واپس
کربلا نے اموی حکومت کے مذہبی جواز کا پردہ کیسے چاک کیا؟

کربلا نے اموی حکومت کے مذہبی جواز کا پردہ کیسے چاک کیا؟

تاریخ میں اکثر حکمران اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے اور عوام کی نظر میں اپنے اقتدار کوجائز ثابت کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے رہے ہیں کیونکہ مذہب لوگوں کے دلوں پر اثر رکھتا ہے۔بنابریں اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں اموی حکومت نے یہی طریقہ اختیار کیا اور اس نے مذہب کے نام پر ایک ایسا جھوٹا بیانیہ بنایا جس کے ذریعے اس نے اپنے ظلم و زیادتی کو درست ثابت کیا لوگوں کو خاموش رکھا اور یہ تاثر دیا کہ حکمران کے خلاف آواز اٹھانا یا اس سے حساب مانگنا دین کے خلاف ہے۔ ایسے ہی مشکل اور تاریک حالات میں امام حسینؑ کی کربلا کی تحریک حق و سچ کی ایک روشن آواز بن کر ابھری جس نے اس جھوٹے مذہبی پردے کو چاک کر دیا اور پوری دنیا کے سامنے اموی حکومت کی حقیقت آشکار کر دی۔

جھوٹے جواز کی تشکیل

اموی حکومت نے لوگوں کو خاموش اور بے حس رکھنے کے لیے ایک ایسی پالیسی اختیار کی جس میں جبر کے عقیدے کو مضبوط کیا گیا۔ لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کا اقتدار میں آنا اور حکومت پر قائم رہنا اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا فیصلہ ہے، جس پر اعتراض کرنا درست نہیں۔ اسی طرح یہ تصور بھی پھیلایا گیا کہ حکمران چاہے کتنا ہی گناہ گار اور ظالم کیوں نہ ہو، اس کی اطاعت کرنا اللہ کی اطاعت کا حصہ ہے۔ اس طرح انہوں نے جان بوجھ کر قرآن کی اس سخت تنبیہ کو نظر انداز کر دیا جس میں خبردار کیا گیا ہے: ﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾ اور جنہوں نے ظلم کیا ہے ان پر تکیہ نہ کرنا ورنہ تمہیں جہنم کی آگ چھو لے گی۔(هود، الآية: 113)

اس آیت کی تفسیر میں علامہ طباطبائیؒ فرماتے ہیں کہ ظالموں کی طرف جھکاؤ رکھنا اور ان کے ساتھ میل جول یا حمایت کا رویہ اختیار کرنا دراصل انہیں ظلم کرنے کاجواز فراہم کرتا ہے اور ان کے باطل کے نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ اس لیے کسی ظالم حکومت کے سامنے خاموش رہنا یا اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنا عملی طور پر اس کے گناہ اور ظلم میں شریک ہونا ہے، جس کا نتیجہ اللہ کی طرف سے عذاب اور ظلم کے انجام میں شریک ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ (ماخذ: تفسیر المیزان، جلد 11، صفحہ 65)

اموی حکومت کے اس جھوٹے مذہبی پردے کے پیچھے چھپ کر یزید بن معاویہ یہ چاہتا تھا کہ وہ اسلامی خلافت کے نام پر پوری امت پر حکومت کرے، حالانکہ وہ کھلے عام دین کی حرمتوں کو پامال کر رہا تھا۔ اس نے دین کو صرف ظاہری رسموں تک محدود کر دیا تھا تاکہ اسے دربار کے مفادات کے لیے استعمال کیا جا سکے اور اپنے مخالفین کی آواز کو دبایا جا سکے۔

کربلا: مذہبی قبضہ گیری کا خاتمہ و احیائے راہ حق و صداقت

امام حسینؑ یہ سمجھ چکے تھے کہ اب اموی حکومت کا خطرہ صرف ایک وقتی سیاسی ظلم تک محدود نہیں رہابلکہ یہ دین کی بنیادی روح اور اصل عقیدے کو بدلنے پر تل چکا ہے۔ اسی لیے آپؑ کی پہلی کوشش یہ تھی کہ اس جھوٹے پردے کو ہٹایا جائے اور امت کو دوبارہ یہ یاد دلایا جائے کہ کسی حکومت کے جائز ہونے کا اصل معیار کیا ہے؟ سفرِ کربلا کے دوران امام حسینؑ نے حر بن یزید ریاحی کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تحریک کی دینی بنیاد واضح کی اور فرمایا:

(أيها الناس، إن رسول الله (صلى الله عليه وآله) قال: من رأى سلطاناً جائراً مستحلاً لحرم الله، ناكثاً لعهد الله، مخالفاً لسنة رسول الله، يعمل في عباد الله بالإثم والعدوان، فلم يُغيّر عليه بفعل ولا قول، كان حقاً على الله أن يدخله مدخله.)

 "اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص کسی ایسے ظالم حکمران کو دیکھے جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال سمجھتا ہو، اللہ کے عہد کو توڑتا ہو، رسول اللہ ﷺ کی سنت کی مخالفت کرتا ہواور اللہ کے بندوں کے ساتھ گناہ اور زیادتی کا معاملہ کرتا ہو، پھر وہ نہ اپنے عمل سے اور نہ اپنی زبان سے اس کے خلاف تبدیلی کی کوشش کرے تو اللہ کو حق ہے کہ اسے اسی ظالم کے انجام میں شریک کرے۔" (تاریخ الامم والملوک، تاریخ طبری، جلد 4، صفحہ 304؛ الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، جلد 4، صفحہ 48)

یہ عظیم نبوی فرمان جسے امام حسینؑ نے پیش کیا، ظلم اور جبر کے مقابلے میں مزاحمت کے لیے ایک اعلیٰ اسلامی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ جو حکمران سنتِ رسول ﷺ اور عدل کے راستے سے ہٹ جائے، اس کا جائز ہونے کا دعویٰ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی بتاتا ہے کہ دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ظالم کے سامنے خاموش رہنا کوئی دانش مندی یا مصلحت نہیں، بلکہ ایک سنگین جرم ہے، جس کا انجام یہ ہے کہ انسان اسی ظالم کے ساتھ عذاب کا مستحق قرار پاتاہے۔

امام حسینؑ نے صرف ایک نظری اصول بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے عملی طور پر بھی واضح کیا اور اموی حکومت کے اعمال کو بے نقاب کیا۔ آپؑ نے اپنے خطبے میں فرمایا: (ألا وإن هؤلاء قد لزموا طاعة الشيطان، وتركوا طاعة الرحمن، وأظهروا الفساد، وعطلوا الحدود، واستأثروا بالفيء، وأحلوا حرام الله وحرموا حلاله)

 "خبردار! ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت کو لازم پکڑ لیا ہے اور رحمان (اللہ) کی اطاعت چھوڑ دی ہے، انہوں نے فساد کو ظاہر کر دیا ہے، اللہ کی مقرر کردہ حدود کو معطل کر دیا ہے، بیت المال کو اپنے مفاد کے لیے مخصوص کر لیا ہے، اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے۔" (مقتل الحسین، ابو مخنف ازدی، صفحہ 85)

یہ الفاظ اموی حکومت کے خلاف ایک جامع فردِ جرم اور اس کے پورے نظام کی حقیقت کو ظاہر کرنے والی واضح گواہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امام حسینؑ نے یہاں یہ بھی واضح کر دیا کہ اموی حکمرانوں کا طرزِ عمل نافقط حقیقی اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے بلکہ وہ دین کے اصل راستے سے بھی دور جا چکے ہیں ۔ لہذا اب ان کے پاس حکومت کو درست ثابت کرنے کے لیے جو رہا سہا مذہبی یا سیاسی جواز باقی تھا، وہ بھی ختم چکا ہے، جس کے سہارے وہ اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

وہ عظیم قربانیاں جنہوں نے حقیقت کو آشکار کیا

جب واقعۂ عاشورا پیش آیا اور وہ اموی حکومت جو خود کو رسول اللہ ﷺ کی جانشین حکومت قرار دیتی تھی، رسول اللہ ﷺ کے نواسے اور آپ ﷺ کے محبوب اہلِ خانہ میں سے امام حسینؑ کو شہید کرنے اور ان کے اہلِ خانہ کو قیدی بنانے جیسے انتہائی ظالمانہ اقدام تک پہنچ گئی تو اس کا جھوٹا مذہبی پردہ چاک ہو گیا۔ کربلا نے امت کے سامنے یہ حقیقت واضح کر دی کہ یہ حکمران دین کی حقیقی قدروں اور تعلیمات کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے۔

معروف اسلامی مفکر شیخ محمد مہدی شمس الدین اس عظیم اثر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "امام حسینؑ کی تحریک نے اموی حکومت سے اس کا سب سے بڑا ہتھیار چھین لیااور وہ ہتھیار مذہب کا لبادہ تھا۔ اس تحریک نے اس حکومت کی اصل حقیقت کو ظاہر کر دیا کہ وہ ایک ایسا جاہلی نظام تھا جس کا اسلام سے کوئی حقیقی تعلق نہیں تھا۔" (ثورة الحسين: ظروفها الاجتماعية وآثارها الإنسانية، صفحہ 142)

یہ تجزیاتی بات واضح کرتی ہے کہ امام حسینؑ کا خون تاریخ میں حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ایک فیصلہ کن علامت بن گیا۔ اس نے ہمیشہ کے لیے دو راستوں کو الگ کر دیا۔ایک طرف وہ حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں جو عدل، رحم اور انسانیت پر قائم ہیں اور دوسری طرف وہ جھوٹا مذہبی تصور ہے جس میں دین کو اقتدار اور طاقت کے مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔

کربلا صرف ایک ایسی جنگ نہیں تھی جس میں امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں اور اپنی جان کی قربانی دی بلکہ یہ اسلامی تاریخ میں حقیقت کو ظاہر کرنے اور جھوٹے پردوں کو چاک کرنے کا ایک عظیم ترین واقعہ تھا۔ اس پاکیزہ خون کی قربانیوں نے اموی حکومت کے اقتدار کے گرد قائم کیے گئے جھوٹے تقدس کے حصار کو توڑ دیا اور امت کو دوبارہ یہ شعور دیا کہ کسی حکومت کی جائز حیثیت ظلم، جبر اور اللہ کے نام پر دھوکے کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد عدل و انصاف کا قیام ہے۔ اسی لیے کربلا ہمیشہ کے لیے ہر حکومت اور اقتدار کو پرکھنے کا معیار بن گئی اور ہر اس قوم کے لیے امید اور جدوجہد کا پیغام بن گئی جو دین کے پردے میں چھپے ظلم اور آمریت سے آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے۔

شیئر: