واپس
زیارتِ اربعین سے ایسا شعور کیسے پروان چڑھے جو عراق کا محافظ بنے؟

زیارتِ اربعین سے ایسا شعور کیسے پروان چڑھے جو عراق کا محافظ بنے؟

الشيخ معتصم السيد أحمد

عام دنوں میں لوگ اپنی روزمرہ ذمہ داریوں، گھریلو مصروفیات اور ذاتی مسائل میں اس قدر الجھے رہتے ہیں کہ انہیں کسی ایک پیغام، ایک مقصد یا ایک مشترکہ نصب العین کے گرد جمع کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر زیارتِ اربعین کا منظر بالکل مختلف ہے۔ یہاں کروڑوں انسان ایک ہی نام )امام حسینؑ(کی محبت اور پیغام کے زیرِ سایہ سفر کرتے ہیں۔ وہ منبروں سے بلند ہونے والی صدائیں سنتے ہیں، راستوں میں آویزاں پیغامات اور شعائر کا مشاہدہ کرتے ہیں، ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مختلف افکار سے آشنا ہوتے ہیں، اور مسلسل دینی، سماجی اور سیاسی پیغامات ان کے ذہن و دل پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔

اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ زیارتِ اربعین محض ایک عظیم انسانی اجتماع نہیں، بلکہ شعور سازی، فکر سازی اور اقدار کی تشکیل کا بے مثال میدان ہے۔ کربلا کے راستے میں کہے گئے چند الفاظ ہزاروں دلوں میں اتر سکتے ہیں، کسی ایک موکب سے نشر ہونے والی ایک تصویر دنیا بھر کے لاکھوں انسانوں تک پہنچ سکتی ہے، اور اس عظیم اجتماع میں بلند ہونے والا ایک شعار وقت گزرنے کے باوجود معاشرے کی زبان، فکر اور اجتماعی شعور کا مستقل حصہ بن سکتا ہے۔

اسی لیے مختلف فکری، سماجی اور سیاسی قوتیں زیارتِ اربعین میں اپنی مؤثر موجودگی یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں؛ کیونکہ جو اس عظیم اجتماع کے دوران لوگوں کے دلوں اور اذہان میں جگہ بنا لیتا ہے، اسے ان کے دین، وطن، سیاست اور معاشرت کے بارے میں ان کے طرزِ فکر اور زاویۂ نگاہ پر اثر انداز ہونے کا غیر معمولی موقع حاصل ہو جاتا ہے۔ یقیناً ہر موجودگی یا ہر خطاب منفی نہیں ہوتا۔ بہت سے بیانات خلوص، تربیت، معرفت اور فکری بیداری کا سرچشمہ ہوتے ہیں، لیکن خطرہ اُس وقت جنم لیتا ہے جب امام حسینؑ کے مقدس نام کو ایسے افکار کی ترویج کا ذریعہ بنایا جائے جو سوال، تحقیق اور تنقیدی جائزے سے بالاتر سمجھے جائیں، یا ایسی وفاداریاں تشکیل دی جائیں جو عوام کے شعور و بصیرت کے بجائے محض جذبات پر استوار ہوں، یا پھر اس عظیم شعائر حسینی کو محدود سیاسی، جماعتی یا شخصی مفادات کے حصول کا پلیٹ فارم بنا دیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو معاشرہ اپنے جذبات کے عروج کے لمحات میں سنی جانے والی باتوں پر غور و فکر کرنا چھوڑ دے، وہ انجانے میں خود اپنے شعور کے دروازے اُن لوگوں کے لیے کھول دیتا ہے جو اس کی فکر، شناخت اور اجتماعی سمت کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ جذبات ایک عظیم قوت ہیں، لیکن تنہا جذبات انسان کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ یہی جذبہ اگر بصیرت اور شعور کی رہنمائی میں ہو تو انسان کو حق کی خاطر عظیم قربانی دینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے، لیکن اگر وہ آگہی سے محروم ہو تو یہی قوت انسان کو اُن افراد کے ہاتھوں ایک آلۂ کار بنا دیتی ہے جو انسانی جذبات کو ابھارنے اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

واضح اور اعلانیہ دراندازی کو پہچاننا اور اس کا مقابلہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اگر کوئی خطیب کھلے عام امام حسینؑ کی ذاتِ اقدس پر اعتراض کرے یا شعائرِ حسینی پر براہِ راست حملہ آور ہو، تو معاشرہ فوراً اسے اپنے مخالف کے طور پر پہچان لیتا ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ خطرناک وہ طرزِ فکر ہے جو امام حسینؑ ہی کی زبان بولتا ہے، انہی کے نام اور شعائر کو اپنا سہارا بناتا ہے، مگر خاموشی سے ان کے حقیقی پیغام کو اس کے اصل مفہوم سے خالی کر دیتا ہے، یا اسے ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے جو روحِ حسینی کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شعورِ حسینی آج دو متضاد نوعیت کی فکری دراندازیوں کی زد میں ہے۔ پہلی دراندازی کا مقصد یہ ہے کہ زیارتِ اربعین کو اس کے فکری، سماجی اور سیاسی ابعاد سے محروم کر کے محض ایک انفرادی جذباتی عمل بنا دیا جائے، جس کا امت کی اجتماعی زندگی اور اس کے بنیادی مسائل سے کوئی تعلق باقی نہ رہے۔ اس سوچ کے مطابق زائر سے صرف یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ گریہ کرے، زیارت کرے اور خدمت انجام دے، مگر اسے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے، فساد کی حقیقت کو پہچاننے، معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری محسوس کرنے اور انسانیت کے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کرنے کی دعوت نہیں دی جاتی۔

یہ طرزِ فکر بظاہر زیارتِ اربعین کا مخالف دکھائی نہیں دیتا، بلکہ اس کے احترام اور تقدس کا دعوے دار بھی نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اسے زندگی کے حقیقی مسائل سے الگ کر دیتا ہے۔ نتیجتاً امام حسینؑ ایک ایسی مقدس یادگار بن کر رہ جاتے ہیں جن پر ہم آنسو تو بہاتے ہیں، مگر جن کی سیرت، قیام اور پیغام کو اپنے معاشرے، اپنے نظام، اپنی سیاست اور اپنے اجتماعی رویّوں کو جانچنے اور پرکھنے کا معیار نہیں بناتے۔

دوسرا رجحان اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتا ہے۔ وہ زیارتِ اربعین کو اپنی اجارہ داری میں لینے کی کوشش کرتا ہے، خود کو امام حسینؑ کے پیغام کا واحد ترجمان بنا کر پیش کرتا ہے، اور لوگوں کے سامنے ایک مصنوعی انتخاب کھڑا کر دیتا ہے: یا اس کے فکری اور سیاسی منصوبے کو بلا چون و چرا قبول کر لیا جائے، یا پھر انسان کی محبت، وفاداری اور وابستگیِ حسینؑ پر سوال اٹھایا جائے۔ اس طرح معاملہ صرف پیغامِ حسینی کو اس کے حقیقی مفہوم سے محروم کرنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ آگے بڑھ کر اس کی تعبیر و تشریح کو ایک مخصوص جماعت یا فکر کی ملکیت بنا دینے کی کوشش کی جاتی ہے، گویا امام حسینؑ کا پیغام پوری امت کے بجائے چند افراد یا ایک خاص گروہ کی میراث ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں رجحانات شعورِ حسینی کے لیے یکساں خطرناک ہیں۔ پہلا رجحان ایسے زائر کو جنم دیتا ہے جو جذبات سے لبریز تو ہوتا ہے، مگر ذمہ داری کے احساس سے خالی؛ اس کی نظر میں کربلا صرف گریہ، عقیدت اور زیارت کا عنوان بن کر رہ جاتی ہے، نہ کہ ظلم کے خلاف قیام، عدل کے قیام، معاشرتی اصلاح اور انسانی ذمہ داری کا ابدی منشور۔ جبکہ دوسرا رجحان ایسے پیروکار کی تشکیل کرتا ہے جو یہ سمجھنے لگتا ہے کہ امام حسینؑ سے وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل، اپنا شعور، اپنا مؤقف اور اپنی آزادیِ فکر دوسروں کے سپرد کر دے۔

درست حسینی شعور ان دونوں انتہاؤں کو بیک وقت ردّ کرتا ہے۔ وہ زیارتِ اربعین کو عبادت بھی سمجھتا ہے، اظہارِ وفاداری بھی، اور ظلم کے خلاف ایک زندہ موقف بھی؛ لیکن ساتھ ہی کسی فرد، جماعت یا ادارے کو اس عظیم شعیرے پر اجارہ داری قائم کرنے کا حق نہیں دیتا۔ اس کے نزدیک کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ عدل، کرامتِ انسانی، آزادی، اصلاح اور حق گوئی کی ایک دائمی درسگاہ ہے؛ ایسی درسگاہ جس سے ہر دور کا انسان رہنمائی حاصل کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اسے کسی جماعتی نعرے، سیاسی مفاد یا اختلاف رکھنے والوں کو خارج از دائرۂ حق قرار دینے کے ہتھیار میں تبدیل کر دیا جائے۔

عراق زیارتِ اربعین کا قلب، مرکز اور سب سے بڑا میدان ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جو کروڑوں زائرین کے استقبال کے لیے اپنی زمین، اپنے گھر، اپنے امن اور اپنے وسائل پیش کرتی ہے۔ اس لیے عراق کے کردار کو صرف خدمتِ زائرین تک محدود کر دینا درست نہیں، گویا وہ محض ایک جغرافیائی گزرگاہ ہو جہاں سے لوگ روضۂ امام حسینؑ تک پہنچنے کے لیے گزرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عراق اس عظیم حسینی میراث کا امین و محافظ ہے۔ کربلا اس کی دینی، تاریخی اور تہذیبی شناخت کا ایک بنیادی جزو ہے، اور یہی وہ قوم ہے جس نے سخت ترین آزمائشوں میں بھی زیارتِ اربعین کی روایت کو زندہ رکھا اور اس کی بقا کے لیے بھاری قیمت ادا کی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ زیارتِ اربعین عراقی عوام کے اندر اپنے وطن کی عظمت، اس کی تاریخی ذمہ داری اور اس کی حفاظت کے احساس کو مزید گہرا کرے، نہ کہ ایسا موقع بن جائے جہاں جہاں مختلف افکار اور متضاد نظریات کے زد میں عراق کی انفرادیت دب کر رہ جائے۔

تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ زیارتِ اربعین کو ایک محدود قومی تقریب میں تبدیل کر دیا جائے۔ یہ اپنے دائرۂ اثر میں قومی سرحدوں سے کہیں وسیع تر ہے، اور دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں انسانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ لیکن جس طرح زیارت کی عالمگیریت عراق کے مقام اور اس کے بنیادی کردار کو نظر انداز کرنے کا تقاضا نہیں کرتی، اسی طرح ایک عراقی کا اپنے وطن، اپنی تاریخ اور اپنے کردار پر بجا فخر بھی دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے اس کی محبت، کشادہ دلی اور حسنِ استقبال کے منافی نہیں۔

عراق دنیا کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھ سکتا ہے، لیکن اس کے لیے کسی کی تابع داری اختیار کرنا ضروری نہیں۔ وہ لاکھوں زائرین کا خیرمقدم بھی کر سکتا ہے اور اپنی خودمختاری اور قومی فیصلوں پر بھی ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ وہ دوسری قوموں کے مقدسات اور قومی علامتوں کا احترام بھی کر سکتا ہے، مگر اس احترام کی خاطر اپنی شناخت، اپنی دینی مرجعیت یا اپنے قومی اداروں پر اعتماد کھونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ حقیقی کشادہ دلی کمزور شناخت سے نہیں، بلکہ ایسی مضبوط اور بااعتماد شناخت سے جنم لیتی ہے جو خود کو پہچانتی ہو، اپنی بنیادوں پر قائم ہو، اور دوسروں سے تعلق و تعامل کو اپنے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک فطری امر سمجھتی ہو۔

عراق آنے والا ہر زائر ایک ایسے وطن سے آشنا ہو جس کی اپنی تاریخ ہو، اپنی دینی مرجعیت ہو، اپنی تہذیبی روایت ہو اور اپنی منفرد شناخت ہو؛ نہ کہ ایسی سرزمین سے جو مختلف نعروں، وفاداریوں اور سیاسی منصوبوں کی آماج گاہ بن چکی ہو۔ اسی طرح ہر عراقی کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ زائر کی خدمت اس کی تہذیبی اصالت، دینی وابستگی اور روایتی مہمان نوازی کا مظہر ہے، نہ کہ اس بات کا اعلان کہ اس کا وطن ہر اس قوت کے لیے کھلا میدان ہے جو اس کے عوام کے شعور، فکر اور سمت کا تعین کرنا چاہتی ہو۔

عراقیوں کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زیارتِ اربعین کو فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کا ایندھن بنا دیا جائے۔ کچھ حلقے اسے مذہبی غلبے اور مسلکی قوت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بعض دوسرے اس کی حقیقت کو مسخ کر کے اس کے بارے میں خوف، بدگمانی اور نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسی عظیم شعار، جو دلوں کو جوڑنے، حق کو روشن کرنے اور انسانی اقدار کو زندہ کرنے کا وسیلہ ہونا چاہیے، کشیدگی، تقسیم اور تصادم کا عنوان بن جاتا ہے، حالانکہ امام حسینؑ کا پیغام تو عدل، کرامت، آزادی، اخوت اور اصلاحِ انسانیت کی وہ ابدی دعوت ہے جو ہر دور اور ہر معاشرے کو باہم قریب لانے کے لیے آئی ہے۔

زیارتِ اربعین تشیع کی شناخت کے لیے ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے، جسے نہ چھپانے کی ضرورت ہے اور نہ اس سے معذرت کی۔ لیکن اپنی شناخت پر اعتماد اور افتخار کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اسے دوسروں کے خلاف عداوت اور نفرت کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ امام حسینؑ کی عظمت کسی دوسرے مسلمان کی تحقیر سے بلند نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہمارے عقیدے کو اپنے حق ہونے کا ثبوت دینے کے لیے اشتعال انگیزی، تلخی یا دوسروں کی دل آزاری کی ضرورت ہے۔

اسی طرح یہ بھی کسی طور درست نہیں کہ شیعوں سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ دوسروں کی حساسیت کے نام پر اپنے شعائر کو چھپائیں یا ان پر معذرت خواہ بن جائیں۔ مطلوب یہ نہیں کہ شناخت کو کمزور کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے شعور، وقار اور حکمت کے ساتھ پیش کیا جائے؛ ایسی شناخت جو اپنے اصولوں پر کامل اعتماد رکھتی ہو، مگر کسی کے لیے اشتعال کا باعث نہ بنے؛ جو دوسروں کے لیے کشادہ دل ہو، مگر اپنی انفرادیت اور تشخص کو کھو نہ دے؛ اور جو اپنے عقیدے کو دلیل، اخلاق اور حسنِ مکالمہ کے ساتھ بیان کرے، بغیر اس کے کہ ہر اختلاف کو دائمی تصادم اور محاذ آرائی میں بدل دے۔

حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ خطاب، خواہ وہ کسی بھی سمت سے اٹھے، معاشرے کے فکری اور قومی شعور کو کمزور کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے وطن اور ریاست پر اعتماد کرنے کے بجائے بیرونی سہاروں کی طرف دھکیل دیتا ہے، مذہبی وابستگی کو ریاستی وفاداری کا متبادل بنا دیتا ہے، اور دینی اختلافات کو سیاسی کشمکش کا ایندھن بنا دیتا ہے۔ جوں جوں عراق کے مختلف طبقات اور مسالک کے درمیان باہمی اعتماد کمزور ہوتا جاتا ہے، وہاں قومی فیصلہ بیرونی مداخلت، اثر و رسوخ اور مفاد پرست قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بننے کے زیادہ قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔

لہٰذا زیارتِ اربعین کو فرقہ واریت سے محفوظ رکھنا اس کی شناخت سے دستبردار ہونا نہیں، بلکہ اس کی روح، اس کے پیغام اور اس کے اصل مقصد کی حفاظت ہے، تاکہ اسے اُن مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے جن کے لیے وہ برپا ہی نہیں ہوئی۔

زیارتِ اربعین کو شعور وآگاہی کا سرچشمہ کیسے بنایا جائے؟

معاشرے کو فکری انحرافات سے محفوظ رکھنے کی عمومی باتیں کافی نہیں۔ زیارتِ اربعین کو جس طرح خدمت کے عظیم الشان نظام کی ضرورت ہے، اسی طرح ایک جامع فکری و ثقافتی منصوبے کی بھی ضرورت ہے۔ جس طرح ہزاروں مواکب زائرین کی خدمت کے لیے کھانا، پانی، آرام اور دیگر سہولیات مہیا کرتے ہیں، اسی طرح ایسے منظم علمی مراکز بھی وجود میں آنے چاہییں جو علم و معرفت کے اسباب فراہم کریں، ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا اطمینان بخش جواب دیں، اور زائر کو یہ شعور عطا کریں کہ وہ جس راستے پر گامزن ہے، اس کی بنیاد کس فکر، کس مقصد اور کس پیغام پر قائم ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تقاریر، وعظ اور نعروں کی تعداد بڑھا دی جائے، بلکہ اصل ضرورت خطاب و تبلیغ کے معیار کو بلند کرنے کی ہے۔ زائر کو ہر بار وہی باتیں سنانے کی ضرورت نہیں جو وہ پہلے ہی جانتا ہے، بلکہ اسے ایسے فکری رہنما کی ضرورت ہے جو امام حسینؑ کے پیغام کو اس کی عملی زندگی کے مسائل سے جوڑ دے، اسے دین اور دین کے نام پر ہونے والی سیاست میں فرق سکھائے، وفاداری اور اندھی تقلید کے درمیان فرق واضح کرے، کھلے دل اور خودسپردگی میں فرق سمجھائے، اور تعمیری تنقید اور تخریب کے درمیان خطِ فاصل کھینچ دے۔

نوجوان نسل کو بھی ایسے خطابات اور وعظ و نصیحت کی ضرورت ہے جو ان کی زبان، ان کے زمانے اور ان کے سوالات کو سمجھے، نہ کہ صرف ان سے اطاعت کا مطالبہ کرے۔ آج کا نوجوان ہر روز سوشل میڈیا کے ذریعے متضاد افکار، نظریات اور بیانیوں کی یلغار کا سامنا کرتا ہے۔ اگر اسے مکتبِ حسینؑ کا ایک عمیق، واضح اور مدلل جواب ، فہم اور خطاب نہ ملا، تو وہ کربلا کا مفہوم ادھوری ویڈیوز، سطحی مباحث یا اُن حلقوں سے اخذ کرے گا جو اس کے شعور کو اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دینا چاہتے ہیں۔

اسی طرح زیارتِ اربعین کو ایسے پیشہ ور اور ذمہ دار ذرائعِ ابلاغ کی ضرورت ہے جو صرف انسانی ہجوم، مواکب اور ضیافتوں کی تصاویر دکھانے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اس عظیم اجتماع کے تہذیبی، فکری اور انسانی مضامین کو دنیا کے سامنے پیش کریں، عراقی عوام کی بے مثال قربانیوں اور خدمات کو محفوظ کریں، گمراہ کن پروپیگنڈے کا مدلل جواب دیں، اور اس شعار حسینی کو دنیا کے سامنے وقار، اعتماد اور حکمت کی زبان میں متعارف کرائیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ یہ فکری کاوشیں اربعین کے اختتام کے ساتھ ختم نہ ہو جائیں۔ موسمی شعور، مسلسل جاری رہنے والی فکری اور ابلاغی یلغار کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اربعین کے ایام میں جو فکری بنیاد رکھی جائے، اسے پورے سال مدارس، جامعات، منبروں ، ثقافتی مراکز اور تعلیمی اداروں کے ذریعے نسل نو تک بہترین انداز میں ، مسلسل کامیاب تعلیمی، اور تبلیغی منصوبہ بندی کے زریعے مستحکم اور زندہ رکھا جانا چاہیے۔

باشعور انسان مختلف رائے سے خوف زدہ نہیں ہوتا، مگر اسے تحقیق و تمحیص کے بغیر قبول بھی نہیں کرتا۔ وہ اپنے مقدسات کا احترام کرتا ہے، لیکن معصومؑ کے سوا کسی کو سیاسی یا فکری عصمت کا درجہ نہیں دیتا۔ وہ اپنے مذہب سے گہری وابستگی رکھتا ہے، مگر اس وابستگی کو نفرت کا جواز نہیں بناتا۔ وہ اپنے وطن سے محبت کرتا ہے، مگر وطن پرستی کو ظلم اور فساد پر پردہ ڈالنے کا ذریعہ بھی نہیں بننے دیتا۔ وہ دوسروں کے ساتھ تعاون ضرور کرتا ہے، لیکن اپنی مصلحت، اپنی شناخت اور اپنے فیصلے کا اختیار کسی اور کے سپرد نہیں کرتا۔

یہی وہ بصیرت ہے جس کی زیارتِ اربعین کو ضرورت ہے۔ جو معاشرہ کروڑوں انسانوں کی خدمت کرتا ہو، کروڑوں زائرین کا استقبال کرتا ہو، اور ایسی بے مثال روحانی قوت کا حامل ہو، اسے ہر اس خطاب کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جو محض جذبات کو ابھارنے کا ہنر جانتا ہو۔ اس معاشرے کی حفاظت جذبات کو کمزور کرنے میں نہیں، بلکہ جذبے کو عقل، شعور اور بصیرت سے جوڑنے میں ہے۔ کیونکہ معرفت سے روشن محبت قوت بن جاتی ہے، جبکہ بصیرت سے محروم محبت بسا اوقات استحصال کا دروازہ کھول دیتی ہے۔

امام حسینؑ نے ایسے معاشرے میں قیام فرمایا تھا جو نہ ان کے نسب سے ناواقف تھا اور نہ ان کی فضیلت کا منکر، لیکن اس کے بہت سے افراد اس وقت بصیرت سے محروم ہو گئے جب ان کے نزدیک اطاعت اور مفاد، دین اور خوف، حق اور مصلحت کی سرحدیں دھندلا گئیں۔ اسی لیے صرف یہ کافی نہیں کہ انسان امام حسینؑ کا نام جانتا ہو یا ان کے غم میں اشک بہاتا ہو؛ ضروری یہ ہے کہ وہ مکتبِ حسینؑ سے یہ بھی سیکھے کہ حالات کو کس نگاہ سے پڑھنا ہے، حق اور باطل میں امتیاز کیسے کرنا ہے، اور یہ کیسے پہچاننا ہے کہ کون حقیقتاً مقصدِ حسینی کا خادم ہے اور کون اسی مقدس مقصد کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

زیارتِ اربعین میں عراقی شعور کا تحفظ اس بات میں نہیں کہ ہر وقت کسی بیرونی دشمن کی تلاش کی جائے، بلکہ اس کا آغاز اپنے اندر کی اصلاح سے ہوتا ہے؛ ایسے ذمہ دار منبر سے جو رہنمائی کرے، ایسے دیانت دار ذرائعِ ابلاغ سے جو حقیقت کو امانت کے ساتھ پیش کریں، ایسی تنقیدی اور بیدار ثقافت سے جو عقل و فکر کو جِلا بخشے، ایسی پُراعتماد شناخت سے جو اپنی بنیادوں میں راسخ ہو، ایسے باشعور نوجوانوں سے جو اپنے تعلق اور وابستگی کی بنیاد کو سمجھتے ہوں، اور ایسے معاشرے سے جو کسی فرد، جماعت یا ادارے کو یہ حق نہ دے کہ وہ امام حسینؑ کے پیغام پر اجارہ داری قائم کرے یا ان کے نام پر بغیر ان کے معیار پر پرکھے جانے کے گفتگو کرے۔

اور جب زیارتِ اربعین محض ایک عظیم اجتماع نہیں، بلکہ بصیرت، شعور اور فکری تربیت کی ایک زندہ درسگاہ بن جائے گی، تو عراق صرف دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کا میزبان نہیں رہے گا، بلکہ وہ اس فکری روشنی کا منبع بن جائے گا جس کی آج پوری امتِ مسلمہ محتاج ہے۔ اس وقت کربلا کی جانب رواں یہ کروڑوں انسان صرف ایک موسمی ہجوم نہیں ہوں گے، بلکہ ایک ایسی بیدار امت کی صورت اختیار کر جائیں گے جو اپنی تاریخ، اپنے عقیدے اور اپنے وطن کی حفاظت کرنا جانتی ہو، اور ہر اُس کوشش کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہو جو اس کے شعور کو اس کی حقیقی اقدار، اصولوں اور قومی مفادات سے ہٹا کر کسی اور سمت لے جانا چاہتی ہے۔

درحقیقت زیارتِ اربعین کے لیے سب سے بڑا خطرہ زائرین کی تعداد میں کمی نہیں، بلکہ تعداد کے بڑھنے کے ساتھ مقصد اور شعور کا ماند پڑ جانا ہے۔ اور عراق کے لیے اس عظیم اجتماع کا سب سے قیمتی ثمر بھی صرف کروڑوں انسانوں کا اجتماع نہیں، بلکہ ایسے انسان کی تشکیل ہے جو امام حسینؑ کو بھی پہچانتا ہو، اپنے وطن کو بھی، اور اس بصیرت سے بھی بہرہ مند ہو جو اسے یہ تمیز عطا کرے کہ کون اسے حق کی طرف بلا رہا ہے، اور کون حق ہی کے مقدس نام کو اپنے ذاتی مفادات تک پہنچنے کا وسیلہ بنا رہا ہے۔

شیئر: