شیخ معتصم السید احمد
دینی مباحث میں عموماً ولایت کو ایک ایسے عقیدتی موضوع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ محض چند دینی نصوص، تاریخی واقعات اور رسولِ اکرم ﷺ و آلہ کے بعد امت کی قیادت کے مسئلے سے متعلق ہو۔ اگرچہ یہ پہلو بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن ولایت کی حقیقت صرف اسی حد تک محدود نہیں بلکہ اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع، عمیق اور ہمہ گیر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ولایت نہ تو کوئی محض تاریخی یا سیاسی مسئلہ ہے اور نہ ہی اسلامی تاریخ کے کسی خاص دور سے وابستہ بحث ہے بلکہ یہ انسان کی فطرت، اس کی شخصیت اور اس کی طرزِ زندگی سے تعلق رکھنے والی ایک بنیادی حقیقت ہے۔ انسان اپنی زندگی کس اصول پر استوار کرتا ہے، کس سمت میں قدم بڑھاتا ہے، کس کی رہنمائی قبول کرتا ہے، اور دنیا میں اپنی شناخت، وابستگی اور منزل کا تعین کس بنیاد پر کرتا ہے، یہ سب سوالات دراصل ولایت ہی سے مربوط ہیں۔
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایسا وجود نہیں جو مکمل بےنیازی کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ وہ نہ تو کسی وابستگی سے آزاد رہ سکتا ہے، اور نہ ہی کسی فکری و عملی رہنمائی کے بغیر اپنی راہ متعین کر سکتا ہے۔ اسکے علاوہ وہ ان افکار، اقدار اور نمونوں سے الگ ہو کر اپنی شخصیت بھی تشکیل نہیں دے سکتا ہے جنہیں وہ اپنے لیے قابلِ اعتماد اور لائقِ پیروی سمجھتا ہے۔ پس اس کی سوچ، اس کے فیصلے، اس کے رویّے اور اس کی زندگی کی سمت ہمیشہ کسی نہ کسی مرجع، کسی نہ کسی قدر اور کسی نہ کسی مرکزِ وفاداری سے وابستہ ہوتی ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہر قسم کی وابستگی سے آزاد ہیں، کسی فکری یا روحانی اقتدار کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنی زندگی کے فیصلے مکمل طور پر خود کرتے ہیں۔ لیکن اگر اس تصور پر گہرائی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مطلق آزادی محض ایک خوش فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کبھی بھی مکمل طور پر بےنیاز اور غیر وابستہ نہیں رہ سکتا۔انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک سماجی اور تہذیبی وجود ہے۔ اس کی فکر، شعور، شخصیت اور طرزِ عمل ان عقائد، اقدار اور نظریات سے تشکیل پاتے ہیں جنہیں وہ سچا مانتا ہے، اور ان شخصیات اور نمونوں سے جن پر وہ اعتماد کرتا اور جن کی پیروی اختیار کرتا ہے۔ یہی وابستگیاں اس کی سوچ، اس کے فیصلوں اور اس کی زندگی کی سمت متعین کرتی ہیں۔
اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کی کوئی ولایت ہے یا نہیں، کیونکہ ہر انسان کسی نہ کسی ولایت کے زیرِ اثر زندگی گزارتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی ولایت کس کے لیے ہے؟ وہ اپنی وفاداری، اطاعت اور اعتماد کس کے سپرد کرتا ہے، اور اپنی زندگی کی رہنمائی کس سے حاصل کرتا ہے؟
قرآنِ کریم اسی بنیادی حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس کے مطابق انسان کے سامنے دو ہی راستے ہیں: ایک ولایتِ الٰہی کا راستہ اور دوسری ولایتِ طاغوت کی راہ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿الله ولي الذين آمنوا يخرجهم من الظلمات إلى النور والذين كفروا أولياؤهم الطاغوت يخرجونهم من النور إلى الظلمات﴾.اللہ ایمان والوں کا ولی ہے، وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا، ان کے سرپرست طاغوت ہیں، جو انہیں نور سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ولایت کی دو قسمیں ہیں۔ انسان یا تو حق کی ولایت کے دائرے میں زندگی گزارتا ہے، یا پھر شعوری یا غیر شعوری طور پر باطل کی ولایت کے تابع ہو جاتا ہے۔
اسی حقیقت کو قرآنِ کریم ایک اور مقام پر یوں بیان کرتا ہے: ﴿فمن يكفر بالطاغوت ويؤمن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى لا انفصام لها﴾.پس جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے ایسا مضبوط سہارا تھام لیا ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسا نہیں ہے کہ پہلے ایمان باللہ کا ذکر ہو اور پھر ضمنی طور پر طاغوت کا، بلکہ وہ ایمان کی راہ میں طاغوت کے انکار کو ایک بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان بیک وقت دو مختلف ولایتوں کا پیروکار نہیں بن سکتا،اور نہ ہی ایک ساتھ دو متضاد راستوں پر چل سکتا ہے۔لہٰذا ہر انسان کو ایک واضح اور فیصلہ کن موقف اختیار کرنا ہوتا ہے، جس سے یہ متعین ہو کہ اس کی وابستگی کس سمت سے ہے، وہ کس راستے پر گامزن ہے، اور اپنی وفاداری، اطاعت اور اعتماد کس کے سپرد کرتا ہے۔
اسی بنا پر ایمان محض کسی مجرد مابعد الطبیعی تصور کو ذہنی طور پر تسلیم کر لینے کا نام نہیں۔کیونکہ اگر ایمان صرف اتنا ہی ہوتا، تو پھر اس شخص میں کوئی خاص فرق نہ رہتا جو نظری طور پر اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس شخص میں جو اپنی پوری زندگی اللہ کی مرضی اور اس کے عطا کردہ نظامِ ہدایت کے مطابق گزارتا ہے۔ حقیقی ایمان اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب وہ عملی وفاداری اور اطاعت کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور انسان کے فیصلوں، رویّوں، تعلقات اور وابستگیوں میں اللہ کی ہدایت نمایاں ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے انبیائے کرامؑ اور ان کی قوموں کے درمیان اصل کشمکش صرف اللہ کے وجود یا عدمِ وجود کا مسئلہ نہیں تھی، بلکہ اس کی بنیاد ولایت کا سوال تھا۔
مثلاً حضرت موسیٰؑ اور فرعون کے مقابلے میں آنے والےلوگوں سے یہ مطالبہ نہیں تھا کہ وہ صرف اپنے عقائد میں ایک نئے معبود کا اضافہ کر لیں، بلکہ اصل دعوت یہ تھی کہ وہ فرعون کی ولایت سے نکل کر اللہ کی ولایت میں داخل ہوں، جس کی نمائندگی حضرت موسیٰؑ کر رہے تھے۔
اصل امتحان یہ تھا کہ وہ اس اقتدار اور حاکمیت کو ترک کریں جس کے آگے وہ مدتوں سے سرِ تسلیم خم کیے ہوئے تھے، اور حق، عدل اور آزادی پر قائم ایک نئے راستے کو اختیار کریں۔ اسی لیے جس شخص نے فرعون کا انکار کیا اور حضرت موسیٰؑ پر ایمان لایا، اس نے صرف اپنے ذہن کا ایک تصور نہیں بدلا، بلکہ اپنی وابستگی کا مرکز، اپنی وفاداری کی سمت، اور اپنی پوری زندگی کا رخ تبدیل کر دیا۔
یہی حقیقت دینی تاریخ کے مختلف ادوار میں بار بار نمایاں ہوتی ہے۔ معاملہ حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا نہیں تھا، بلکہ زندگی کے دو مختلف اور متضاد تصورات کا تھا۔ اسی طرح حضرت ابراہیمؑ اور نمرود کا اختلاف بھی محض دو افراد کے درمیان نزاع نہیں تھا، بلکہ انسان، اقتدار اور حقیقت کے بارے میں دو بالکل مختلف نظریات کا تصادم تھا۔
اسلامی تاریخ میں بھی یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ مسئلہ صرف حضرت علیؑ اور معاویہ، یا حضرت امام حسینؑ اور یزید کے درمیان شخصی موازنے کا نہیں تھا، بلکہ اصل مسئلہ دو الگ الگ فکری و عملی منصوبوں اور دین، انسان اور معاشرے کے بارے میں دو متضاد تصورات میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ اسی پس منظر میں اسلامی تعلیمات میں ولایت پر غیر معمولی زور دینے کی حکمت واضح ہوتی ہے۔ ولایت کا مسئلہ کسی ایک شخصیت کے لیے جذباتی ترجیح یا محض تاریخی وابستگی کا اظہار نہیں، بلکہ وہ بنیادی محور ہے جس کے گرد انسان کی زندگی کے تمام دوسرے فیصلے تشکیل پاتے ہیں۔
انسان کی مثال ایک ایسے مسافر کی سی ہے جو راستوں کے سنگم پر کھڑا ہو۔ اگرچہ اس کے سامنے متعدد راستے موجود ہوتے ہیں، لیکن جس پہلے راستے کا وہ انتخاب کرتا ہے، وہی اس کی آخری منزل کا تعین کر دیتا ہے۔ اسی طرح ولایت بھی انسان کی زندگی کا کوئی معمولی یا ضمنی مسئلہ نہیں، بلکہ وہ بنیادی انتخاب ہے جو اس کی پوری زندگی کی سمت، اس کے طرزِ فکر، اس کے کردار اور اس کی منزل کا فیصلہ کرتا ہے۔اسی لیے انسان کے لیے سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ خود کو ولایت کے دائرے سے باہر سمجھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص دین، انبیائے کرامؑ یا اخلاقی رہنمائی کو بھی قبول نہیں کرتا، وہ بھی ولایت سے آزاد نہیں ہوتا، بلکہ صرف ایک ولایت کو چھوڑ کر دوسری ولایت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا تابع بن سکتا ہے، دولت کی طاقت کے آگے جھک سکتا ہے، غالب تہذیب و ثقافت سے متاثر ہو سکتا ہے، ذرائع ابلاغ کے اثر میں آ سکتا ہے یا مختلف نظریات اور افکار کی پیروی اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی میں کوئی خلا باقی نہیں رہتا؛ اگر اس خلا کو حق پُر نہ کرے، تو لازماً کوئی نہ کوئی باطل قوت اسے اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔
یہ حقیقت ہمارے موجودہ دور میں پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ آج کا انسان خود کو تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ آزاد سمجھتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ثقافتی، ابلاغی اور معاشی طاقتوں کے ایک نہایت پیچیدہ جال کے زیرِ اثر زندگی گزار رہا ہے۔
اس کے لیے یہ طے کیا جاتا ہے کہ اسے کس چیز سے محبت کرنی چاہیے اور کس سے نفرت، کامیابی اور ناکامی کا معیار کیا ہو، اور ترقی و پسماندگی کی تعریف کیا ہے۔ اس طرح اس کی سوچ، ترجیحات اور طرزِ زندگی بتدریج تشکیل پاتے رہتے ہیں۔ اسی لیے آج ولایت کی کشمکش صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ ثقافت، ذرائع ابلاغ، معیشت، تعلیم اور انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔
جب ہم اولیائے الٰہی کی ولایت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ایسے افراد نہیں ہوتے جو اس وسیع تناظر سے الگ ہوں، بلکہ وہ تاریخ میں ولایتِ حق کا فطری اور مسلسل تسلسل ہیں۔ انبیائے کرامؑ، اوصیائے الٰہی اور ائمۂ اطہارؑ نے لوگوں کو اپنی ذاتی حیثیت میں اپنی وفاداری کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ انہیں اس الٰہی مشن سے وابستہ ہونے کی دعوت دی جس کے وہ علمبردار تھے، ان اقدار کو اپنانے کی دعوت دی جن کا وہ عملی نمونہ تھے، اور اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو انسانی زندگی میں اللہ کی مرضی اور ہدایت کا مظہر ہے۔
اسی لیے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ ولایت کے حقیقی مفہوم کا عملی پیکر تھے۔ آپؑ صرف ایک حکمران یا سیاسی قائد نہیں تھے، بلکہ مفادات کے مقابلے میں حق، امتیازات کے مقابلے میں عدل، اور نفاق کے مقابلے میں صداقت کی جیتی جاگتی مثال تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کی ولایت، اللہ اور اس کے رسولؐ کی ولایت کا تسلسل تھی۔ کیونکہ اصل مسئلہ حضرت علیؑ کی انفرادی شخصیت نہیں تھا، بلکہ وہ راستہ تھا جس کی آپؑ نمائندگی کرتے تھے اور وہ اقدار تھیں جنہیں آپؑ نے اپنی زندگی میں مجسم کر دکھایا۔
اسی بنیاد پر غدیر صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں رہ جاتا، بلکہ ایک عظیم انسانی حقیقت کا اعلان بن جاتا ہے: انسان ولایت کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا، اور دنیا و آخرت میں اس کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے دل، عقل، اطاعت اور وابستگی کس کے سپرد کرتا ہے۔ جو حق کی ولایت اختیار کرتا ہے، وہ نور کے راستے پر گامزن ہوتا ہے، اور جو باطل کی ولایت قبول کرتا ہے، وہ ظلمت کی راہ اختیار کرتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان کوئی حقیقی غیر جانب داری موجود نہیں، کیونکہ زندگی خود ان بنیادی راستوں کے معاملے میں غیر جانبداری کو قبول نہیں کرتی۔
اس لیے ولایت دین کا کوئی جزوی یا ثانوی مسئلہ نہیں، کیونکہ یہ خود انسان کی حقیقت سے وابستہ ہے۔ جب مختلف راستے انسان کے سامنے آتے ہیں تو وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے، جب مختلف نمونے اور نظریات باہم متصادم ہوتے ہیں تو وہ کس نمونے کو اپنا آئیڈیل بناتا ہے، اور جب بے شمار آوازیں اسے اپنی طرف بلاتی ہیں تو وہ کس حقیقت کو اپنی وفاداری اور اطاعت کا مرکز بناتا ہے ولایت انہی سوالات کا جواب ہے۔ اسی بنا پر قرآنی اور اسلامی عقیدے کی روشنی میں ولایت محض ایک عقیدہ نہیں، بلکہ ایمان کی حقیقت، وابستگی کے مفہوم، اور اللہ کی راہ پر چلنے کے صحیح معنی کو سمجھنے کی بنیادی کنجی ہے۔