ایمان صرف ایک خیالی یا کوئی ایسا محض عبادتی عمل نہیں ہے جسے انسان فرصت کے لمحات میں انجام دے، بلکہ یہ تو وہ اندرونی قوت ہے جو انسان کے نفس کو لرزہ خیز حالات میں بھی ثابت قدم رکھتی ہے اور انسان کے دل میں یہ یقین راسخ کرتی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک اعلیٰ قدرت موجود ہے جو حکمت اور رحمت کے ساتھ تمام امور کی تدبیر کرتی ہے۔ اسی لیے سختیوں اور آزمائشوں کے وقت مومن اور کافر کے درمیان ایک گہرا فرق نمایاں ہو جاتا ہے کہ اس وقت مومن یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنی تکلیف اور آزمائش کی جنگ میں تنہا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، اس کی فریاد سن رہا ہے اور اس پر قادر ہے کہ اس کی مصیبت کو رحمت اور آزمائش کو نعمت میں بدل دے۔ اس کے برعکس، کافر اندرونی گمراہی اور روحانی خلفشار کا شکار رہتا ہے، کیونکہ وہ اس غیبی سہارے سے محروم ہوتا ہے جو انسان کو قلبی سکون، اطمینان اور ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔
امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے:
(إنَّ الصبرَ والبلاءَ يستبقان إلى المؤمن، فيأتيه البلاء وهو صبور، وإنَّ الجزعَ والبلاءَ يستبقان إلى الكافر، فيأتيه البلاء وهو جزوع )(بحار الأنوار، ص 95( بے شک صبر اور بلا مؤمن کی طرف ایک ساتھ بڑھتے ہیں، جب بلا اس تک پہنچتی ہے تو وہ صابر ہوتا ہے؛ جبکہ بے قراری اور بلا کافر کی طرف ایک ساتھ بڑھتے ہیں، پس جب بلا اس تک پہنچتی ہے تو وہ گھبراہٹ اور بے صبری میں مبتلا ہوتا ہے۔
اگرچہ مؤمن پر جب مصیبتیں نازل ہوتی ہیں تو وہ تکلیف محسوس کرتا ہے، روتا بھی ہے اور کمزور بھی پڑ سکتا ہے، لیکن وہ مکمل طور پر ٹوٹ کر بکھر نہیں جاتا، کیونکہ اس کے دل میں یہ پختہ یقین موجود ہوتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے، یہ کہ ہر سختی کے بعد آسانی آتی ہے، اور اللہ ہر لمحہ حالات کو بدل دینے پر قادر ہے۔
یہ ایمان اس کی شخصیت میں ایک عجیب نفسیاتی توازن پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اگرچہ ظاہری اور مادی اسباب کو بھی اختیار کرتا ہے، کوشش کرتا ہے، تدبیر کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا دل اللہ پر بھروسا کیے ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ظاہری قوتیں سب کچھ نہیں ہوتیں، بلکہ ان ظاہری اسباب کے پیچھے ایک ایسی ذات بھی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرتی اور تقدیریں بدل دیتی ہے۔اسی لیے مؤمن صبر اور برداشت کی زیادہ قوت رکھتا ہے، کیونکہ اس کا دل ایک ایسی طاقت سے وابستہ ہوتا ہے جس کی کوئی حد نہیں، جو نہ کبھی دھوکا دیتی ہے اور نہ فنا ہوتی ہے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: (المؤمنُ يُطبعُ على الصبرِ على النوائب) (مشكاة الأنوار، ص 23 مؤمن کی فطرت ہی ایسی بنائی گئی ہے کہ وہ مصائب و مشکلات پر صبر کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو متعدد مقامات پر نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾ اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ (سورۂ طلاق: 3)
یعنی اللہ تعالیٰ اس کے لیے کفایت کرنے والا اور مددگار ہے، خواہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔ پس جب مؤمن یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے تو زندگی کی سختیاں اس پر آسان ہو جاتی ہیں۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ بند دروازے کھل سکتے ہیں اور مایوسی اس کے راستے کا اختتام نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انبیاءؑ اور صالحین آزمائشوں کے وقت سب سے زیادہ ثابت قدم نظر آتے ہیں، کیونکہ وہ بلا کو ایک الٰہی امتحان سمجھتے تھے، نہ کہ بے مقصد سزا۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ ہر درد کے پسِ پردہ ایک پوشیدہ رحمت ہوتی ہے، اگرچہ انسان اسی لمحے اسے نہ سمجھ سکے۔اس کے برعکس، کافر یا مشرک جب مصیبتوں میں گھرتا ہے تو زندگی کے اس عمیق مفہوم سے محروم ہو جاتا ہے۔ وہ صرف محدود مادی اسباب کو دیکھتا ہے، اور جب یہ اسباب جواب دے جائیں تو وہ اپنے آپ کو ایک ہولناک خلا میں گرا ہوا محسوس کرتا ہے، جہاں نہ سہارا ہوتا ہے اور نہ امید۔اسی کیفیت کو قرآنِ مجید نے نہایت مؤثر تمثیل میں یوں بیان فرمایا ہے: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر اسے پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اسے کسی دور دراز جگہ پر پھینک دے۔( سورۂ حج: 31)
یہ آیت ایک ایسے انسان کی تصویر کھینچتی ہے جو اپنے باطنی توازن سے محروم ہو چکا ہے؛ جو امن و اطمینان کی بلندیوں سے گر کر گمراہی کی گہری کھائی میں جا پڑا ہے، جہاں مختلف قوتیں اسے اچھالتی پھینکتی ہیں اور اس کے لیے نہ کوئی پناہ ہے اور نہ استقرار۔ یہ وہ انسان ہے جس کے پاس سہارا لینے کے لیے کوئی مضبوط اور ثابت مرکز نہیں ہوتا، اسی لیے وہ اضطراب، خوف اور شکستگی کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ جبکہ مؤمن کا دل اللہ کے سہارے سے بندھا ہوتا ہے، اور یہی تعلق اسے ہر طوفان میں ثابت قدم رکھتا ہے۔
قرآنِ مجید نے صرف اسی تمثیل پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید مثالیں دے کر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ کافر اپنی زندگی میں جن چیزوں پر بھروسا کرتا ہے، وہ درحقیقت کس قدر کمزور اور ناپائیدار ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ﴾ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے، کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔(سورۂ عنکبوت: 41)یہ آیت نہایت گہرے انداز میں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ کافر بظاہر مال، اقتدار، تعلقات یا دنیاوی وسائل کو اپنی پناہ گاہ سمجھتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ یہی چیزیں اسے تحفظ اور سکون عطا کریں گی، لیکن جب آزمائش کا طوفان آتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ سب مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہیں؛ نہ یہ خوف سے بچا سکتے ہیں اور نہ اضطراب سے نجات دلا سکتے ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا﴾ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں سراب، جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا۔(سورۂ نور: 39)
سراب دور سے پانی دکھائی دیتا ہے اور پیاسا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کی تشنگی بجھ جائے گی، لیکن جب وہ وہاں پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض ایک فریبِ نظر تھا۔ بالکل اسی طرح کافر اپنی پوری زندگی ان سراب نما سہاروں کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے۔ وہ گمان کرتا ہے کہ دولت، شہرت، قوت یا انسانی تعلقات اسے اطمینان اور خوشی عطا کریں گے، مگر جب حقیقت کا لمحہ آتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خالی ہاتھ پاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسی حقیقی امید باقی نہیں رہتی جو اس کی روح کو سہارا دے سکے۔ یہی وجہ ہے سختیوں کے وقت مؤمن اور کافر کے درمیان فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔ مؤمن کے پاس توکل کا مضبوط سہارا ہوتا ہے، جبکہ کافر کے ہاتھ میں صرف وہم کا جالا اور سراب کی چمک باقی رہ جاتی ہے۔
قرآنِ مجید نے ایک اور نہایت مؤثر مثال کے ذریعے کافر کے باطنی اضطراب اور اس کے سہاروں کی ناپائیداری کو بیان فرمایا ہے: ﴿مَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ﴾ جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے اعمال اس راکھ کی مانند ہیں جسے آندھی کے دن تیز ہوا اڑا لے جائے۔( سورۂ ابراہیم: 18)
راکھ ہوا کے سامنے کوئی ٹھہراؤ نہیں رکھتی؛ وہ بکھر جاتی ہے اور اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ یہ اس نفس کی نہایت دقیق تصویر ہے جو ایمان کی بنیاد سے محروم ہو۔ ایسی روح بظاہر مضبوط دکھائی دے سکتی ہے، مگر آزمائش کے جھکڑ آتے ہی منتشر ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کا سہارا کمزور، عارضی اور تغیر پذیر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر ایمان انسانی درد اور تکلیف کو ختم نہیں کرتا، لیکن اسے ایک معنی عطا کرتا ہے۔ یہ مصیبت کو محض ایک جان لیوا بوجھ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک ایسی آزمائش میں بدل دیتا ہے جسے عبور کیا جا سکتا ہے۔
مؤمن بیماری کو گناہوں کا کفارہ سمجھتا ہے، فقر کو صبر کی آزمائش جانتا ہے، اور خسارے میں بھی کسی پوشیدہ خیر کی امید رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی حکمت ہر حال میں کارفرما ہے، اور جو کچھ بظاہر نقصان دکھائی دیتا ہے، ممکن ہے اسی میں ایک عظیم بھلائی پوشیدہ ہو۔ اسی لیے مؤمن سخت ترین حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔ قرآنِ کریم نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا ہے:﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے، یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔(سورة شرح: 5-6)
یہ تکرار محض تاکید نہیں بلکہ دل کو یقین دلانے کا ایک الٰہی انداز ہے کہ کوئی تاریکی دائمی نہیں، کوئی سختی بے انتہا نہیں، اور ہر آزمائش کے پہلو میں آسانی کا دروازہ موجود ہوتا ہے۔ یہی یقین دل کو قوتِ مزاحمت دیتا ہے، انسان کو شکست سے بچاتا ہے، اور اسے حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا رہنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ یہی وہ راز ہے جس کی بنا پر مؤمن آزمائشوں میں بھی ٹوٹتا نہیں بلکہ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔اور اس کے برعکس، ایمان کی غیر موجودگی انسان کو غیب کے خوف اور نامعلوم مستقبل کے اندیشوں کا اسیر بنا دیتی ہے، کیونکہ اس کی پوری زندگی صرف مادی دنیا تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ جب ظاہری اسباب ٹوٹ جاتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی اس کا احساسِ تحفظ بھی بکھر جاتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ، خواہ وہ مال و دولت کے مالک ہوں یا طاقت و اقتدار کے حامل، پھر بھی ایک مستقل بے چینی اور اندرونی خلا کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی روح اس اصل سرچشمۂ سکون سے وابستہ نہیں ہوتی جو حقیقی اطمینان عطا کرتا ہے۔
اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان محض ایک نظریہ یا عقیدہ نہیں بلکہ انسانی وجود کی ایک گہری ضرورت ہے، جو نفس کو ثبات، زندگی کو معنی اور دل کو اطمینان عطا کرتی ہے۔ مؤمن، خواہ کتنی ہی سخت آزمائشوں سے گزرے، پھر بھی ثابت قدم رہتا ہے کیونکہ وہ ایک ایسی قوت سے وابستہ ہوتا ہے جو کبھی متزلزل نہیں ہوتی۔اس کے برعکس، کافر آزمائشوں کے وقت ڈگمگا جاتا ہے کیونکہ وہ اسی عظیم سہارے سے محروم ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے مشرک اور کافر کی حالت کو جن تصویروں میں بیان کیا ہے وہ نہایت مؤثر اور دل کو جھنجھوڑ دینے والی ہیں، جو اس روحانی گمراہی کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں جس میں انسان اللہ سے کٹ کر مبتلا ہو جاتا ہے، اور اس قلبی اطمینان کو بھی واضح کرتی ہیں جو ایمان اور توکل کے زیرِ سایہ مؤمن کو حاصل ہوتا ہے۔