں فرانسیسی ادارہ برائے خاندانی منصوبہ بندی نے ایک اشتہاری پوسٹر جاری کیا، جس میں ایک حاملہ مرد کی تصویر شائع کی گئی،اس کے  ساتھ ہی یہ چونکا دینے والا جملہ بھی درج تھا "ہم جانتے ہیں کہ بعض مرد بھی حاملہ ہو سکتے ہیں" یہ منظر محض کوئی انفرادی یا اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی فکری نظریہ بندی کا عملی مظہر ہے جو کئی دہائیوں پہلے شروع ہوئی، اور بتدریج ارتقا پذیر ہو کراب یہ  ایک ہمہ گیر نظریاتی نظام کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو انسانی معاشرے کی بنیادوں کو نئے سرے تشکیل دینا چاہتی ہے۔ یہ در اصل نظریۂ نوع (جینڈر) ہے۔ ایک ایسا نظریہ جس کا مقصد حیاتیاتی جنس اور سماجی شناخت کے درمیان تعلق کو منقطع کرنا، اور اس کے نتیجے میں لاتعداد جنسی شناخت کے دروازے کھول دینا ہے۔

فکری جڑیں: سیمون دو بوفوار سے جودتھ بٹلر تک

یہ داستان سنہ ۱۹۴۹میں اس وقت شروع ہوئی جب فرانسیسی خاتون فلسفی سیمون دو بوفوار نے اپنی مشہور کتاب (The Second Sex)میں یہ نعرہ بلند کیا کہ ہم عورت پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ عورت بنائی جاتی ہیں۔ ابتدا میں یہ نعرہ محض اس بات پر زور دیتا تھا کہ عورت کی شخصیت اور شناخت کی تشکیل میں تربیت اور ثقافت کا اہم کردار ہے، اور اس کا اثر زیادہ تر ان نسوانی تحریکوں تک محدود تھا جو عورت کے بنیادی حقوق، جیسے طلاق اور اسقاطِ حمل، کے مطالبات وغیرہ کو لیکر آواز بلند کرتی رہتی ہیں ۔لیکن ۱۹۶۸ء کے یورپ میں آنے والے انقلابی حالات کے بعد فکری میدان میں ایک ایسا فرانسیسی تفکیری مکتبِ فکر ابھر کر سامنے آیا، جس کی قیادت میشل فوکو، ژاک دریدا اور جیل دولوز جیسے فلاسفہ کر رہے تھے۔ ان مفکرین نے دین، اقدار، اخلاقیات اور خاندان جیسی انسانی تہذیب کی تمام مضبوط اور قائم شدہ بنیادوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔

چنانچہ نئی نسوانی تحریک اس فکری رجحان سے بہت متاثر ہوئی، اور اس نتیجے پر پہنچی کہ عورت کے دفاع کے لیے مرد کی بالادست حیثیت کے خلاف جنگ ضروری ہے، اور یہ بالادستی اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک مرد و عورت کے درمیان موجود بنیادی امتیاز ہی کو ختم نہ کر دیا جائے۔

پس یہاں سے یہ بنیادی اور سنگین معمہ سامنے آیا کہ ایک ایسی حیاتیاتی حقیقت کو کیسے ختم کیا جائے جو ثابت شدہ  اور ناقابلِ انکار حقیقت کی حامل  ہے؟

اس کا حل جنس اور نوع/جینڈر کے درمیان فرق قائم کر کے پیش کیا گیا۔ چنانچہ کہا گیا کہ اگرچہ حیاتیاتی جنس ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا، مگر سماجی نوع (جینڈر) متغیر، لچکدار اور اختیاری ہے،کیونکہ اسے معاشرہ اور ثقافت تشکیل دیتے ہیں۔ لہذا  ہر فرد اپنی آزاد مرضی کے مطابق کسی بھی جنسی شناخت کا انتخاب کر سکتا ہے۔

سنہ ۱۹۵۵میں ماہرِ نفسیات جان مونی  نے خنثی بچوں پر اپنے تجربات کا آغاز کیا، تاکہ یہ ثابت کر سکے کہ جنسی شناخت محض ایک ثقافتی تشکیل ہے۔ اس نظریے کی بھاری قیمت کینیڈین شہری ڈیوڈ ریمر (David Reimer) نے ادا کی۔کہ  ختنہ کی ایک ناکام سرجری کے دوران اس کا عضوِ تناسل شدید طور پر متاثر ہو گیا، جس کے بعد ڈاکٹر مونی نے اس کے والدین کو ہدایت کی، کہ اسے ایک لڑکی کے طور پر "برینڈا" کے نام سے پرورش کی جائے۔ لیکن بلوغت کے مرحلے پرپہنچتے ہی ڈیوڈریمر نے بغاوت کر دی، اور جنس کی تبدیلی کے لیے مجوزہ آپریشن کو مسترد کرتے ہوئے اپنی مردانہ شناخت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر یہ المیہ سنہ ۲۰۰۲میں ڈیوڈ ریمر کی خودکشی پر منتج ہوا۔ جو اس بات کازندہ اور دردناک ثبوت ہے کہ حیاتیاتی حقیقت کے خلاف کسی مسلط کردہ جنسی شناخت کی کوشش کس قدر ناکام اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

اس واضح اور سنگین ناکامی کے باوجود، جنس اور نوع (جینڈر) کے درمیان تفریق کی نظریہ سازی جاری رہی۔ چنانچہ ۱۹۷۲ء میں برطانوی مفکرہ آن اوکلی (Ann Oakley) سامنے آئیں اور اس امتیاز کو نظریاتی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی، حالانکہ خود ان کی کتاب کا آغاز ہی اس جملے سے ہوتا ہے: "ہر شخص جانتا ہے کہ مرد اور عورت مختلف ہوتے ہیں" یہ وہ بدیہی حقیقت ہے جو بعد ازاں خود شکوک و شبہات کی زد میں آگئی۔

اس کے بعد امریکی خاتون فلسفی جودتھ بٹلر آئیں اور اس نظریے کو اس کی انتہا تک پہنچا دیا۔ فرانسیسی فلاسفہ سے متاثر اور آسٹن کے نظریۂ "قول ہی فعل ہے"  کی روشنی میں، بٹلر اس نتیجے پر پہنچیں کہ جنسی امتیاز محض لسانی خطاب کی پیداوار ہے، یعنی یہ  ایک اصطلاحی اور مسلط کردہ تصور ہے ۔

اگر سیمون دو بوفوار یہ کہتی ہیں کہ :"ہم عورت پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ عورت بنتی ہیں" تو بٹلر اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: "آخر عورت بننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یعنی اگر نوع (جینڈر) کو ثقافتی طور پر تشکیل دیا جا سکتا ہے، تو اسے ارادے اور اختیار کے ذریعے منہدم بھی کیا جا سکتا ہے، اور یوں تمام تصوراتی اور غیر محدود جنسی شناختوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔بعد ازاں نظریۂ جینڈر محض ایک فکری بحث نہ رہا، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر اور جابرانہ نظریہ میں تبدیل ہو گیا، جسے طاقت کے ذریعے معاشروں پر مسلط کیا جانے لگا۔

نام نہاد "جینڈر ایکسپرٹس" اپنے ناقدین کے خلاف فکری دہشت گردی دو طریقوں سے کرتے ہیں:

اوّل: پیچیدہ اور مبہم مطالعات کے ذریعے بحث کو اس قدر الجھا دینا کہ مردانگی اور نسوانی کی نسبیت کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کیا جائے؛

دوم:مخالفین پر مردانہ بالا دستی، رجعت پسندی، فاشزم اور مذہبی تعصب جیسے الزامات لگا کر سائنسی و علمی تنقید کی ہر کوشش کو غیر معتبر بنا دینا۔

نئی نسوانی تحریک سیاسی، ابلاغی اور قانون ساز اداروں پر اثر انداز ہونے کے لیے پریشر گروپ کا استعمال کرتی ہے۔ اس کا آغاز تعلیمی شعبے سے ہوتا ہے، چنانچہ فرانس کے وزیرِ تعلیم نے 2013ء میں ایک خط کے ذریعے اعلان کیا کہ حکومت اس امر کی پابند ہے کہ "نوجوانوں پر انحصار کیا جائے تاکہ جنسی شناختوں کے تنوع کے احترام پر مبنی تربیت کے ذریعے ذہنیتوں کو تبدیل کیا جا سکے"۔

نظریہ نوع (جنڈر) کے اطلاق کی تباہ کن صورتحال:

نظریۂ نوع (جینڈر) کے اطلاق کاعمل بعض اوقات حیرت انگیز حد تک مضحکہ خیز اور خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے حتی کہ  سویڈن میں ایسی نرسریاں موجود ہیں جہاں بچوں کے لیے "غیر جانبدار" الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، اور بعض والدین اپنے بچوں کی جنس بتانے سے انکار کر دیتے ہیں، اس خوف سے کہ کہیں یہ بات ان کے "جنسی رجحان" پر اثر انداز نہ ہو جائے۔ سویڈن کے ایک  بچے "بوب" کا واقعہ اس کی نمایاں مثال ہے، جس کے والدین اس کی جنس ظاہر کرنے سے انکاریہ کہہ کرکرتے ہیں  کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ "آزادی کے ساتھ بڑا ہو، نہ کہ کسی متعین جینڈر کے سانچے میں"۔

فرانس میں بھی ایسے بچوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو محض عارضی اور بچگانہ خواہش کے تحت جنس تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد والدین اور ماہرینِ نفسیات کی جانب سے حوصلہ افزائی، اور پھر ہارمونل اور جراحی طبی مداخلتیں شروع ہو جاتی ہیں، جن کے سنگین اور خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں اساتذہ کی مدد کے لیے خصوصی رہنما سلیبس تیار کیے گئے ہیں، تاکہ "پرائمری سکول ہی سے انہیں  ہم جنس پرستی کی مخالفت کے خلاف تربیت" دی جا سکے، جس کے لیے تصویری کتابیں استعمال کی جاتی ہیں، جیسے: "میرے ابو فراک پہنتے ہیں"۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عملی حقیقت نے اس نظریے کی ناکامی اُن ممالک میں بھی ثابت کر دیا ہے جہاں اسے سب سے زیادہ نافذ کیا گیا ہے۔جیساکہ  ایک نارویجین دستاویزی فلم نے یہ انکشاف کیا کہ ناروے،جسے نوعی مساوات کا سب سے بڑا علمبردار سمجھا جاتا ہے، خود مساواتی تضاد کا شکار ہے۔ چنانچہ پیشوں کے انتخاب میں مکمل آزادی کے باوجود، اب بھی ۹۰٪ نرسیں خواتین ہیں اور ۹۰٪ انجینئر مرد۔

اس طرز عمل کی وضاحت نہایت آسان ہے کہ مطلق مساوات والے معاشرے میں افراد اپنی ذاتی رغبتوں کے مطابق پیشے کا انتخاب کرتے ہیں، اور یہ رغبتیں بڑی حد تک حیاتیاتی حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں۔

نظریۂ نوع دراصل ایک ایدیولوجیکل کوشش ہے جس کا مقصد انسانی فطرت کو فکری خواہشات کے مطابق ازسرِ نو تشکیل دینا ہے، ایسی خواہشات جو حیاتیاتی حقیقت اور انسانی فطرت (فطرتِ سلیمہ) کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔ اس کے نتائج فرد، خاندان اور معاشرے تینوں سطحوں پر تباہ کن ہیں کہ ایسے بچے جو اپنی فطری شناخت سے محروم کر دیے جاتے ہیں، ایسے نوعمر لڑکے لڑکیاں جنہیں ناقابلِ تدارک طبی مداخلتوں کے ذریعے اپنے جسم بدلنے پر ابھارا جاتا ہے،اور مرد و عورت کے فطری کرداروں اور خاندانی نظام کی منظم تحلیل کی کوشش کی جاتی ہے۔  یہ  دراصل لوگوں کو "ان کی آزادی سے آزاد کرنے" کی کوشش ہے، جیسا کہ سان ژوست نے کہا تھا، اور ترقی و مساوات کے نام پر ایک نئی ہمہ گیر ایدیولوجی مسلط کی جا رہی ہے۔ مگر اس کی اصل قیمت وہ ادا کر رہے ہیں جو سب سے زیادہ کمزور ہیں۔ یعنی وہ بچے اور نوجوان ، جنہیں ایک ایسے نظریے کے تجرباتی چوہے بنا دیا گیا ہے جو انسانی وجود کی بنیادی ترین حقیقتوں سے متصادم  نظریہ ہے۔

شیئر: