شیخ مصطفیٰ الہجری
سانحہ کربلا جیسا تاریخی واقعہ انسان کے فکر و شعور میں ایک گہرا عقائدی اور فلسفیانہ سوال پیدا کرتا ہے کہ اگر امام حسین علیہ السلام منصوب من اللہ امام تھے اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لیے بلند پایہ الٰہی اہداف لے کر اٹھے تھے، تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قدر ہولناک اوردلسوز انداز میں کیوں شہید ہونے دیا؟ اور کیا لشکرِ اشقیا کی عسکری کامیابی (نعوذ باللہ) اس الٰہی منصوبے کی ناکامی کی عکاس ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ انسان واقعات کو محض سطحی زاویہ نگاہ سے نہ دیکھے، بلکہ وہ اس قرآنی بصیرت کی گہرائیوں میں اترے جو کسی بھی اصلاحی تحریک کو دو الگ اور نمایاں پہلوؤں میں تقسیم کرتی ہیں ان کا پہلا پہلو رسالت الٰہی کا ہے جو مطلق اور ابدی ہے، اور دوسرا پہلو انسانی تجربے کا ہے جو تاریخی قوانین اور مادی ضوابط کے تابع ہوتا ہے۔
اوّلاً: قرآنی نقطہ نظر سے انقلابی و اصلاحی عمل کے دو پہلو
قرآنِ کریم کے استقرائی تجزیے کے مطابق، تاریخ میں انبیاء اور اوصیاء جس اصلاحی و انقلابی عمل کی قیادت کرتے ہیں، وہ دو بنیادی پہلوؤں پر مشتمل ہوتا ہے:
پہلا: متن، جوہر اور مواد کا پہلو (محتویٰ اور مضمون)یہ پہلو ان قوانین، احکام، دگرگوں نظاموں، اور مذہبی مفاہیم و اقدار پر مشتمل ہوتا ہے جن کی طرف شریعت دعوت دیتی ہے۔ یہ پہلو خالصتاً ایک الٰہی اور سماوی امر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کا دارومدار وحیِ الٰہی پر ہے جو اپنے نزول کے ساتھ ہی تاریخ کے تمام مادی قوانین کو چیلنج کرتی ہے، کیونکہ الٰہی شریعت اپنی فطرت اور ساخت کے اعتبار سے جس سماجی ماحول میں وہ نازل ہوتی ہے، اس سماجی ماحول اور مادی معاشرے سے کہیں زیادہ بلند و برتر ہوتی ہے اور وہ اس فرد کی محض ذاتی و مادی صلاحیتوں سے بھی کہیں بڑھ کر ہوتی ہے جسے اس کی تبلیغ کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پہلو زمان و مکان کی قید سے ماورا اور یہ "تاریخ سے بالاتر" ہوتا ہے۔ یعنی مادی نفع و نقصان کے پیمانوں کے تابع نہیں ہوتا۔
دوسرا: سماجی و انسانی زندگی میں اس کے عملی اثرات کا پہلو:
یہ پہلو اس انسانی گروہ یا جماعت کی شکل میں نمایاں ہوتا ہے جو اس الٰہی نظریے اور مضمون کو اپناتا ہے اور اس کے ساتھ عملی میدان میں متحرک ہوتا ہے۔ چنانچہ جب ہم انبیاءعلیہم السلام اور ان کے ساتھیوں کی تحریک کو ایک ایسے سماجی عمل کے طور پر دیکھتے ہیں جو ایک منتخب انسانی گروہ کی شکل میں مجسم ہو کر اپنے مدمقابل مخالف سماجی، عقائدی، سیاسی اور عسکری دھاروں کا سامنا کر رہا ہوتا ہے، تو ہم (فکری طور پر) ایک بالکل دوسرے میدان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس میدان میں قرآنِ کریم و آسمانی رسالت کی بات نہیں کرتا، بلکہ ان انسانوں کی گفتگو کرتا ہے جو باقی انسانوں جیسے ہی ہیں، اور جن کے احوال اور کوششوں پر معاشرتی امورکو منظم کرنے والے ،مادی و تاریخی قوانین، اور کائناتی ضوابط پوری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔
ثانیاً: آسمانی پیغام (رسالت) کبھی شکست نہیں کھاتا ۔
صدرِ اسلام کے ابتدائی معرکوں، جیسے غزوۂ اُحد، میں غور کرنے سے یہ الٰہی قانون پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ وہ مسلمان جماعت، جس نے مادی و معروضی طور پر فتح کی شرائط موجود ہونے کے باعث معرکۂ بدر میں ایک حتمی اور فیصلہ کن فتح حاصل کی تھی، وہی جماعت معرکۂ اُحد میں انہی مادی شرائط کے اختلال (بگاڑ) اور عسکری حکم کی نافرمانی کے باعث شکست و انکسار سے دوچار ہوگئی۔جب قرآنِ کریم نے اس تلخ نقصان اور شکست کا تذکرہ کیا تو کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ (نعوذ باللہ) آسمانی پیغام یا رسالت کو شکست ہوئی ہے یا وہ معرکہ ہار گئی ہے؛ کیونکہ الٰہی پیغام عسکری اور مادی نفع و نقصان کے پیمانوں سے بالاتر ہے۔ آسمانی رسالت نہ کبھی شکست کھاتی ہے اور نہ کبھی شکست کھائے گی، بلکہ شکست انسان کھاتا ہے، خواہ وہ انسان خود اس آسمانی رسالت کا مجسم نمونہ اور نمائندہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میدانِ عمل میں اس انسان کی مادی جدوجہد اور حرکت کائناتی قوانین کے تابع ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ﴾ (آلِ عمران: 140) "اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔"
قرآن نے احد کے مقام پر مسلمانوں پر یہ واضح کر دیا کہ فتح کوئی ایسا "خالص غیبی اور تشریعی حق" نہیں ہے جو بغیر عمل کے ان کے لیے غلبے کی ضمانت بن جائے، بلکہ یہ ایک "طبیعی اور کائناتی حق" ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وضع کردہ تاریخی قوانین کی منطق کے مطابق، مادی و معروضی شرائط کو پورا کرنے کی انسانی صلاحیت سے مشروط ہے۔ پس، جب بھی کوئی انسانی گروہ ان الٰہی و طبیعی قوانین کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے گا، تو فطری اور طبیعی قوانین کے تحت اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اس سے رسالت کی قداست، عظمت اور اس کے الٰہی ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔
ثالثاً: مادی بے کسی اور دنیوی عذاب کے قوانین
قرآنِ کریم نے جن عمیق ترین قوانین کی طرف توجہ دلائی ہے، ان میں سے ایک قوموں کے لیے "اجتماعی مہلت (مقررہ وقت)" اور "دنیوی سزا و عذاب" کا قانون ہے۔ قرآنِ مجید ایک امت یا قوم کو ، ایک اجتماعی اور سماجی وجود کے طور پر ، ایک ایسی عمر، مہلت، موت اور زندگی عطا کرتا ہے جو انتہائی سخت اور اٹل قوانین کے تابع ہوتی ہے؛ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ﴾ (یونس: 49) ہر امت کے لیے ایک مقررہ وقت (اجل) ہے۔
اور جب کوئی معاشرہ ظلم، فکری کجی اور سیدھے راستے پر قائم رہنے کی مادی و معروضی شرائط کو چھوڑ کر پستی میں گر جاتا ہے، تو اس کے اپنے ہی اعمال اور کوششوں کے فطری نتیجے کے طور پر اس پرمادی بے کسی(کسی کو اس کے حال پر چھوڑ دینا) یا دنیوی عذاب مسلط کر دی جاتی ہے۔ یہاں قرآن کا ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ اور اصول سامنے آتا ہے: وہ یہ کہ تاریخی قوانین کے نتیجے میں نازل ہونے والا یہ دنیوی عذاب صرف ظالموں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ اپنے اندر پورے معاشرے کو سمیٹ لیتا ہے ،۔ یہ اصول اللہ عزوجل کے اس فرمان کا سچا مظہر ہے:﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً﴾ (الأنفال: 25) اور اس فتنے (آزمائش یا عذاب) سے بچو جو تم میں سے صرف انہی لوگوں پر واقع نہیں ہوگا جنہوں نے ظلم کیا ہے (بلکہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا) اور یہ ہمہ گیر (عمومی) قانون واضح تاریخی شواہد میں کھل کر سامنے آتا ہے۔ جیساکہ
۱۔ بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وادیِ تیہ (صحرا) میں بھٹکنے کا واقعہ:
جب بنی اسرائیل کی قوم نے اپنے ظلم، سرکشی اور طغیان کے باعث بغاوت کی اور ارضِ مقدسہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا، تو ان پر مادی بے کسی کا الٰہی قانون لاگو ہو گیا، اور ان کی تقدیر میں چالیس سال تک صحرا میں بھٹکنا لکھ دیا گیا۔ یہ آزمائش اور دنیوی سزا صرف ان سرکش ظالموں تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جو کہ طاغوتی قوتوں اور سرکشوں کے سامنے انسانیت میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور شجاع ترین نفوس تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کائناتی و مادی قانون کے اثرات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا، کیونکہ وہ اسی امت کا ایک حصہ تھے اور تاریخ کے میدان میں زندگی بسر کرنے والے ایک انسان تھے۔
۲۔ ۵۹ ہجری میں یزید بن معاویہ کا برسرِ اقتدار آنا (تسلط):
جب امتِ مسلمہ فکری کجی اور انحراف کا شکار ہو گئی اور اس نے اپنی رسالتی و ایمانی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیا، اور اس میں مادی بےکسی کی تمام معروضی شرائط پوری ہو گئیں، تو اس پر ایک عمومی بلا اور عذاب مسلط ہو گیا۔ یہ بلا یزید بن معاویہ جیسے ایک ظالم و جابر حکمران کے تسلط کی شکل میں ظاہر ہوئی، جو لوگوں کے خون، ان کی عزت و آبرو اور عقائد کا مالک بن بیٹھا۔ معاشرے کا یہ عسکری و اخلاقی زوال اور دنیوی عذاب پوری امت پر محیط تھا، اور اس کے ہولناک دنیوی اثرات و نتائج سے امامِ معصوم حسین بن علی علیہ السلام، آپ کا اہل بیت، اور آپ کے پاکیزہ اصحاب بھی (مادی طور پر) محفوظ نہ رہ سکے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیوی عذاب اور بلا کی یہ ہمہ گیریت (عمومیت) نہ تو عدلِ الٰہی پر کوئی حرف لاتی ہے اور نہ ہی انبیاء اور اوصیاء کی عصمت پر آنچ آنے دیتی ہے؛ کیونکہ حقیقی امتیاز اور سچا عدل و انصاف ’’اخروی سزا و جزا‘‘ (قیامت کے دن) میں ظاہر ہوگا، جس کا دارومدار براہِ راست اور نہایت باریک بینی کے ساتھ فرد کے اپنے ذاتی عمل پر ہوگا۔ جیسا کہ اس قرآنی قاعدے میں بیان ہوا ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ (الأنعام: 164) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔جہاں تک دنیا کا تعلق ہے، تو جب کوئی سماجی ڈھانچہ اور معاشرتی عمارت منہدم ہوتی ہے اور تاریخی قوانین کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہے، تو پھر اس کے ملبے تلے دبنے کی قیمت سبھی کو چکانی پڑتی ہے
رابعاً: کربلا تاریخی قوانین کے ترازو میں
اسی معرفت اور فکری بنیاد پر، ہم امام حسین علیہ السلام کی الٰہی امامت اور معرکہِ کربلا کے عسکری نتیجے کے درمیان پائے جانے والے ظاہری تعلق کو دو مختلف زاریہ نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام ایک طرف تو اپنے دور کے اس انسانی معاشرے کے ایک فرد ہونے کے ناطے میدانِ عمل میں اپنی مادی جنبش اور جدوجہد کے اعتبار سے تاریخی، سماجی اور مادی قوانین کے تابع تھے۔ چنانچہ، جب امت آپ کی نصرت و مدد سے پیچھے ہٹ گئی، ایسے میض جیساکہ اہل کوفہ نے بے وفائی اور سستی دکھائی، اور واقعے کے گرد و پیش موجود انسانی گروہ پر مفاد پرستی اور خوف کی ہیبت پوری طرح سے طاری ہو گئی، تو مادی و معروضی شرائط کے تحت جو ناگزیر عسکری نتیجہ نکلنا تھا وہ یہی تھا کہ حسینی محاذ کو مادی طور پر شکست کا سامنا ہو اور آپ مادی طور پر شہید کر دیے جائیں۔ اس موقع پر آسمان (قدرت) نے قوانینِ قدرت کو توڑنے کے لیے کسی غیبی معجزے کی شکل میں مداخلت نہیں کی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ اسلامی تجربہ اپنے انسانی اعمال کے نتائج کا سامنا کرتے ہوئے ہی پروان چڑھے، کمال تک پہنچے اور فکری و اخلاقی تادیب حاصل کرے۔
لیکن، اگر مادی اور تاریخی قوانین نے عسکری میدان میں امام حسین علیہ السلام کے جسمانی قتل کو ناگزیر کر دیا تھا، تو دوسری طرف متن اور جوہر کا پہلو (یعنی وہ رسالت، پیغام اور الٰہی اقدار جن کی خاطر آپ نے شہادت پیش کی) ایک ایسی حتمی، مطلق اور تاریخ سے بالاتر فتح سے ہمکنار ہوا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حسینؑ کے خونِ پاک نے شریعتِ الٰہیہ کو تحریف اور مٹنے سے بچا لیا، اور آپ کی شہادت ہدایت کا ایک ایسا روشن مینار بن گئی جس نے رہتی دنیا تک کے لیے امت کے اندر ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے اور جابر کی اطاعت سے انکار کی روح پھونک دی۔
اللہ تعالیٰ نے مادی جنگ میں امام حسین علیہ السلام کے نقصان (اور ظاہری شکست) کو اس لیے ہونے دیا کیونکہ وہ دنیا کے معاملات کو ان کے طبعی اسباب اور اپنی مقرر کردہ آفاقی سنتوں کے مطابق جاری فرماتا ہے، اور یہ سنتیں کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتتیں، خواہ وہ حضرت موسیٰؑ جیسے برگزیدہ نبی ہوں یا امام حسینؑ جیسے معصوم امام۔ درحقیقت شکست امام حسینؑ کی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی تھی جس نے حق کا ساتھ دینے سے پہلو تہی کی؛ چنانچہ اپنی کوتاہی کے نتیجے میں وہ سب انہی الٰہی سنتوں کے اثرات کی گرفت میں آگئے۔ تاہم کربلا نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ اگرچہ الٰہی رہنما کا جسم مادی قوانین کے تحت فنا ہو سکتا ہے، لیکن اس کا پیغام، حق پر مبنی اصول اور الٰہی مشن ہمیشہ سربلند، زندہ اور ناقابلِ شکست رہتے ہیں۔