شیخ مصطفیٰ الہجری
روسی ادب کے عظیم ناول نگار فیودر دوستوئیفسکی نے اپنے شاہکار ناول "کرامازوف برادران" میں تین بھائیوں کی داستان بیان کی ہے، جن میں سے ہر ایک زندگی، انسان اور حقیقت کے بارے میں ایک منفرد زاویۂ نظر کا حامل ہے۔ ایک بھائی جذبات اور جوشیلہ صفات کا مالک ہے۔ دوسرا زیادہ شکی مزاج، روشن خیال اور عقلیت پسند دانشور ہے۔ جبکہ تیسرا بھائی ایمانداراور روحانیت کا پیکر ہے۔یہ ناول محض ایک خاندانی کہانی نہیں، بلکہ یہ انسانی وجود، اخلاق اور ایمان کے گہرے فلسفیانہ مباحث کا آئینہ بھی ہے۔ دوستوئیفسکی اپنے کرداروں کے ذریعے ایسے بنیادی اور ازلی سوالات اٹھاتے ہیں جو آج بھی انسانی فکر کو جھنجھوڑتے ہیں کہ کیا خدا پر ایمان کے بغیر بھی حقیقی نیکی ممکن ہے؟ کیا انسان اپنے اعمال اور فیصلوں میں واقعی آزاد ہے؟ اور اگر آزادی موجود ہے تو اس کی حدود اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جو انسان نے اس کرۂ ارض پر اپنے وجود کے آغاز سے آج تک مسلسل اٹھاتا چلا آرہا ہے ، اور یہی قدیم و جدید فلسفوں کی مرکزی بحث بھی رہے ہیں۔ ان سوالات پر غور و فکر محض ایک ذہنی مشغلہ نہیں بلکہ اس "جہان بینی" کی بنیاد تک رسائی کا ذریعہ ہے جو معاشروں کی فکری سمت متعین کرتی اور اخلاق و قانون کی پوری عمارت کو استوار کرتی ہے۔ تاریخی تقابل اور انسانی و مذہبی ورثے کے عمیق مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہی سوالات کے جوابات تہذیبوں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں کہ آیا وہ ارتقا، کمال اور ترقی کی راہ اختیار کریں گی یا پھر معنویت سے محروم ہو کر عدمیت کی طرف بڑھیں گی۔
اول: کیا ایمان کے بغیر نیکی ممکن ہے؟
دوستوئیفسکی کے ناول میں "ایوان" کا کردار، جو ایک زیادہ شک کرنے والا دانشور کی نمائندگی کرتا ہے اور مغربی جدیدیت کے فکری بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی تناظر میں اس سے منسوب وہ معروف جملہ سامنے آتا ہے کہ’’اگر خدا موجود نہیں تو ہر چیز جائز ہے‘‘ ایوان کا خیال تھا کہ اگر اخلاق کسی اعلیٰ اور ماورائی مرجع سے وابستہ نہ ہوں تو ان کی لازمی حیثیت باقی نہیں رہتی اور وہ محض سماجی معاہدوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جنہیں ذاتی مفاد یا مادی طاقت کی خاطر کسی بھی وقت توڑا جا سکتا ہے۔
اس کے برعکس، جدید سیکولر انسانی فکر جس کی نمائندگی Jean-Jacques Rousseau اور Immanuel Kant جیسے مفکرین کرتے ہیں یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ انسان مذہبی محرک کے بغیر بھی عقل اور انسانی ضمیر کی بنیاد پر نیکی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ کانٹ نے اپنے فلسفۂ اخلاق کی بنیاد "امرِ مطلق"پر رکھی، لیکن اپنی فکری بصیرت کے باعث وہ اس نتیجے تک بھی پہنچا کہ اخلاقی نظام کی عملی تکمیل اس مفروضے کے بغیر ممکن نہیں کہ ایک عادل خدا موجود ہے جو بالآخر فضیلت اور سعادت کے درمیان توازن قائم کرے۔
قرآنی نقطۂ نگاہ اور مکتبِ اہلِ بیتؑ
مکتبِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں اسلام اس سوال کا نہایت دقیق اور عمیق جواب پیش کرتا ہے جس کی بنیاد دو اہم اصولوں پر استوار ہےوہ ہیں فطرت اور حسن و قبحِ عقلی۔ یہاں سے آگے "فطرت" اور "حسن و قبحِ عقلی" کی تفصیل شروع ہوتی ہے۔اسلام اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان ایمان کے بغیر بھی خیر کو پہچان سکتا ہے اور نیک عمل انجام دے سکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت اور سرشت میں دو ایسی رہنما قوتیں ودیعت کی ہیں جو اسے خیر و شر میں تمیز کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہیں۔وہ ہیں فطرت اور عقل۔ انسانی عقل عدل، صدق اور احسان کی خوبی کو پہچانتی ہے، جبکہ ظلم، جھوٹ اور بدی کی قباحت کو بھی محسوس کرتی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ (الروم: 30) پس یکسو ہو کر اپنا رخ دین کی طرف قائم رکھو؛ یہی اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی سیدھا اور مضبوط دین ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔
اسی حقیقت کوامام موسی کاظم علیہ السلام نے نہایت جامع اور عمیق انداز میں واضح فرمایا ہے۔ آپؑ نے ہشام بن حکم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:"اے ہشام! اللہ نے لوگوں پر دو حجتیں قائم کی ہیں کہ ایک ظاہری حجت اور ایک باطنی حجت۔ ظاہری حجت انبیاء، رسول اور ائمہؑ ہیں، جبکہ باطنی حجت عقل ہے۔"
پس غیر مؤمن کے اندر اگر خیر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا سرچشمہ یہی باطنی حجت، یعنی عقل اور فطرت، ہوتی ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر عقل اور فطرت خیر کی رہنمائی کے لیے کافی ہیں تو پھر ایمان کی ضرورت کیا ہے؟
اصل مسئلہ خیر کی معرفت میں نہیں، بلکہ اس کی پائیداری، غایت اور آزمائشوں کے وقت اس پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔ انسانی عقل اور فطرت اگرچہ خیر کی طرف رہنمائی کرتی ہیں، لیکن خواہشاتِ نفس، ذاتی مفادات اور سماجی اثرات ان پر پردہ ڈال سکتے ہیں۔ چنانچہ جب کسی شخص کے ذاتی مفاد اور اخلاقی ذمہ داری میں شدید ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو ایمان اور خدا کے حضور جواب دہی کا احساس نہ ہونے کی صورت میں اخلاقی نظام کے کمزور پڑ جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، شیعہ مفکرین نے نیکی کے اعمال کی اخروی قدر و قیمت پر بھی تفصیلی بحث کی ہے۔ علامہ مرتضی مطہری(رح) اپنی معروف کتاب ’’عدلِ الٰہی ‘‘میں غیر مؤمن افراد کے نیک اعمال جیسے انسانیت کی خدمت کرنے والے سائنس دانوں، ڈاکٹروں اور مصلحین کی خدمات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق جو عمل خالص انسانی ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبے سے انجام دیا جائے، وہ اللہ کے ہاں ہرگز ضائع نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ عادلِ مطلق ہے۔ ایسے اعمال کا صلہ دنیا میں یا کسی نہ کسی صورت آخرت میں ضرور مل سکتا ہے۔
تاہم روحانی کمال اور قربِ الٰہی کے بلند ترین مدارج تک رسائی کے لیے صرف عمل کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایسی نیت بھی ضروری ہے جو خدا سے وابستہ ہو۔ نیت دراصل عمل کی روح ہے۔ جو عمل صرف دنیا تک محدود مقصد کے لیے انجام دیا جائے، اس کے ثمرات بھی عموماً دنیا تک محدود رہتے ہیں۔ لیکن جو عمل خدا کی رضا اور اس ذات سے وابستگی کے ساتھ انجام پائے جو ہمیشہ زندہ اور باقی ہے، وہ خود بھی دوام اور ابدیت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔
ثانیاً: کیا انسان واقعی اپنے انتخاب میں آزاد ہے؟
دوسرا بنیادی سوال، جس نے صدیوں سے فلسفیوں اور متکلمین کے اذہان کو مشغول رکھا ہے، جبر و اختیار کا مسئلہ ہے۔ اگر خیر و شر کا وجود ایک مسلم حقیقت ہے تو کیا انسان واقعی اپنے اعمال اور فیصلوں میں آزاد ہے، یا وہ حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی عوامل کا اسیر ہے؟ بعض جدید مکاتبِ فکر، مثلاً رویّہ پسند مفکرین (Behaviorists) انسان کو اس کی حیاتیاتی ساخت اور ماحول کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، جبکہ مارکسی نظریات اسے تاریخی اور سماجی جبر کے تابع سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس وجودیت کے معروف فلسفی Jean-Paul Sartre نے انسانی آزادی کو اس حد تک اہم قرار دیا کہ اس کا مشہور قول ہے"انسان آزادی کا پابند ہے۔"
اسلامی فکری تاریخ میں بھی اس مسئلے پر گہرا اختلاف پایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دو انتہائیں سامنے آئیں:
اول: جبر کا نظریہ
اس نظریے کے قائلین نے خدا کی مطلق قدرت کے تحفظ کی خاطر انسان کی حقیقی آزادی کا انکار کیا ہے۔ ان کے نزدیک تمام افعال کا حقیقی فاعل صرف خدا ہے اور انسان محض ایک وسیلہ یا مظہر ہے جس کے ذریعے افعال ظہور پذیر ہوتے ہیں۔
دوم: تفویض کا نظریہ
دوسری جانب بعض متکلمین نے عدلِ الٰہی کے دفاع میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ خدا نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کے اعمال کا اختیار مکمل طور پر اس کے سپرد کر دیا ہے، گویا انسان اپنے افعال میں مستقل اور خودمختار ہے۔
اعتدال کا راستہ: "امرٌ بین الامرین"
مکتبِ اہلِ بیتؑ نے ان دونوں انتہاؤں کو قبول نہیں کیا، بلکہ ایک ایسا متوازن نظریہ پیش کیا جو انسانی آزادی اور خدا کی حاکمیت، دونوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کی ذمہ دارانہ آزادی کو یوں بیان کرتا ہے:
﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾ (الإنسان: 3) ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب چاہے شکر گزار بنے یا ناشکرا۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ (الإنسان: 30) اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے؛ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
ان دونوں آیات کے درمیان ظاہری تعارض کو حل کرتے ہوئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے وہ سنہری اصول بیان فرمایا جو شیعہ علمِ کلام کا بنیادی ستون بن گیا۔ آپ نے فرمایا: ’’نہ تو جبر ہے اور نہ ہی تفویض لیکن بات دوامروں کے درمیان ہے‘‘ جب آپؑ سے اس کی وضاحت پوچھی گئی تو فرمایا: ’’اس کی مثال یوں سمجھو کہ تم نے کسی کو گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے اس گناہ سے روکا،لیکن وہ نہ رکا اور تم نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ایسی حالت میں اس کا تمہاری بات کو نہ ماننا اور تمہارااسے اس کے حال پر چھوڑدینا، اس کو گناہ کا حکم دینے کے زمرے میں نہیں آئے گا۔‘‘
اس مثال کے ذریعے امامؑ نے واضح فرمایا کہ خدا انسان کو قدرت، ارادہ، عقل اور اختیار عطا کرتا ہے اور اسے انتخاب کی صلاحیت بخشتا ہے، لیکن اس کے باوجود انسان خدا کی حاکمیت اور ربوبیت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتا۔ انسان آزاد ہے، مگر اس کی آزادی ہر لمحہ خدا کے عطا کردہ وجود، قدرت اور فیض پر قائم ہے۔
اسی حقیقت کوعلامہ محمد حسین طباطبائی (رح)نے تفسیر المیزان میں نہایت عمیق انداز کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر انسان سے اختیار سلب کر لیا جائے تو پورا اخلاقی، قانونی اور سماجی نظام اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔ جزا و سزا، تعلیم و تربیت، اصلاح اور احتساب سب بے معنی ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایک مجبور انسان کو اس کے افعال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
علامہ طباطبائی کے بقول انسان اپنے باطن میں وجدانی طور پر اس حقیقت کو محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے ارادی افعال میں مختار ہے۔ یہی فطری احساس اختیار اس کے وجود کی ایک بدیہی حقیقت ہے، نہ کہ کوئی وہم یا نفسیاتی دھوکا۔ اگر انسان حقیقتاً مجبور ہوتا تو ملامت، مواخذہ، تربیت اور اخلاقی ذمہ داری جیسے تمام تصورات بے معنی ہو جاتے۔
لہٰذا اسلامی نقطۂ نظر میں انسان نہ تو تقدیر کا بے اختیار کھلونا ہے اور نہ ہی خدا سے بے نیاز ایک مطلق خودمختار وجود؛ بلکہ وہ ایک ذمہ دار، باشعور اور مختار ہستی ہے جس کی آزادی خدا کے عطا کردہ نظام کے اندر معنی پاتی ہے، اور یہی توازن انسانی کرامت اور الٰہی عدل دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
فکری امتزاج: آزادی شرط ہے، اور خیر مقصد
اگر ہم دوبارہ ’’برادرانِ کارامازوف‘‘کی طرف رجوع کریں تو یہ شاہکار اپنے قاری کو ایک نہایت اہم نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ انسان اس وقت تک حقیقی معنوں میں نیک نہیں بن سکتا جب تک وہ آزاد نہ ہو، اور آزادی بھی اس وقت تک فرد اور معاشرے کے لیے خیر، امن اور داخلی سکون کا سرچشمہ نہیں بن سکتی جب تک وہ ایمان سے وابستہ نہ ہو۔
ایمان سے محروم آزادی بالآخر انسان کو خواہشات کی غلامی، خود مرکزیت اور اخلاقی انتشار کی طرف لے جاتی ہے، جہاں ہر فرد اپنی ذات کو محور بنا لیتا ہے اور دوسروں کی قدر و حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے فلسفیانہ اصطلاح میں "عدمیت" کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایسی دینداری جو آزادی اور شعوری انتخاب سے خالی ہو، جیسا کہ بعض انتہاپسند یا جو جبرنظریات کے حامل ہے، انسان کو ایک بے روح مشین میں تبدیل کر دیتی ہے اور دینی ذمہ داریوں کے اخلاقی مفہوم کو کھو دیتی ہے۔
درحقیقت ایمان، اخلاق اور آزادی کا متوازن امتزاج ہی ایسے متوازن انسان کو جنم دیتا ہے جو زمین پر اللہ کی خلافت کا حق ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسا انسان خیر کو اس لیے اختیار نہیں کرتا کہ اسے سزا کا خوف ہے یا کسی مادی منفعت کی امید، بلکہ اس لیے کہ وہ خیر کو جمالِ الٰہی کا مظہر اور حق و حقیقت کا تقاضا سمجھتا ہے۔
اسی لیے ان تصورات کا مطالعہ بالخصوص نبوت کے ورثے اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں جنہوں نے عقل اور وحی، فکر اور ایمان کے درمیان ایک حسین توازن قائم کیا صرف مادی فلسفوں کی پیدا کردہ وجودی الجھنوں کا جواب ہی فراہم نہیں کرتا، بلکہ عصرِ حاضر کی انسانیت کو اس کے روحانی بحران سے نجات کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ یہ تعلیمات انسان کو دوبارہ ایسی بنیادوں پر استوار کرتی ہیں جو ذمہ دار آزادی، بامقصد اخلاق اور آسمانی ہدایت سے وابستہ خیر پر قائم ہے وہ بنیادیں جو انسان کو نہ صرف اپنے آپ سے بلکہ اپنے خالق سے بھی جوڑ دیتی ہیں۔