واپس
عاشورا اور سننِ الٰہیہ: ماضی کے اسباق سے مستقبل کی تعمیر

عاشورا اور سننِ الٰہیہ: ماضی کے اسباق سے مستقبل کی تعمیر

الشيخ مصطفى الهجري

قرآنِ کریم تاریخ کے واقعات کو نہ تو بکھری ہوئی حکایات کا مجموعہ قرار دیتا ہے اور نہ ہی وہ انہیں محض تفریحِ طبع کا ذریعہ بناتا ہے، بلکہ وہ انہیں ایک ایسی الٰہی تجربہ گاہ کے طور پر پیش کرتا ہے جو اٹل اور ناقابلِ تغیر قوانین کے تحت کارفرما ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں ان قوانین کو سننِ الٰہیہ یا تاریخی سنن کہا جاتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اقوام و معاشروں کا عروج و زوال نہ اتفاقی ہوتا ہے اور نہ ہی بے مقصد، بلکہ وہ ایسے ثابت اور معروضی قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اسباب کو ان کے نتائج سے جوڑتے ہیں۔ چنانچہ جو قوم ترقی، عدل اور راستی کے اسباب اختیار کرتی ہے، وہ تہذیب و تمدن کی شاہراہ پر گامزن ہو کر عروج حاصل کرتی ہے، جبکہ جو قوم ظلم، فساد اور پسماندگی کے دلدل میں اتر جاتی ہے، اس کا انجام زوال، انحطاط اور بالآخر تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔قرآنِ مجید انسان کوعبرت حاصل کرنے کی جو دعوت دیتا ہے، ﴿فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ﴾، وہ درحقیقت ایک عقلی اور سائنسی منہج ہے، جو انسان کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ گزشتہ اقوام کے تجربات کو اپنے موجودہ حالات پر منطبق کرے اور ان اٹل اور دائمی الٰہی سنتوں کی روشنی میں مستقبل کے ان امکانات اور سمت کا ادراک حاصل کرے، جن میں نہ کوئی تبدیلی آتی ہے اور نہ کوئی رد و بدل۔

تاریخ اور مستقبل کی فکری تشکیل

کسی بھی امت کا اپنے ماضی اور کائنات پر کارفرما الٰہی قوانین کے بارے میں تصور، براہِ راست اس کے طرزِ زندگی اور مستقبل سے متعلق اس کی ذہنی ساخت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ہم مختلف بڑے فکری نظاموں کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے کا تصورِ مستقبل، سرمایہ دارانہ اور مارکسی تہذیبوں کے تصورِ مستقبل سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

1۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ: خوف اور اضطراب سے عبارت مستقبل

معاصر سرمایہ دارانہ تہذیب میں انسان ایک ایسی بے لگام مادّہ پرستی کے زیرِ اثر زندگی گزارتا ہے جو مستقبل کو مسلسل وجودی خطرے کا سرچشمہ بنا دیتی ہے۔ وجودی فلسفی ژاں پال سارتر کے بیان کے مطابق، مغربی سرمایہ دارانہ فکر میں مستقبل گویا "خوف کی ایک قاتل تلوار"کی مانند سامنے آتا ہے، جس کے باعث آنے والی زندگی ایک تاریک اور پُرہیبت منظر پیش کرتی ہے۔ جب زندگی سے روحانی مقاصد اور اعلیٰ اخلاقی اقدار رخصت ہوجائیں تو انسان حقیقی امید، قلبی اطمینان اور پائیدار سکون سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ہر لمحہ اس اضطراب میں مبتلا رہتا ہے کہ موجودہ وقت سے زیادہ سے زیادہ مادی فائدہ اور لذت کیسے حاصل کی جائے۔ نتیجتاً اس کی ساری توجہ وقتی مفادات اور شخصی خواہشات تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ایسا نظام انسان کو معاشرے کے ساتھ مخلصانہ، اخلاقی اور ذمہ دارانہ تعلق قائم کرنے کے لیے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ اس کے نتیجے میں لالچ، خود غرضی اور استحصال پر مبنی ماحول جنم لیتا ہے، اور یہی وہ عوامل ہیں جو جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور خودکشی جیسے سنگین سماجی مسائل میں مسلسل اضافے کی ایک اہم وجہ بن جاتے ہیں۔

2۔ مارکسی اشتراکی معاشرہ: جبریت اور جمود کا مستقبل

اس کے برعکس مارکسی نظریہ ایک ایسے روشن مستقبل کی تصویر پیش کرتا ہے، جس میں تاریخی مادیت کے مطابق انسان کی تمام محرومیاں اس وقت لازماً ختم ہو جائیں گی جب معاشرہ طبقاتی تقسیم سے پاک کمیونسٹ نظام تک پہنچ جائے گا۔ لیکن اس حد سے بڑھے ہوئے خوش بینانہ تصور کے باوجود، اس نظریے کی میکانکی اور جبری تعبیر نے انسان کے اندر حال میں محنت، جدوجہد اور ایثار کے جذبے کو کمزور کر دیا۔ کیونکہ اگر "یومِ نجات" ایک ایسے اندھے تاریخی قانون کے تحت خودبخود آنا ہی ہے، تو پھر مسلسل جدوجہد، قربانی اور ذمہ دارانہ عمل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔عملی میدان میں جب مارکسی نظام کو اس جمود اور بے عملی کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا تو اسے اس بحران سے نکلنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے بعض محرکات اور معاشی طریقۂ کار سے مدد لینا پڑی۔ یوں وہ اپنے ہی نظریاتی اصولوں سے انحراف کا شکار ہو گیا، اور اس کی عملی ناکامی نے اس کے بنیادی فکری ڈھانچے میں موجود تضادات کو نمایاں کر دیا۔

3۔ اسلامی معاشرہ: امید، توازن اور پُراعتماد عمل کا مستقبل

اسلامی معاشرے کا انسان مستقبل کا سامنا نہ خوف و اضطراب کے ساتھ کرتا ہے اور نہ ہی تقدیر کے سہارے بے عملی اختیار کرتا ہے، بلکہ وہ ایک ایسے متوازن رویے کا حامل ہوتا ہے جس کی بنیاد ایک طرف اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر سچا یقین اور دوسری طرف حال میں مسلسل، ذمہ دارانہ اور بامقصد جدوجہد پر قائم ہوتی ہے۔اسلام انسان کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ موجودہ لمحے کو قیمتی سمجھے، اسے اپنی رسالتی ذمہ داریوں کے مطابق بہترین انداز میں بروئے کار لائے، اور مستقبل کی طرف اطمینان اور امید کے ساتھ نگاہ رکھے۔ اس اطمینان کی بنیاد یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی بھی نیک عمل کبھی ضائع نہیں جاتا۔

دنیا میں ہر نیک عمل الٰہی مشن کی عظیم عمارت میں ایک مضبوط اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی حقیقت کو قرآنِ کریم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ﴿وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ﴾ (التوبہ: 105)۔ اسلامی معاشرہ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھتا ہے کہ باطل عارضی اور ناپائیدار ہے، جبکہ جو چیز انسانیت کے لیے نفع بخش ہو، وہی باقی رہتی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ﴾ (الرعد: 17)۔

کامیابی کا معیار نتیجہ نہیں، جدوجہد ہے: اسلام انسان کو اس بات کا مکلف بناتا ہے کہ وہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ حق کی راہ میں کوشش کرے، جبکہ نتائج کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ دے۔ چنانچہ قرآنِ مجید فرماتا ہے: ﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى﴾ (النجم: 39-40)۔ اس بنا پر مسلمان کی کامیابی کا حقیقی معیار اس کی مخلصانہ سعی، اخلاص اور استقامت ہے، نہ کہ ہر حال میں ظاہری کامیابی کا حصول۔ یہی عقیدہ اسے مسلسل عمل، ثابت قدمی اور امید کے ساتھ مستقبل کی تعمیر پر آمادہ رکھتا ہے۔آخرت میں  ہر نیک عمل کا اجر پوری طرح محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى﴾ (آلِ عمران: 195)۔ اس یقین کے باعث مومن کا کوئی عمل بے مقصد نہیں ہوتا؛ اگر اس کا ثمر دنیا میں پوری طرح ظاہر نہ بھی ہو، تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ رہتا ہے اور آخرت میں اس کا کامل اجر اسے ضرور عطا کیا جائے گا۔

عاشورا تک پہنچانے والی تاریخی سنتیں: نواسۂ رسولؐ کیسے شہید ہوئے؟

جب ہم تاریخی سنتوں کے اسی قرآنی منہج کو اسلامی تاریخ کے سب سے المناک سانحے، یعنی 61 ہجری میں پیش آنے والے واقعۂ کربلا، پر منطبق کرتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ امام حسین بن علیؑ کی شہادت کوئی اچانک رونما ہونے والا تاریخی حادثہ یا محض اتفاقی واقعہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک طویل تاریخی عمل، مسلسل فکری و اخلاقی انحطاط اور ان الٰہی سنتوں کا ناگزیر نتیجہ تھی جو ایک عرصے سے امت کی اجتماعی زندگی میں اثر انداز ہو رہی تھیں۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ امت بتدریج عدل، حق شناسی اور فکری بصیرت کے بنیادی عناصر سے دور ہوتی چلی گئی۔ جب یہ انحطاط اجتماعی شعور، اخلاق اور سیاسی زندگی میں جڑ پکڑ گیا تو اس کے لازمی نتائج بھی سامنے آئے۔ یوں وہ تاریخی سنتیں، جنہوں نے بالآخر امت کو اس عظیم المیے تک پہنچایا، درج ذیل صورتوں میں نمایاں ہوتی ہیں:

اصولی اقدار کی جگہ مادی مفادات کا غلبہ:

بہت ہی مختصر عرصے میں اسلامی معاشرہ زہد، ایثار اور عدل کی قدروں سے دور ہو کر ایسے ماحول میں تبدیل ہوگیا جہاں اقتدار اور مال و دولت کے حصول کی دوڑ نے اشرافیہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ طبقاتی تقسیم نے اجتماعی ضمیر کو کمزور کر دیا، یہاں تک کہ حق و باطل کا فیصلہ بھی مادی مفادات کے ترازو میں ہونے لگا، اور ضمیر خرید و فروخت کی ایک جنس بنتا چلا گیا۔

اخلاقی حس کے مردہ ہو جانے اور ظلم پر خاموشی اختیار کرنے کی روش:

جب امت نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظیم ذمہ داری سے غفلت برتی اور اموی استبداد کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا، تو وہ اجتماعی بے حسی اور عملی جمود کا شکار ہوگئی۔ رفتہ رفتہ یہ صورت حال اس مقام تک پہنچ گئی کہ ظلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ کر بھی اس کے خلاف آواز بلند نہ کی گئی، بلکہ بالآخر اہلِ بیتِ اطہارؑ کے خونِ ناحق کو بھی مختلف تاویلات کے ذریعے جائز قرار دینے کی جسارت کی گئی۔

ظاہری دینداری کو حقیقتِ دین پر ترجیح دینے کی سنت

اموی حکومت نے اپنی طاقتور تبلیغی اور ابلاغی مشینری کے ذریعے عوام کے دینی شعور کو مسخ کر دیا۔ چنانچہ  ظالم حکمران کی غیر مشروط اطاعت  اور  جبرجیسے باطل تصورات کو دینی تعلیمات کا لبادہ اوڑھا کر عام کیا گیا۔ اس فکری تحریف کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے لوگ، حقیقتِ حال سے بے خبر، امام حسینؑ کے خلاف جنگ کو بھی اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگے۔ یہی واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جب دینی شعور مسخ ہو جائے تو انسان بسا اوقات ظلم کو بھی عبادت اور باطل کو بھی حق سمجھ بیٹھتا ہے۔

واقعۂ کربلا کا شعوری مطالعہ: تہذیبی اور سنتی مقاصد

شیعہ امامیہ کے نزدیک واقعۂ کربلا کا مطالعہ محض غم و اندوہ یا جذباتی سوگواری تک محدود نہیں، بلکہ یہ قرآنِ مجید کے اس منہج سے گہرا تعلق رکھتا ہے جو تاریخ سے عبرت حاصل کرنے، الٰہی سنتوں کو زندہ رکھنے اور اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی بنا پر عاشورا کی سالانہ یاد منانے کے کئی اہم فکری، تہذیبی اور تربیتی مقاصد ہیں، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:

1۔ تاریخی حافظے کو تحریف سے محفوظ رکھنا

مجالسِ عزا کا انعقاد اور واقعۂ کربلا کی تفصیلات کو بار بار بیان کرنا درحقیقت امت کی تاریخی یادداشت کو محفوظ رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ عمل ایک حفاظتی حصار کی مانند امت کو اس خطرے سے بچاتا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو فراموش کر کے دوبارہ ظلم، جبر اور بے حسی کے دلدل میں جا گرے۔ یوں کربلا کی یاد امت کے اخلاقی شعور کا مسلسل محاسبہ کرتی رہتی ہے اور اس کے ضمیر کو بیدار رکھتی ہے۔

2۔ حال میں عمل اور جدوجہد کے جذبے کو تازہ کرنا

عاشورا کی یاد امام حسینؑ کو ایک ایسے نمونۂ کامل کے طور پر پیش کرتی ہے جو بصیرت، استقامت اور احساسِ ذمہ داری کا پیکر ہیں۔ یہ یاد دہانی انسان کے اندر حق کی خاطر ثابت قدم رہنے، ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جانے اور اپنے شرعی و اخلاقی فریضے کو ہر حال میں ادا کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ اس فکر میں کامیابی کا معیار صرف فوری عسکری یا سیاسی فتح نہیں، بلکہ حق کی خاطر اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہے۔

3۔ امید اور مستقبل بینی کی تعمیر

امام حسینؑ نے امت کے اجتماعی ضمیر میں یہ حقیقت راسخ کر دی کہ خون تلوار پر غالب آ سکتا ہے، اور شہادت کی تاثیر وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتی بلکہ مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔ یہی پیغام اسلامی تصورِ مستقبل کی عملی تعبیر ہے، ایسا مستقبل جو عدل، حق اور انسانی کرامت کے قیام کی امید سے روشن ہے اور جو ظلم، انحطاط اور ناامیدی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کرتا ہے۔

اختتامیہ:واقعۂ کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اقوام صرف اپنے شاندار ماضی یا انبیائے کرامؑ سے نسبت رکھنے کی بنا پر محفوظ نہیں رہتیں، بلکہ ان کی بقا اور سربلندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جاری و ساری سنتوں کو کس حد تک سمجھتی ہیں، اپنے زمانے کے تقاضوں کا کس قدر شعور رکھتی ہیں، اور مستقبل کی تعمیر کے لیے کس درجے کی بصیرت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔اسلام نے کربلا کو ایک ایسی ابدی مشعلِ راہ کے طور پر پیش کیا ہے جو کبھی بجھنے والی نہیں۔ یہ واقعہ انسانیت کو یہ یقین دلاتا ہے کہ حق و راستی کی راہ میں کی جانے والی ہر مخلصانہ کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے، اور امام حسینؑ کی یاد کو زندہ رکھنا محض ماضی کے ایک المناک واقعے پر اشک بہانے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے بیدار، باکردار اور ذمہ دار انسان کی مسلسل تربیت ہے جو مستقبل کو حق، عدل اور الٰہی اقدار کی بنیاد پر استوار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

شیئر: