واپس
قرآن کی نظر میں:منفی اندازِ فکر کا نفسیاتی و روحانی تجزیہ ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾

قرآن کی نظر میں:منفی اندازِ فکر کا نفسیاتی و روحانی تجزیہ ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾

انسانی فطرت میں یہ میلان بنیادی طور پر موجود ہے کہ وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کے حصول کا خواہش مند رہتا ہے۔ تاہم جب یہ خواہش شعورِ نعمت اور روحِ شکر سے محروم ہو جائے تو انسان تدریجاً ایک ایسی نفسیاتی اور فکری کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں اُس کی نگاہ نعمتوں کی کثرت  کے باوجود صرف محرومیوں پر مرکوز رہتی ہے۔ وہ بہت جلد اپنے پاس موجود عطیاتِ الٰہی کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، اور یوں اُس کے باطن میں ناشکری، بے اطمینانی اور منفی طرز فکر جڑ پکڑنے لگتی ہے۔

شیخ مقداد الربیعی

ارشادِخداوندی ہے :  ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾ بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔(العادیات: 6)  قرآنِ حکیم کی یہ مختصر مگر نہایت گہرائی و معنویت کی حامل آیت، انسانی طرز فکر کے ایک ایسے تاریک نفسیاتی اور اخلاقی پہلو کوواضح  کرتی ہے جو انسان کو منفی طرز فکراور عملی جمود کی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جب انسان اپنے وجود پر سایہ فگن نعماتِ الٰہی کی حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے تو اُس کی نگاہ، خیر و رحمت کے وسیع مظاہر کے باوجود، صرف محرومی،اور تاریکی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً وہ اپنے خداداد اوصاف کو بھلا کر ایک ایسے منفی مزاج انسان میں تبدیل ہو جاتا ہے جو امید کے بجائے یاس، شکر کے بجائے کفران نعمت، اور تعمیری فکر کے بجائے تخریبی طرزِ احساس کو اختیار کر لیتا ہے۔

لفظ “کنود” عربی زبان میں انتہائی ناشکر، احسان فراموش اور کفران نعمت کرنے والے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عرب اُس زمین کو بھی “ارضٌ کنود” کہتے ہیں جو وافر پانی، مسلسل محنت اور بھرپور نگہداشت کے باوجود کوئی  فصل نہ دے۔ قرآنِ مجید اسی نہایت بلیغ تمثیل کے ذریعے انسان کی اُس باطنی و روحانی کیفیت کو بیان کرتا ہے کہ بعض افراد پر نعمتوں کی بارش ہوتی رہتی ہے، اُنہیں صحت، عقل، رزق، محبت،  بہترین مواقع اور بے شمار عطیاتِ الٰہی میسر ہوتی ہیں، لیکن اُن کے قلوب بنجر زمین کی مانند خشک اور بے ثمر رہتے ہیں۔ نہ اُن میں شکر کی لطافت جنم لیتی ہے، نہ خیر و احسان کی نمو ہوتی ہے، اور نہ ہی اُن نعمتوں کے آثار اُن کی شخصیت میں امید، حیات انگیزی، سخاوت، روحانی بالیدگی اور مثبت کردار کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

یہ آیت درحقیقت انسان کو اس خطرناک نفسیاتی انحراف سے متنبہ کرتی ہے جس میں وہ نعمتوں کے ادراک کے بجائے محرومیوں کے احساس میں گرفتار ہو کر تدریجاً منفی طرز فکرکا شکار ہو جاتا ہے۔ قرآن انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ شکر، معرفت اور شعورِ نعمت کے ذریعے اپنی شخصیت کو مثبت، متوازن اور روحانی طور پر زرخیز بنائے، کیونکہ ناشکری صرف ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ انسانی روح کی ویرانی اور فکری انحطاط کی علامت بھی ہے۔

انسانی فطرت میں یہ میلان بنیادی طور پر موجود ہے کہ وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کے حصول کا خواہش مند رہتا ہے۔ تاہم جب یہ خواہش شعورِ نعمت اور روحِ شکر سے محروم ہو جائے تو انسان تدریجاً ایک ایسی نفسیاتی اور فکری کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں اُس کی نگاہ نعمتوں کی کثرت  کے باوجود صرف محرومیوں پر مرکوز رہتی ہے۔ وہ بہت جلد اپنے پاس موجود عطیاتِ الٰہی کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، اور یوں اُس کے باطن میں ناشکری، بے اطمینانی اور منفی طرز فکر جڑ پکڑنے لگتی ہے۔

نتیجتاً انسان ایک ایسے طرزِ احساس کا اسیر ہو جاتا ہے جس میں اُسے ہر شے ادھوری، ہر کامیابی ناکافی، اور ہر نعمت ناقابلِ اعتنا محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگرچہ وہ صحت، اہل و عیال، امن، ذہانت، صلاحیتوں، معاشرتی مقام اور بے شمار مواقعِ زندگی سے بہرہ مند ہی کیوں نہ ہو، مگر اُس کی محروم نگاہ صرف اُن چیزوں پر ٹھہرتی ہے جو اُسے حاصل نہیں ہو سکیں۔اور یوں وہ ظاہری فراوانی کے باوجود باطنی افلاس کا شکار رہتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ موجود نعمتوں سے حقیقی مسرت حاصل کرنے کے بجائے اُن کے زوال اور فقدان کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ چنانچہ اُس کی داخلی دنیا خوف، اضطراب، احساسِ محرومی اور ذہنی بے سکونی کا مسکن بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں منفی طرز فکر جنم لیتی ہے؛ اور پھر یہی منفی طرز فکر خاموشی کے ساتھ انسان کی روحانی حرارت، فکری تازگی، نفسیاتی توازن اور معنوی زندگی کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نعمتوں کو انسان کی زندگی میں حرکت، تعمیر اور خیر کا ذریعہ قرار دیا ہے، نہ کہ جمود اور بے حسی کا سبب۔ اسی لیے شکرِ نعمت محض زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ کا نام نہیں، بلکہ ایک عملی رویّہ ہے جو ایمان کو عمل، خیر کو خدمت، اور عطا کو معاشرتی فائدے میں تبدیل کرتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا) (سبأ: 13)

 یعنی شکر کو خود عمل کی صورت دے دی گئی۔ پس وہ نعمت جو انسان اور معاشرے کے لیے خیر و منفعت کا ذریعہ نہ بنے، اپنی حقیقی تاثیر کھو دیتی ہے، بلکہ کبھی اپنے حامل کے لیے حسرت اور تنگی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

انسانی زندگی کا ایک نہایت دردناک منظر یہ ہے کہ انسان بے شمار نعمتوں میں گھرے ہونے کے باوجود خوف، مایوسی اور بدگمانی کا شکار ہو۔ اُس کی گفتگو میں امید کے بجائے محرومی، اور اُس کی فکر میں اعتماد کے بجائے اضطراب نمایاں ہو۔ وہ حال کی نعمتوں کو محسوس نہیں کرتا اور مستقبل کو صرف اندھیروں اور خطرات کی صورت میں دیکھتا ہے۔ یوں اُس کی منفی سوچ نہ صرف اُس کی اپنی روح کو بوجھل کرتی ہے بلکہ اُس کے اردگرد کے لوگوں تک بھی بے چینی اور پژمردگی منتقل کرتی ہے۔

قرآنِ حکیم نے اس کیفیت کو یوں بیان فرمایا ہے: (وَإِنْ مَسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ) (فصلت: 49) اور فرمایا: (إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا  إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا) (المعارج: 19-20)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ جب انسان کے دل سے یقین اور توکل کمزور ہو جائے تو وہ معمولی مشکلات کے سامنے بھی ٹوٹنے لگتا ہے، اور خوف و مایوسی اُس کی شخصیت پر غالب آ جاتی ہے۔منفی انسان کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی امید، حوصلے اور جذبے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ بدترین امکانات کا تصور کرتا ہے، ہر معاملے میں رکاوٹیں تلاش کرتا ہے، اور ہر نئی فکر، منصوبے یا امید کو شک و بدگمانی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر کسی کو کامیابی ملے تو اُس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر کوئی شخص پُرامید اور مثبت سوچ رکھتا ہو تو اُس کے جذبۂ امید کا مذاق اڑاتا ہے۔ گویا اُس کی باطنی تاریکی دوسروں کی روشنی کو قبول نہیں کر پاتی۔

قرآنِ حکیم نے اس روحانی و نفسیاتی کیفیت کو “معیشتِ ضنک” سے تعبیر فرمایا ہے: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا﴾ (طه: 124) یہ تنگی صرف رزق یا مال کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ یہ روح کی گھٹن، دل کی بے سکونی، اور فکر کی تاریکی بھی ہو سکتی ہے۔ جب انسان ذکرِ الٰہی، یقین اور روحانی اطمینان سے دور ہو جاتا ہے تو اُس کی زندگی ظاہری آسائشوں کے باوجود اندرونی بے چینی اور خلا کا شکار ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس قرآنِ حکیم انسانِ مؤمن کی ایک ایسی روشن تصویر پیش کرتا ہے جو نعمت کو محض عارضی لذت نہیں بلکہ ایک امانت، ذمہ داری اور پیغام سمجھتا ہے۔ یہی شعور اُس کی شخصیت میں مثبت طرزِ فکر، امید اور روحانی استحکام پیدا کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے ساتھ ہے، اور زندگی کی سختیاں دائمی نہیں ہوتیں۔ اسی یقین کے ساتھ وہ ارشادِ باری تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے:(فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا) [الشرح: 5-6] مؤمن مشکلات کے وجود کا انکار نہیں کرتا، لیکن اُنہیں اپنی روح، امید اور ارادے پر غالب بھی نہیں آنے دیتا۔ وہ آزمائشوں کا مقابلہ مایوسی سے نہیں بلکہ امید، عمل اور توکل کے ساتھ کرتا ہے، اور یہی ایمان اُسے داخلی قوت اور حقیقی سکون عطا کرتا ہے۔

قرآنِ حکیم کے نزدیک مثبت طرزِ فکر کوئی سطحی خوش فہمی یا غیر حقیقی امید پرستی نہیں، بلکہ یہ ایمان، یقین اور معرفتِ الٰہی سے جنم لینے والی ایک گہری روحانی کیفیت ہے۔ جب انسان کا قلب اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور یقین سے بھر جاتا ہے تو وہ زندگی کی ہر آزمائش میں حکمت، ہر تکلیف میں مصلحت، اور ہر تاریکی کے پسِ پردہ روشنی کی امید دیکھنے لگتا ہے۔ اُسے یقین ہوتا ہے کہ مشکلات دائمی نہیں اور اللہ کی رحمت ہر حال میں انسان کے ساتھ ہے۔

اسی حقیقت کو قرآنِ مجید نے نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا ہے: (أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ) (الرعد: 28) گویا حقیقی سکون اور قلبی اطمینان مثالی حالات، مادی آسائشوں یا ظاہری کامیابیوں سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اُس مضبوط روحانی تعلق سے پیدا ہوتا ہے جو انسان کو اپنے ربّ کے ساتھ وابستہ کر دیتا ہے۔

انسان کی سب سے خطرناک محرومی یہ نہیں کہ اُس کے پاس نعمتیں کم ہوں، بلکہ یہ ہے کہ وہ عطا شدہ نعمتوں کو قدر، شکر اور خیر کے بجائے شکایت، خوف اور بے عملی میں ضائع کر دے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں عقل، علم، وقت، صحت، مال اور بے شمار صلاحیتیں عطا کی گئیں، مگر منفی سوچ، سستی، خوف اور مایوسی نے اُن نعمتوں کی قوت کو بے اثر کر دیا، یہاں تک کہ اُن کی زندگی دوسروں کے لیے کوئی مثبت اثر چھوڑنے سے محروم ہو گئی۔

اس کے برعکس بعض افراد وسائل کی کمی کے باوجود شکر، امید اور حوصلے کی دولت رکھتے ہیں۔ وہ محدود امکانات سے بھی خیر و تعمیر کے راستے نکال لیتے ہیں، اور اپنی مثبت روح، اخلاص اور عملی جدوجہد کے ذریعے اپنے گرد روشنی، امید اور زندگی کی حرارت پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ درحقیقت نعمت کی حقیقت کو پہچانتے اور اُسے انسانیت کے فائدے میں تبدیل کرتے ہیں۔ اسی بنا پر اسلام میں شکر کو صرف ایک زبانی اظہار نہیں بلکہ انسانی ارتقا، روحانی وسعت اور حقیقی کامیابی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ [إبراهيم: 7]

یہ اضافہ محض مال و دولت یا مادی وسائل میں وسعت کا نام نہیں، بلکہ اس سے مراد قلبی اطمینان، روحانی  سکون، زندگی کی برکت، فکر کی پختگی، اور انسان کی مثبت و تعمیری تاثیر بھی ہے۔ شکر گزار انسان اپنی زندگی کو بے مقصد نہیں سمجھتا، بلکہ وہ خود کو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا امین تصور کرتا ہے۔ اسی شعور کے تحت وہ اپنی صلاحیتوں، وقت اور وسائل کو خیر، خدمت اور اصلاح کے راستے میں صرف کرتا ہے۔چنانچہ شکر انسان کے اندر امید، حرکت، حوصلہ اور نفع رسانی کی روح پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکر گزار انسان نہ صرف خود مطمئن اور پُرامید زندگی گزارتا ہے بلکہ اپنے وجود سے دوسروں کے لیے بھی خیر، سکون اور روشنی کا سبب بنتا ہے۔

دنیا کو اُن آوازوں کی نہیں جو مایوسی، خوف اور شکستگی کو بڑھائیں، بلکہ اُن بیدار روحوں کی ضرورت ہے جو اپنے وجود سے سکون، امید اور عمل کی حرارت پیدا کریں۔ زندگی خواہ کتنی ہی دشواریوں اور آزمائشوں سے بھر جائے، پھر بھی وہ جدوجہد اور مقصد کے قابل رہتی ہے۔ انسان بھی خواہ کتنے ہی غموں، ناکامیوں اور فکری دباؤ کا شکار ہو، اگر اُس کا دل ایمان، یقین اور روحِ شکر سے روشن ہو تو وہ دوبارہ اُٹھنے، سنبھلنے اور آگے بڑھنے کی قوت پا لیتا ہے۔

اس کے برعکس “کنود” انسان اپنی ناشکری، منفی سوچ اور روحانی بے حسی کے باعث اپنی زندگی کو ایک ایسی بنجر زمین میں تبدیل کر دیتا ہے جو نہ خیر پیدا کرتی ہے، نہ امید اُگاتی ہے، اور نہ اپنے اطراف میں موجود لوگوں کو کچھ عطا کرتی ہے سوائے ذہنی خشکی، قلبی گھٹن اور نفسیاتی پژمردگی کے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم میں شکر کو ایک عظیم عبادت اور بلند روحانی مقام قرار دیا گیا ہے، کیونکہ شکر انسان کو منفی طرز فکر، احساسِ محرومی اور باطنی تاریکی سے نجات دیتا ہے۔ شکر اُس کے اندر امید، توازن، روحانی تازگی اور مثبت احساس کو زندہ کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ دوسروں کے لیے تاریکی نہیں بلکہ روشنی، مایوسی نہیں بلکہ امید، اور جمود نہیں بلکہ خیر و تعمیر کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔

حضرت امام محمد باقرؑ روایت فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں بدترین انسانوں کے بارے میں آگاہ نہ کروں؟  صحابہؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بدترین شخص وہ ہے جو اپنی عطا اور مدد کو روک لے، اپنے ماتحتوں پر ظلم کرے، اور تنہا خود ہی فائدہ اٹھائے۔لوگوں نے خیال کیا کہ شاید اس سے بڑھ کر کوئی بدتر انسان نہ ہوگا۔ پھر رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اُس سے بھی زیادہ بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ عرض کیا گیا: ضرور، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس سے کسی خیر کی امید نہ ہو اور لوگ اُس کے شر سے بھی محفوظ نہ ہوں۔لوگوں نے سمجھا کہ اس سے بڑھ کر کوئی اور بدتر نہ ہوگا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اُس سے بھی زیادہ بدترین انسان کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہؓ نے عرض کیا: ضرور، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جو بدزبان، گالی گلوچ کرنے والا اور کثرت سے لعنت کرنے والا ہو؛ جب اُس کے سامنے مؤمنین کا ذکر کیا جائے تو اُن پر لعنت کرے، اور جب لوگ اُس کا ذکر کریں تو اُس پر لعنت بھیجیں۔” (الکافی، ج۳، ص۷۱۵)

شیئر: