واپس
عاشورا:  غیر جانبداری کے مغالطے کا زوال

عاشورا:  غیر جانبداری کے مغالطے کا زوال

الشيخ معتصم السيد أحمد

عصرِ حاضر کے انسان کا ایک بڑا فکری مغالطہ غیر جانب داری کا تصور ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حق اور باطل کی کشمکش میں ایک ایسی جگہ بھی موجود ہے جہاں کھڑے ہو کر انسان ہر ذمہ داری سے بری الذمہ رہ سکتا ہے۔ نہ وہ ظالم کا ساتھ دیتا ہے، نہ مظلوم کی حمایت کرتا ہے؛ نہ برائی کے فروغ میں شریک ہوتا ہے، نہ اس کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ وہ باطل کی تحسین نہیں کرتا، مگر اسے اپنی آنکھوں کے سامنے طاقت پکڑتے اور معاشرے پر چھاتے ہوئے بھی خاموشی سے دیکھتا رہتا ہے، اور پھر اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتا ہے کہ اس نے تو کسی کا نقصان نہیں کیا۔

مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور کڑی ہے۔ زندگی کے بڑے اور فیصلہ کن معرکوں میں غیر جانب داری ہمیشہ دانش مندی یا فضیلت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہی خاموشی، ظلم کی غیر محسوس حمایت بن جاتی ہے۔ جب ایک طرف مظلوم انصاف کے لیے پکار رہا ہو اور دوسری طرف ظالم اپنی طاقت، خوف اور فریب کے بل پر حق کو مٹانے میں مصروف ہو، تو ایسے میں خاموش رہنا محض ایک ذاتی انتخاب نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسا رویہ بن جاتا ہے جو عملاً ظلم کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر انسان صرف دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرتا ہے؛ یا وہ حق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، یا اپنی خاموشی سے باطل کو مزید قوت عطا کرتا ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان بغیر تحقیق کے فیصلے صادر کرتا پھرے، یا ہر اختلاف اور ہر نزاع میں کود پڑے، یا زندگی کو اس قدر سادہ بنا دے کہ اسے ہر جگہ صرف دو ہی رنگ دکھائی دیں۔ حقیقت تک پہنچنے کے لیے تحقیق، انصاف اور اعتدال ناگزیر ہیں۔ دین بھی یہی سکھاتا ہے اور عقل بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ کسی موقف کو اختیار کرنے سے پہلے حقائق کو پرکھا جائے اور عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔لیکن ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب حق اس قدر واضح ہو جاتا ہے کہ اب مزید تردد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جب ظلم اپنے چہرے سے ہر نقاب اتار دیتا ہے، باطل پوری بے باکی کے ساتھ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، اور مظلوم کی فریاد ہر صاحبِ ضمیر کے دل کو جھنجھوڑنے لگتی ہے، تو پھر خاموشی محض خاموشی نہیں رہتی، بلکہ خود ایک مؤثر موقف بن جاتی ہے۔ ایسے موقع پر غیر جانب داری کا دعویٰ درحقیقت طاقت کے توازن کو ظالم کے حق میں جھکا دیتا ہے۔ کیونکہ ظالم کو ہمیشہ اپنے حق میں نعرے لگانے والوں کی ضرورت نہیں ہوتی؛ بسا اوقات اس کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ حق کو پہچاننے والے خاموش رہیں، اہلِ بصیرت خوف کا شکار ہو جائیں، اور صاحبانِ ضمیر اپنی ذاتی آسائش، مصلحت اور سکون کی خاطر میدان چھوڑ دیں۔ یہی خاموشی ظلم کے لیے وہ خلا پیدا کرتی ہے جس میں وہ مزید طاقتور ہو جاتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جب غیر جانب داری، بے خبری نہیں بلکہ ایک غیر محسوس شراکت بن جاتی ہے۔

یہیں سے 'عاشورا' اس حقیقت پر سب سے بڑی گواہ بن کر سامنے آتی ہے کہ کربلا محض دو لشکروں کے درمیان کوئی جنگ نہیں تھی،  نہ ہی یہ کوئی ایسا سیاسی واقعہ تھا جو کسی مخصوص تاریخی دور تک محدود ہو، بلکہ یہ انسان کے اس مؤقف کو بے نقاب کرنے والا ایک کھلا امتحان تھا جب وہ خود کو ایسے 'حق' کے سامنے پائے جو قربانی کا متقاضی ہو اور ایسے 'باطل' کے سامنے ہو جو بظاہر فتح مند اور غالب نظر آ رہا ہو۔اس دور میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو امام حسین بن علی علیہ السلام کے مقام و مرتبہ سے بخوبی واقف تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی قربت کو جانتے تھے، اور اس بات کا پختہ ادراک رکھتے تھے کہ یزید (کا کردار و طرزِ حکومت) نبوت کی کسی اخلاقی یا دینی بنیاد  کا تسلسل نہیں ہے۔ اس کے باوجود، سب لوگ حسین علیہ السلام کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔ ان میں سے کچھ نے آپ  کے مقابلے میں آکر جنگ کی، کچھ نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا ، کچھ نے کہا کہ 'ہمارا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں'، اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے جنگ کے نتیجے کا انتظار کیا تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ انہیں اپنا اگلا قدم کہاں رکھنا ہے۔یہیں سے غیر جانبداری کا ایک بھیانک چہرہ  ظاہر ہوتا ہے؛ کیونکہ جب حسین علیہ السلام کربلا کے میدان میں ہوں، اور باطل نے انہیں شہید کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت جمع کر رکھی ہو تو ایسی صورت میں حسین علیہ السلام کے ساتھ کھڑے نہ ہونا محض ایک منفی یا لاتعلق مؤقف نہیں رہتا، بلکہ یہ اس پورے منظرنامے کا ایک حصہ بن جاتا ہے جس نے باطل کو حد سے بڑھنے اور سرکشی کرنے کی چھوٹ دی  اور اس کیے لئےراہ ہموار کی۔

جو شخص بھی کربلا کا گہرا اور عمیق مطالعہ کرتا ہے، وہ اپنی سوچ کو صرف ان لوگوں تک محدود نہیں رکھتا جنہوں نے حسین علیہ السلام  کے سامنے تلواریں سونت لی تھیں، بلکہ اس کی نظر خاموشی، خوف اور تذبذب (ہچکچاہٹ) کے ان وسیع و عریض میدانوں پر بھی جا کر ٹھہرتی ہے جو اس وقت مسلم دنیا میں پائے جاتے تھے۔پس یہ عظیم المیہ اور سانحہ محض قاتلوں نے اکیلے ہی جنم نہیں دیا تھا، بلکہ اسے ان لوگوں نے بھی مل کر تخلیق کیا تھا جو سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ٹس سے مس نہ ہوئے، جنہوں نے امام حسین علیہ السلام  کی(صدائےاستغاثہ کی) پکار تو سنی مگر اس کا کوئی جواب نہ دیا، اور جو کسی نہ کسی حد تک نصرت کرنے کی قدرت اور استطاعت رکھنے کے باوجود طرح طرح کے عذر اور بہانے تراش کر اپنے نفس کو مطمئن کرتے رہے۔یہ تاریخ کے خطرناک ترین حقائق میں سے ایک حقیقت ہے: کہ کوئی بھی بڑا اور مہیب ظلم صرف شر پسندوں اور اشرار کے کندھوں کے بل بوتے پر ہی قائم نہیں ہوتا، بلکہ اسے برقرار رہنے کے لیے خوفزدہ لوگوں کی غیر جانبداری، تذبذب کے شکار افراد کے تذبذب، اور بڑے اور اہم ترین قومی و فکری معاملات کو چھوڑ کر اپنی چھوٹی چھوٹی مصلحتوں اور ذاتی مفادات میں گم ہو جانے والے لوگوں کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔

یہیں سے ہم اس بات کو سمجھ پاتے ہیں کہ انسان کا حق کے بارے میں محض کوئی نظریاتی رائے رکھنا اہم نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ اس وقت حق کی طرف داری اور جانبداری اختیار کرنے کی شجاعت رکھتا ہو جب اس کی قیمت بہت زیادہ ہو۔بہت سے لوگ حق سے اس وقت محبت کرتے ہیں جب وہ امن و سلامتی کے دائرے میں ہو، اس کے بارے میں گفتگو اس وقت کرتے ہیں جب وہ ان کے ذاتی مفادات کے لیے خطرہ نہ بنے، اور اس کے فضائل و محاسن پر قلم اس وقت اٹھاتے ہیں جب وہ ان سے کسی عملی مؤقف کا تقاضا نہ کر رہا ہو۔ لیکن، جیسے ہی حق کسی خسارے، تنہائی، الزام تراشی یا قربانی کا سبب بنتا ہے، تو انسانوں کے اصل جوہر اور ان کی حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔اسی لیے عاشورا محض افکار و نظریات کی جانچ  پڑتال کا ایک ترازو نہیں تھا، بلکہ یہ نفوس اور باطن کی حقیقت کو تولنے کا میزان تھا۔ اس نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ انسان بعض اوقات حق کو پہچانتا تو ہے مگر اس کی نصرت نہیں کرتا، وہ باطل سے کراہت تو رکھتا ہے مگر اس کے خلاف مزاحمت نہیں کرتا، اور وہ مظلوم کے قتل ہو جانے کے بعد اس پر آنسو تو بہاتا ہے لیکن اس کے مقتل میں جانے سے پہلے اس کے ساتھ (سینہ سپر ہو کر) کھڑے ہونے کی شجاعت نہیں رکھتا۔

اور یہی وہ امر ہے جو عاشورا کو ہر دور کے لیے ایک زندہ و جاوید اور حاضر معاملہ بنا دیتا ہے؛ اس لیے نہیں کہ یہ اپنے تاریخی واقعات کو من و عن اسی طرح دہراتا ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ ایک مستقل اور دائمی انسانی قانون (اور فطرت) کو بے نقاب کرتا ہے: کہ جب کبھی طاقت اور جبر کی آواز بلند ہوتی ہے، تو بہت سے لوگ حقیقت کی تلاش کی بجائے اپنی عافیت اور سلامتی کی راہیں ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں۔اور جب باطل بظاہر فتح مند اور غالب نظر آنے لگتا ہے، تو تاویلات اور بہانے بازی کی زبان کثرت سے جنم لینے لگتی ہے: 'ہم کسی کے ساتھ نہیں ہیں'، 'معاملہ بڑا پیچیدہ ہے'، 'ہم فتنہ نہیں چاہتے'، 'حالات اجازت نہیں دیتے'، 'ہم ذمہ دار نہیں ہیں'، یا پھر 'ہم کر ہی کیا سکتے ہیں؟'۔یہ باتیں بعض اوقات بظاہر بڑی عاقلانہ، منطقی اور حکمت پر مبنی معلوم ہوتی ہیں، لیکن بہت سے مقامات پر یہ خوف کے پردے اور لبادے کے سوا کچھ نہیں ہوتیں، یا یوں کہہ لیجیے کہ یہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کا ایک انتہائی مہذب اور شائستہ طریقہ ہیں۔

یہاں  مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہر انسان سے اس کی بساط سے بڑھ کر تقاضا کیا جائے، یا یہ کہ ذمہ داری کا بوجھ سب پر یکساں ہو۔ کیونکہ دینِ حق انسانوں کو ان کی طاقت سے زیادہ مکلّف نہیں بناتا، حالات مختلف ہوتے ہیں اور صلاحیتیں بھی  سب کی ایک جیسی نہیں ہوتیں ۔لیکن اصل مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنے عجز اور بے بسی کو ایک مستقل فلسفے کا روپ دے دے، اپنے خوف کو 'حکمت و دانشمندی' کا نام دے دے، اور (میدان سے) اپنے اس فرار کو ایک برتر اخلاقی مؤقف بنا کر پیش کرنے لگے۔پس جو شخص استطاعت نہیں رکھتا اور اپنی اس عاجزی پر دل سےملول اور غمزدہ ہے، اور اس شخص کے درمیان جو (کچھ کرنا ہی) نہیں چاہتا اور پھر اپنے اس عدمِ ارادہ کی تاویلات گھڑتا ہے، ایک بہت بڑا اور نمایاں فرق ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو کسی مجبوری و اضطرار کے تحت خاموش ہے مگر اس کا دل حق کے ساتھ دھڑک رہا ہے اور  اس شخص کے درمیان  بھی آسمان زمین کا فرق ہے جو محض اپنی عافیت اور آرام پسندی کی خاطر خاموش ہے اور پھر اپنی اس عافیت کو 'غیر جانبداری' کا نام دیتا ہے۔لہٰذا، اصل مشکل صلاحیتوں اور قدرت کی حدود کا ہونا نہیں ہے، بلکہ اصل المیہ احساسِ ذمہ داری کا مر جانا ہے۔

جو معاشرہ شعور اور بیداری کے ساتھ عاشورا کو زندہ رکھتا ہے، وہ اخلاقی طور پر کبھی ایک مردہ نہیں ہو سکتا۔ وہ کمزور ہو سکتا ہے، اس سے غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں، اور وہ اپنے حالات سے متاثر بھی ہو سکتا ہے، لیکن وہ اپنے اندر مزاحمت اور بقا کی ایک زندہ یادداشت سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ جب کبھی تلخ مادی حقائق لوگوں کو ذلت و رسوائی کو قبول کرنے کا عادی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تو عاشورا آ کر انہیں پکارتی ہے: کہ ایک انسان ایسا بھی تھا جس نے باطل کے سامنے "نہیں" کہا، اس کی بھاری قیمت چکائی، لیکن اس کا وہ حرفِ انکار اسے قتل کرنے والوں کی چمکتی تلواروں سے کہیں زیادہ بڑا اور طاقتور رہا۔اور جب کبھی خوف انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ عافیت اور سلامتی، عزتِ نفس اور وقار سے زیادہ اہم ہے، تو کربلا اسے یاد دلانے کے لیے آ کھڑی ہوتی ہے کہ جو زندگی ذلت و خواری کی بنیادوں پر استوار کی جائے وہ حقیقت میں کوئی نجات یا بقا نہیں ہے، بلکہ ایک دھیمی اور گٹھن زدہ موت (موتِ تدریجی) ہے۔

آخر میں اصل معاملہ یہ نہیں ہے کہ انسان حق کی نصرت میں بہت زیادہ زبان درازی کرے (صرف بڑھ چڑھ کر باتیں بنائے)، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ 'غیر جانبداری' کے نام پر خود اپنے نفس کو دھوکا نہ دے۔پس بعض مقامات اور حالات میں غیر جانبداری عین عقل، دانشمندی اور انصاف ہو سکتی ہے، لیکن جب حق و باطل بالکل آشکار ہوں تو اخلاقی و فکری طور پر فیصلہ کن لمحات میں غیرجانبداری  ایک پرسکون اور دھیمے لہجے میں لپٹی ہوئی 'بے وفائی ہے۔عاشورا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سب سے اہم سوال یہ نہیں ہے کہ: 'کیا تم نے حق کو پہچان لیا تھا؟' بلکہ سوال یہ ہے کہ: 'جب تم نے اسے پہچان لیا، تو پھر تم نے کیا کیا؟'۔ اور سوال یہ بھی نہیں ہے کہ: 'کیا تم نے اپنے دل میں ظلم سے نفرت کی تھی؟' بلکہ سوال یہ ہے کہ: 'کیا اس نفرت نے تمہارے مؤقف، تمہارے طرزِ عمل اور تمہارے سلوک پر کوئی اثر بھی چھوڑا؟'۔ اور سوال یہ بھی نہیں ہے کہ: 'کیا تم حسین علیہ السلام پر روئے؟' بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ: 'کیا اب تم کسی نئے مظلوم، کسی نئے مصلحت آمیز معاملے، اور کسی نئے معرکے میں حسین علیہ السلام (کے مشن) کا ساتھ چھوڑنے سے باز آ گئے ہو اور تمہارا ضمیر بیدار ہو چکا ہے؟

عاشورا ہر انسان سے یہ تقاضا نہیں کرتی کہ وہ کسی غیر معمولی معنی میں 'ہیرو' (اور سورما) بن جائے، لیکن وہ اس سے یہ مطالبہ ضرور کرتی ہے کہ وہ باطل کی فتح کا کوئی بے حس اور سرد مہر گواہ نہ بنے۔ وہ اس سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے دل کو سنگ دلی اور مردہ دلی سے محفوظ رکھے، اپنی زبان کو جھوٹی گواہی سے بچائے، اپنے ہاتھ کو ظالم کی مدد سے دور رکھے، اور اپنے مؤقف کو (حق کا ساتھ چھوڑ دینے کی) بے وفائی سے آلودہ نہ ہونے دے۔محرم الحرام کا گہرا ثقافتی اور فکری مفہوم یہی ہے: کہ وہ انسان کو عافیت پسند غیر جانبداری کے دائرے سے نکال کر شعور اور بیداری کی ذمہ داری میں داخل کرتا ہے، اسے محض غم اور رنج کی جذباتی کیفیت سے بلند کر کے ایک بااصول مؤقف کی اخلاقیات پر لاتا ہے، اور اسے 'میں اکیلا کیسے نجات پاؤں؟' کے (انفرادی) سوال سے نکال کر اس (آفاقی) سوال پر کھڑا کر دیتا ہے کہ 'حق کے اس پورے معرکے میں میرا اپنا مقام اور میری اپنی جگہ کہاں ہے؟

اور اسی مفہوم کے پیشِ نظر، کربلا تاریخ کے بندھنوں سے کہیں زیادہ بڑی اور برتر رہتی ہے؛ کیونکہ یہ ہمیں صرف اس بات سے آگاہ نہیں کرتی کہ (ماضی میں) کیا ہوا تھا، بلکہ یہ ہمارے سامنے ان خطرات اور لغزشوں سے بھی پردہ اٹھاتی  ہے جن میں خود ہم مبتلا ہو سکتے ہیں۔عاشورا ہمیشہ اس بات کی  ایک مستقل گواہ رہے گی کہ انسان آسودگی اور مادی وسعت کے دنوں میں اپنے نفس کی حقیقت کو نہیں پہچان پاتا، بلکہ وہ اپنے باطن کو اس وقت پہچانتا ہے جب اسے کسی (عملی) مؤقف کی طرف پکارا جائے، جب حق کی کوئی قیمت چکانا پڑ جائے، اور جب وہ اس حقیقت کو پا لے کہ باطل کے سامنے غیر جانبداری اختیار کرنا کوئی نجات یا سرخروئی نہیں ہے، بلکہ یہ خود اپنے اخلاقی وجود کے زوال اور سقوط کی ایک انتہائی مہذب اور شائستہ شکل ہو سکتی ہے۔

عصرِ حاضر کی ثقافت نے، اپنی حد سے بڑھی ہوئی انفرادیت پسندی کے باعث، اس مغالطے کو مزید گہرا کرنے میں بھرپور مدد دی ہے۔ چنانچہ انسان کی تربیت بعض اوقات اس نہج پر ہونے لگی ہے کہ اس کی ذاتی نجات اور انفرادی کامیابی ہی سب سے اعلیٰ و ارفع قدر ہے اور زندگی کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے آرام و آسائش، اپنے مفادات اور اپنے سماجی تشخص کا تحفظ کرے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ہر بڑا اخلاقی مؤقف ایک بوجھل اور ناگوار بوجھ بن جاتا ہے، ہر عادلانہ اور سچی مہم باعثِ پریشانی نظر آنے لگتی ہے، اور حق کی ہر پکار انسان کے ذاتی سکون و اطمینان کے لیے ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ اور یوں، انسان ایک با مقصد اور  ذمہ دار وجود (کائن) سے بدل کر ایک ایسی مخلوق میں ڈھل جاتا ہے جو محض اپنی انفرادی نجات اور عافیت کی تگ و دو میں لگی رہتی ہے—خواہ اس کے ارد گرد کی پوری دنیا ہی کیوں نہ جل کر راکھ ہو جائے۔

لیکن عاشورا اس انفرادیت پسندی کو اس کی جڑوں سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے زندگی کو محض ایک انفرادی نجات کے منصوبے کے طور پر نہیں دیکھا تھا، اور نہ ہی انہوں نے اپنی ذاتی عافیت و سلامتی کو سب سے اعلیٰ و ارفع قدر کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ وہ کربلا کے مقابلے میں کسی ایسے راستے کا انتخاب کر سکتے تھے جس کی قیمت بہت کم ہوتی، اگر وہ محض ایک تنگ مادی مفہوم میں اپنی بقا کے طالب ہوتے تو اس معرکے اور تصادم سے دستبردار بھی ہو سکتے تھے۔لیکن وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک ایسا لمحہ بھی آتا ہے جہاں خاموشی بذاتِ خود 'خیانت' بن جاتی ہے اور ایک ایسی قیمت بھی ہوتی ہے کہ اگر اہلِ حق نے اسے (بروقت) ادا نہ کیا، تو پھر پوری امت کو وہ قیمت اپنے دین، اپنے شعور اور اپنی عزتِ نفس کی قربانی دے کر چکانی پڑتی ہے۔ اور اسی لیے انہوں نے وہ کلمہِ حق بلند کیا جو ہمیشہ کے لیے ایک بااصول مؤقف کے فلسفے کا نچوڑ بن گیا: «ہَیہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة» (ذلت ہم سے کوسوں دور ہے)۔یہ عبارت محض کوئی جوشلا یا جذباتی نعرہ نہیں ہے، بلکہ اس امر کا اعلانِ عام ہے کہ انسان کو اس کی عمر کے سالوں سے نہیں تولا جاتا، بلکہ ان اصولوں  سے تولا جاتا  ہے جن کا وہ کبھی سودا نہیں کرتا؛ اور اس کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ کتنے نقصانات سے بچ کر صاف نکل گیا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنے وقار اور کرامت کا کس حد تک تحفظ کیا۔

یہیں سے ہمیں شجاعت و بہادری کے حقیقی معنی کا ازسرِ نو ادراک کرنا چاہیے۔ شجاعت کوئی اندھی جذباتی لہر، یا تصادم کی کوئی تڑپ، یا موت کی کوئی جستجو نہیں ہے؛ بلکہ بہادری اپنے جوہر میں یہ ہے کہ انسان اس وقت اپنے صحیح مقام اور جگہ کو پہچان جائے جب تمام افکار اور نظریات مشتبہ اور مشکوک  ہو رہے ہوں، وہ اس وقت اپنے ضمیر کی حفاظت کرے جب خوف اس سے سودے بازی پر اتر آئے اور وہ طاقت و جبر کو حق اور باطل کی نئی تعریفیں مرتب کرنےکی ہرگز اجازت نہ دے ۔اسی وجہ سے حسین علیہ السلام کے اصحاب تعداد میں تو بہت تھوڑے تھے، لیکن معنویت اور مرتبے کے اعتبار سے ایک کثیر اور بے پناہ لشکر تھے۔ وہ محض ایسے مردانِ حر نہیں تھے جو کسی ایسی جنگ میں لڑے جو عسکری اعتبار سے (بظاہر) ہاری جا چکی تھی، بلکہ وہ اس انسانی صلاحیت پر رہتی دنیا تک کے لیے گواہ بن گئے کہ انسان کس طرح خوف کی حکمرانی اور اس کے تسلط سے مکمل آزاد ہو سکتا ہےبشرطیکہ وہ یہ جان لے کہ وہ کس مقصد کے لیے جی رہا ہے اور کس نظریے کی خاطر موت کو گلے لگا رہا ہے۔

باطل کا بھیانک ترین وار (اور اس کی سب سے خطرناک چال) یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں سے ہمیشہ اپنے اوپر ایمان لانے کا تقاضا کرے، بلکہ وہ بعض اوقات ان سے صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ حق سے مایوس اور ناامید ہو جائیں۔ وہ ان سے یہ کہلوانا چاہتا ہے کہ: 'اب کوئی فائدہ نہیں'، 'ہم میں اتنی سکت اور قدرت کہاں'، 'دنیا کبھی نہیں بدلتی'، اور 'جو طاقتور ہے، سچائی اور حقیقت کا معیار وہی طے کرتا ہے'۔پس، جب لوگ مایوسی کے اس درجے پر پہنچ جاتے ہیں، تو باطل جیت جاتا ہےخواہ دل سے اسے کوئی ایک شخص بھی پسند نہ کرتا ہو۔اسی لیے، باطل کے خلاف پہلی اور بنیادی مزاحمت ہمیشہ ہتھیار اٹھانے یا اونچی آواز میں نعرے بازی کرنے سے ہی شروع نہیں ہوتی، بلکہ اس باطنی اور اندرونی یقین کی حفاظت سے ہوتی ہے کہ ظلم محض طاقتور ہونے کی وجہ سے کبھی 'حق' نہیں بن سکتا، حق محض محاصرے میں آ جانے اور تنہا رہ جانے کی وجہ سے کبھی 'باطل' نہیں ٹھہر سکتا، اور بظاہر وقتی طور پر نظر آنے والی شکست کبھی اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ اختیار کیا گیا راستہ غلط تھا۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کی عاشورا نے (عملی طور پر) گواہی دی ہے۔ پس کربلا کا  ظاہری منظرنامہ تو یہی کہہ رہا تھا کہ باطل فتح یاب ہو چکا ہے: حسین علیہ السلام شہید کر دیے گئے، ان کے اصحاب قتل ہوئے، مخدراتِ عصمت (خواتین) قید کی گئیں، اور نورانی سر نیزوں پر بلند کر دیے گئے۔لیکن تاریخ کبھی اس واقعے کے ظاہری رخ پر آ کر نہیں ٹھہری۔ امت کے ضمیر میں جو چیز ہمیشہ کے لیے باقی رہ گئی، وہ یزید کا تخت و تاج نہیں تھا، بلکہ حسین علیہ السلام کا پاکیزہ خون تھا؛ اور جو چیز حریت پسندوں کے لیے ایک ابدی درسگاہ اور مدرسہ بن گئی، وہ مادی اقتدار اور سلطنت کی منطق نہیں تھی، بلکہ شہادت کا فلسفہ اور اس کا اصول تھا۔یہ امر اس سچائی کو آشکار کرتا ہے کہ طاقت اور جبر محض ایک وقتی اور عارضی شور و غوغاتو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود کو کبھی دائمی اور ابدی مشروعیت فراہم نہیں کر سکتے؛ اور باطل چند لمحات کے لیے خوف و دہشت کی سلطنت تو قائم کر سکتا ہے، لیکن وہ شعور اور بیداری کے مستقبل پر کبھی قابض نہیں ہو سکتا۔

اسی لیے، آج کے دور میں عاشورا کی یاد منانا محض غم اور رنج کے دائرے تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے، خواہ اس غم کی عظمت اور تقدس کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، بلکہ اسے ایک ایسے ابدی معیار اور تراز ومیں بدل جانا چاہیے جس کے آئینے میں ہم اپنے نفس اور اپنے معاشروں کا محاسبہ کر سکیں۔ہم کتنی ہی مرتبہ ایسا کرتے ہیں کہ ایک بالکل واضح اور عیاں ظلم کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور پھر محض ایک تماشائی بن کر تماشا دیکھنے پر اکتفا کر لیتے ہیں؟ کتنی ہی مرتبہ ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ (اس وقت) کلمہِ حق کا بلند کرنا واجب اور ہماری ذمہ داری ہے، مگر ہم اسے اس لیے مؤخر کر دیتے ہیں کیونکہ ہم خود کو کسی مشکل یا مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتے؟ کتنی ہی مرتبہ ہم اپنے اقدار اور اصولوں سے بڑھ کر اپنے ذاتی مفادات اور فائدوں کے لیے خوفزدہ ہو جاتے ہیں؟ اور کتنی ہی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم خود اپنے گھروں یا اپنے کام کی جگہوں پر کوئی نہ کوئی چھوٹا سا ظلم ڈھاتے ہیں، اور پھر یہ تصور کر بیٹھتے ہیں کہ ہم حسین علیہ السلام کے ساتھ ہیں کیونکہ ہم ان کے غم میں آنسو بہاتے ہیں؟یقیناً، عاشورا ہمیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ ہم اپنی سہولت اور آسانی کی خاطر شعائر اور طرزِ عمل کے درمیان، بہتے ہوئے آنسو اور عملی مؤقف کے درمیان، اور زبانی محبت (ولاء لسانی) اور عملی وفاداری (ولاء عملی) کے درمیان کوئی جدائی یا فاصلہ پیدا کریں۔

پس جو شخص بھی عاشورا کے مکتب سے سبق حاصل کرتا ہے، وہ کبھی یہ نہیں کر سکتا کہ اپنے گھر میں تو ظالم بن کر رہے، کمزوروں اور ناتوانوں پر تکبر کا مظاہرہ کرے، امانت میں خیانت کا مرتکب ہو، یا حق کے معاملے میں ہمیشہ ہی چپ سادھے رہے، اور پھر یہ گمان بھی رکھے کہ محض ایک جذباتی وابستگی اور نسبت ہی (اس کی نجات کے لیے) کافی ہے۔یہ سچ ہے کہ حسین علیہ السلام کی محبت رحمت کا ایک عظیم الشان دروازہ ہے، اور ان کے غم میں بہنے والا آنسو مؤمن کے وجدان میں اپنی ایک منفرد اور گراں قدر قیمت رکھتا ہے، لیکن یہ محبت اپنے کمال کے مرتبے کو تب ہی پہنچتی ہے جب یہ ایک مستقل تربیت اور طرزِ زندگی میں ڈھل جائے۔چنانچہ، حسین علیہ السلام ہم سے صرف یہی تقاضا نہیں کرتے کہ ہم تاریخ کے (گزرے ہوئے) قاتلوں پر لعنت بھیجیں، بلکہ وہ ہم سے یہ  بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم خود اپنے نفوس کے اندر چھپی ہوئی ظلم کی قبولیت، نصرت سے فرار کے رجحان، اور اپنے غیرت مندانہ مؤقف کو کسی حقیر قیمت پر بیچ دینے کی ہر صلاحیت اور گنجائش کو ہمیشہ کے لیے قتل کر دیں۔

اور یہیں سے عاشورا کی وہ عظیم ترین فکری اور ثقافتی قدر کھل کر سامنے آتی ہے۔ پس یہ معرکہ محض کسی ایک شہید کی یادکا تحفظ ہی نہیں کرتا، بلکہ یہ صاحبانِ ایمان کی پوری جماعت کے اندر ایک گہری اخلاقی حسّاسیت کو جنم دیتا اور اسے پروان چڑھاتا ہے۔یہ معاشرے کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ظلم سے شدید ترین نفرت کرے، مظلوم کی نصرت و حمایت کے لیے ہر دم تیار رہے، اقدار سے عاری اور اصولوں سے کٹ جانے والے مادی اقتدار کے بھیانک خطرات سے پوری طرح باخبر ہو، اور دین کے اس حقیقی مفہوم کو سمجھ پائے جو انسان کو ذمہ دار بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پوری تاریخ میں جابر اور مصلحت پسند حکومتیں حسین علیہ السلام کی حیاتِ ظاہری سے زیادہ ان کی شہادت کے بعد ان کے نام اور مشن سے خوفزدہ رہیں؛ کیونکہ 'حسینِ شہید' اب کوئی ایسا فرد نہیں رہے تھے جنہیں دوبارہ قتل کیا جا سکتا، بلکہ وہ ایک ایسے آفاقی اور ابدی مفہوم کا روپ دھار چکے تھے جو رہتی دنیا تک نسلوں کے وجدان اور ضمیر کے اندر مسلسل حرکت کر رہا ہے۔

شیئر: