الشيخ معتصم السيد أحمد
معاصر فکری مباحث، بالخصوص عمرانیات اور سیاسی فلسفے کے میدان میں، ایک تصور نہایت قوت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ انسان کو اپنے عقیدے، فکر اور طرزِ زندگی کے انتخاب میں کامل آزادی حاصل ہونی چاہیے، اور کسی بھی اتھارٹی خواہ وہ مذہبی ہو یا ریاستی،کو اس کے اس دائرۂ اختیار میں مداخلت کا حق نہیں پہنچتا، الا یہ کہ اس کے افعال سے دوسروں کو براہِ راست نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
بادی النظر میں یہ نظریہ انسانی تاریخ میں جبر، استبداد اور فکری پابندیوں کے خلاف طویل جدوجہد کا ایک پختہ اور مہذب ثمر دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض حلقوں میں اسے ایک "سائنسی حقیقت" یا "عصرِ حاضر کے متفقہ شعور" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔تاہم اس کا بنظر عمیق جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تصور نہ تو کسی قطعی اور آفاقی حقیقت کا ترجمان ہے اور نہ ہی انسانی فکر کے ارتقا کا آخری اور ناقابلِ تنقید مرحلہ ہے ۔ درحقیقت یہ ایک مخصوص فکری و فلسفیانہ روایت کا مظہر ہے، جس کی اپنی تاریخی تشکیل، فلسفیانہ بنیادیں اور سماجی و تہذیبی سیاق و سباق ہیں۔ لہٰذا اسے بلا استثناء تمام معاشروں، تہذیبوں اور فکری روایتوں کے لیے ایک حتمی، مسلم ، متفقہ اور قابل قبول اصول قرار دینا علمی دیانت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
زیر بحث معاملے میں ایک بنیادی غلطی، جس کا ارتکاب بہت سے صاحبان نظر کرتے ہیں،وہ یہ ہے کہ وہ "وصف" اور "تقویم" کے درمیان فرق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔علمِ عمرانیات، ایک ایسے علم کی حیثیت سے جو معاشرتی مظاہر کا مطالعہ کرتا ہے، بذاتِ خود کوئی لازمی اخلاقی یا اقداری فیصلے صادر نہیں کرتا، بلکہ اس کا کام یہ جاننا اور تجزیہ کرنا ہوتا ہے کہ مختلف معاشرے کس انداز سے سوچتے ہیں اوروہ اپنے باہمی تعلقات کو کس طرح منظم کرتے ہیں۔
لہٰذا جب کبھی جدید سماجی علوم کی تحریروں میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ بعض معاشرے فرد کی آزادی کے دائرے کو وسیع کرنے اور ریاست یا دیگر مقتدر اداروں کے کردار کو محدود کرنے کی طرف مائل ہیں، تو اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ یہی طرزِ عمل مطلق طور پر درست اور حتمی راستہ ہے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ ایک سماجی نمونہ ہے جسے بعض معاشروں نے اپنی مخصوص تاریخی، ثقافتی اور تمدنی روایات اور تجربات کی بنیاد پر اختیار کیا ہے۔اس نکتے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ (ریاست کو لوگوں کے عقائد میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے) جیسے تصورات کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ آج کے “علمِ عمرانیات کے ماہرین کی عمومی رائے” ہے، ایک بڑی خوش فہمی (اور گمراہ کن سادگی) ہے۔کیونکہ اس کے بارے میں خود مغربی فکر، جو ان نظریات کا بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے، کسی ایک یکساں اور متفقہ رائے پر قائم نہیں ہے، بلکہ اس میں مختلف اور متنوع فکری رجحانات پائے جاتے ہیں۔جس کے ایک طرف لبرل مکتبِ فکر ہے جو فرد کی آزادی کو زیادہ سے زیادہ وسعت دینے اور ریاست کے دینی و فکری معاملات میں کردار کو کم سے کم کرنے کا قائل ہے۔اس کے برعکس اس میں کچھ قدامت پسند یا اجتماعیت پسند رجحانات بھی موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرہ اپنی بقا اور تسلسل کے لیے ایک مشترکہ اقدار کے نظام کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، اور اگر آزادی کو مکمل طور پر حدود و قیود کےبغیر چھوڑ دیا جائے تو اس سے اقدار کا نظام بکھر سکتا ہے اور معاشرتی ربط و ضبط کمزور پڑ سکتا ہے۔
ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کچھ درمیانی نظریات بھی پائے جاتے ہیں جو فرد کی آزادی اور معاشرتی نظم و ضبط کی ضروریات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ نہ تو فرد کی آزادی متاثر ہو اور نہ ہی معاشرے کا استحکام خطرے میں پڑے۔ریاست کی مداخلت کو محدود کرنے کی فکر کی بنیادوں میں ایک اہم اصول وہ ہے جسے سیاسی فلسفے میں “نقصان کا اصول” کہا جاتا ہے، جسے فلسفی جان سٹورٹ مل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق ریاست کو فرد کی آزادی میں مداخلت کا حق صرف اس صورت میں حاصل ہے جب اس کا طرزِ عمل دوسروں کو نقصان پہنچا رہا ہو۔ اس اصول نے جدید قوانین کی تشکیل پر گہرا اثر ڈالا ہے، خصوصاً اظہارِ رائے اور عقیدے کی آزادی کے میدان میں۔تاہم یہ اصول بظاہر پر کشش ہونےکے باوجود ایک بڑی مشکل کا سامنا کرتا ہے، اور وہ ہے “نقصان” کے مفہوم کا تعیین۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نقصان صرف ان مادی اور براہِ راست پیمانوں تک محدود ہے جیسے جسمانی اذیت یا جائیداد پر حملہ؟ یا نقصان کا دائرہ اس سے وسیع ہے اور اس میں اخلاقی، ثقافتی اور اقدار کے پہلو بھی شامل ہو سکتے ہیں؟
اسی طرح یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا بعض افکار کی ترویج یا مخصوص طرزِ زندگی کی تبلیغ کو بھی نقصان کی ایک قسم قرار دیا جا سکتا ہے، اگر وہ طویل مدت میں خاندانی نظام کے انتشار یا سماجی روابط کی کمزوری کا سبب بنیں؟یہ سوالات محض نظری بحث تک محدود نہیں، بلکہ خود مغربی معاشروں کے اندر بھی سنجیدگی سے زیرِ بحث ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جو ممالک لبرل بیانیہ کو اختیار کرتے ہیں، وہ بھی “عدم مداخلت” کے اصول پر مکمل طور پر کاربند نہیں رہتے، بلکہ مختلف شعبوں میں واضح پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
یہ ریاستیں نفرت انگیز تقاریر کو روکتی ہیں، بعض اقسام کے اظہارِ رائے کو جرم قرار دیتی ہیں، مخصوص تعلیمی پالیسیوں کو لازم قرار دیتی ہیں، بلکہ بعض اوقات مذہبی سرگرمیوں میں بھی مداخلت کرتی ہیں بشرطیکہ انہیں یہ محسوس ہو کہ وہ ریاست میں رائج نظام یا معاشرے کی بنیادی اقدار کے خلاف ہوں۔یہ صورتِ حال ایک اہم تضاد کو ظاہر کرتی ہےیعنی: وہ نظام جو فردکی آزادی کا سب سے زیادہ دفاع کرتا ہے،وہ خود بھی معاشرتی دائرہ کار میں ریاست کے کردار کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکمل آزادی اور ریاست کی مکمل عدم مداخلت کا تصور ایک عملی اور نافذ العمل ماڈل نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا تصوراتی خاکہ ہے جو سماجی حقیقتوں کی پیچیدگیوں سے ٹکرا کر اپنی حقیقت کھو دیتا ہے۔اجتماعی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ریاست کو مکمل طور پر ایک غیر جانب دار وجود کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ کوئی بھی اصلیت معاشرہ خواہ وہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو کچھ مشترکہ اقدار پر قائم ہوتا ہے جو اس کی شناخت تشکیل دیتی ہیں۔
یہ اقدار کسی خلا میں وجود نہیں پاتیں، بلکہ انہیں اداروں کے ذریعے محفوظ اور مضبوط کیا جاتا ہے، اور ان اداروں میں سب سے اہم کردار ریاست کا ہوتا ہے۔ اگر آزادی کے نام پر عوامی حلقوں سے ہر قسم کی پابندی یا ضابطہ ہٹا دیا جائے تو اس کا نتیجہ لازماً زیادہ آزادی نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسی اقداری افراتفری پیدا ہو سکتی ہے جو ان ہی معیارات کو کمزور کر دے جن پر معاشرتی ہم آہنگی قائم ہوتی ہے۔
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ تنہائی میں نہیں جیتا بلکہ دوسروں سے متاثر بھی ہوتا ہے اور دوسروں کو متاثر بھی کرتا ہے۔ اس لیے افکار اور عقائد کو صرف انفرادی اور ذاتی معاملہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ان کے اثرات انسانی رویّوں، باہمی تعلقات اور پورے سماجی ڈھانچے تک پھیلتے ہیں۔
ایسے میں جب کسی عقیدے یا فکر کو اس کے ذریعے پڑنے والے سماجی اثرات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے مکمل طور پر نجی معاملہ قرار دے دیا جاتا ہے تو گویا اس طرح فرد اور معاشرے کے درمیان پائے جانے والے گہرے باہمی تعلق کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جو خلاف حقیقت اقدام ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ریاست کو لوگوں کے ضمیروں میں مطلق یا جبری مداخلت کا حق حاصل ہو جائے، کیونکہ ایسا رویہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے اور دین یا فکر کو محض تسلط اور غلبے کا ایک آلہ بنا دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک متوازن تصور کی ضرورت سامنے آتی ہے، جو عقیدے کی آزادی کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرے اور ساتھ ہی اس عقیدے کے سماجی اظہار کو ایک اجتماعی عمل سمجھتے ہوئے اس پر معقول ضوابط بھی عائد کرے۔
اسی تناظر میں اسلامی فکر ایک مختلف زاویۂ نظر پیش کرتی ہے جو اسی دقیق توازن پر قائم ہے۔ قرآنِ کریم واضح طور پر عقیدے کی آزادی کے اصول کو اس آیت میں بیان کرتا ہے: “لا إكراه في الدين” (دین میں کوئی جبر نہیں ہے)۔ یہ نص اس بات کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ ایمان کے اصل مسئلے میں کسی قسم کا جبر قابلِ قبول نہیں، اور انسان اور عقیدے کے درمیان تعلق زبردستی پر قائم نہیں ہو سکتا۔تاہم اس اصول کا یہ مطلب نہیں کہ دین کو محض ایک محدود انفرادی دائرے تک سمیٹ دیا جائے، بلکہ دین ایک ایسی اقداری مرجعیت کے طور پر موجود رہتا ہے جو اجتماعی زندگی کو منظم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
اسلامی تصور کے مطابق انسان کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا جاتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی کسی ضابطے کے بغیر آزاد نہیں چھوڑا جاتا۔ اس لیے ایسے اخلاقی اصول اور قانونی احکام موجود ہوتے ہیں جو باہمی تعلقات کو منظم کرتے ہیں، معاشرتی نظم کو برقرار رکھتے ہیں، اور اس بات کو روکتے ہیں کہ آزادی دوسروں کو نقصان پہنچانے یا سماجی توازن کو خراب کرنے کا ذریعہ بن جائے۔اس طرح اسلام میں آزادی نہ تو ایسی آزادی ہے جو بے قید ہو کر انتشار پیدا کرے، اور نہ ہی ایسی محدود آزادی ہے جو جبر اور استبداد کی شکل اختیار کر لے، بلکہ یہ ایک ذمہ دار آزادی ہے جس میں فرد کے حقوق اور معاشرے کے مفادات باہم ہم آہنگ ہوتے ہیں۔
اسی بنیاد پر اصل سوال یہ نہیں کہ آیا ریاست کو مداخلت کا حق حاصل ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست کب، کیسے، اور کن معیارات کے تحت مداخلت کرے۔یعنی اصل چیلنج کسی ایک فریق کی مکمل مسترد کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا توازن قائم کرنا ہے جو ایک طرف استبداد کو روکے اور دوسری طرف معاشرتی افراتفری کو بھی جنم نہ لینے دے۔اسی تناظر میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ تصور جو کسی بھی ریاست کو لوگوں کے عقائد میں مطلق عدم مداخلت کا پابند قرار دیتا ہے، نہ تو فکری حقیقت کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی عملی معاشرتی تجربات سے ہم آہنگ ہے۔ یہ دراصل ایک مخصوص فلسفیانہ رجحان ہے جو یورپ میں کلیسائی غلبے کے ردِعمل میں ایک خاص تاریخی پس منظر میں پیدا ہوا، لیکن اسے تمام معاشروں پر ایک عمومی اور لازمی اصول کے طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
ایک مضبوط اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل صرف فردی آزادی کے تحفظ پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک مشترکہ اقداری نظام اور اس نظام کی حفاظت کے لیے ریاست کے منظم کردار کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ یہ ریاستی اختیار ایسے ضوابط کے تابع ہو جو اسے انسانی آزادی کے بنیادی جوہر پر تجاوز کرنے سے روکیں۔
اس طرح سب سے زیادہ پختہ اور متوازن نقطۂ نظر وہ نہیں ہے جو دونوں میں سے کسی ایک فریق کو مکمل طور پر اختیار کرے اور دوسرے کو رد کر دے، بلکہ وہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ فرد اور ریاست کا تعلق کسی صفر مجموعی کشمکش کا نام نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ توازن کا رشتہ ہے۔ایک ایسا توازن انسان اور معاشرے کی فطرت کو گہری بصیرت کے ساتھ سمجھنے، آزادی کی حدود متعین کرنے، “نقصان” کے مفہوم کو واضح کرنے، اور زندگی کی سمت متعین کرنے میں اقدار کے کردار کو تسلیم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔