واپس
کربلا اور نمائشی دینداری کا زوال

کربلا اور نمائشی دینداری کا زوال

دین دار معاشروں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی خطرناک صورتِ حال نہیں ہو سکتی کہ دین کی ظاہری صورت تو باقی رہے، مگر اس کی روح رخصت ہو جائے۔ نعرے، نمازیں، دینی اصطلاحات، مذہبی شعائر اور مقدس علامتیں سب موجود ہوں، لیکن یہ سب انسان کے کردار کو سنوارنے، اسے ظلم سے روکنے اور باطل کے سامنے اس کے ضمیر کو بیدار کرنے کی اپنی تاثیر کھو دیں۔

الشيخ معتصم السيد أحمد

دین دار معاشروں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی خطرناک صورتِ حال نہیں ہو سکتی کہ دین کی ظاہری صورت تو باقی رہے، مگر اس کی روح رخصت ہو جائے۔ نعرے، نمازیں، دینی اصطلاحات، مذہبی شعائر اور مقدس علامتیں سب موجود ہوں، لیکن یہ سب انسان کے کردار کو سنوارنے، اسے ظلم سے روکنے اور باطل کے سامنے اس کے ضمیر کو بیدار کرنے کی اپنی تاثیر کھو دیں۔ اس وقت دین انسان کے لیے ہدایت، بصیرت اور آزادی کا سرچشمہ نہیں رہتا، بلکہ بعض لوگوں کی نظر میں محض ایک ظاہری لبادہ بن جاتا ہے، جسے اوڑھ کر وہ بدترین گمراہیوں اور اخلاقی انحراف کا ارتکاب بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں، کیونکہ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ معاشرے سے دین مٹ گیا ہے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ دین ایک مسخ شدہ صورت میں موجود ہو، جہاں انسان ظاہری مذہب داری اور اخلاقی بے حسی، عبادت اور ظلم، نیز قرآن کی تلاوت اور ان اقدار کی پامالی کو، جن کے احیاء کے لیے قرآن نازل ہوا، بیک وقت جمع کر لے۔

یہ محض ایک نظری بحث نہیں، بلکہ تاریخ اور موجودہ دور، دونوں میں نہایت نمایاں حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ تاریخ کے بہت سے بڑے تصادم سادہ معنوں میں اہلِ ایمان اور منکرینِ دین کے درمیان نہیں ہوئے، بلکہ ایسے معاشروں کے اندر برپا ہوئے جو دین کو جانتے تھے، اس کے نام پر گفتگو کرتے تھے اور اس کی زبان و اصطلاحات استعمال کرتے تھے، مگر دین کو اپنے کردار، اخلاق اور عملی موقف میں ڈھالنے کی صلاحیت کھو چکے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ جب انسان ظلم کو ظلم جانتے ہوئے اس کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل میں کسی نہ کسی درجے میں تردد، ندامت یا شرمندگی باقی رہتی ہے؛ لیکن جب وہ یہ سمجھ کر ظلم کرتا ہے کہ وہ دین کی خدمت کر رہا ہے، جماعت کا دفاع کر رہا ہے یا کسی جائز اقتدار کی اطاعت بجا لا رہا ہے، تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اس وقت ضمیر جرم کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے خود اسی کی توجیہ کرنے لگتا ہے، اور یوں سچائی کا گواہ بننے کے بجائے جھوٹی گواہی دینے والا بن جاتا ہے۔

عاشورا اس تلخ حقیقت کا سب سے بڑا اور روشن گواہ ہے۔ امام حسینؑ کسی ایسے معاشرے میں شہید نہیں کیے گئے تھے جو اسلام سے ناواقف تھا، نہ ہی ان کے قاتل ایسے لوگ تھے جو نماز، روزہ، قرآن اور رسول اللہ ﷺ سے ناواقف ہوں۔ بلکہ وہ ایک ایسی امت کے ہاتھوں شہید ہوئے جو ابھی عہدِ نبوت سے زیادہ دور نہیں ہوئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ حسینؑ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کے فرزند ہیں، اور ان کے مقام، فضیلت اور عظمت سے بھی پوری طرح واقف تھی۔ اس کے باوجود ان کے مقابلے میں ایسے لوگ کھڑے ہوئے جو اطاعت اور جماعت کے نعرے بلند کر رہے تھے، ایک ایسی حکومت کے احکام پر عمل کر رہے تھے جو خود کو اسلام سے منسوب کرتی تھی، اور ان میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو نماز پڑھتے، قرآن کی تلاوت کرتے اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے تھے۔ یہی وہ ہولناک تضاد ہے جو کربلا کو صرف ایک خونریز سانحہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے انسانی شعور کے عظیم المیے میں بدل دیتا ہے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ دین سے واقف ایک انسان اس مقام تک پہنچ جائے کہ وہ امام حسینؑ کے قتل کا مرتکب ہو جائے؟

اس کا جواب صرف جہالت میں نہیں ہے، اگرچہ جہالت موجود تھی، نہ صرف خوف میں ہے، اگرچہ خوف ایک بڑا عامل تھا اور نہ ہی صرف لالچ میں ہے، اگرچہ لالچ نے بہت سے رویّوں کو خرید لیا۔ اصل اور حقیقی جواب یہ ہے کہ جب دین اخلاق سے جدا ہو جائے تو وہ ایک ایسی ظاہری رکاوٹ بن جاتا ہے جو انسان کو انحراف سے نہیں روکتی۔ انسان نماز بھی پڑھ سکتا ہے لیکن اپنی نماز سے حق کے سامنے جھکنے کا سبق نہیں سیکھتا۔ وہ قرآن بھی سن سکتا ہےلیکن قرآن کو اپنے خواہشات اور مفادات کا محاسب نہیں بننے دیتا۔ وہ کسی دینی جماعت سے وابستہ بھی ہو سکتا ہےلیکن اس وابستگی کو ضمیر کی ذمہ داری کا بدل بنا لیتا ہے۔ یوں دین ایک سماجی شناخت بن جاتا ہےنہ کہ روحانی تربیت،یہ ایک لفظی وابستگی بن جاتا ہے نہ کہ اخلاقی التزام اور ایک ایسا نعرہ جسے انسان بلند کرتا ہے نہ کہ وہ نور جو اس کے اپنے عیوب کو اس پر آشکار کرے۔

اسی لیے کربلا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مسئلہ ہمیشہ دین کے انکار سے شروع نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات اس کی تنگ نظری اور محدود تعبیر سے شروع ہوتا ہے۔ جب دین کو حاکم کی اندھی اطاعت تک محدود کر دیا جائے تو نظام کے نام پر ظلم ممکن ہو جاتا ہے۔ اور جب اسے صرف ظاہری شکل و صورت کی حفاظت تک محدود کر دیا جائے تو عبادات اور شعائر کے باقی رہنے کے باوجود فساد ممکن ہو جاتا ہے۔ اور جب اسے قبائلی، مسلکی یا سیاسی وابستگی تک محدود کر دیا جائے تو انسان اپنی جماعت کی طرف سے آنے والی ہر چیز کو جواز دینے اور باہر سے آنے والے ہر حق کو رد کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ دینی شعور کی سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ انسان کو حق کی تلاش کی بجائے اپنی وابستگیوں کی تائید تلاش کرنے پر لگا دیتی ہے۔

امام حسینؑ نے یہ چاہا کہ دین کو اس کے اخلاقی مرکز کی طرف واپس لایا جائے۔ ان کا خروج نہ تو روایتی معنی میں اقتدار کے حصول کے لیے تھا اور نہ ہی کسی ذاتی مفاد کی تلاش میں بلکہ اس بات کے انکار کے طور پر تھا کہ امت ایک بے روح جسم بن جائے، عدل سے خالی عبادات اور شعور کے بغیر اطاعت کا مجموعہ بن جائے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یزید پر خاموشی اختیار کرنا صرف ایک شخص پر خاموشی نہیں بلکہ اس پورے نظام کو قبول کرنا ہے جو دین کو طاقت کا تابع بنانا چاہتا ہے۔ اسی لیے ان کی تحریک اس اعلان کی حیثیت رکھتی ہے کہ دین کو عدل سے جدا نہیں کیا جا سکتا، امامت صرف ایک سیاسی عنوان نہیں ہو سکتی اور اسلام صرف الفاظ کے باقی رہنے سے زندہ نہیں رہتا اگر اس کی قدریں مٹ جائیں۔

جو شخص اس شعور کے ساتھ عاشورا کو پڑھتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ امام حسینؑ صرف ایک لشکر کا سامنا نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ دین کے مفہوم میں ایک حقیقی تحریف کا مقابلہ کر رہے تھے۔ وہ ایسے معاشرے کا سامنا کر رہے تھے جس میں یہ خطرناک صلاحیت پیدا ہو رہی تھی کہ وہ طاقت ور کی طرف سے آنے والے ظلم کو قبول کر لے، انحراف کو شرعی جواز کے لباس میں درست سمجھ لےاور باطل کے سامنے اس لیے جھک جائے کہ وہی موجود اور نافذ حقیقت بن چکا ہو۔ اسی لیے ایک ایسا سخت اور جھنجھوڑ دینے والا موقف ضروری تھا جو اجتماعی ضمیر کو جھٹکا دے اور یہ حقیقت واضح کرے کہ امت بعض اوقات اس مقام تک پہنچ سکتی ہے جہاں اسے ایک پاکیزہ خون کی ضرورت پڑتی ہے جو اسے دوبارہ حق کو دیکھنے کی بصیرت عطا کرے۔

خلاصہ یہ ہے کہ عاشورا کا ثقافتی درس یہ ہے کہ دین کو لاحق خطرہ ہمیشہ باہر سے نہیں آتا بلکہ کبھی کبھی اندر سے بھی آتا ہے جب وہ روح کے بغیر الفاظ، اخلاق کے بغیر عبادات اور ذمہ داری کے بغیر وابستگی میں بدل جائے۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ظالم موجود ہوں بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ موجود ہوں جو ظلم کو دینی، سماجی یا ثقافتی جواز فراہم کریں۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ امام حسینؑ کو شہید کیا گیا بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسی امت موجود ہو جو حسینؑ کے قتل کو دیکھنے کے بعد قاتل کے لیے جواز اور بے وفائی کرنے والوں کے لیے عذر تلاش کرے۔

اسی لیے محرم صرف گریہ و ماتم کا زمانہ نہیں بلکہ ایمان اور ضمیر کے درمیان تعلق کو دوبارہ زندہ کرنے کا وقت ہے۔ ہم خود سے سوال کریں: کیا ہم نے دین کو اپنی زندگی میں زیادہ رحمت، عدل اور سچائی کا ذریعہ بنایا ہے؟ کیا اہلِ بیتؑ سے ہماری وابستگی ہمارے اخلاق کی اصلاح کی قوت بنی ہے؟ کیا امام حسینؑ پر ہمارے آنسو ہمیں دوسروں پر ظلم کرنے سے روکنے والی دیوار بن گئے ہیں؟ کیا ہماری مجالس انسان سازی کے مدارس بن گئی ہیں، یا محض گزر جانے والے رسمی مواقع؟

عاشورا ہمیں ہر سال یہ پیغام دیتاہے کہ دین صرف زبان پر باقی رہنا نہیں بلکہ اسے ضمیر میں زندہ ہونا چاہیے۔ یہ بھی کافی نہیں کہ ہم امام حسینؑ کو جان لیں بلکہ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ امام حسینؑ نے قیام کیوں کیا تھا؟ صرف تاریخ کے یزید سے نفرت کرنا بھی کافی نہیں بلکہ ہر اس یزیدی منطق کو رد کرنا ضروری ہے جو طاقت کو اخلاق سے، دین کو عدل سے اور اطاعت کو بصیرت سے جدا کرنا چاہتی ہے۔ جب ہم یہ حقیقت سمجھ لیتے ہیں تو عاشورا محض ایک ایسی یاد نہیں رہتاجسے ہم تازہ کرتے ہیں بلکہ ایک ایسا معیار بن جاتاہے جس سے ہم اپنے تدین کی سچائی، اپنے شعور کی حقیقت  اور خطِ حسینؑ سے اپنی وابستگی کو پرکھتے ہیں۔

یہاں ہمیں اس بات کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کہ اخلاقی زوال اچانک واقع نہیں ہوتا۔ انسان ایک دن صبح اٹھ کر خود کو امام حسینؑ کا قاتل نہیں پاتا۔ کربلا کا راستہ کربلا سے پہلے شروع ہو چکا تھا، جب لوگ خاموشی کے عادی ہو گئے، جب برائی معمول بن گئی، جب ظلم کے بارے میں حساسیت کمزور پڑ گئی، جب خوف عمومی ثقافت کا حصہ بن گیا، جب لوگوں نے یہ سیکھ لیا کہ سلامتی حق سے زیادہ اہم ہے اور طاقت کے قریب ہونا اصولوں کے قریب ہونے سے بہتر ہے۔ بڑا انحراف ایک دم پیدا نہیں ہوتابلکہ یہ چھوٹی چھوٹی رعایتوں، بار بار کی خاموشیوں اور نرم جواز تراشیوں کے ذریعے جمع ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان ان کاموں کے قابل ہو جاتا ہے جنہیں وہ ابتدا میں سختی سے رد کرتا تھا۔

یہ نفس اور معاشرے کا ایک مستقل قانون ہے۔ انسان اگر آج کسی چھوٹے ظلم کو اپنے لیے جائز قرار دے دے تو کل بڑے ظلم کو جواز دینے کے لیے زیادہ آمادہ ہو جاتا ہے۔ اگر وہ بار بار اپنے ضمیر کو خاموش کر دے تو ضمیر کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ اگر وہ باطل کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر اپنی استطاعت کے مطابق اس کا مقابلہ نہ کرے تو باطل اس کے لیے مناظر فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے عاشورا ہمیں صرف انجام سے نہیں ڈراتی بلکہ اس راستے سے بھی خبردار کرتی ہے جو اس انجام تک لے جاتا ہے۔ وہ ہمیں صرف یہ نہیں کہتی کہ امام حسینؑ کے قاتل نہ بنو بلکہ اس سے پہلے یہ کہتی ہے کہ ایسے لوگ نہ بنو جو خاموش رہیں یہاں تک کہ حسینؑ قتل ہو جائیں، نہ ایسے بنو جو جواز تراشیں یہاں تک کہ حق ذبح ہو جائےاور نہ ایسے بنو جو انحراف کے عادی ہو جائیں یہاں تک کہ جرم کے سامنے کھڑے ہونےکی صلاحیت بھی کھو دیں۔

یہ مفہوم  عملی طور پر ہماری زندگی میں موجود ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں اخلاقی، دینی اور انسانی نعرے بہت زیادہ ہیں لیکن ان میں سے بہت سے عملی حقیقت سے کٹ چکے ہیں۔ دنیا انسانی حقوق کی بات کرتی ہے لیکن جب مفادات متصادم ہوں تو واضح قتلِ عام کے سامنے خاموش ہو جاتی ہے۔ ادارے عدل کی بات کرتے ہیں لیکن جب ظالم طاقتور اور مظلوم کمزور ہو تو دوہرے معیار اختیار کر لیتے ہیں۔ بعض مذہبی لوگ تقویٰ کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے گھروں، کاموں اور تعلقات میں ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ سب اصول اور عمل کے درمیان، زبان اور حقیقت کے درمیان اور کہی جانے والی بات اور کی جانے والی حقیقت کے درمیان جدائی کی مختلف شکلیں ہیں۔

اسی لیے عاشورا کا احیاء محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک ثقافتی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ جو معاشرہ امام حسینؑ کو شعور کے ساتھ زندہ کرتا ہے اسے یہ تربیت بھی دینی چاہیے کہ دین کوئی ایسا نعرہ نہیں جو بلند کیا جائےبلکہ وہ ایک ایسا معیار ہے جس سے انسان پہلے خود کو پرکھے، پھر دوسروں کو پرکھے۔ یہ امام حسینؑ کا طریقہ نہیں کہ انسان مجلس میں روتا ہو اور گھر میں اپنے اہلِ خانہ پر ظلم کرے۔ یہ امام حسینؑ کا طریقہ نہیں کہ انسان عدل کا پرچم اٹھائے اور تجارت میں دھوکا دے یا امانت میں خیانت کرے۔ یہ بھی امام حسینؑ کا طریقہ نہیں کہ انسان تاریخ کے ظالموں پر لعنت کرے لیکن اپنے زمانے کے ظالموں کے ساتھ خوف یا لالچ کی وجہ سے سمجھوتہ کر لے۔ کربلا اس دوغلے پن کو قبول نہیں کرتی کیونکہ وہ تو اسی لیے آئی تھی کہ اس دین کو بے نقاب کرے جو باطل کے لیے پردہ بن جائے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو امام حسینؑ سے نسبت کے لیے کامل ہونا ضروری ہے کیونکہ ہم سب نقص اور کمزوری کے حامل ہیں اور ہم سب کو اللہ کی رحمت اور اولیاء کی شفاعت کی ضرورت ہے۔ لیکن فرق بہت بڑا ہے اس شخص کے درمیان جو اپنی کمزوری کو پہچان کر اپنے نفس سے جدوجہد کرتا ہےاور اس شخص کے درمیان جو اپنی وابستگی کو فساد کے لیے ایک پردہ بنا لیتا ہے۔ ہاں، امام حسینؑ رحمت کا دروازہ بھی ہیں، لیکن وہ ذمہ داری کا دروازہ بھی ہیں۔ ہاں، ان کی محبت نجات ہے لیکن ایسی محبت جو تربیت دیتی ہے، غفلت میں نہیں ڈالتی، بیدار کرتی ہے، سونے نہیں دیتی اور انسان کو اپنی اصلاح پر ابھارتی ہے نہ کہ جھوٹی تسلی دیتی ہے۔ سچا محب صرف اپنے محبوب کے مصائب پر آنسو بہانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ یہ کوشش بھی کرتا ہے کہ وہ اس کے راستے، اس کی روح اور اس کے اخلاق کے قریب ہو۔

آج ہمیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ دین اور اخلاق کے تعلق کو دوبارہ جوڑنا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین کو محض ایسے عمومی وعظ و نصیحت میں بدل دیا جائے جو عقیدہ اور شریعت سے خالی ہو بلکہ یہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ اگر عقیدہ اور شریعت انسان کے اندر زندہ ضمیر اور درست کردار پیدا نہ کریں تو خرابی دین میں نہیں بلکہ ہمارے اس طریقۂ فہم میں ہے۔ وہ نماز جو اپنے پڑھنے والے کو فحاشی اور برائی سے نہ روکے، اسے اپنے دل میں اس کی موجودگی کے حوالے سے دوبارہ غور کی ضرورت ہے۔ اور وہ ولایت جو انسان کو زیادہ رحم دل، سچا اور عادل نہ بنائے، اسے اپنے سچے ہونے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ وہ دینی معرفت جو انسان میں سختی، تکبر اور لوگوں کی تحقیر بڑھا دے، وہ اہلِ بیتؑ کی حقیقی معرفت نہیں کیونکہ ان کا علم نور ہے اور نور اپنے حامل کو تاریکی میں نہیں بدلتا۔

عاشورا اس معنی میں تدین کی نئی تعریف پیش کرتا ہے۔ تدین صرف نظری طور پر حق سے وابستگی کا نام نہیں بلکہ یہ اجازت دینے کا نام ہے کہ حق انسان کو بدل دے۔ یہ صرف تاریخ میں ظالموں کے نام جان لینے کا عمل نہیں بلکہ اپنے اندر موجود ظلم کی جڑوں کو دریافت کرنے کا عمل ہے۔ یہ صرف کتابوں میں امام حسینؑ کے لشکر اور یزید کے لشکر میں فرق سمجھ لینے کا نام نہیں بلکہ اپنے رویّے، اپنے موقف اور اپنے انتخاب میں حسینیؑ اور یزیدی رجحان کو پہچاننے کا نام ہے۔ انسان زمانے کے اعتبار سے کربلا سے دور ہو سکتا ہےلیکن وہ ہر اس لمحے میں اس کے قریب ہو جاتا ہے جب وہ جھوٹ کے مقابلے میں سچ کو، خواہش کے مقابلے میں عدل کو، ذلت کے مقابلے میں وقار کو اور راحت کے مقابلے میں ذمہ داری کو اختیار کرتا ہے۔ انسان بظاہر امام حسینؑ کا نعرہ بلند کر سکتا ہے لیکن وہ ہر اس لمحے ان سے دور ہو جاتا ہے جب وہ اپنی مصلحت کو اپنے اصولوں پر، اپنے خوف کو اپنے ضمیر پر اور اپنی وابستگی کو حق پر مقدم کر دے۔

اسی لیے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ امام حسینؑ انسانی ضمیر میں آج تک زندہ کیوں ہیں۔ وہ صرف اس لیے زندہ نہیں رہے کہ انہیں مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا اگرچہ ان کی مظلومیت دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہےبلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے دین اور اخلاق کے اتحاد کو اپنی بلند ترین صورت میں مجسم کر دیا۔ وہ سمجھوتہ کر سکتے تھےلیکن انہوں نے نہیں کیا۔ وہ سلامتی کے ساتھ بچ کر  نکل سکتے تھے لیکن انہوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ دین مسخ شدہ حالت میں آگے پہنچے۔ وہ خاموش رہ سکتے تھے جیسے بہت سے لوگ خاموش رہے لیکن انہوں نے یہ جان لیا تھا کہ اس موقع پر امام کی خاموشی انحراف کے لیے ایک دلیل بن جائے گی۔ اسی لیے ان کی شہادت ہر اس دین کے خلاف ایک صدائے احتجاج بن گئی جو عدل سے خالی ہو، ہر اس اقتدار کے خلاف جو اخلاق سے عاری ہو اور ہر اس معاشرے کے خلاف جو حقیقت پسندی کے نام پر اپنے ضمیر کا سودا کر بیٹھے۔

شیئر: