شیخ مصطفیٰ الہجری
اگر ہم انسانی تاریخ اور معاشروں کی تبدیلیوں پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ مسلسل آگے بڑھتی رہتی ہے اور معاشرے عموماً آہستہ آہستہ بدلتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات کوئی ایسا واقعہ یا نئی سوچ سامنے آتی ہے جو لوگوں کے سوچنے کے انداز اور زندگی کو بہت گہرے طور پر متاثر کرتی ہے۔ماضی میں کسی بھی نظریے یا تحریک کی اہمیت اس بات سے دیکھی جاتی تھی کہ اس نے معاشرے میں کتنی بڑی تبدیلی پیدا کی۔ مثال کے طور پر عیسائیت اور اسلام کے پھیلاؤ نے لوگوں کی تہذیب، ثقافت اور طرزِ زندگی پر گہرے اثرات ڈالے، جبکہ یورپ کے صنعتی انقلاب نے معیشت، سائنس اور معاشرتی زندگی میں ایسی بڑی تبدیلیاں پیدا کیں جنہوں نے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا۔
آج کے دور میں ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں تبدیلی کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اس تبدیلی کا بنیادی سرچشمہ مذہب یا فلسفہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی ہے۔ گزشتہ دو صدیوں میں کوئی نئی عالمی مذہبی تحریک سامنے نہیں آئی، لیکن ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی، رویّوں اور معاشرتی ڈھانچوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ یہی صورتحال مسلمان مفکر اور جدید انسان دونوں کے سامنے ایک اہم سوال رکھتی ہے: کیا ہم انسانی فطرت کو محفوظ رکھ سکیں گے؟
حیاتیاتی غلامی: جینیاتی بنیادوں پر نئی طبقاتی تقسیم
شریعت اسلامی ہمیشہ سے انسانی جان اور نسل کے تحفظ پر زور دیتی آئی ہے اور یہ تعلیم دیتی ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ انسانوں کے درمیان فضیلت کا معیار رنگ، نسل یا جسمانی خصوصیات نہیں بلکہ تقویٰ اور اخلاقی کردار ہے۔
لیکن آج حیاتیاتی ٹیکنالوجی(Biotechnology) کی تیز رفتار ترقی نے ان بنیادی اصولوں کے لیے ایک نئے چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ جدید ماہرینِ سماجیات کو صرف مشینوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا خوف نہیں، بلکہ اس بات کی زیادہ فکر مند ہے کہ یہ ترقی اب خود انسان کی ساخت اور فطرت کو بدلنے کی سمت بڑھ رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، انسان اب صرف دنیا کو نہیں بلکہ خود اپنے وجود کو بھی اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جو مستقبل میں انسانی مساوات اور سماجی انصاف کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اس تناظر میں معروف مفکر Francis Fukuyama اپنی کتاب "انسان کا خاتمہ، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے انقلاب کے نتائج" میں اس خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ اب صرف بیماری کے علاج تک محدود نہیں رہا، بلکہ سائنس دان انسانی جینز میں تبدیلی کرکے ایک ایسے "بہتر انسان" یا سپر انسان کی تخلیق کی کوشش کر رہے ہیں جس کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہوں۔
اس رجحان نے ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ جینیاتی ترمیم اور انسانی کلوننگ جیسی ٹیکنالوجیز مستقبل میں انسان کی فطری ساخت کو بدل سکتی ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر ایسے تجربات پر مناسب اخلاقی اور قانونی پابندیاں نہ لگائی گئیں تو انسان خود اپنی فطرت کے ساتھ کھیلنے لگے گا، جس کے نتائج نہ صرف فرد بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ معاملہ صرف انسانی صلاحیتوں میں اضافے تک محدود نہیں، بلکہ اس سے پورا انسانی معاشرہ تقسیم اور انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ دنیا دو الگ طبقوں میں بٹ جائے۔ ایک وہ لوگ جنہیں جینیاتی طور پر بہتر بنایا گیا ہو، اور دوسرے عام انسان۔ ایسی صورت میں طاقت ور طبقہ کمزور طبقے پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے اور اس کا استحصال کر سکتا ہے۔اس منظرنامے میں امیر اور غریب کے درمیان فرق صرف دولت کا نہیں رہے گا، بلکہ جینیاتی صلاحیتوں کا بھی ہو جائے گا۔ یعنی جن لوگوں کے پاس وسائل ہوں گے وہ اپنے بچوں کو جسمانی، ذہنی اور صحت کے اعتبار سے "بہتر" بنا سکیں گے، جبکہ عام لوگ اس سہولت سے محروم رہ جائیں گے۔ یوں انسانیت کے اندر "بہتر انسانوں" اور "عام انسانوں" کی ایک نئی تقسیم پیدا ہو جائے گی۔
یہ صورتحال ایک نئی قسم کی طبقاتی جاہلیت کو جنم دے سکتی ہے، جہاں برتری کا معیار اخلاق، علم یا کردار نہیں بلکہ جینیاتی خصوصیات ہوں گی۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ قدیم جاہلیت نسل اور قبیلے کی بنیاد پر تھی، جبکہ جدید جاہلیت جینز اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے وجود میں آئے گی۔
مادی کمال کا فریب اور انسانی حقیقت کا زوال:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے جس میں طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ قرآن کریم فرماتا ہے: (وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا)،اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے"۔ لیکن یہ کمزوری کوئی عیب نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے انسان اپنے رب کا محتاج بنتا ہے، دوسروں پر رحم کرتا ہے، باہمی تعاون سیکھتا ہے اور روحانی بلندیوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
مگر جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی انسان کو ایک ایسے "مکمل انسان" کا خواب دکھا رہی ہے جو بیماری، کمزوری اور جسمانی نقائص سے پاک ہو۔ اس سوچ میں انسان کو صرف ایک جسمانی وجود سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں بلکہ جسم اور روح کا حسین امتزاج ہے۔یہ مصنوعی اور جینیاتی کمال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا ہم اپنی موجودہ انسانی فطرت، اپنی کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ انسان رہیں گے، یا ایسے "بہتر" وجود میں تبدیل ہو جائیں گے جو بظاہر کامل ہوں لیکن اپنی انسانیت کی اصل روح کھو بیٹھیں؟
اگر جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے انسان کی زندگی سے درد، کمزوری اور ہر قسم کی کمی کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان کو آزمائش، جدوجہد اور اخلاقی ذمہ داری کے میدان سے باہر نکال دیا جائے۔ ایسی صورت میں انسان ایک آزاد اور ذمہ دار اخلاقی ہستی کے بجائے محض ایک حیاتیاتی مشین یا ایک ایسا وجود بن کر رہ جائے گا جسے طاقتور اور امیر طبقات اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق ڈھالتے رہیں گے۔
سائنس کی رہنمائی کے لیے اخلاقی اصولوں کی ضرورت
اسلام کبھی بھی علم، سائنس یا ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں کرتا۔ بلکہ وہ انسان کو بیماریوں کے علاج، تحقیق اور کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تاہم اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ علم کو اخلاقی اقدار سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی تصور کے مطابق انسان اپنے جسم اور فطرت کا مطلق مالک نہیں، بلکہ ان کا امانت دار ہے، اس لیے اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق ان میں بے لگام تبدیلیاں کرے۔
اسی طرح ماہرینِ سماجیات بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اس مسئلے کا حل ٹیکنالوجی کو مسترد کرنا یا ماضی کی طرف لوٹ جانا نہیں، بلکہ اس کے استعمال کے لیے واضح اخلاقی اور قانونی حدود مقرر کرنا ہے۔ آج دنیا کو ایک ایسے عالمی مکالمے کی ضرورت ہے جو مضبوط اخلاقی بنیادوں پر قائم ہو۔ اس سلسلے میں اسلام ایک متوازن نقطۂ نظر پیش کرتا ہے، جو ایک طرف سائنسی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور دوسری طرف انسانی وقار، مساوات اور فطرت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
نتیجہ: انسانیت کس راستے کا انتخاب کرے گی؟
آج انسانیت ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ ہمارے سامنے یہ بنیادی سوال ہے: کیا ہم اپنی خواہشات کے مطابق زندگی کو مکمل طور پر ڈھالنے کی کوشش کریں گے اور خود کو ہر چیز کا مالک سمجھ بیٹھیں گے، یا پھر اپنی انسانی شناخت، فطرت اور اخلاقی حدود کو برقرار رکھیں گے؟یہ سوال صرف سائنس یا ٹیکنالوجی کا نہیں، بلکہ انسان کے مقصدِ وجود اور کائنات میں اس کے مقام کا سوال ہے۔ اس کا جواب ہی طے کرے گا کہ آنے والا دور انسانی ترقی، عدل اور فلاح کا دور ہوگا یا ایسا زمانہ جس میں انسان اپنی ہی تخلیق کردہ طاقتوں کے ہاتھوں اپنی اصل انسانی شناخت سے دور ہو جائے گا۔