کیا مادی ترقی ہی دین کی حقانیت کا معیار ہے؟
شیخ معتصم السید احمد
ایک مخصوص قسم کا طرزِ فکر بار بار سامنے آرہا ہے، جس میں حقیقت کے کسی ایک پہلو کو لے کر اس پر ضرورت سے زیادہ نتائج قائم کیے جاتے ہیں، اور آخر میں ایک ایسا عمومی فیصلہ پیش کیا جاتا ہے جو بظاہر تو بہت واضح اور منطقی محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت وہ نہایت ہی سطحی اور ادھورا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو وہ قومیں جو اس دین سے وابستہ نہیں وہ کتنی ترقی یافتہ ہیں، اور ان معاشروں کو دیکھیں کہ جو دین کے دعوے دار ہیں،لیکن وہ پسماندہ ہیں۔ اس کے فوراً بعد پھر یہ نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ اگر یہ دین واقعی حق ہوتا تو اس کے ماننے والوں کی حالت بالکل مختلف ہوتی۔یہ طرزِ فکر اگرچہ اپنے پہلے مشاہدے میں غلطی نہیں کرتا ، مگر اس کی اصل غلطی اس مشاہدے کی تشریح میں ہوتی ہے کہ وہ حالات اور اسباب کا باریک بینی سے تجزیہ کئے بغیر حقیقت کے بیان سے سیدھا حتمی فیصلہ اخذ کر لیتا ہے ۔ اس بنا پر اصل مسئلہ حقیقتِ حال میں نہیں، بلکہ اسے دیکھنے کے زاویے میں ہے۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی زندگی، خصوصاً اس کے مادی پہلو، کچھ ایسے عمومی قوانین کے تحت چلتے ہیں جو انسان کے عقیدے یا شناخت کے مطابق تبدیل نہیں ہوتے۔یعنی دنیا کی ترقی صرف خواہشات یا نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ یہ اسباب اور محنت سے حاصل ہوتی ہے کہ جو کاشت کرے گا وہی فصل کاٹے گا، جو مہارت اختیار کرے گا وہی کامیاب ہوگا، اور جو مضبوط ادارے بنائے گا وہی استحکام حاصل کرے گا۔ یہ اصول کسی قوم یا مذہب کے ساتھ امتیاز نہیں برتتے، نہ ہی کسی کے عقیدے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اسی لیے سائنسی اور معاشی ترقی ایمان کا انعام نہیں، اور نہ ہی پسماندگی کفر کی سزا ہے، بلکہ یہ سب اس بات کا نتیجہ ہے کہ کوئی قوم علم، محنت اور نظم و ضبط کے اصولوں پر کس حد تک عمل کرتی ہے۔
یہیں سے واضح ہوتا ہے کہ مادی ترقی کو کسی دین کی حقانیت کا معیار بنانا دراصل دو مختلف دائروں کو آپس میں خلط ملط کرنا ہے۔کہ ایک طرف وہ کائناتی قوانین ہیں جو مادی دنیا کو چلاتے ہیں، اور دوسری طرف وہ اخلاقی و فکری اقدار ہیں جو دین انسان کو عطا کرتا ہے۔ دین فطرت کے قوانین کو بدلنے نہیں آتا، اور نہ ہی وہ اپنے ماننے والوں کو ان قوانین سے ہٹ کر کوئی خصوصی دنیاوی رعایت دیتا ہے، بلکہ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ان قوانین کے ساتھ صحیح انداز میں کیسے جیا جائے، اور زندگی کو کس طرح بامعنی اور بامقصد بنایا جائے۔
ایسے میں جب دین کو صرف دنیاوی نتائج تک محدود کر دیا جائے، اور اس کی اصل غایت یعنی انسان سازی کو نظر انداز کر دیا جائے، تو پھریہی غلط فہمی پیدا ہوتی ہےاور پھر دین سے وہ مطالبہ کیا جاتا ہے جس کی ذمہ داری اس نے کبھی اپنے اوپر لی ہی نہیں، اس کے باوجود بعد میں اسی بنیاد پر اس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔مسئلہ صرف یہی نہیں، بلکہ اس طرز فکر میں ایک اور اہم خرابی بھی موجود ہے، اور وہ ہے حقیقت کو انتخابی انداز میں دیکھنا۔ یعنی ایک معاشرے کی صرف اچھی چیزوں کو سامنے لایا جاتا ہے، جبکہ دوسرے معاشرے کی صرف خرابیاں نمایاں کی جاتی ہیں، اور پھر ان دونوں کا تقابل کرکے ایک مصنوعی نتیجہ نکال لیا جاتا ہے۔ یہ دراصل غیر جانبدار موازنہ نہیں، بلکہ پہلے سے موجود رائے کو ثابت کرنے کے لیے تصویر کو مخصوص انداز میں ترتیب دینا ہے۔
مثلاً جب بعض قوموں کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو ان کے اندر موجود شدید معاشی تفاوت، خاندانی نظام کی شکست و ریخت، شناخت کے بحران اور مسلسل سیاسی کشمکش کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔پھر دوسری طرف جب بعض مسلم معاشروں کو دیکھا جاتا ہے تو ان کی صرف کمزوریاں بیان کی جاتی ہیں، جبکہ ان کی مثبت کوششیں، استحکام کے ادوار اور اصلاحی تجربات کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اور اسطرح حقیقت کو ویسا نہیں دیکھا جاتا جیسی وہ ہے، بلکہ ویسا دکھایا جاتا ہے جیسا دکھانا مقصود ہو۔
اس مرحلے پر تجزیہ محض غیر جانب دار مطالعہ نہیں رہتا بلکہ یہ پسندیدہ مثالوں کے انتخاب کا کھیل بن جاتا ہے، اور حقیقت کو پہلے سے طے شدہ نظریے کے حق میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ایک اور خطرناک غلطی یہ ہے کہ دین اور دین کے ماننے والوں کے عمل کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ دین بطورِ نظریہ اور اقدار کے ایک مکمل اور اعلیٰ نظام ہوسکتا ہے، مگر اس پر عمل کرنے والے انسان کمزور، جاہل یا غلط فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ دین اعلیٰ ترین اصول پیش کرے، لیکن انسان ان اصولوں تک نہ پہنچ سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی نظریے کو اس کے ماننے والوں کی کمزوریوں کی بنیاد پر پرکھا جائے گا، یا پہلے اس نظریے کو اپنی اصل شکل میں سمجھا جائے گا؟
ایسے میں جب ان دونوں چیزوں میں فرق نہ کیا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ غلطی انسان کی ہو، مگر الزام نظریے پر لگا دیا جائے۔اور یوں اصل ذمہ داری انسان سے ہٹا کر خود فکر اور دین پر ڈال دی جاتی ہے۔اسی لیے ادیان کا صحیح اور علمی موازنہ ان کے ماننے والوں کی حالت دیکھ کر نہیں کیا جاتا، بلکہ ہر دین کو اس کے بنیادی نصوص، نظریات اور اقدار کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ قوموں اور معاشروں کے حالات کا تعلق سیاست، معیشت، تعلیم، تاریخ اور بے شمار دوسرے عوامل سے ہوتا ہے، جنہیں صرف مذہب تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
اس سلسلے میں خرابی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب عزت اور کامیابی کو صرف مادی پیمانوں سے ناپا جائے۔ یعنی کسی قوم کی قدر صرف اس کی دولت، طاقت اور استحکام سے متعین کی جائے، حالانکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ وہ قوم انسانیت کو کون سی اقدار دیتی ہے؟ وہ زندگی کو کیا معنی فراہم کرتی ہے؟ دینی نقطۂ نظر سے انسان کی اصل عظمت اس کے مال و دولت میں نہیں، بلکہ اس کے شعور، ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت میں ہے۔
مزید یہ کہ انسانی تاریخ ہمیشہ ایک ہی حالت میں آگے نہیں بڑھتی۔بلکہ تاریخ کے اس نشیب و فراز میں قومیں کبھی عروج پاتی ہیں اور کبھی زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ کبھی انہیں اقتدار ملتا ہے اور کبھی آزمائشیں گھیر لیتی ہیں۔ایسے میں ممکن ہے کوئی قوم اپنی اصل اقدار سے دوری کی وجہ سے کمزور ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی دوسری قوم زندگی کے اصولوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی وجہ سے ترقی کر لے، اگرچہ اسے اس کا مکمل ادراک نہ بھی ہو۔
لہٰذا مادی ترقی کو ہی حق و باطل کا واحد معیار بنا لینا حقیقت کو نافقط واضح نہیں کرتا بلکہ اسے مسخ کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ معیار خود ساختہ ہے کہ جہاں موافق ہو وہاں اسے دلیل بنایا جاتا ہے، اور جہاں مخالف ہو وہاں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً دنیا کی ایک ادھوری اور گمراہ کن تصویر سامنے آتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی سوچ پیچیدہ مسائل کے لیے نہایت آسان اور سطحی جواب تلاش کرتی ہے۔اور ترقی یا پسماندگی کے بے شمار اسباب کا بنظرِ عمیق جائزہ لینے کے بجائے، سب کچھ ایک ہی سبب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ سادگی فہم کی علامت نہیں، بلکہ کمزور تجزیے کی نشانی ہے۔
خلاصہ، اس طرح کے موازنے سے ادیان کے بارے میں بہت کم، مگر انسان کے زاویۂ نظر کے بارے میں بہت زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ مادی ترقی اپنے مخصوص قوانین کے تابع ہے،اسی بنا پر انسانوں کا رویہ ہمیشہ ان کے نظریات کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا، اور حقیقت کو صرف معاشی اشاریوں اور ترقی سے نہیں ناپا جا سکتا۔ پس جو شخص حقیقت کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے ان سطحی اختصارات سے بالاہو کر سوچنا ہوگا، اور ان بنیادوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا جن پر وہ اپنے فیصلے قائم کرتا ہے۔ کیونکہ حقیقت تک پہنچنے کا راستہ محض سطحی موازنے سے نہیں، بلکہ انسان، معاشرے اور علم کی حدود کے گہرے شعور سے ہو کر گزرتا ہے۔