الشيخ معتصم السيد أحمد
عصرِ حاضر کا انسان جن خطرناک ترین مسائل سے دوچار ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ صرف اپنا وقت ہی ضائع نہیں کر رہا بلکہ آہستہ آہستہ اپنی توجہ بھی کھوتا جا رہا ہے۔ ان دونوں چیزوں میں بڑا فرق ہے، وقت کبھی کسی کام، آرام یا کسی عارضی گفتگو میں گزر سکتا ہے لیکن توجہ انسان کے شعور کا دروازہ، فیصلوں کی بنیاد اور وہ راستہ ہے جس کے ذریعے خیالات، خواہشات اور خوف انسان کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ جب انسان اپنی توجہ کھو دیتا ہے تو پھر وہ اپنے آپ کا حقیقی مالک نہیں رہتا، چاہے اسے یہ گمان ہی کیوں نہ ہو کہ وہ اپنی پسند اور فیصلوں میں آزاد ہے۔
قدیم زمانے میں انسان جہالت سے خوف زدہ رہتا تھا کیونکہ اسے معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، وہ کتاب تک آسانی سے رسائی نہیں رکھتا تھا اور اپنی بستی یا شہر کی حدود سے باہر ہونے والے حالات سے بے خبر رہتا تھا۔ لیکن آج صورتحال مکمل تبدیل ہو گئی ہے،اب معلومات اسے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں، خبریں مسلسل اس کا تعاقب کرتی ہیں، تصویریں اس کی نگاہوں پر حملہ آور ہوتی ہیں، تبصرے اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور مختلف پلیٹ فارم اس کی توجہ کے چند لمحے حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انسان بہت سی چیزوں کے بارے میں جاننے لگا ہےمگر یہ نہیں جانتا کہ اس علم کے ساتھ کیا کرے۔ وہ واقعات سے واقف ہے لیکن ان کے پیچھے کارفرما اصولوں اور حقیقتوں کو نہیں سمجھتا۔ وہ خبریں جانتا ہےمگر ان کے بارے میں پختہ اور متوازن رائے نہیں رکھتا۔
یہاں اصل تضاد سامنے آتا ہے: اب خطرہ معلومات کی کمی میں نہیں رہا بلکہ ان کی زیادتی ہے، جب یہی معلومات شور و ہنگامے میں تبدیل ہو جائیں۔ ایسا نہیں کہ ہر وہ شخص جس کا موبائل خبروں سے بھرا ہوا ہے لازماً باشعور بھی ہو، نہ ہی بہت سے عنوانات پڑھ لینے والا ہر شخص دانش ور بن جاتا ہے اور نہ ہی ہر بحث و مباحثے کی پیروی کرنے والا صاحبِ بصیرت ہوتا ہے۔ انسان بسا اوقات معلومات کا انبار جمع کر لیتا ہے مگر حکمت سے خالی رہتا ہے۔ آوازوں اور شور سے اس قدر بھر جاتا ہے کہ معنی اور مقصد سے محروم ہو جاتا ہے۔
قرآن جب انسان سے خطاب کرتا ہے تو اسے محض معلومات حاصل کرنے والی مشین کے طور پر مخاطب نہیں کرتابلکہ ایک ایسے ذمہ دار وجود کے طور پر مخاطب کرتا ہے جو اپنی نگاہ، سماعت، دل اور اپنے انتخاب کے بارے میں جواب دہ ہے۔ اسی لیے قرآن انسان کو صرف یہ نہیں کہتا کہ جان لو بلکہ اسے یہ بھی کہتا ہے کہ غور و بصیرت سے دیکھو، سوچو، یاد رکھو، عبرت حاصل کرو، نگاہ دوڑاؤ، خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو، گمان کے پیچھے نہ چلو اور غافل لوگوں میں شامل نہ ہو۔ یہ الفاظ واضح کرتے ہیں کہ انسان کا مسئلہ ہمیشہ دلیل کے نہ ہونے کا نہیں ہوتا بلکہ اکثر دلیل پر توجہ نہ دینے کا ہوتا ہے۔ کتنی ہی آیات انسان کے سامنے سے گزرتی ہیں مگر اسے بیدار نہیں کرتیں، کتنے ہی واقعات اس کے سامنے پیش آتے ہیں مگر وہ ان سے سبق حاصل نہیں کرتا، کتنی ہی موتیں وہ دیکھتا ہے مگر اسے یادِ آخرت نہیں آتی اور کتنی ہی نعمتوں میں وہ زندگی گزارتا ہے مگر ان کا احساس تک نہیں کرتا۔
اسلامی تصور کے مطابق ارتکاز محض ایک سرد ذہنی عمل نہیں بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی کیفیت ہے۔ انسان حق کو صرف اپنی آنکھ سے نہیں بلکہ اپنے دل سے بھی پہچانتا ہے۔ بسا اوقات وہ کسی چیز کو دیکھتا تو ہے مگر حقیقت میں اسے سمجھ نہیں پاتا، بات سنتا ہے مگر اس کا شعور حاصل نہیں کرتا، اور کسی نص کو یاد بھی کر لیتا ہے مگر اس سے ہدایت نہیں پاتا۔ اسی لیے قرآن میں بار بار غفلت کا ذکر آتا ہے۔ غافل انسان ضروری نہیں کہ جاہل ہو بلکہ وہ بسا اوقات اتنا علم رکھتا ہے جو کافی ہو، مگر وہ اپنے علم کے حقیقی مفہوم اور تقاضوں سے دور زندگی گزارتا ہے۔ وہ راستے کی نشانیاں دیکھتا ہے مگر چلتا نہیں، پکار سنتا ہے مگر جواب نہیں دیتا، انجام کو جانتا ہے مگر اس طرح سفر جاری رکھتا ہے جیسے اس کا اس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
آج کی دنیا میں غفلت اب محض ایک عارضی اور انفرادی کیفیت نہیں رہی بلکہ یہ ایک باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایسے لوگ اور ادارے موجود ہیں جو انسانی نفسیات کا مطالعہ کرتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ انسان کی نگاہ کو کیسے اپنی طرف کھینچا جائے، اس کے تجسس کو کیسے ابھارا جائے، اس کے خوف کو کیسے تحریک دی جائے اور اس کے غصے کو کیسے بھڑکایا جائے تاکہ اسے دیکھنے، ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف منتقل ہونے، تبصرہ کرنے اور جذباتی ردِعمل دینے کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں قید رکھا جا سکے۔ اب مقصد صرف یہ نہیں رہا کہ انسان کوئی چیز خرید لےبلکہ اس سے پہلے یہ ہے کہ وہ اپنی توجہ پیش کر دےکیونکہ جو شخص انسان کی ارتکاز پر قابض ہو جائےوہ بعد میں اس کے ذوق، رائے، مزاج، طرزِ عمل اور شاید زندگی کے بارے میں اس کے پورے نقطۂ نظر کو بھی متاثر اور متعین کر سکتا ہے۔
اسی لیے اب اصل معرکہ صرف معلومات کا معرکہ نہیں رہا بلکہ انسان کے اندرونی مرکز پر اختیار حاصل کرنے کی کشمکش بن چکا ہے۔ آخر کون طے کرتا ہے کہ تم کیا سوچو؟ کون تمہارے لیے یہ انتخاب کرتا ہے کہ تم کس بات پر غصہ کرو؟ کون تمہارے لیے دنیا کا ایک مخصوص تصور تشکیل دیتا ہے؟ کون تمہیں بتاتا ہے کہ کیا چیز اہم ہے اور کیا معمولی؟ کون تمہیں اس مقام تک لے جاتا ہے کہ تم خود کو بھول جاؤ اور مسلسل بدلتے ہوئے ردِعمل کی زندگی گزارنے لگو، جہاں تمہیں نہ سکون کے لیے فرصت ملے، نہ غور و فکر کے لیے، نہ اپنے آپ کا جائزہ لینے کا موقع ملے؟
انسان بسا اوقات یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کا مالک ہے کیونکہ موبائل اس کے ہاتھ میں ہے،لیکن وہ اس بات پر توجہ نہیں دیتا کہ یہی چھوٹا سا آلہ اس کے شعور کے ایک بڑے حصے کو اپنے قبضے میں لے چکا ہے۔ یہ جب چاہے اسے متوجہ کرتا ہے، جس چیز کی چاہے طرف لگا دیتا ہے، اسے ایک خبر سے دوسری خبر، ایک تصویر سے دوسری تصویر اور ایک غصے سے دوسرے غصے کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ انسان یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ وہ دنیا کے حالات سے پوری طرح باخبر ہےحالانکہ حقیقت میں وہ بکھرا ہوا، منتشر اور اندر سے تھکا ہوا ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں باخبر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا میں ہونے والی ہر چیز جانتا ہوبلکہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہو کہ کن چیزوں پر رک کر غور کرنا چاہیے، کن چیزوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے اور کن بنیادوں پر اپنی رائے اور موقف قائم کرنا چاہیے۔
یہاں ثقافت اور شعور کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ثقافت انسان کو بہت سا مواد اور معلومات فراہم کر سکتی ہےجبکہ شعور ان معلومات کو ایک مربوط نظرۂ فکر میں ترتیب دیتا ہے۔ ثقافت تمہیں بتا سکتی ہے کہ کیا ہو رہا ہےلیکن شعور تم سے یہ سوال کرتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا مطلب کیا ہے؟ اس میں تمہاری حیثیت اور ذمہ داری کیا ہے؟ اور اس کا تمہارے دین، اخلاق اور انجام پر کیا اثر پڑے گا؟ شعور کے بغیر ثقافت محض ذہنی آرائش، بحث و مباحثے کا ذریعہ یا برتری کے ایک جھوٹے احساس میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن شعور علم کو انسان کی تعمیر کا حصہ بنا دیتا ہے، محض ایسا ذخیرہ نہیں رہنے دیتا جسے وہ دوسروں کے سامنے اپنی نمائش کے لیے پیش کرے۔
اسلام انسان کو محض علم کا صارف نہیں بنانا چاہتا بلکہ اسے علم کا گواہ بنانا چاہتا ہے۔ اور گواہ وہ ہوتا ہے جو غافل اور بے خبر زندگی نہیں گزارتا، جو بغیر بصیرت کے سنی سنائی باتیں آگے نہیں بڑھاتا اور نہ ہی صرف اس لیے کسی لہر کے ساتھ بہہ جاتا ہے کہ اس کا شور زیادہ ہے۔ وہ حقیقت کو دیکھتا ہے، اس میں فرق کرتا ہے اور معاملات کو شور کے پیمانے سے نہیں بلکہ حق کے میزان سے پرکھتا ہے۔ اسی لیے قرآن صرف معلومات کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کی کتاب ہےکیونکہ یہ انسان کو محض خشک علمی مواد فراہم نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر دیکھنے اور سمجھنے کا ایک انداز پیدا کرتا ہےاور اللہ، اپنے آپ، دوسرے انسانوں، تاریخ اور اپنے انجام کے ساتھ اس کے تعلق کو نئے سرے سے ترتیب دیتا ہے۔
اسی لیے توجہ کو دوبارہ حاصل کرنا صرف وقت کو منظم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ انسان کےاپنی روح سے دوبارہ جڑنے کی ایک صورت ہے۔ جب انسان کچھ دیر اپنے آپ کے ساتھ تنہائی اختیار کر سکتا ہے، اپنے ضمیر کی آواز سن سکتا ہے، یکسوئی کے ساتھ مطالعہ کر سکتا ہے، حاضر دل کے ساتھ نماز ادا کر سکتا ہے اور اپنی زندگی کو کچھ فاصلے سے دیکھ کر اس کا جائزہ لے سکتا ہےتو وہ مسلسل ضیاع اور بے شعوری کی کیفیت سے نکل کر شعور کی حالت کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا سے الگ تھلگ ہو جائے نہ یہ کہ وہ ٹیکنالوجی سے فرار اختیار کرے اور نہ ہی یہ کہ زمانے کے وسائل کو رد کر دےکیونکہ یہ نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ مطلوب ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ انسان ان ذرائع کو اپنے اندر کا ایسا رہنما نہ بننے دے جو اسے جہاں چاہیں لے جائیں۔
مومن انسان زندگی سے کنارہ کش نہیں ہوتالیکن اس میں اس طرح گم بھی نہیں ہو جاتا کہ اپنی حقیقت بھول جائے۔ وہ وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہےمگر انہیں اپنا معبود نہیں بناتا۔ وہ خبریں دیکھتا اور حالات سے واقف رہتا ہے لیکن انہیں اپنی قلبی سکونت چھیننے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، یہ جانتا ہے مگر یہ نہیں بھولتا کہ اس کے اپنے دل میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ لوگوں کے مسائل کی فکر کرتا ہےلیکن اللہ کے ساتھ اپنے سب سے بڑے تعلق اور اپنی اصل ذمہ داری سے غافل نہیں ہوتا۔ یہی وہ توازن ہے جس کی ہمیں بہت کمی محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب باہر کی آواز انسان کے اندر کی آواز سے زیادہ بلند ہو جائے اور جب اسکرین انسان کو خود اس کی اپنی ذات سے بھی زیادہ قریب محسوس ہونے لگے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ فکری اور اخلاقی بہت سی گمراہیوں کا آغاز کسی بڑے فیصلے سے نہیں ہوتا بلکہ روزانہ تھوڑی تھوڑی کر کے الگ کی جانے والی توجہ سے ہوتا ہے۔ ایک تصویر کے بعد دوسری تصویر، ایک خیال کے بعد دوسرا خیال، ایک مذاق کے بعد دوسرا مذاق، ایک شبہے کے بعد دوسرا شبہ اور ایک خواہش کے بعد دوسری خواہش، یہاں تک کہ انسان کا ذوق بدل جاتا ہے، پھر اس کے فیصلے بدلنے لگتے ہیں، پھر اس کا رویہ اور موقف تبدیل ہو جاتا ہے اور آخرکار وہ خود کو اس مقام سے بہت دور پاتا ہے جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا۔ اسی لیے اپنی توجہ و ارتکاز کی حفاظت ایمان کی حفاظت کی ابتدائی شرط ہےکیونکہ دل نہ اچانک بھر جاتا ہے اور نہ اچانک خالی ہوتا ہے بلکہ وہ ان چیزوں سے تشکیل پاتا ہے جو بار بار اس پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔
شاید آج ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو سب سے اہم بات یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی آنکھوں اور دل کے سامنے ہر دروازہ کھول دے بلکہ حقیقی آزادی یہ ہے کہ وہ شعوری انتخاب کی صلاحیت رکھتا ہو۔ آزاد وہ شخص نہیں جو ہر چیز دیکھے، ہر بات پر تبصرہ کرے اور ہر اٹھنے والی لہر کے ساتھ جذباتی طور پر بہہ جائے بلکہ آزاد وہ ہے جو یہ کہنے کی قدرت رکھتا ہو: یہ چیز میرے لیے اہم نہیں،یہ میرے کسی کام کی نہیں، یہ مجھے خود میری ذات سے دور کر رہی ہے، یہ اللہ کے ساتھ میرے تعلق کو کمزور کر رہی ہے، یہ میرے ذوق کو خراب کر رہی ہے اور یہ میرے دل کو ایسی چیزوں سے بھر رہی ہے جو اس کے لائق نہیں۔
انسان کی ارتکاز پر جاری کشمکش دراصل اس کی زندگی کے معنی اور مقصد پر جاری کشمکش ہے۔ کیونکہ جو شخص تمہاری توجہ پر قابض ہو جاتا ہے، وہ تمہاری ترجیحات کی تشکیل میں بھی شریک ہو جاتا ہےاور جو تمہاری ترجیحات کو متعین کرتا ہےوہ تمہارے انجام اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اسی لیے مومن کے لیے یہ ٹھیک نہیں کہ وہ اپنی توجہ کو کوئی معمولی چیز سمجھ کر ہر آنے جانے والے کے حوالے کر دے۔ روح کی ایک حرمت ہے، عقل کی ایک حرمت ہے اور دل کی بھی ایک حرمت ہےاور جو کچھ بھی تمہارے دروازے پر دستک دے، ضروری نہیں کہ تم اسے اپنے اندر داخل ہونے کی اجازت دے دو۔اس زمانے میں شاید عبادت کی عظیم ترین صورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اللہ کے حضور سکون اور یکسوئی کے ساتھ ٹھہرنے، اپنے نفس پر غور کرنے، اپنے انجام کے بارے میں سوچنے اور اس بات میں فرق کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرے کہ کون سی چیز صرف وقت کو ضیاع کر رہی ہے اور کون سی زندگی کو سنوار رہی ہے۔ کیونکہ زندگی کی قدر اس بات سے نہیں کہ ہم کتنی چیزوں کی پیروی کرتے ہیں بلکہ اس سے ہے کہ ہم کتنی گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ انسان کی قدر اس بات میں نہیں کہ وہ کتنی خبریں جانتا ہےبلکہ اس میں ہے کہ اس کا علم کس حد تک بصیرت، درست موقف اور عملی کردار میں تبدیل ہوتا ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ انسان کے ارتکازکا مالک کون ہے؟بلکہ یہ شعور کی تعمیر کا ایک بنیادی اور مرکزی سوال ہے۔ اگر انسان کی توجہ اس کی خواہشات کے ہاتھ میں ہو تو وہ ان کا غلام بن جاتا ہےاگر وہ اس کے خوف کے قبضے میں ہو تو وہ بے چینی اور اضطراب کا قیدی بن جاتا ہے، اگر اس کی توجہ بازار پر ہو تو وہ محض ایک صارف بن کر رہ جاتا ہے اور اگر وہ ذرائع ابلاغ کے زیرِ اثر ہو تو دوسروں کی آواز کا عکس بن جاتا ہے۔ لیکن جب انسان کی توجہ اس کے ایمان، عقل اور بصیرت کے تابع ہو جاتی ہے تو وہ حقیقتاً اپنی ذات کا مالک بننا شروع کر دیتا ہے۔
یہی کسی بھی باطنی اصلاح اور حقیقی اندرونی بیداری کی اصل ابتدا ہےیہ کہ انسان دوبارہ اپنی ذات کے مرکز کی طرف لوٹے، اپنی توجہ کو انتشار اور بے ترتیبی کی گرفت سے آزاد کرے اور ہر مشغولیت اختیار کرنے سے پہلے اپنے آپ سے یہ سوال کرے: کیا یہ چیز مجھے حقیقت کے قریب لے جا رہی ہے یا مجھ سے حقیقت کو دور کر کے مجھے انتشار کا شکار کر رہی ہے؟