واپس
فلسفیانہ دلائل ایمان پیدا کرنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟

فلسفیانہ دلائل ایمان پیدا کرنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟

یہ فلسفیانہ دلائل نہ روحانی تجربے کا متبادل ہیں، نہ تزکیۂ نفس کا، نہ قلب کی پاکیزگی کا، اور نہ ہی حق کو قبول کرنے کی اخلاقی آمادگی کا۔یعنی  یہ یقیناً منزل تک پہنچنے والے راستے کا ایک اہم حصہ  ضرورہیں، لیکن پورا راستہ نہیں۔

الشيخ معتصم السيد أحمد

صدیوں سے فلسفی اور علمِ کلام کے ماہرین اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل قائم کرنے کے لیے مسلسل اور گراں قدر علمی کوششیں کرتے آئے ہیں۔ انسانی فکری و علمی ورثے میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خالق کائنات کے وجود کو ثابت کرنے والیے درجنوں فلسفیانہ دلائل سامنے آئے ہیں، جیسے برہانِ حدوث، برہانِ امکان و وجوب، برہانِ نظم اور دیگر متعدد دلائل کہ جنہوں نے ہر دور میں اہلِ فکر و دانش کے اذہان کو اپنی جانب متوجہ رکھا ہے۔ اس کے باوجود یہ اہم حقیقت غور و فکر کے قابل  ہے کہ آخر یہ عقلی دلائل ہمیشہ ایمان کا سبب کیوں نہیں بنتے؟

اس دنیا میں کتنے ہی ایسے افراد ہیں جنہوں نے ان دلائل کا گہرا مطالعہ کیا، ان کی تمام باریکیوں کو سمجھا، لیکن پھر بھی دین سے دور ہی رہے۔ اور کتنے ہی فلسفی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے پوری زندگی ان دلائل کے تجزیے، تحقیق اور تنقید میں صرف کر دی، مگر  پھر بھی ایمان کی دولت سے بہرہ مند نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس ہم لاکھوں ایسے اہلِ ایمان کو دیکھتے ہیں جنہوں نے نہ فلسفہ پڑھا، نہ علمِ کلام کی کتابوں کا مطالعہ کیا، اور نہ ہی ان عقلی دلائل سے واقف ہوئے، لیکن اس کے باوجود ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر نہایت مضبوط، گہرا اور غیر متزلزل ہے۔یہ بظاہر متضاد منظر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایمان کی بنیاد صرف عقلی برہان پر نہیں، بلکہاس کی بنیاد اس سے کہیں زیادہ عمیق اور ہمہ گیر حقیقت پر استوار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ دو مختلف حقیقتوں کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں یعنی عقلی قناعت اور ایمان۔

عقلی دلائل اگرچہ انسان کو ذہنی طور پر قائل تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ اپنے بل بوتے پر لازماً ایمان پیدا نہیں کر سکتے ۔عقلی قناعت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ چند مقدمات سے منطقی طور پر ایک خاص نتیجہ لازماً برآمد ہوتا ہے۔ لیکن ایمان اس سے کہیں بلند اور وسیع حقیقت ہے۔ ایمان ایک ایسی ہمہ گیر وجودی کیفیت کا نام ہے، جو محض ذہنی تصدیق تک محدود نہیں رہتی، بلکہ انسان کو حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے، اس کا التزام کرنے اور پوری آمادگی کے ساتھ اسے قبول کر لینے کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔

اسی لیے ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی حقیقت کو درست مان لے، لیکن وہ اپنی زندگی میں اس کا پابند نہ بنے۔اسی طرح کتنے ہی ڈاکٹر ایسے ہیں جو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں، مگر پھر بھی سگریٹ پیتے ہیں۔کتنے ہی لوگ جانتے ہیں کہ غصہ ان کی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے، لیکن پھر بھی اس کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ اور کتنے ہی افراد اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا اخلاقی برائی ہے، مگر وہ اس کے باوجود جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اصل مسئلہ علم کی کمی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ علم اور عمل کے درمیان حائل فاصلے کا ہے۔ اور یہی فاصلہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ایمان محض نظری یا عقلی قناعت کا نام نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع، گہرا اور انسان کی پوری زندگی کو اپنے دامن میں سمیٹ لینے والی حقیقت ہے۔

قرآنِ کریم خود بھی اس حقیقت کی طرف نہایت واضح انداز میں توجہ دلاتا ہے۔ وہ ان اقوام کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے حق کو جہالت یا لاعلمی کی بنا پر نہیں جھٹلایا، بلکہ اس کی حقانیت  کو پہچان لینے اور اس پر یقین کر لینے کے باوجود اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ﴾ انہوں نے ان نشانیوں کا انکار کیا، حالانکہ ان کے دل ان کی حقانیت پر یقین کر چکے تھے۔"

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ حق کا یقین حاصل کر لینا ایک چیز ہے، جبکہ اس یقین کے تقاضوں کو قبول کرنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ایک بالکل دوسری چیز ہے۔ اسی لیے یہ درست نہیں کہ پورے دین کو محض منطقی دلائل کے ایک سلسلے میں محدود کر دیا جائے۔ کیونکہ دین صرف عقل کو مخاطب قرار  نہیں دیتا، بلکہ وہ  انسان کے پورے وجود کو خطاب کرتا ہے۔

انسان محض ایک مجرد عقل نہیں، جو کسی فلسفے کی کتاب کے صفحات میں زندگی گزارتی ہو، بلکہ وہ ایک نہایت پیچیدہ وجود ہے، جس کی شخصیت میں خواہشات، خوف، عادات، مفادات، یادیں اور جذبات سب ایک دوسرے سے گہرے طور پر پیوست ہوتے ہیں۔ اسی لیے کسی ایک حقیقت کے بارے میں اس کا رویہ ہمیشہ صرف اس بات سے طے نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کتنے دلائل موجود ہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی حقیقت کو رد کرتے ہیں لیکن اس  لئے نہیں کہ اس کے دلائل کمزور ہیں، بلکہ اس لیے کہ اس حقیقت کو قبول کرنا ان سے انکی زندگی میں ایسی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے جسے وہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔

اسی بنا پر قرآنِ کریم بارہا علم کو اخلاق کے ساتھ، بصیرت کو نفس کی پاکیزگی کے ساتھ، اور ہدایت کو استقامت اور درست راہ پر چلنے  کے ساتھ وابستہ کرتا ہے؛ کیونکہ مسئلہ ہمیشہ دلیل کے فقدان کا نہیں ہوتا، بلکہ بسا اوقات اصل رکاوٹ وہ باطنی پردہ ہوتا ہے جو انسان کو دلیل کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے اور حق کو اس کی حقیقی صورت میں دیکھنے سے محروم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں  کہ انبیاء کرامؑ کی ذمہ داری محض عقلی دلائل قائم کرنا نہیں تھی۔ کیونکہ اگر مسئلہ صرف علم و معرفت کا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ منطق یا فلسفے کی کوئی کتاب نازل کر دیتا۔ لیکن انبیاء الٰہی اس لیے مبعوث ہوئے کہ وہ صرف انسان کے افکار کو نہیں، بلکہ خود انسان کی شخصیت کو بدلیں۔ وہ اس لیے آئے کہ انسان کے اندر چھپی ہوئی تکبر، حسد، حرص، خوف اور خود غرضی جیسی روحانی بیماریوں کا علاج کریں؛ کیونکہ اکثر یہی عوامل عقلی دلائل کے بارے میں انسان کے رویّے کو تشکیل دینے کے مقابل خود دلائل سے بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

شاید یہی حقیقت انسانی تاریخ کے ایک عجیب مظہر کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ بہت سے لوگ ہمیشہ مزید دلائل کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، لیکن جب وہ دلائل ان کے سامنے پیش کر دیے جاتے ہیں تو بھی ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ دلائل ناکافی ہوتے ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی حق کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہوتا ہے۔ اسی لیے فلسفیانہ دلائل، خواہ وہ کتنے ہی مضبوط، دقیق اور ناقابلِ تردید کیوں نہ ہوں، ان کا دائرۂ کار محدود رہتا ہے۔ وہ بعض شبہات کو دور کر سکتے ہیں، بعض فکری تضادات کو بے نقاب کر سکتے ہیں اور غور و فکر کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں، لیکن وہ اس وقت تک انسان کے باطن میں ایمان پیدا نہیں کر سکتے جب تک خود انسان حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو۔ ان کی مثال ایک ایسے چراغ کی ہے جو راستہ تو روشن کر دیتا ہے، مگر کسی کو اس راستے پر چلنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ برہان منزل کا نشان دکھا سکتا ہے، لیکن منزل کی طرف قدم بڑھانے کا فیصلہ انسان کے اپنے ارادے اور اختیار پر موقوف ہوتا ہے۔

یہاں ہم ایک اور نہایت گہری حقیقت تک پہنچتے ہیں۔ شاید اصل غلطی خود برہان کے مقصد اور اس کے دائرۂ کار کو سمجھنے میں ہے۔ بہت سے لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ برہان ایک ایسی مشین ہے جو خودکار طریقے سے ایمان پیدا کر دیتی ہے؛ یعنی جیسے ہی صحیح دلیل پیش کر دی جائے، ہر شخص لازماً مومن بن جائے۔ لیکن انسانی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایمان نہ کوئی ریاضی کا مسئلہ ہے، نہ منطقی مقدمات سے خود بخود برآمد ہونے والا کوئی میکانکی نتیجہ۔ بلکہ ایمان انسان اور حقیقت کے درمیان ایک زندہ ملاقات کا نام ہے۔ اور یہ ملاقات صرف عقل پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ انسان کے ارادے، اس کے باطنی رجحان اور حق کو قبول کرنے کی آمادگی پر بھی موقوف ہوتی ہے۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ کریم اس انداز سے محض فلسفیانہ دلائل پیش نہیں کرتا جس طرح علمِ کلام کی کتابوں میں کیا جاتا ہے، بلکہ وہ زیادہ تر یاد دہانی، تنبیہ، غفلت سے بیدار کرنے اور انسان کی فطری شعور کو جگانے پر زور دیتا ہے۔

قرآن انسان سے اس حیثیت میں خطاب نہیں کرتا کہ وہ محض سوچنے والی ایک مشین ہے، بلکہ اس اعتبار سے خطاب کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی ہستی ہے جس کی سرشت میں حق کو پہچاننے اور اس کی طرف کھنچ جانے کی فطری صلاحیت ودیعت کی گئی ہے۔ اسی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے فلسفیانہ دلائل اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ وہ غلط یا ناقص ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان سے وہ کام لینے کی کوشش کی جاتی ہے جو ان کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔ ان پر ایسا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جسے اٹھانا ان کی ذمہ داری ہی نہیں۔ یہ فلسفیانہ دلائل نہ روحانی تجربے کا متبادل ہیں، نہ تزکیۂ نفس کا، نہ قلب کی پاکیزگی کا، اور نہ ہی حق کو قبول کرنے کی اخلاقی آمادگی کا۔یعنی  یہ یقیناً منزل تک پہنچنے والے راستے کا ایک اہم حصہ  ضرورہیں، لیکن پورا راستہ نہیں۔ اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کے وجود پر کافی دلائل موجود ہیں؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ بنیادی اور گہرا سوال یہ ہے: کیا واقعی مسئلہ دلائل کی کمی کا ہے، یا اصل مسئلہ اس انسان کی باطنی کیفیت اور فطرت کا ہے جو ان دلائل کا سامنا کر رہا ہے؟ ایمان اور کفر کی پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اکثر مواقع پر مسئلہ دلائل کا نہیں تھا، بلکہ خود اصل مسئلہ حقیقت کے بارے میں انسان کے رویّے کا تھا۔

اسی لیے انسان کے لیے صرف یہ پوچھ لینا کافی نہیں کہ: کیا میں قائل ہو گیا ہوں؟ بلکہ اسے اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کیا میں اس حقیقت کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے بھی تیار ہوں جسے میں نے درست تسلیم کر لیا ہے؟کیونکہ یہیں سے علم اور ایمان، برہان اور ہدایت، اور حقیقت کو پہچان لینے اور اس کے تقاضوں کو قبول کرنے کے درمیان موجود وہ باریک مگر فیصلہ کن فاصلہ شروع ہوتا ہے۔ جوعقل انسانی کو حقیقت تک پہنچا سکتا ہے، لیکن ہدایت اس وقت نصیب ہوتی ہے جب انسان کا دل، اس کا ارادہ اور اس کا کردار بھی اس حقیقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عقلی قناعت، حقیقی ایمان میں تبدیل ہوتی ہے۔

شیئر: