واپس
امتِ مسلمہ میں خود اعتمادی کا بحران: اسباب اور حل

امتِ مسلمہ میں خود اعتمادی کا بحران: اسباب اور حل

امت کی دوبارہ مضبوطی اور بہتری کے لیے ایک ایسی جامع اصلاحی کوشش کی ضرورت ہے جو لوگوں کے دلوں میں خود اعتمادی پیدا کرے، اخلاقی اقدار کو دوبارہ زندہ کرے اور اس دوغلے پن اور فکری گمراہی کو ختم کرے جس نے طویل عرصے تک مسلمانوں کی قوتِ ارادی کو کمزور کیے رکھا۔ آج پہلے سے کہیں زیادہ ہمیں ایک حقیقی بیداری کی ضرورت ہےجو ہمیں بے قیمت ہونے اور کمزوری کی حالت سے نکال کر دنیا کی مؤثر اور باوقار اقوام میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے قابل بنائے۔

الشيخ مصطفى الهجري

جو شخص آج بصیرت کی نگاہ سے امتِ مسلمہ کے حالات کا جائزہ لیتا ہے وہ بآسانی جان لیتا ہے کہ اس امت نے تاریخ کے مختلف ادوار میں کئی سنگین چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور آج بھی بعض چیلنجزکا شکار ہے۔ قوموں اور امتوں کا مختلف مسائل کا شکار ہونا فطری امر اور تاریخ کے اٹل قوانین میں سے ہے کیونکہ اگرچہ اقوام اور معاشروں کی مشکلات اور کمزوریاں شدت و نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں لیکن جب یہ مسائل و بیماریاں حد سے بڑھ جاتے ہیں تو ان کا انجام ایک ناگزیر نتیجے کی طرف لے جاتا ہے۔ جس طرح ایک فرد کی زندگی بالآخر موت پر ختم ہوتی ہےاس بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان واضح ہے:﴿ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ ﴾ (العنكبوت:٥٧) ہر نفس کو موت (کا ذائقہ) چکھنا ہے پھر تم ہماری طرف پلٹائے جاؤگے۔

اسی طرح کوئی بھی امت، چاہے اس کی بقا کا زمانہ طویل ہو یا مختصر، اگر وہ اپنی بیماریوں کا علاج نہ کرے تو بالآخر اس کا انجام تہذیبی زوال اور مٹ جانے کی صورت میں ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾ (الأعراف: ٣٤) اور ہر قوم کے لیے ایک وقت مقرر ہے پس جب ان کا مقررہ وقت آ جاتا ہے تو نہ ایک گھڑی تاخیر کر سکتے ہیں اور نہ جلدی۔ان بیماریوں میں سے جو موجودہ دور میں امت اور اس کے تہذیبی وجود کے لیے سب سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے وہ خود اعتمادی کے فقدان کی بیماری ہے۔

تہذیبی خود اعتمادی کا فقدان اور امت کی حیثیت کا بحران

آج امتِ مسلمہ ایسی کیفیت سے گزر رہی ہے جس میں وہ فکری و تہذیبی بیگانگی، گم گشتگی، اضطراب اور عدم توازن کا شکار ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ خود اعتمادی کسی بھی امت کے لیے ایک مضبوط قلعے اور قوتِ مدافعت کے نظام کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب کوئی امت اس قوت سے محروم ہو جاتی ہے تو وہ موقع پرست قوتوں کے حملوں، ثقافتی اور فکری یلغار بلکہ عسکری جارحیت کا بھی آسان ہدف بن جاتی ہے۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ ایک ایسی قوم جس کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ارب ہے اور جس کے پاس بے شمار وسائل اور عظیم صلاحیتیں موجود ہیں پھر بھی عالمی سطح پر اسے وہ حیثیت اور مؤثر کردار حاصل نہیں جو اس کے شایانِ شان ہے؛ بلکہ اسے زیادہ تر ایسی اقوام کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو صرف دوسروں کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں اور ترقی پذیر ممالک میں شمار ہوتی ہیں۔

یہ بیماری اچانک پیدا ہونے والی چیز نہیں بلکہ اس کی جڑیں اسلامی تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ امام حسینؑ کی تحریک ان عظیم ترین کوششوں میں سے ایک تھی جن کا مقصد امت کو بیدار کرنا اور اسے اپنی اصل شناخت کی طرف واپس لانا تھا۔ اس بیماری کی واضح تصویر کوفہ میں امام حسینؑ کے سفیر حضرت مسلم بن عقیلؑ کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ کوفہ کے لوگوں میں سے اٹھارہ ہزار افراد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، مسجد اور بازار لوگوں سے بھر گئے یہاں تک کہ عبید اللہ بن زیادجس کے پاس صرف پچاس آدمی تھے، ان کی کثرت سے پریشان ہو گیا۔ لیکن خوف پھیلانے، لوگوں کو بددل کرنے اور مفادات خریدنے کی سیاست کے ذریعے وہ ہزاروں افراد راتوں رات منتشر ہو گئے۔ یہاں تک کہ مسلم بن عقیلؑ خود کو کوفہ کی گلیوں میں تنہا اور بے سہارا پاتے ہیں اور ایک نیک خاتون طوعہ کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ وہ بہادری کہاں چلی گئی؟ وہ تلواریں کہاں گئیں؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ایسی امت بن گئے تھے جس کا ہر فرد اپنے آپ پر اور دوسروں پر اعتماد کھو چکا تھا چنانچہ وہ خوف زدہ، تذبذب کا شکار اور ذمہ داری اٹھانے سے گریزاں تھایہاں تک کہ اسے اقدار اور اصولوں کی پامالی کی بھی کوئی پروا نہ رہی تھی۔

بیماری کی علامات: انتشار،ذمہ داریوں سے فرار اور اقدار کا زوال

خود اعتمادی کے فقدان کے ایسے منفی اثرات اور خطرات ہیں جو امت کے وجود کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں اور یہ ایسی واضح علامات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جنہیں ماضی اور حال دونوں میں دیکھا جا سکتا ہے:

اول:منافقانہ رویہ اور انتشار کی حامل شخصیت

انسان ایسی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں اس کے علم اور عمل میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے وہ جانتا کچھ ہے مگر کرتا کچھ اور ہے۔ قرآن کریم نے اسی رویے سے خبردار کیا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿۲﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿۳﴾ (الصف: ٢ ٣)اے ایمان والو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو؟ ۳۔اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں ہو۔

اور اس دو رُخی کیفیت کی سب سے بہترین عکاسی وہ بات ہے جو فرزدق نے امام حسینؑ سے کہی تھی: (قلوبهم معك وسيوفهم عليك) ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں۔یہ جملہ آج کی امت کی حالت کی بھی درست عکاسی کرتا ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دل فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ ہیں لیکن ان کی قوتیں، وسائل اور صلاحیتیں امت کے دشمنوں کے مقابلے میں استعمال نہیں ہو رہیں بلکہ ان کے مفادات کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ عمر بن سعد اس دو رُخی کیفیت کی ایک واضح مثال ہے، جب اس نے یہ اشعار پڑھے:

(أأترك مُلكَ الريّ والريّ منيتي أم أرجع مأثوماً بقتل حسين)

کیا میں رَے کی حکومت چھوڑ دوں حالانکہ رَے ہی میری سب سے بڑی خواہش ہے؟ یا پھر حسینؑ کے قتل کا گناہ اپنے سر لے کر واپس لوٹ جاؤں؟

دوم: ذمہ داریوں سے فرار

یہ کیفیت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب لوگ اپنے مفادات کے خوف سے حق کا ساتھ دینے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جیسا کہ عبید اللہ بن حر جعفی نے کیا جو اس خوف سے کوفہ سے نکل گیا کہ کہیں امام حسینؑ وہاں تشریف نہ لے آئیں اور وہ آپ کے سامنے نہ آ جائے۔ جب امامؑ نے اسے اپنی نصرت کے لیے بلایا تو اس نے عذر پیش کیا اور اپنی سواری آپؑ کو پیش کرنے کی پیشکش کی۔ اس پر امامؑ نے فرمایا: (لا حاجة لنا فيك ولا في فرسك، وما كنت متخذ المضلين عضداً) ہمیں نہ تمہاری ضرورت ہے اور نہ تمہارے گھوڑے کی اور میں گمراہ لوگوں کو اپنا مددگار بنانے والا نہیں۔

سوم: فکری مقابلے سے خوف

جو شخص خود اعتمادی کھو دیتا ہے وہ مکالمے اور دلیل کے ساتھ گفتگو سے بچنے لگتا ہےاور اس کی بجائے الجھاؤ پیدا کرنے اور حقیقت کو دھندلا دینے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ قرآن کریم نے مشرکین کے اس طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ﴾ (فصلت: ٢٦) اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں وہ کہتے ہیں: اس قرآن کو نہ سنا کرو اور اس میں شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب آ جاؤ۔

معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ انسان اپنی عقل کو مفلوج کر لیتا ہے اور اپنے کان بند کر لیتا ہے، جیسے اسعد بن زرارہ نے کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی بات سننے کے خوف سے اپنے کانوں میں روئی رکھ لی لیکن بعد میں اس کی عقل نے اسے متنبہ کیا اور وہ اس کیفیت سے نکل آیا۔

چہارم: اقدار کے نظام کا زوال اور صلاحیتوں کا ضیاع

خود اعتمادی کے فقدان سے انسان اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہونے لگتا ہے اور برے اعمال و سنگین جرائم کا ارتکاب آسان سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ امام حسینؑ نے عاشورا کے دن ان کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا:

(إن لم يكن لكم دين ولا تخافون يوم المعاد فكونوا أحراراً ذوي أحساب، امنعوا رحلي وأهلي من طغاتكم وجهالكم) اگر تم کسی دین کے ماننے والے نہیں ہو  اور تمہیں روزِ قیامت کا خوف بھی نہیں تو کم از کم آزاد انسان اور باعزت لوگ ہی بن جاؤ۔ اپنے سرکش اور جاہل لوگوں سے میری سواریوں اور میرے اہلِ خانہ کی حفاظت کرو۔

ہمارے دور میں اقدار کے زوال کے نتیجے میں صلاحیتوں کا ضیاع ہوا ہےاور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں باصلاحیت اور تخلیقی ذہن رکھنے والے افراد بہتر اور باعزت زندگی کی تلاش میں مغربی ممالک کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔

ہم اس زوال تک کیسے پہنچے؟ (بیماری کے اسباب)

یہ گراوٹ اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری رہنے والے عمل اور سوچے سمجھے جابرانہ طریقوں کا نتیجہ ہے:

۱۔ حقائق چھپانے اور حقیقت کو مشتبہ بنانے کی پالیسی:

یعنی حقائق کو چھپانا اور مفید علم کو محفوظ و منتقل کرنے سے روکنا، جس کے نتیجے میں ایسا جہل پیدا ہوا جس میں انسان اپنی لاعلمی سے بھی بے خبر رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اہلِ شام کی حالت یہ ہو گئی کہ ان میں سے کسی نے پوچھ لیا:"یہ ابو تراب کون ہے جس پر امام منبر سے لعنت بھیجتے ہیں؟ جواب دیا گیا:

أراه لصاً من لصوص الفتن! (میرا خیال ہے کہ یہ فتنہ پھیلانے والوں میں سے کوئی چور ہوگا)

قرآن کریم نے اس طرح حقیقت کو خلط ملط کرنے اور دھوکا دینے والے رویے سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا ہے:

﴿ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾(البقرة: ٤٢)

اور حق کو باطل کے ساتھ خلط نہ کرو اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ۔

۲َ دینی بے حسی پیدا کرنے والے نظریات (عقیدۂ جبر)

یہ سب سے خطرناک صورت تھی کیونکہ ایسے نظریے کو فروغ دیا گیا جس میں انسان کے اختیار اور ارادے کی نفی کی جاتی ہے تاکہ حکمرانوں کے جرائم کو درست ثابت کرنے کا راستہ بنایا جا سکے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں ذکر کی گئی ہیں۔ (أنّ معاوية أول من زعم أن الله يريد أفعال العباد كلّها)

معاویہ وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام اعمال کو چاہتا ہے۔"اور وہ اپنے مظالم کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتا تھا: (وإنّ أمر يزيد قد كان قضاءً من القضاء، وليس للعباد خيرة من أمرهم)

یزید کا معاملہ بھی اللہ کی تقدیر کے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ تھا اور بندوں کو اپنے معاملات میں کوئی اختیار حاصل نہیں۔" 

۳۔ ضمیروں کی خرید و صلاحیتوں کا خاتمہ:

مالی لالچ، عہدوں اور مراعات کے ذریعے لوگوں کے ضمیر خریدے گئے جبکہ اصلاح کرنے والوں کو طاقت سے اور فکری طور پر دبانے کی کوشش کی گئی۔ جیسے مالک اشترؓ کو زہر دے کر شہید کیا گیا جب معاویہ کو اس کا پتہ چلا تو اس نے کہا :"بے شک اللہ کے لشکر شہد میں بھی ہوتے ہیں۔ کردار کشی بھی ایک طرح کا معنوی قتل ہے، جسے پچھلی قوموں نے انبیاء کے ساتھ بھی اختیار کیا:

﴿ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ﴾ (البقرة: ٨٧)

تو کیا جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات کے خلاف (احکام لے کر) آئے تو تم اکڑ گئے، پھر تم نے بعض کو جھٹلا دیا اور بعض کو تم لوگ قتل کرتے رہے؟

۴۔ بے مقصد اندرونی جنگیں:

ایسی جنگیں جنہوں نے امت کی توانائیوں کو ختم کر دیا اور اس میں مایوسی کی کیفیت پیدا کر دی۔ ماضی کی طرح آج بھی عالمی استکباری قوتیں ہماری امت کو ایسی بے فائدہ باہمی جنگوں میں الجھانے کی کوشش کرتی ہیں جن کا مقصد صرف وسائل کو ضائع کرنا اور امت کو اصل مسائل سے غافل رکھنا ہے۔

امت کی دوبارہ مضبوطی اور بہتری کے لیے ایک ایسی جامع اصلاحی کوشش کی ضرورت ہے جو لوگوں کے دلوں میں خود اعتمادی پیدا کرے، اخلاقی اقدار کو دوبارہ زندہ کرے اور اس دوغلے پن اور فکری گمراہی کو ختم کرے جس نے طویل عرصے تک مسلمانوں کی قوتِ ارادی کو کمزور کیے رکھا۔ آج پہلے سے کہیں زیادہ ہمیں ایک حقیقی بیداری کی ضرورت ہےجو ہمیں بے قیمت ہونے  اور کمزوری کی حالت سے نکال کر دنیا کی مؤثر اور باوقار اقوام میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے قابل بنائے۔

شیئر: